درویش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مسلم فقیر جو اپنے مخصوص عقائد اور آئین ملی کی رو سے غربت و عسرت کی زندگی بسر کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ ان کے بے شمار سلسلے ہیں۔ اکثر سیلانی زندگی کے عادی ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں قلندروں کے کچھ گروہ اسی ذیل میں آتے ہیں۔ ان میں بعض عورتوں کی طرح رنگین کپڑے اور زیور پہنتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جس طرح آراستہ عورت مرد کو بھاتی ہے۔ اسی طرح وہ بھی خدا کے نزدیک مقبول ہوں گے۔ درویشوں کے چار بنیادی سلسلے ہیں۔

نقشبندی

سہروردی

قادری

چشتی

اپنے سلسلے میں آخر کار ان مین سے کسی ایک کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ حضرت معین الدین چشتی اجمیر ۔ خواجہ بختیار کاکی دہلوی ۔ چشتیہ سلسلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ سہروردی سلسلے کے سب سے معزز درویش حضرت بہا الدین زکریا ملتانی ہوئے ہیں جن کا مزار ملتان کے قلعے میں ہے۔ فارسی کے مشہور شاعر حضرت سعدی بھی اس سلسلے کے درویش تھے اور اس سلسلے کے بانی حضرت شہاب الدین سہروردی کے مرید خاص تھے۔ نقشبندی سلسلے میں حضرت مجدد الف ثانی کے نام سے ہر مسلمان واقف ہے۔ سلسلہ قادریہ کے بزرگوں کی گدیاں ملتان ، اُچ اور بغداد میں ہیں۔

اسلامی القاب[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]