شوکت عزیز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شوکت عزیز

شوکت عزیز 2007ء کے ورلڈ اکنامک فورم میں۔

در منصب
20 اگست 2004 – 15 نومبر 2007
صدر پرویز مشرف
پیشرو چوہدری شجاعت حسین
جانشین محمد میاں سومرو

در منصب
12 اکتوبر 1999 – 15 نومبر 2007
صدر پرویز مشرف
وزیرِ اعظم پرویز مشرف (عبوری)
پیشرو اسحاق ڈار
جانشین سلمان شاہ

پیدائش 6 مارچ 1949 (1949-03-06) ‏(65)
کراچی ، پاکستان
سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق
مادر علمی Gordon College
Institute of Business Administration, Karachi
مذہب اسلام

شوکت عزیز پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ ت۔ شوکت عزیز عزیز احمد کے بیٹے ہیں۔ جو کہ پاکستان کے سابق وزیر اور معزز بیوروکریٹ تھے۔ 1999 میں یہ وزیر خزانہ تھے جبکہ 6[ جون] 2004 میں جب سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے استعفٰی دیا تو 28 اگست 2004 میں وزارتِ عظمٰی کا قلم دان ان کے حصے میں آیا۔.

تعلیم[ترمیم]

شوکت عزیز نے اپنی ابتدائی تعلیم سینٹ پیٹرکس ہائی سکول کراچی اور ایبٹ آباد پبلک سکول، ایبٹ آباد سے حاصل کی۔ انہوں نے اپنی ثانوی تعلیم گورنمنٹ اسلامیہ کالج قصور سے بھی حاصل کی تھی۔ 1967 میں انہوں کے گریجوایش سائنس میں گورڈن کالج، راولپنڈی سے حاصل کی۔ 1969 میں آپ نے ایم بی اے (MBA) کی ڈگری انسٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن، کراچی سے حاصل کی۔

پیشہ ور زندگی[ترمیم]

سٹی بینک[ترمیم]

شوکت عزیز نے 1969 میں سٹی بینک میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں تعینات رہے جن میں امریکہ، یونان، برطانیہ، ملائیشا اور سنگا پور کے علاوہ مشرق وسطٰی کے کئی ممالک شامل ہیں۔ 1992 میں آپ سٹی بینک کے ایگزیکٹو نائب صدر(Executive Vice President of Citibank in) میں تعینات ہوئے۔

بطور وزیر خزانہ[ترمیم]

1999 کی تبدیلیوں کے بعد شوکت عزیز نے صدر پرویز مشرف کی دعوت پر پاکستان میں وزارت خزانہ کا قلمدان سنھبالا اور مالی بحران میں گھرے ہوئے ملک کی تمام تر معاشی زمہ داریاں اپنے کندھوں پہ رکھ لیں۔ آپ پاکستان کی معیشت کسی حد تک سنھبالنے میں کامیاب بھی ہوئے اور یہ کوشش مسلسل جاری ہیں۔ 2001 میں شوکت عزیز دو بین الاقو امی رسالوں کی جانب سے پوری دنیا میں بہترین وزیر خزانہ قرار پائے۔ ان رسالوں میں Euro money یورومنی اور بینکرز میگزین Banker’s magazine شامل ہیں۔

بطور وزیر اعظم[ترمیم]

میر ظفر اللہ خان جمالی کی طرف سے استعفٰے کے بعد مسلم لیگ ق کی طرف سے شوکت عزیز کا نام وزارتِ عظمٰی کے لیے پیش کیا گیا۔ اس دوران وزارت عظمٰی کا قلمدان چودھری شجاعت حسین کے پاس رہا جبکہ شوکت عزیز وزیر اعظم کے لیے قانونی شقیں پوری کرنے کے لیے ضمنی انتخابی مہم کرتے رہے اور پھر ان کو سندھ سے تھرپاکر اور اٹک سے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب کر لیا گیا اور اسطرح وزارتِ عظمٰی ان کے پاس آئی۔

خود کش قاتلانہ حملہ[ترمیم]

شوکت عزیز پر 29 جولائی ، 2004 کو اس وقت خود کش قاتلانہ حملہ ہوا جب وہ فتح جنگ میں ایک انتخابی مہم کے سلسہ میں موجود تھے۔ اس حملے میں وہ معجزانہ طور پر بچ گیے البتہ اس حملے میں ان کا ڈرائیور فوت ہو گیے جبکہ بلٹ پروف کار بھی ناکارہ ہو گئی۔

شہریت[ترمیم]

ان کی شہریت مشکوک ہے کیونکہ مبینہ طور پر ان کے پاس امریکی پاسپورٹ ہے۔ اگر کوئی امریکی قومیت رکھے تو اسے اپنی پرانی قومیت چھوڑنا پڑتی ہے۔ کوئی امریکی دوہری شہریت نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے اگر ان کے پاس امریکی شہریت ہے تو وہ پاکستان کے قانونی طور پر شہری نہیں اور وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ اسی بات پر چیف جسٹس افتخار چودھری کیس شروع کرنے لگے تھے[حوالہ درکار] مگر ان کو ایک ریفرنس کے ذریعے غیر فعال کر دیا گیا۔


سیاسی دفاتر
پیشرو
اسحاق ڈار
وزیر خزانہ پاکستان
1999 – 2007
جانشین
سلمان شاہ
پیشرو
چوہدری شجاعت حسین
وزیراعظم پاکستان
2004 – 2007
جانشین
محمد میاں سومرو