آصف علی زرداری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
آصف علی زرداری


گیارہویں صدر پاکستان
در منصب
9 ستمبر 2008ء – 8 ستمبر 2013ء
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی
(9 ستمبر 2008 سے 19 جون 2012)
راجہ پرویز اشرف
(22 جون 2012 تا حال)
پیشرو محمد میاں سومرو (نگران)

شریک امیر مجلس (شریک چئیرمین) پاکستان پیپلز پارٹی
برقرار
برسر منصب 
30 دسمبر 2007ء
Serving with بلاول بھٹو زرداری
پیشرو بینظیر بھٹو

پیدائش 26 جولائی 1955 (1955-07-26) ‏(58)
کراچی, پاکستان
سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی
ازواج بینظیر بھٹو (1987–2007)
بچے بلاول
بختاور
آصفہ
سکونت اسلام آباد (سرکاری)
کراچی (نجی)
مذہب شیعہ مسلمان[1][2][3]

سابق صدر پاکستان, آصف علی زرداری ایک سندھی بلوچ سیاستدان اور ذوالفقار علی بھٹو کے ابتدائی سیاسی ساتھیوں میں شامل حاکم علی زرداری کا بیٹا ہے۔ حاکم علی زرداری بعد میں نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوگیا تھا۔ آصف زرداری جولائی 1954 میں پیدا ہوا ۔اسکے والد کا اندرونِ سندھ زمینداری کے ساتھ کراچی میں بھی کاروبار اور سینما گھر تھا۔

آصف علی زرداری اور وزیراعظم بینظیر بھٹو صدر جورج بش اول اور اسکی اہلیہ کے ہمراہ وائیٹ ہاؤس میں-

بچپن اور تعلیم[ترمیم]

پاکستان

مقالہ بسلسلہ مضامین:
پاکستان کی حکومت اور سیاست



آصف علی زرداری کی ابتدائی تعلیم بھی ایل کے اڈوانی، محمد خان جونیجو، شوکت عزیز اور پرویز مشرف کی طرح سینٹ پیٹرکس سکول کراچی میں ہوئی جس کے بعد انہوں نے دادو میں قائم کیڈٹ کالج پٹارو سے 1974 میں انٹرمیڈیٹ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بعد میں انہوں نے لندن سکول آف اکنامکس اینڈ بزنس نامی کسی ادارے میں بھی داخلہ لیا تھا تاہم انہوں نے اپنے گریجوئیٹ ہونے کی کبھی تصدیق نہیں کی- آصف زرداری اوائل عمر سے ہی یاروں کے یار شخصیت کے حامل کے طور پر کراچی کے متمول حلقوں میں جانے جاتے تھے۔انیس سو اڑسٹھ میں شوقین مزاج کمسن آصف نے فلمساز سجاد کی اردو فلم ’منزل دور نہیں‘ میں چائلڈ سٹار کے طور پر بھی اداکاری کی۔ فلم کے ہیرو حنیف اور ہیروئن صوفیہ تھیں۔لیکن یہ ایک فلاپ فلم ثابت ہوئی۔

سیاست[ترمیم]

سیاست سے آصف زرداری کا سن اسی کے وسط تک دور دور تک واسطہ نہیں تھا۔ بس ایک سراغ یہ ملتا ہے کہ انیس سو پچاسی کے غیرجماعتی انتخابات میں آصف زرداری نے بھی نواب شاہ میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے تھے۔مگر یہ کاغذات واپس لے لئے گئے۔ اسی زمانے میں آصف زرداری نے وزیرِ اعلٰی غوث علی شاہ کے ایک وزیر سئید کوڑل شاہ کے مشورے سے کنسٹرکشن کے کاروبار میں بھی ہاتھ ڈالا لیکن اس شعبے میں آصف زرداری صرف دو ڈھائی برس ہی متحرک رہے۔

بینظیر سے شادی[ترمیم]

انیس سو ستاسی آصف زرداری کے لئے سب سے فیصلہ کن سال تھا جب انکی سوتیلی والدہ ٹمی بخاری اور بیگم نصرت بھٹو نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ آصف کا رشتہ طے کیا۔اٹھارہ دسمبر انیس سو ستاسی کو ہونے والی یہ شادی کراچی کی یادگار تقاریب میں شمار ہوتی ہے۔ جس کا استقبالیہ امیر ترین علاقے کلفٹن کے ساتھ ساتھ غریب ترین علاقے لیاری کے ککری گراؤنڈ میں بھی منعقد ہوا اور امرا کے شانہ بشانہ ہزاروں عام لوگوں نے بھی شرکت کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر بھٹو اور انکے لاکھوں سیاسی پرستاروں کے لیے یہ پہلی بڑی خوشی تھی۔

وزارت[ترمیم]

انیس سو اٹھاسی میں جب بے نظیر بھٹو برسرِ اقتدار آئیں تو آصف زرداری بھی وزیرِ اعظم ہاؤس میں منتقل ہوگئے۔اور انکی سیاسی زندگی باضابطہ طور پر شروع ہوگئی۔انیس سو نوے میں بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد ہونے والے انتخابات میں وہ رکنِ قومی اسمبلی بنے۔انیس سو ترانوے میں وہ نگراں وزیرِ اعظم میر بلخ شیر مزاری کی کابینہ میں وزیر بنے پھر بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور میں رکنِ قومی اسمبلی اور وزیرِ ماحولیات و سرمایہ کاری رہے۔ وہ انیس سو ستانوے سے ننانوے تک سینٹ کے رکن رہے۔

ہنگامہ خیز سال[ترمیم]

انیس سو نوے سے دوہزار چار تک کے چودہ برس آصف زرداری کی زندگی کے سب سے ہنگامہ خیز سال ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ان پر کرپشن کے الزامات لگنے شروع ہوئے اور ان پر مسٹر ٹین پرسنٹ کا خطاب چپکانے کی کوشش کی گئی۔ سب سے پہلےانیس سو نوے میں انہیں صدر غلام اسحاق خان کے دور میں ایک برطانوی تاجر مرتضٰی بخاری کی ٹانگ پر بم باندھ کر آٹھ لاکھ ڈالر اینٹھنے کی سازش کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ لیکن انہی غلام اسحاق خان نے بعد میں آصف زرداری کو رہا کردیا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق غلام اسحاق خان نے بے نظیر اور آصف زرداری پر کرپشن کے انیس ریفرینسز فائل کئے لیکن ان میں سے کوئی ثابت نہیں ہو سکا۔

مقدمات[ترمیم]

پانچ نومبر 1996 کو دوسری بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضی بھٹو قتل کیس میں آیا۔ نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے، سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا ، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے، برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈ سکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔ اس طرح کی فہرستیں بھی جاری ہوئیں کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔ برطانیہ میں نو، امریکہ میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔ جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لئے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔ اس دوران انہوں نے تقریبا دس سال قید میں کاٹے اور 2004 میں سارے مقدمات میں بری ہونے کے مبعد انکو رہا کردیا گیا-

آصف علی زرداری حقوق نسواں کے قانون پر دستخط کرتے ہوے.jpg

قومی مفاہمت فرمان کے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران قومی احتساب دفتر نے عدالت کو بتایا گیا کہ آصف علی زرداری نے بینظیر کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز آثاثے حاصل کرنے کے الزامات ہیں۔[4][5]

جیل[ترمیم]

غلام اسحاق خان سے لے کر نواز شریف اور پرویز مشرف تک کی حکومتوں نے اندرون و بیرونِ ملک ان الزامات ، ریفرینسز اور مقدمات کو آگے بڑھانے کے لیے ایک خطیر رقم خرچ کی ۔ آصف زرداری تقریباً مل ملا کر گیارہ برس جیل میں رہے۔ جیل میں بھی آصف زرداری مرکزِ توجہ رہے۔ کیونکہ انہوں نے قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی کام کئے، جن میں کھانے اور کپڑوں کی تقسیم اور نادار قیدیوں کی ضمانت کے لیے رقم کا بندوبست بھی شامل رہا۔ دورانِ قید ان پر جسمانی تشدد بھی ہوا۔ لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

صدر پاکستان[ترمیم]

جب پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے مابین امریکہ ، برطانیہ اور بعض بااثر دوستوں کی کوششوں سے مصالحت کا آغاز ہوا۔ اسکے بعد سے اسکے اور آصف زرداری کے خلاف عدالتی تعاقب سست پڑنے لگا۔ کوئی ایک مقدمہ بھی یا تو ثابت نہیں ہوسکا یا واپس لے لیا گیا یا حکومت مزید پیروی سے دستبردار ہوگئی۔اس سلسلے میں اکتوبر دو ہزار سات میں متعارف کرائے گئے متنازعہ قومی مصالحتی آرڈینننس نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ستائیس دسمبر دو ہزار سات کو بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی انتخابات میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ شروع میں اندازہ یہ تھا کہ آصف زرداری صرف پارٹی قیادت پر توجہ مرکوز رکھے گا اور "مسٹر سونیا گاندھی" بن کے رہے گا۔لیکن پھر اس نے ملک کا صدر بننے کا فیصلہ کرلیا۔اگست 2008ء میں الطاف حسین نے زرداری کا نام صدر پاکستان کے عہدہ کے لیے تجویز کیا، جس کے بعد پیپلزپارٹی نے با ظابطہ طور پر اس کو 6 ستمبر 2008 کے صدارتی انتخاب کے لیے نامزد کر دیا۔ عموماً صدر نامزد ہونے والے سیاسی جماعت سے مستعفی ہو جاتے ہیں مگر زرداری نے ایسا نہیں کیا بلکہ پیپلز پارٹی کا فعال سربراہ بھی رہا۔ کچھ مبصرین کے مطابق ایسا اس طرح ممکن ہوا کیونکہ روایت کے باوجود غیر سیاسی ہونے کی شِک آئین پاکستان میں موجود نہیں- بالآخر عدالت عالیہ لاہور نے زرداری کو مشورہ دیا کہ آئین کی روح کے مطابق صدر رہتے ہوئے سیاسی عہدہ رکھنا مناسب نہیں، تاہم اس فیصلے میں کوئی حکم صادر کرنے سے گریز کیا گیا۔[6] 2013ء انتخابات کے عین پہلے عدالتی فیصلہ کے ڈر سے زرداری جماعت کی سربراہی سے علیحدہ ہو گیا۔ 8 ستمبر 2013ء کو مدّت ختم ہونے پر زرداری کو صدرات کی کرسی خالی کرنا پڑی۔

الزامات[ترمیم]

زرداری پر مالی بدعنوانی کے بےشمار الزامات آئے۔ رشوت خوری کی شہرت کی وجہ سے "Mr. 10%" کا عوامی اور اخباری خطاب پایا۔ نواز شریف اور پرویز مشرف کے دور میں لمبی جیل کاٹی۔ پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کے درمیان مفاہمت کے نتیجے میں 2007ء، 2008ء، میں آپ کے خلاف تمام بدعنوانی کے مقدمات ختم کر دیے گئے۔ چودھری اعتزاز احسن جیسی مقتدر شخصیات نے ان کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کو درست کہا ہے[7] (بعد میں چودھری نے تردید بھی جاری کی)۔ بینظیر کے 2007ء قتل کے بعد جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئے، اور پیپلزپارٹی کا بینظیر کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ شریک قائد کا عہدہ سنبھالا۔ 2007 الیکشن کے نتیجہ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو پس منظر سے چلا رہے ہیں۔ 2008ء میں مختلف موقعوں پر پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف زرداری نے نواز شریف سے کھلے عام تحریری معاہدہ کرنے کے چند روز بعد مُکر جانے کے طریقہ کو یہ کہہ کر صحیح طرز عمل گردانا کہ "معاہدے حدیث نہیں ہوتے۔"[8][9]

صدارت سنبھالنے کے بعد بھی زرداری پر طلبِ رشوت کے الزامات اخباروں میں شائع ہوتے رہے۔[10]

برطانوی اخبار کے مطابق زرداری کے وکلاء نے لندن کی عدالت میں جواب داخل کرایا تھا کہ زرداری کے معالجوں کے مطابق وہ ذہنی مریض ہیں، اس لیے عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔[11]

اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ افغان نژاد ظالمے خالیزاد کے زرداری سےروابط پر امریکی افسروں نے خالیزاد کی پیشی کی۔ زرداری نے امریکی حکام کو بتایا کہ خالیزاد انھیں مشورے اور مدد فراہم کرتے رہے ہیں۔[12] آصف علی زرداری نے صدر بنتے ہی اپنے اثر رسوخ استعمال کرنا شروع کر دیا اور اپنے اوپر قائم تمام مقدمات رفتہ رفتہ ختم کرواتے چلے گئے، ان کے مقدمات ختم کروانے میں سابق چیف جسٹس عبدا لحمید ڈوگر کا بڑا ہاتھ تھا شاید یہی وجہ تھی کہ وہ کہ ان کی حتی المکان کوشش رہی کے افتخار محمد چوہدری اپنے عہدے پر نہ بحال ہوں۔

جنوری 2010ء میں قومی احتساب دفتر نے پس پردہ زرداری کے لیے کام کرنے والے ناصر خان کی اسلام آباد میں 2460 کنال زمین کو سرکاری سپردگی میں لینے کا حکم دیا۔[13]

ذہنی استطاعت[ترمیم]

بینظیر کی چوتھی برسی پر صدر پاکستان کی کرسی سنبھالے زرداری نے نوڈیرو کے شہر میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے منصف اعظم افتخار چودھری سے طنزیہ سوال کرتے ہوئے کہا:[14]

لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ بی بی کے کیس کا کیا بنا؟ اسی بارے میں ’میں بھی پوچھتا ہوں چوہدری افتخار جج صاحب سے کہ بی بی کے کیس کا کیا ہوا؟‘
— صدر پاکستان، آصف علی زرداری، دسمبر 2011ء

بیرونی روابط[ترمیم]

مدونات[ترمیم]


  1. ^ "The Martyrdom of Benazir Bhutto". Huffingtonpost.com. 2008-01-03. http://www.huffingtonpost.com/parvez-sharma/the-martyrdom-of-benazir-_b_79560.html. Retrieved 2010-08-06. 
  2. ^ ولی نصر The Shia Revival: How Conflicts Within Islam Will Shape the Future (W. W. Norton, 2006), pp. 88-90 ISBN 0-393-32968-2
  3. ^ بخاری, فرحان (2010-11-29). "Pakistan-Saudi Relations Appear Strained in Leaked Cables". CBS News. http://www.cbsnews.com/8301-503543_162-20023973-503543.html. 
  4. ^ آسٹریلین، 18 دسمبر 2009ء، "Asif Ali Zardari on shaky ground after amnesty overturned "
  5. ^ دی آسٹریلین 10 دسمبر 2009ء، "Watchdog claims Zardari reaped $1.7bn during Bhutto's rule "
  6. ^ "Pakistan court ruling on Zardari 'political role'". بی بی سی. http://www.bbc.co.uk/news/world-south-asia-13379875. Retrieved 12 May 2011. 
  7. ^ روزنامہ نیشن، 8 جون 2008ء، "Aitzaz says 'most' graft charges against Zardari & Benazir were justified"
  8. ^ bbc 23 اگست 2008ء، "معاہدے حدیث یا قرآن نہیں: زرداری"
  9. ^ روزنامہ نیشن، 24 اگست 2008ء، "Asif acceptable if strips powers: Nawaz"
  10. ^ "مثبت جواب نہ ملنے پرجاپانی سرمایہ کاری پاکستان سے بھارت منتقلی کا خدشہ". جنگ. 30 دسمبر 2011. http://jang.net/urdu/update_details.asp?nid=133936. 
  11. ^ انڈپنڈنٹ، 26 اگست 2008ء، "Questions raised over Zardari mental health"
  12. ^ نیویارک ٹائمز، 25 اگست 2008ء، "U.N. Envoy’s Ties to Pakistani Are Questioned "
  13. ^ نیشن، 23 جنوری 2010ء، "Seizure order for president’s front man land by NAB"
  14. ^ "’جسٹس افتخار سے پوچھتا ہوں کہ بی بی کیس کا کیا بنا‘". بی بی سی موقع. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/12/111227_benazir_4th_death_anniv_zs.shtml. Retrieved 27 December 2011. 


سیاسی جماعتوں کے عہدے
پیشرو
بینظیر بھٹو
شریک امیر مجلس (شریک چئیرمین) پاکستان پیپلز پارٹی
2007–تا حال
شریک کار: بلاول بھٹو زرداری
موجودہ
سیاسی دفاتر
پیشرو
محمد میاں سومرو
نگران
صدر پاکستان
2008–تاحال
موجودہ