پاکستان کے صدارتی انتخابات 2008ء
| پاکستان |
مقالہ بسلسلہ مضامین: |
|
|
|
آئین
عدلیہ
|
|
|
پاکستان کے صدارتی انتخابات 2008ء 6 ستمبر کو منعقد ہوئے۔[1]
پاکستان کا الیکٹورل کالج جو کہ ایوان بالا (سینیٹ)، ایوان زیریں (قومی اسمبلی) اور چاروں صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوتا ہے، نے نئے صدر کا انتخاب سابق صدر پرویز مشرف کے 18 اگست 2008ء کو استعفیٰ کے بعد آئین میں دی گئی ہدایات کے عین مطابق کیا۔ [2] ۔ آئین کے مطابق نئے صدر کا انتخاب 30 روز کے اندر ہو جانا چاہیے تھے۔
فہرست |
الیکٹورل کالج کی ساخت [ترمیم]
پاکستان کا الیکٹورل کالج ریاست کے چھ بنیادی سیاسی قانون ساز مراکز پر مشتمل ہے:
- ایوان بالا،
- ایوان زیریں،
- پنجاب کی صوبائی اسمبلی،
- سندھ کی صوبائی اسمبلی،
- بلوچستان کی صوبائی اسمبلی اور
- سرحد کی صوبائی اسمبلی
چونکہ ہر صوبہ کے لیے صدارتی انتخابات میں یکساں تعداد میں ووٹ مقرر ہوتے ہیں، اس بنیاد پر ہر صوبائی اسمبلی کو 65 ووٹ میسر ہیں۔ اس قاعدہ کی رو سے ہر اسمبلی کے رکن کے ووٹ کی عددی قیمت متعین ہوتی ہے۔ یعنی پنجاب اسمبلی کے ہر رکن کے ووٹ کی عددی اہمیت : 65/370 = 0.176 ووٹ، سندھ اسمبلی کے ہر رکن کے ووٹ کی عددی اہمیت 65/166 = 0.392 ووٹ، سرحد اسمبلی کے ہر رکن کے ووٹ کی عددی اہمیت 65/124 = 0.524 ووٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کے ووٹ کی عددی اہمیت 65/65 = 1 ووٹ کی ہے۔[3]
الیکٹورل کالج کے اجزاء کی انتخابات کے وقت صورتحال کچھ اس طرح سے تھی:
| جز | پیپلز پارٹی | مسلم لیگ (ن) | مسلم لیگ (ق) | متحدہ قومی موومنٹ | عوامی نیشنل پارٹی | متحدہ مجلس عمل | مسلم لیگ (ف) | پیپلز پارٹی (ش) | بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) | نیشنل پیپلز پارٹی | آزاد/اقلیتی | کل |
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| قومی | 124 | 91 | 54 | 25 | 13 | 7 | 5 | 1 | 1 | 1 | 18 | 340 |
| سینیٹ | 9 | 4 | 38 | 6 | 2 | 17 | 1 | 3 | 1 | - | 19 | 100 |
| پنجاب | 107 | 170 | 84 | - | - | 2 | 3 | - | - | - | 4 | 370 |
| سندھ | 93 | - | 9 | 51 | 2 | - | 8 | - | - | 3 | - | 166 |
| بلوچستان | 12 | - | 19 | - | 4 | 10 | - | - | 7 | - | 13 | 65 |
| سرحد | 30 | 9 | 6 | - | 48 | 14 | - | 6 | - | - | 11 | 124 |
| کل | 216 | 130 | 132 | 51 | 45 | 42 | 10 | 7 | 9 | 2 | 56 | 700 |
| حوالہ: الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ارکان قومی اسمبلی، سینیٹ، اور صوبائی اسمبلیوں کی تفصیل۔ اور صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کے شمار کا طریقہ کار | ||||||||||||
صدارتی امیدوار [ترمیم]
26 اگست 2008ء الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کی آخری تاریخ مقرر کی گئی۔[4]
- سابق صدر پرویز مشرف کے 18 اگست 2008ء کو دیے گئے استعفٰی کے بعد حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہاکہ پاکستان کے اگلا صدر پاکستان پیپلز پارٹی سے ہونا چاہیے، کیونکہ یہ مجلس شوریٰ میں اکثریتی جماعت ہے۔[5]
- اس سے اگلے ہی روز 19 اگست کو حکمران اتحاد نے ممکنہ صدارتی امیدواروں کی فہرست جاری کی جو کہ یہ تھے:
- متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے اخباری بیان جاری کیا گیا کہ صدر پنجاب سے تعلق نہ رکھتا ہو، بلکہ کسی بھی چھوٹے صوبے سے تعلق رکھتا ہو۔ اس ضمن میں جماعت نے سندھ سے تعلق رکھنے والے آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کیا۔ [7]
- پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 21 اگست 2008ء کو اپنے ممکنہ صدارتی امیدواروں کی فہرست جاری کر دی جو کہ یہ تھی:[8]
- فخرالدین جی ابراہیم، (وکیل)
- عطاء اللہ مینگل، (بلوچستان کے قوم پرست راہنما) اور
- سعید الزماں صدیقی، پاکستان کی عدالت عظمٰی کے سابق منصف اعظم
- پاکستان پیپلز پارٹی نے متفقہ طور پر 22 اگست کو آصف علی زرداری کو اپنا امیدوار برائے صدر مقرر کر دیا۔[9]
- پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے 23 اگست کو تحفظات کا اظہار کیا گیا اور اخباری بیان میں کہا گیا کہ صدر کے لیے موزوں امیدوار آزاد شخص ہونا چاہیے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) آصف علی زرداری کی حمایت صدارتی اختیارات کی کمی اور معطل کیے گئے منصفین کی بحالی سے مشروط کر دی۔ [10]
- عوامی نیشنل پارٹی نے 24 اگست کو صدارتی انتخابات میں آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا۔[11]
- پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 25 اگست 2008ء کو حکومتی اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی اور جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کو متفقہ طور پر صدارتی امیدوار مقرر کر دیا۔[12]
- پاکستان تحریک انصاف کے راہنما عمران خان نے ایک اخباری بیان میں آصف علی زرداری پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے ہوئے ان کی بطور صدارتی امیدوار تقرری کو رد کر دیا۔ [13]
- جمعیت علمائے اسلام (ف) نے باجوڑ میں جاری فوجی کاروائی ختم کرنے کی شرط پر آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا۔[14]
- پاکستان مسلم لیگ (ف) نے اخباری بیان میں صدارتی انتخابات میں کسی بھی امیدوار کی حمایت یا مخالف نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔[15]
- اقلیتی برادری کے نمائندہ پارلیمانی اتحاد نے آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ [16]
- پاکستان مسلم لیگ (ق) نے متفقہ طور پر 26 اگست 2008ء کو سید مشاہد حسین سید کو متفقہ امیدوار نامزد کر دیا۔ [17]
- الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 28 اگست 2008ء کو پانچ صدارتی امیدواروں کی فہرست جاری کر دی، جو یہ تھے:
- آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی
- سعید الزماں صدیقی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدوار
- مشاہد حسین، پاکستان مسلم لیگ (ق)
- فریال تالپور، آصف علی زرداری کی متبادل امیدوار برائے پاکستان پیپلز پارٹی
- روئیداد خان، سعید الزماں صدیقی کے متبادل امیدوار برائے پاکستان مسلم لیگ (ن) [18]
- فریال تالپور اور روئیداد خان نے 30 اگست 2008ء کو بطور صدارتی امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔ [19]
- پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) نے 30 اگست 2008ء کو آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ [20]
نتائج [ترمیم]
| امیدوار | جماعت/حمایت یافتہ | سینیٹ و قومی اسمبلی | پنجاب | سندھ | بلوچستان | سرحد | کل ووٹ | |
|---|---|---|---|---|---|---|---|---|
| آصف علی زرداری | 281 | 22 | 63 | 59 | 56 | 481 | ||
| سعید الزماں صدیقی | 111 | 35 | 0 | 2 | 5 | 153 | ||
| مشاہد حسین سید | 34 | 6 | 0 | 2 | 2 | 44 | ||
| ذریعہ: روزنامہ ڈان | ||||||||
آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے پاکستان کے نئے صدر منتخب ہو گئے۔ چیف الیکشن کمشنر نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری نے دونوں ایوانوں کے کل 426 ووٹوں میں سے 281، سندھ اسمبلی کے 65 ووٹوں میں سے 62، سرحد اسمبلی میں 56 اور بلوچستان اسمبلی میں 59 ووٹ حاصل کیے۔ [21] بی بی سی نے آصف علی زرداری کی کامیابی کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ“آصف علی زرداری نے 459 ووٹ حاصل کیے، جو درکار کامیابی کے لیے 352 ووٹوں سے کہیں زیادہ تعداد ہے۔[22]
نئے منتخب شدہ صدر کی مدت صدارت پانچ سال کے لیے ہے۔[23][24] صدارتی انتخابات پشاور میں ہوئے خود کش حملے کے بعد بھی جاری رہے جس میں 12 لوگ جاں بحق ہو گئے۔ [25]
سرحد اسمبلی میں انتخابات کے دوران مبینہ بدعنوانی [ترمیم]
صدارتی انتخابات کے دوران صوبہ سرحد کی قانون ساز اسمبلی میں ارکان، جن میں وزیر اعلٰی سرحد بھی شامل تھے خفیہ رائے شماری کے تحت ہونے والے انتخابات کی خلاف ورزی کھلے عام ووٹوں کو دکھاتے ہوئے کرتے رہے۔[26] اسی بناء پر ان ووٹوں کو شمار نہیں کیا جانا چاہیے۔[27]
حوالہ جات [ترمیم]
- ^ "پاکستانی صدارتی انتخابات کی تاریخ مقرر ہو گئی | The Australian". آسٹریلین نیوز. August 22, 2008. http://www.theaustralian.news.com.au/story/0,25197,24223939-2703,00.html. Retrieved 2008-09-26.
- ^ "مشرف نے مواخذے سے بچنے کے لیے استعفیٰ دیا (اپڈیٹ)". بلومبرگ. 2008-07-14. http://www.bloomberg.com/apps/news?pid=20601087&sid=au6PGtmU44E0&refer=home. Retrieved 2008-08-18.
- ^ تفصیلات الیکشن کمیشن کے مطابق
- ^ ججوں کی بحالی پر تنازعہ, انٹرنیشنل ٹریبون, 2008-08-22, accessed on 2009-08-22
- ^ اگلا صدر پیپلز پارٹی سے ہو گا, ژن ہو, 2008-08-18, accessed on 2008-08-20
- ^ مشرف کے جانشین کے لیے حکمران سرگرم, فرانسیسی پریس ایجنسی, 2008-08-19, accessed on 2008-08-20
- ^ پاکستانی حزب اختلاف زرداری کی حمایت پر, وائس آف امریکہ, 2008-08-20, accessed on 2008-08-20
- ^ زرداری کی بطور امیدوار نامزدگی پر قضیہ, بلومبرگ, 2008-08-22, accessed on 2008-08-22
- ^ زرداری پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں، انٹرنیشنل ہیرالڈ، 2008-08-22، accessed on 2008-08-23
- ^ شریف کو زرداری شرائط پر قبول، الجزیرہ، 2008-08-24، accessed on 2008-08-24
- ^ پاکستانی حکمران اتحاد صدارت پر بھی متحد، رائٹر، 2008-08-24، accessed on 2008-08-25
- ^ شریف نے حکمران اتحاد سے علیحدگی اختیار کر لی، سی این این، 2008-08-25، accessed on 2008-08-25
- ^ زرداری کی نامزدگی پر عمران، بابر کی جھڑپ، ڈیلی ٹائمز، 2008-08-25، accessed on 2008-08-25
- ^ فوجی کاروائی ختم کرنے کی شرط پر حمایت، فضل الرحمان، ڈیلی ٹائمز، 2008-08-25، accessed on 2008-08-25
- ^ پاکستان مسلم لیگ (ف) کسی کی حمایت نہیں کرتی، ڈیلی ٹائمز، 2008-08-25، accessed on 2008-08-25
- ^ اقلیت زرداری کو صدر دیکھنا چاہتے ہیں، ڈیلی ٹائمز، 2008-08-25، accessed on 2008-08-25
- ^ "پاکستانی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدوار لے آئیں۔ پیپلز ٹائمز". انگریزی میں چینی اخبار - پیپلز ٹائمز. http://english.people.com.cn/90001/90777/90851/6487148.html. Retrieved 2008-09-26.
- ^ پانچ امیدوار میدان میں، ڈیلی ٹائمز، 2008-08-29، accessed on 2008-09-07
- ^ تین سیاسی جماعتوں کے امیدوار، ہندوستان ٹائمز، 2008-08-31، accessed on 2008-09-07
- ^ شیرپاؤ نے زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا، پاکستان ٹرائیبون، 2008-08-31، accessed on 2008-09-01
- ^ afp.google.com، زرداری نے صدارتی انتخاب جیت لیا: حکام
- ^ بھٹو کے شوہر فاتح: بی بی سی
- ^ timesofindia.indiatimes.com، زرداری پہلے نمبر پر
- ^ بھٹو کا شوہر پاکستانی صدر
- ^ 12 افراد خودکش حملے میں جاں بحق: پولیس
- ^ "ممبران نے قانون کی دھجیاں اڑا دیں ballot in NWFP assembly". جیو. http://www.geo.tv/9-7-2008/24360.htm. Retrieved 2008-09-26.
- ^ "پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سرحد اسمبلی کے واقع پر ردعمل ۔ یو ٹیوب کی ویڈیو". یو ٹیوب. http://www.youtube.com/watch?v=cURCt7fpoYg. Retrieved 2008-09-26.
|
|
|||||