بلاول بھٹو زرداری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

بلاول زرداری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے سربراہ ہیں۔ وہ 21 ستمبر، 1988ء کو پیدا ہوئے۔ بلاول سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو اور موجودہ شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین آصف علی زرداری کے اولاد میں سے سب سے بڑے ہیں۔ اس طرح وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نواسے ہیں۔

تعلیم[ترمیم]

اپنی والدہ کے دوسرے دور حکومت کے دوران انہوں نے کراچی گرائمر اسکول، کراچی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے فوربلز انٹرنیشنل اسکول، اسلام آباد سے بھی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں جب وہ دبئی منتقل ہوئے تو انہوں نے اپنی تعلیم راشد پبلک سکول، دبئی میں جاری رکھی۔ جہاں وہ اسٹوڈنٹ کونسل کے نائب چیئرمین تھے۔ راشد پبلک سکول، دبئی کے شہزادوں اور امراء کے لیے خاص سکول ہے۔ وہ تائیکوانڈو میں بلیک بیلٹ بھی رکھتے ہیں۔ اب وہ کرائسٹ چرچ سکول، جامعہ آکسفورڈ میں زیر تعلیم ہیں۔ 2008ء میں وہاں اُن کا پہلا تعلیمی سال تھا۔ اسی جامعہ میں ان کے نانا اور والدہ نے بھی تعلیم حاصل کی تھی.

مشاغل[ترمیم]

بلاول کو گھڑ سواری، تیراکی ، نشانہ بازی پسند ہے۔

سیاسی پارٹی کی سربراہی[ترمیم]

بلاول، اپنی والدہ کے قتل کے بعد 30 دسمبر، 2007ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ نامزد ہوئے۔ لیکن چونکہ ابھی تعلیم مکمل نہیں ہے لہذا ان کے والد آصف علی زرداری پارٹی کے شریک سربراہ ہیں جو کہ جماعت کو چلا رہے ہیں۔ والدہ کے قتل کے بعد ان کا نام بلاول علی زرداری سے تبدیل کر کے بلاول بھٹو زرداری کر دیا گیا تھا کیونکہ پیپلز پارٹی اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی کرشماتی شخصیت کے باعث پانے والی شہرت کو نہیں کھونا چاہتی تھی اور "بھٹو عنصر" کا استعمال ہی بلاول کے نام کی تبدیلی کا باعث بنا۔ ان کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین کے عہدے پر تعیناتی کو ملک کے جمہوری حلقوں نے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا کیونکہ ملک کی سب سے بڑی جمہوری قوت ہونے کے ناطے پیپلز پارٹی کو اپنے سربراہ کا انتخاب جمہوری طریقے سے کرنا چاہیے تھا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے اعلٰی حلقوں (بشمول آصف زرداری) کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو نے اپنی وصیت میں انتقال کے بعد آصف زرداری کو جماعت کی قیادت دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن آصف نے قیادت کا بوجھ بلاول کے کاندھوں پر ڈال دیا۔

مستقبل[ترمیم]

اس وقت بلاول کی پہلی ترجیح اپنی تعلیم مکمل کرنا ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ہی ان کا سیاست میں آنے کا ارادہ ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]