فاروق احمد خان لغاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سردار فاروق احمد خان لغاری


در منصب
14 نومبر 1993ء – 2 دسمبر 1997ء
وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو
ملک معراج خالد (نگران)
نواز شریف
پیشرو وسیم سجاد (نگران)
جانشین وسیم سجاد (نگران)

پیدائش 29 مئی 1940 (1940-05-29)
چھوٹی زرین, برطانوی ہندوستان (موجودہضلع ڈیرہ غازیخان، پاکستان)
وفات 20 اکتوبر 2010 (عمر 70 سال)
راولپنڈی
سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (قائد اعظم) (2004–2010)
دیگر سیاسی
الحاقات
پاکستان پیپلز پارٹی (2004 سے قبل)
مادر علمی فارمین کرسچین کالج
سینٹ کیتھرین کالج, آکسفورڈ
مذہب اسلام
موقع جال سرکاری موقع پر فاروق لغاری کا صفحہ

سردار فاروق احمد خان لغاری (29 مئی 1940 تا 20 اکتوبر 2010) پاکستان کے ایک مشہور سیاست دان اور سابقہ صدرِ مملکت تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقے چوٹی زیریں کے ایک زمیندار اور سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کرنے کے بعد اعلٰی تعلیم کے بیرون ملک گئے۔ مرحوم وطن واپسی کے بعد سول سروس میں شامل ہو گئے اور مشرقی پاکستان میں فرائض انجام دیے۔ فاروق لغاری نے اپنے والد کی وفات کے بعد سول سروس سے علیحدگی اختیار کرلی اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے۔ اس طرح انہوں نے سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔

سیاست[ترمیم]

فاروق لغاری ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں سینیٹ کے رکن بنے اور پھر وفاقی کابینہ میں پیداوار کی وزارت کا قلم دان سنبھالا۔ 1988ع میں فاروق لغاری بیک وقت قومی اور پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وہ اس وقت پنجاب کی وزارت اعلٰی کے ایک مضبوط امیدوار سمجھے جاتے تھے۔ لیکن پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم نہ ہوسکی جس کی وجہ انہوں نے صوبائی نشست چھوڑی دی اور وفاقی کابینہ میں بجلی کے وزیر بنے۔ 1990ع میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے طور پر قومی اسمبلی میں اپنا کردار ادا کیا اور بعد میں مختصر عرصے کے لیے بلخ شیر مزاری کی نگران حکومت میں وزیر خزانہ بھی رہے۔

صدرِ پاکستان[ترمیم]

انیس سو ترانوے میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور بینظیر بھٹو نے انہیں اپنی کابینہ میں وزیر خارجہ بنایا اور صدر پاکستان بننے تک وہ اسی عہدے پر فائز رہے۔ سردار فاروق احمد خان لغاری صدارتی انتخابات میں اپنے مدمقابل حزب اختلاف کے امیدوار سینیٹر وسیم سجاد کو شکست دے کر صدر منتخب ہوئے۔ صدر منتخب ہونے پر انہوں نے پیپلز پارٹی کی رکنیت سے استعفٰی دے دیا۔ بعد ازاں سردار فاروق لغاری اور بینظیر بھٹو کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے اور نومبر 1996ع میں آئین میں دیے گئے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 58(2B) کے تحت بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی اور اسمبلیاں تحلیل کردیں۔ فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی جگہ اپنے ایک قریبی ساتھی اور پیپلز پارٹی کے رہنما ملک معراج خالد کو ملک کا نگران وزیر اعظم بنادیا۔ اسی دوران احتساب کے لیے احتساب آرڈیننس کے نام سے ایک نیا قانون متعارف کرایا تھا جو بعد میں نواز شریف کے دور میں احتساب ایکٹ کہلایا اور سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے اس قانون کو نیب یعنی قومی احتساب بیورو کا نام دیا۔

فاروق لغاری نے احتساب آرڈیننس میں ترمیم کا ارادہ کیا تو اس وقت نگران وزیرِ قانون فخرالدین جی ابراہیم نے اس کی مخالفت کی اور وزیرِ قانون کا عہدہ چھوڑ دیا۔ اسی عرصے میں قومی سلامتی کونسل کی طرز پر ایک آرڈیننس کے ذریعے ایک ادارہ قائم کیا لیکن آرڈیننس کی آئینی مدت ختم ہونے کے بعد یہ ادارہ ازخود ہی تحلیل ہوگیا۔ 1997ع کے انتخابات میں نواز شریف کی جماعت مسلم لیگ نواز بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔ نواز شریف نے نے صدر کے اسمبلی توڑنے اور فوجی سربراہاں کی تقرری کا اختیار واپس لینے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے آئین میں ترمیم کی اور اس ترمیم کی منظوری کے لیے اس وقت حزب اختلاف کی قائد بینظیر بھٹو نے بھی ترمیم کی منظوری کے مکمل اور بھرپور حمایت کی۔ 1997ع میں نواز شریف حکومت اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے درمیان تنازعے کی وجہ سے صدرِ مملکت کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

ق لیگ[ترمیم]

سردار فاروق احمد خان لغاری نے صدر پاکستان کو منصب چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد اپنی نئی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔ لاہور میں قائم کی جانے والی اس نئی جماعت کا نام ملت پارٹی رکھا گیا اور اس میں پیپلز پارٹی کے ناراض رہنماؤں اور کارکنوں نے شمولیت اختیار کی۔ جنرل مشرف کے دور میں اپنی جماعت ملت پارٹی کو اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ قاف میں ضم کردیا۔ سردار فاروق لغاری نے دو ہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

انتقال[ترمیم]

20اکتوبر 2010 کو ان کا انتقال راولپنڈی کے سی ایم ایچ ہسپتال میں دل کی دھڑکن رک جانے سے ہوا۔ چند گھنٹے بعد ان کے دل کی جراحت کی جانی تھی۔

بیرونی روابط[ترمیم]


سیاسی دفاتر
پیشرو
عبدالستار
وزیر خارجہ
1993
جانشین
آصف احمد علی
پیشرو
وسیم سجاد
نگران
صدر پاکستان
1993–1997
جانشین
وسیم سجاد
نگران