غلام مصطفی جتوئی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
غلام مصطفی جتوئ

غلام مصطفی جتوئی پاکستان کے سیاستدان اور سابق نگراں وزیراعظم ، نیشنل پیپلزپارٹی کے سربراہ اور معروف سیاستدان غلام مصطفی جتوئی 14 اگست 1931ء کو سندھ کے ضلع نواب شاہ کے علاقے نیو جتوئی میں پیدا ہوئے اور طویل علالت کے بعد 78 سال کی عمر میں 20 نومبر 2009ء کو لندن میں وفات ہوئے ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

غلام مصطفیٰ جتوئی نے کراچی گرامر اسکول سے سینئر کیمرج کا امتحان پاس کیا۔ انیس سو باون میں وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلینڈ چلے گئے تاہم انہیں والد کی خرابی صحت کے باعث ایک سال میں ہی تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس آنا پڑا۔غلام مصطفی جتوئی سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ان کے دادا خان بہادر امام بخش خان جتوئی 1923ء،1927ء،1931ء کے دوران ممبئی قانون ساز اسمبلی کے ممبر رہے جبکہ اس وقت اندرون سندھ صرف چار نمائندے تھے . مصطفی جتوئی کے تین بھائی تھے وہ تمام بھائیوں میں سے بڑے تھے۔

سیاسی زندگی[ترمیم]

غلام مصطفی جتوئی نے 1952ء ءمیں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور اسی سال ہی ضلع نوابشاہ کے ڈسٹرکٹ بورڈ کے چیئرمین بنے ۔ انہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ ڈسٹرکٹ بورڈ کے سب سے کم عمر چیئرمین تھے۔ ۔1958ء میں پہلی مرتبہ مغربی پاکستان کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔1965ءمیں انہوں نے یہ الیکشن دوبارہ جیتا ۔ 1969ءمیں پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرلی اور 1970ءمیں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ اس دوران وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت میں ان کو سیاسی امور ، پورٹ اینڈ شپنگ ، کمیونی کیشن، قدرتی وسائل ، ریلوے اور ٹیلی کمیونی کیشن کے عہدے دیئے گئے۔

غلام مصطفیٰ جتوئی 1973ءمیں وزیراعلیٰ سندھ بنے اور یہ عہدہ ان کے پاس 1977ءتک رہا۔ جبکہ انہیں یہ بھی امتیاز حاصل ہے کہ وہ مارشل لاءسے پہلے سندھ میں سب سے زیادہ عرصے تک وزیراعلیٰ رہنے والے شخص تھے ۔ مصطفی جتوئی نے بحالی جمہوریت تحریک (ایم آر ڈی) میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں 1983ء اور 1985ء میں گرفتار بھی کیا گیا۔ بعد ازاں انہوں نے نیشنل پیپلزپارٹی کے نام سے ایک جماعت قائم کی ۔کئی بڑے لیڈروں نے اس جماعت میں شمولیت اختیار کی ۔ مصطفی جتوئی اس پارٹی کے چیئرمین تھے۔

مصطفی جتوئی1988ءمیں اسلامی جمہوری اتحاد کے بانی بنے اور 1989ءمیں وہ کوٹ ادو سے ضمنی الیکشن میں رکن اسمبلی منتخب ہو ئے اور قومی اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن کے منتخب لیڈر بنے۔ مصطفی جتوئی بےنظیر بھٹو کی پہلی حکومت برطرف کئے جانے کے بعد ملک کے نگران وزیراعظم بنے جبکہ بعد ازاں مصطفی جتوئی نے نواز شریف حکومت کیخلاف تحریک میں اپوزیشن کا ساتھ دیا جس کی قیادت بینظیر بھٹو کر رہی تھی بعد ازاں 1993ءکے الیکشن میں مصطفی جتوئی نے پیپلزپارٹی سے ملکر الیکشن لڑا جبکہ وہ نیشنل الائنس میں بھی رہے اور اس دوران نیشنل الائنس نے 16 نشستیں قومی اسمبلی میں حاصل کیں۔

مصطفی جتوئی کے بیٹے بھی سیاست میں ہیں ان کے بیٹے غلام مرتضی خان جتوئی نے 12فروری 2008ء کے انتخابات میں‌ نوشہرو فیروز کے حلقہ این اے 211سے نیشنل پیپلزپارٹی کے جھنڈے تلے کامیابی حاصل کی ۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست دی جبکہ ان کے دوسرے بیٹے عارف مصطفی جتوئی نے پی ایس 19 سے اور تیسرے بیٹے مسرور جتوئی نے پی ایس 23 سے کامیابی حاصل کی ۔ عارف مصطفی سابق وزیر خوراک و زراعت بھی رہے جبکہ آصف مصطفی جتوئی سینیٹر بنے اور جتوئی خاندان کیلئے یہ ایک ریکارڈ ہے کہ ایک وقت میں چار بیٹوں نے کسی بھی قانون ساز فورم میں کامیابی حاصل کی اور وہ قومی و صوبائی اسمبلی و سینٹ کے ممبر ہے ۔


سیاسی دفاتر
پیشرو
ممتاز بھٹو
وزیر اعلٰی سندھ
1973 – 1977
جانشین
غوث علی شاہ
پیشرو
بینظیر بھٹو
وزیراعظم پاکستان (نگران)
1990
جانشین
نواز شریف
Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔