تحریک طالبان پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
تحریک طالبان پاکستان
شمولیت جنگ شمال مغربی پاکستان
PakistanTribal.png
پاکستان کے قبائلی علاقے
فعال از دسمبر 2007 – تا حال
قائدین بیت اللہ محسود (دسمبر 2007 – اگست 2009)

حکیم اللہ محسود (اگست 2009 – تا حال)

صدر دفاتر جنوبی وزیرستان
اشتغال کے علاقے پاکستان کے قبائلی علاقے (فاٹا)
خیبر پختونخوا
افغانستان
تعداد ہزاروں
اتحادی القاعدہ
حرکت الجہاد الاسلامی
تحریک نفاذ شریعت محمدی
افغان طالبان (برائے: افغان جنگ)
مخالف عسکریہ پاکستان
امریکی مسلح افواج
سی آئی اے (CIA)
بین الخدماتی مخابرات (ISI)
جنگیں/محاربے جنگ شمال مغربی پاکستان


تحریک طالبان پاکستان یا کالعدم تحریک طالبان ایک تنظیم ہے جو پاکستان میں خود کش حملوں اور دیگر جرائم میں ملوث ہے۔ پاکستان میں سرگرم کئی تنظیمیں طالبان کا نام استعمال کرتی ہیں جو خودکش حملوں اور مسلح لڑائیوں میں ملوث بتائی جاتی ہیں۔ ان میں شدید نوعیت کے اختلافات بھی موجود ہیں اور یہ سب کئی گروہوں میں منقسم ہیں تاہم تحریک طالبان پاکستان کے راہنما افغان طالبان کے ہاتھ پر بیت کی ہوئی یے اور متعدد حلقوں کی اپیل کے باوجود ملا عمر نے انکی مذمت یا ان سے لاتعلقی کرنے سے انکار کر دیاہے- ان کی کاروائیوں کا دائرہ کار پاکستان سے لے کر افعانستان تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستانی خفیہ اداروں کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کو 34 تنظیموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان تمام تنظیموں کو دہشت گرد قرار نہیں دیا جاسکتا البتہ ان میں کئی جرائم پیشہ گروہ بھی شامل ہیں جو طالبان کا نام استعمال کرتے ہیں۔ ان جرائم پیشہ گروہوں کی آپس میں لڑائیاں اس پیسے کی تقسیم پر بھی ہوتی ہیں جو انہیں بیرونی طاقتیں مہیا کرتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ طالبان کی صفوں میں موجود جرائم پیشہ گروہوں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں اور یہ امریکی و برطانوی آلہ کار ہیں۔ جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے طالبان، جن میں افغانی طالبان بھی شامل ہیں، سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکہ کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے ہیں۔[1]۔ اگرچہ بظاہر امریکہ اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کردیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق اس پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا ہے۔[2]

طالبان کی تاریخ

دنیا جن کو آج طالبان کے نام سے جانتی ہے وہ تمام صرف مدرسہ کے معصوم طلباء نہیں بلکہ ان میں جرائم پیشہ، قاتل، ڈاکو وغیرہ شامل ہو چکے ہیں۔ طالبان کی تحریک کی پیدائش کے بارے میں مختلف نظریات ہیں لیکن اس میں کسی کو شک نہیں کہ اسامہ بن لادن اور طالبان دونوں کو امریکی سی آئی اے نے پاکستانی جاسوسی اداروں کی مدد سے تخلیق کیا۔[3]۔[4] اس وقت امریکی دانشوروں مثلاً سلگ ہیریسن نے امریکی حکام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ ہم ایک درندہ پیدا کرنے جا رہے ہیں۔ طالبان صرف مدرسے کے طلبا نہیں ہیں بلکہ جاسوسی اداروں کے تنخواہ دار ہیں اور انہوں نے دہشت گردی کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔[5]۔ آج یہ تصور پیش کیا جارہا ہے کہ پاکستان نے طالبان پیدا کیے اور سی آئی اے نے صرف مدد کی مگر حقیقت یہ ہے کہ نیٹو (NATO) نے پاکستان سے بھی زیادہ براہ راست کردار ادا کیا یہاں تک کہ طالبان کے پہاڑوں میں خفیہ اڈے تک سی آئی اے نے براہ راست خود بنائے۔[6] 1994ء میں افغانستان میں طالبان کی شروعات ہوئی جس کے لیے پیسہ امریکہ، برطانیہ، سعودی عرب نے فراہم کیا۔ درحقیقت پاکستان نے امریکہ کے لیے یہ کام کیا[3]

امریکہ کے ایک ڈپلومیٹ و سینیٹر ہینک براؤن نے طالبان حکومت کے قیام پر کہا کہ ہم افغانستان میں سعودی عرب کی طرز کی ریاست کے قیام پر خوش ہیں۔ یہاں صرف آرامکو (امریکی تیل کمپنی)، بغیر پارلیمنٹ کے ایک امیر، پائپ لائنیں اور بہت سے شریعت کے قوانین ہونگے اور یہ ہمارے (امریکیوں کے) لیے بہت مناسب ہے۔ فرق یہ کہ تیل وسطی ایشیا کا اور پائپ لائنیں افغانستان میں ہونگی۔[7] طالبان سے امریکہ کے محبت بھرے تعلقات اس وقت تک عروج پر رہے جب تک اسامہ بن لادن کے مسئلے پر طالبان نے امریکہ کی بات ماننے سے انکار کیا۔ حقیقتاً امریکی اسامہ بن لادن کو گرفتار نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ اس کے بہانے افغانستان میں گھسنا چاہتے تھے۔ دوسری بات یہ کہ امریکہ کے خیال میں طالبان اب پہلے جیسے فائدہ مند نہ رہے تھے۔[3]۔ پاکستانی پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق حال ہی میں ایک سعودی خیراتی ادارہ نے تحریک طالبان کو 15 ملین امریکی ڈالر دیے ہیں جسے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جائے گا اور پنجاب کے کئی شہروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔[8]

تحریک طالبان کے مختلف گروہ

تفصیل کے لیے دیکھیں تحریک طالبان پاکستان کے گروہ
طالبان کے بے شمار گروہ ہیں جن میں غیر ملکی امداد کی تقسیم پر لڑائی جھگڑا رہتا ہے مگر بنیادی طور پر بیشتر گروہ محسود گروہ کی چھتری کے نیچے جمع ہو چکے ہیں جن کی ایک 42 رکنی شوریٰ موجود ہے جو فیصلہ کا اختیار رکھتی ہے۔[9] ان گروہوں میں سے کچھ زیادہ مشہور ہیں جیسے بیت اللہ محسود گروپ۔

تحریک طالبان پاکستان اورتحریک الاسلامی طالبان

تحریک طالبان پاکستان اور تحریک الاسلامی طالبان القاعدہ کے آپس میں بھی تعلقات ہیں. اکتوبر کے تیسرے ہفتے میں افغانستان کی جہادی تنظیموں کا ایک اجلاس ہوا جس میں پاکستان کے خلاف 'معرکہ خیر و شر' (بقول ان کے) شروع کرنے کا فیصلہ ہوا اور یہ فیصلہ ہوا کہ افغانی طالبان کو پاکستانی طالبان کی مدد کے لیے پاکستان بھیجا جائے گا۔ افغانستان کے تمام کمانڈروں نے حکیم اللہ محسود کو پاکستانی طالبان کا امیر تسلیم کر لیا ہے اور اس کی امارت میں جہاد (بقول ان کے) جاری رکھا جائے گا۔[10]

افغان طالبان ملا طور کے مطابق افغانی طالبان کا تحریک طالبان پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ بے گناہ لوگوں کو فدائی حملوں اور دھماکوں میں نشانہ بنانا غلط ہے۔ افغان طالبان صرف نیٹو اور امریکی افواج کو نشانہ بناتے ہیں۔[11]

طالبان کے بھارت، سی آئی اے و دیگر غیر ممالک سے روابط

جولائی 2009ء میں سوات اور فاٹا میں گرفتار ہونے والے طالبان ، جن میں افغانی طالبان بھی شامل ہیں، سے بھارتی کرنسی اور اسلحہ کے علاوہ امریکہ کے جاری کردہ آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے کارڈ بھی ملے ہیں۔[1] اگرچہ بظاہر امریکہ اور طالبان ایک دوسرے کے دشمن ہیں مگر حیران کن طریقہ پر پاک فوج کے وزیرستان آپریشن کے شروع ہوتے ہی نیٹو فورسز نے افغانستان کی طرف کی چوکیاں یکدم خالی کردیں حالانکہ وہاں سے افغانی وزیرستان میں آسانی سے داخل ہو سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ رحمان ملک کے مطابق اس پر احتجاج بھی ریکارڈ کروایا گیا ہے۔[2]

روزنامہ نوائے وقت کے مطابق پشاور کار بم دھماکے سے دو روز قبل امریکہ اور بھارت نے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر سے گریز اور یہاں موجود شہریوں کو نقل و حرکت محدود رکھنے کی ہدایات کی تھیں۔ سکیورٹی ماہرین کی جانب سے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں کسی بھی سانحہ سے قبل ان دونوں ممالک کی ہدایات غیرمعمولی امر ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ممالک کو پاکستان میں ہونیوالی کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی کا پہلے ہی علم ہو جاتا ہے۔[12]

2 نومبر 2009ء کو پاک فوج کے ترجمان اطہر عباس نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ وزیرستان میں جاری آپریشن راہ نجات کے دوران بھارتی روابط کے ناقابل تردید ثبوت ملے ہیں۔ دہشت گردوں کے زیرِ استعمال بھارتی لیٹریچر اور اسلحہ بھی پکڑا گیا ہے۔ یہ شواہد وزارت خارجہ کو بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ مناسب کاروائی کی جائے۔[13]

امریکی وزیر خارجہ نے اس بات کو مانا ہے کہ دہشت گردوں کی تخلیق میں امریکہ کی بھی کچھ ذمہ داری ہے۔[14]

پاکستان نے امریکی سی آئی اے کی پاکستان میں سرگرمیوں پر مشتمل ثبوت امریکہ کو پیش کیے ہیں۔ اس میں کابل میں سی آئی اے کے ڈائیریکٹر پر واضح کیا کہ کابل میں سی آئی اے کے اہلکار پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی معاونت کر رہے ہیں۔[15]

پاکستان میں افغانستان کے سفیر نے کہا ہے کہ بھارت وزیرستان میں طالبان کو اسلحہ مہیا کر رہا ہے۔[16]

تحریک طالبان کی دہشت گردی

تفصیل کے لیے دیکھیں: تحریک طالبان کی دہشت گردی
تحریک طالبان کو ایک دہشت گرد جماعت قرار دیا جاچکا ہے۔ وہ اغوا برائے تاوان، لوگوں کو قتل کر کے سر قلم کرنے اور بم دھماکوں اور خود کش حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ یہ حرکتیں اب بھی جاری ہیں۔ پچھلے کئی سال میں انہوں نے سینکڑوں لوگوں کو ہلاک کیا ہے اور کئی علمائے دین اور امن کمیٹی کے ارکان کو بھی ہلاک کیا ہے۔ یہاں تک کہ مسجدیں شہید کرنے میں وہ کوئی عار محسوس نہیں کرتے مثلاً 4 دسمبر 2009ء کو انہوں نے 17 نمازی بچوں سمیت چالیس افراد کے قتل اور راولپنڈی میں مسجد کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری قبول کی۔[17]

تحریک طالبان اور جرائم

دہشت گردی کی وارداتوں کے علاوہ تحریک طالبان کے افراد مختلف جرائم میں ملوث رہتے ہیں جن میں اغوا برائے تاوان اور بینک ڈکیتی شامل ہیں۔ 22 اکتوبر 2009ء کو کراچی سے دو افغان ڈاکو پکڑے گئے جن سے ہینڈ گرنیڈ اور کلاشنکوفیں برآمد ہوئیں۔ یہ دونوں قتل، اغوا اور ڈکیتی کے درجنوں مقدمات میں مطلوب تھے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کے ذریعے رقم اکٹھا کر کے طالبان کو بھجواتے تھے۔[18]

تحریک طالبان پاکستان کے اورکزئی ایجنسی کے نئے امیر نے اورکزئی ایجنسی کے تمام اساتذہ کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ ہر ماہ اپنی تنخواہ سے دو ہزار روپے تنطیم کو دیا کریں۔ یہ سلسلہ پہلے سے جاری تھا لیکن اب اساتذہ کی مرضی کے خلاف رقم دو ہزار کر دی گئی ہے۔[19]

طالبان نے پاکستان کے محکمہ کسٹمز کے کئی اہلکار اغوا کیے ہیں جن کے لیے وہ کروڑوں روپے تاوان مانگ رہے ہیں۔[20]

طالبان کی دہشت گردی کے خلاف احتجاج

پاکستان میں طالبان کی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں قبائلی علاقے کے افراد، ڈاکٹر، اساتذہ، طالب علم، زمینداروں اور کاشتکاروں سمیت ہر مکتبہ فکر کے افراد شامل ہیں۔ قبائلی علاقے اور سوات میں طالبان کے خلاف لشکر تشکیل دیے جارہے ہیں جو اس علاقے کا پرانا طریقہ ہے۔ سوات کے لشکروں کے مطابق فوج جب اس علاقے سے جائے گی تو وہ اپنی حفاظت کے قابل ہوں گے۔[21]

20 اکتوبر 2009ء کو پنجاب یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ نے ایک 'پاکستان زندہ باد' جلوس نکالا جس میں دہشت گردوں کے خلاف احتجاج کیا اور پاک فوج کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔ اس جلوس میں صدرِ جامعہ اور پروفیسروں نے بھی شرکت کی۔[22] 26 اکتوبر 2009ء کو لاہور میں سرکاری ملازمین نے دہشت گردی کے خلاف اور وزیرستان میں آپریشن کی حمایت میں ایک پر امن جلوس نکالا جس میں طلباء بھی شامل ہوئے۔[23]

آپریشن راہ نجات

جون 2009ء میں پاک فوج کی جانب سے وزیرستان میں طالبان کے خلاف کی جانے والی فوجی کاروائی کو آپریشن راہ نجات کا نام دیا گیا۔ اس آپریشن کا باقاعدہ آغاز پاک فوج کے جنرل ہیڈکوارٹرز پر تحریک طالبان کے حملے کے بعد ہوا۔ اس کاروائی میں پاک فضائیہ بھی پاک فوج کے ہمراہ حصہ لے رہی ہے۔ سرکاری ذرا‏ئع کے مطابق یہ آپریشن تحریک طالبان پاکستان کے مکمل خاتمے تک جاری رکھا جا‌ۓ گا۔

متعلقہ مضامین

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. ^ 1.0 1.1 روزنامہ ایکسپریس، 12 جولائی 2009
  2. ^ 2.0 2.1 روزنامہ ایکسپریس پاکستان 24 اکتوبر 2009ء
  3. ^ 3.0 3.1 3.2 افغانستان، سی آئی اے، اسامہ بن لادن اور طالبان
  4. ^ سی آئی اے نے پاکستان کی مدد سے طالبان تخلیق کیے
  5. ^ لسگ ہیریسن۔ دہشت گردی اور علاقائی تحفظ کی کانفرنس 2000ء
  6. ^ http://emperors-clothes.com/docs/camps.htm نیو یارک ٹائمز 24 اگست 1998
  7. ^ امریکی سینیٹر ہینک براؤن (Hank Brown)۔ صدر سینٹ خارجہ تعلقات سب۔کمیٹی برائے جنوبی ایشیاء۔ بحوالہ ورلڈ ٹریویلر
  8. ^ روزنامہ دی نیوز۔ 14 ستمبر 2009
  9. ^ طویل جنگ کا جریدہ
  10. ^ روزنامہ جنگ 18 اکتوبر 2009ء
  11. ^ جنگ تازہ خبریں 10 نومبر 2009ء
  12. ^ نوائے وقت 29 اکتوبر 2009ء
  13. ^ روزنامہ جنگ 3 نومبر 2009ء
  14. ^ http://www.jang.com.pk/jang/nov2009-daily/11-11-2009/u11008.htm جنگ 11 نومبر 2009ء۔ تازہ خبریں
  15. ^ روزنامہ جنگ 21 نومبر 2009ء
  16. ^ جنگ تازہ ترین 27 نومبر 2009ء
  17. ^ روزنامہ جنگ 5 دسمبر 2009ء
  18. ^ روزنامہ جنگ تازہ ترین خبریں 22 اکتوبر 2009ء
  19. ^ بی بی سی اردو 22 اکتوبر 2009ء
  20. ^ روزنامہ جنگ 20 نومبر 2009ء
  21. ^ http://www.jang.com.pk/jang/oct2009-daily/26-10-2009/u9483.htm روزنامہ جنگ تازہ ترین 26 اکتوبر 2009ء
  22. ^ دانشگاہِ پنجاب پریس ریلیز 20 اکتوبر 2009ء
  23. ^ http://www.jang.com.pk/jang/oct2009-daily/26-10-2009/u9516.htm روزنامہ جنگ تازہ ترین 26 اکتوبر 2009ء