احمد رضا خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عالمِ دین
احمد رضا خان
معروفیت مجدد
پیدائش 14 جون 1856[1]
وفات 1921 (عمر 64-65)
قومیت مسلم
علاقہ جنوبی ایشیاء
مذہب حنفی
مکتبہ فکر سنی
شعبۂ عمل عقیدہ, فقہ, تصوف
مؤثر شخصیات امام ابو حنیفہ عبد القادر جیلانی, رومی, نقی علی خان, شاہ عبد الحق, فضل حق خیر آبادی
متاثر شخصیات مصطفی رضا خان, احمد سعید کاظمی,عبد العلیم صدیقی, مولانا شاہ احمد نورانی، محمد اختر رضا خان قادری, محمد الیاس قادری, قمر الزمان اعظمى, محمد عبدالحکیم شرف قادری، محمد ارشد القادری


اہلسنت و جماعت حنفی بریلوی

امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان قادری کا مزار
اہم شخصیات

فضل حق خیر آبادی · رضا علی خان
سید کفایت علی کافی ·
نقی علی خان
امام احمد رضا خان
جماعت علی شاہ محدث ·
سید جماعت علی شاہ ثانی
امجد على اعظمى ·
پير مہر علی شاہ
نعیم الدین مراد آبادی ·
عبد العلیم صدیقی
مصطفی رضا خان ·
مفتی احمد یار خاں نعیمی
مفتی غلام جان قادری ·
یار محمد بندیالوی
محمد سردار احمد قادری ·
حامد رضا خان
ارشد القادری ·
احمد سعید کاظمی
صاحبزادہ فضل کریم ·
محمد شفیع اوکاڑوی
سید شجاعت علی قادری ·
قمر الزمان اعظمى
قاری غلام رسول ·
شہید محمد سلیم قادری
حسن رضا خان ·
مفتی محمد امین
مولانا شاہ احمد نورانی ·
محمد اختر رضا خان قادری
محمد عبدالحکیم شرف قادری ·
ابو البرکات احمد
سرفراز احمد نعیمی شہید ·
عبدالقیوم ہزاروی
فیض احمد اویسی ·
محمد ارشد القادری
محمد خان قادری ·
مفتی منیب الرحمان
اشرف آصف جلالی ·
محمد اسحاق جان سرہندی
قاری سید صداقت علی ·
محمد الیاس قادری
مشتاق قادری ·
کوکب نورانی اوکاڑوی
راغب حسین نعیمی ·
ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی
محمد عمران عطاری

اہم ادارے

جامعہ رضویہ منظر اسلام, بھارت
دارالعلوم حزب الاحناف, پاکستان
فیضان مدینہ، پاکستان
جامعہ اسلامیہ لاہور, پاکستان
جامعہ اسلامیہ رضویہ, پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور, پاکستان
جامعہ نظامیہ رضویہ شیخوپورہ, پاکستان
جامعہ نعیمیہ لاہور, پاکستان
دارالعلوم حزب الاحناف, پاکستان

تحریکیں

جنگ آزادی ہند 1857ء
آل انڈیا سنی کانفرنس
جمیعت علمائے پاکستان
تحریک ختم نبوت
دعوت اسلامی
تعلیم و تربیت اسلامی پاکستان
تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
سنی دعوت اسلامی
سنی تحریک
ورلڈ اسلامک مشن

مولانا احمد رضا خان، جو اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، حسان الہند جیسے القابات سے بھی جانے جاتے ہیں۔احمد رضا خان 1272ھ -1865 میں پیدا ہوے۔امام احمد رضا خان شمالی بھارت کے شہر بریلی کے ایک مشہور عالمِ دین تھے جن کا تعلق فقہ حنفی سے تھا۔ امام احمد رضا خان کی وجہ شہرت میں اہم آپکی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں لکھے نعتیہ مجموعے اور آپ کے ہزارہا فتاوی کا ضخیم علمی مجموعہ جو 30 جلدوں پر مشتمل فتاوی رضویہ کے نام سے موسوم ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اہلسنت کی ایک بڑی تعداد آپ ہی کی نسبت سے بریلوی کہلاتے ہیں۔

دینی علوم کی تکمیل گھر پر اپنے والد مولوی نقی علی خان سے کی۔ دو مرتبہ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ درس و تدریس کے علاوہ مختلف علوم و فنون پر کئی کتابیں اور رسائل تصنیف و تالیف کیے۔ قرآن کا اردو ترجمہ بھی کیا جو کنز الایمان کے نام سے مشہور ہے۔ علوم ریاضی و جفر میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شعر و شاعری سے بھی لگاؤ تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بہت سی نعتیں اور سلام لکھے ہیں۔ انہوں نے عربی، فارسی اور اردو میں ایک ہزار کے قریب کتابیں تصنیف کیں۔ بعض جگہ ان کتابوں کی تعداد چودہ سو ہے۔ [2][3][4]۔

بچپن

مولانا نے چار برس کی ننھی عمر میں قرآن مجید ناظرہ کیا اور چھ سال کی عمر میں منبر پر مجمع کے سامنے میلاد شریف پڑھا۔ اردو فارسی اور عربی پڑھنے کے بعد مولانا نے اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان سے عربی زبان میں دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تیرہ برس دس مہینے کی عمر میں ایک عالم دین ہوگئے. 14 شعبان 1286ھ مطابق 19 نومبر 1869ء میں مولانا کو عالم دین کی سند دی گئی اور اسی دن والد نے مولانا کے علمی کمال اور پختگی کو دیکھ کر فتویٰ نویسی کی خدمت انکے سپرد کی. جسے مولانا نے 1340ھ مطابق 1921ء اپنی وفات کے وقت تک جاری رکھا.

بسم اللہ خوانی

مولانا کی بسم اللہ خوانی کی رسم کے موقع پر ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا. آپ کے استاد محترم مرزا غلام قادر بیگ بریلوی نے حسب دستور بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بعد الف ب ت ث ج وغیرہ حروف تہجی مولانا کو پڑھانا شروع کیا. استاد کے بتانے کے مطابق مولانا پڑھتے گئے جب لام الف کی نوبت آئی . استادنے فرمایا کہو لام الیف تو مولانا خاموش ہوگئے اور لام الیف نہیں پڑھا . استادنے دوبارہ کہا. میاں صاحبزادے کہو لام الیف مولانا نے کہا یہ دونو حرف تو میں پڑھ چکا ہوں . الیف بھی پڑھا اور لام بھی پڑھ چکا ہوں. اب دوبارہ کیوں پڑھا یا جارہا ہے؟ محفل بسم اللہ خوانی میں اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان قدس سرہ کے دادا جان مولانا شاہ رضا علی خان موجود تھے فرمایا بیٹا استاد کا کہا مانو. جو کہتے ہیں پڑھو. اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان قدس سرہ نے حکم کی تعمیل کر تے ہوئے لام الف پڑھا لیکن جد امجد کے چہرہ کی طرف مستفسرانہ نگاہ ڈالی. جد امجد مولانا شاہ رضا علی خان نے بھانپ لیا کہ گویا یہ ننھا بچہ کہہ رہا ہے کہ آج کے سبق میں تو حُرُف مفردہ کا بیان ہے پھر ان کے درمیان ایک مرکب لفظ کیسے آگیا. اگرچہ بچے کی ننھی عمر کے اعتبار سے لام کے ساتھ الف ملا نے کی وجہ بیان کرنا قبل از وقت بات تھی ، اس وقت بچہ کی عمر تو ضرور ننھی ہے مگر اس کا ادراک و شعور بفضلہ تعالٰیٰ ننھا نہیں اس لئے آپ نے مولانا سے فرمایا بیٹا شروع میں سب سے پہلا حرف جو تم نے پڑھا ہے وہ حقیقت میں ہمزہ ہے الف نہیں اور اب لام کے ساتھ جو حرف ملاکر تم پڑھ رہے ہو وہ الف ہے لیکن چونکہ الف ہمیشہ ساکن رہتا ہے اور تنہا ساکن حرف کو کسی طرح پڑھا نہیں جا سکتا اس لئے لام کے ساتھ الف کو ملا کر اس کا بھی تلفظ کر دیا گیا . مولانا نے فرمایا کہ اگر یہی مقصود تھا کہ الف کا تلفظ کرا یا جائے. تو اسے کسی بھی حرف کے ساتھ ملا سکتے تھے مسلاً ب یا جیم یا دال کے ساتھ بھی ملا کر الف کا تلفظ کریا جا سکتا تھا لیکن ان سارے حروف کو چھوڑ کر لام کے ساتھ الف ملا کر اس کی ادائیگی کرائی گئی. ایسا کیوں ہو؟ لام سے الف کا خاص رشتہ کیا ہے؟ مولانا کا یہ سوال سن کر جد امجد نے جوشِ محبت میں آپ کو گلے لگالیا اور دل سے دعائیں پھر فرمایا بیٹا لام اور الف کے درمیان صورۃً اور سیرۃً بڑا گہرا تعلق ہے. لکھنے میں دونوں کی صورت اور شکل ایک دوسرے کی طرح ہے دیکھو لا اور سیرۃً یوں تعلق ہے کہ لام کا قلب center الف ہے اور الف کا قلب centerلامہے یعنی ل ا م کے بیچ میں الف اور ا ل ف کے بیچ میں لام ہے گویا

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جاں شدی

تا کس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

یعنی اے مرشد تجھ میں فنا ہو کر میں تو ہوا تو میں ہوا میں جسم بنا اور تو روح ہوا تاکہ کوئی شخص اس کے بعد یہ نہ کہے کہ میں اور ہوں تو اور ہے. ظاہری نگاہ میں تو حضرت جد امجد مولانا شاہ رضا علی خان قدس سرہ نے اس الف لام کے مرکب لا نے کی وجہ بیان فرمائی مگر باتوں ہی باتوں میں اسرار و حقائق، رموز و اشارات کے دریافت وادراک کی صلاحیت اعلیٰ حضرت کے قلب و دماغ میں بچپن ہی سے پیدا فرمادی جس کا اثر بعد میں سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اعلیٰ حضرت اگر شریعت میں سید نا امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کے قدم بقدم ہیں تو طریقت میں سرکار غوث الاعظم کے نائب اکرم ہیں [5]

سلسلہ تعلیم

رسم بسم اللہ خوانی کے بعد اعلیٰ حضرت کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہوگیا آپ نے اپنی چار برس کی ننھی سی عمر میں حب کہ عموما دو سرے بچے اس عمر میں اپنے وجود سے بھی بے خبر رہتے ہیں قرآن مجید ناظرہ ختم کرلیا. چھ سال کی عمر میں ماہ مبارک ربیع الاول شریف کی تقریب میں منبر پر رونق افروز ہوکر بھت بڑے مجمع کی موجودگی میں ذکر میلاد شریف پڑھا. اردو فارسی کی کتابیں پڑھنے کے بعد حضرت مرزا غلام قادر بیگ الیہالرحمہ سے میزان منشعب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی پھر آپ نے اپنے والج ماجد تاج العلماء سند المحققین حضرت مولانا نقی علی خان رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ سے مندرجئہ ذیل اکیس علوم پڑھے. علم قرآن، علم تفسیر، علم حدیث، اصول حدیث، کتب فقہ حنفی، کتب فقہ شافعی و مالکی و حنبلی، اصول فقہ، جدل مہذب، علم العقائد و الکلام جو مذاہب باطلہ کی تردید کے لئے ایجاد ہوا، علم نجوم علم صرف علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم منطق، علم مناظرہ ، علم فلسفہ مدلسہ، ابتدائی علم تکحیہ ، ابتدائی علم ہیئت، علم حساب تا جمع، تفریق، ضرب، تقسیم، ابتدائی علم ہندسہ. تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر شریف مین 14 شعبان 1286 ھ مطابق 19 نومبر 1869 ء کو آپ فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے نوازے گئے. اسی دن مسلئہ رضاعت سے متعلق ایک فتوی لکھ کر اپنے والد ماجد کی خدمت میں پیش کیا. جواب بالکل صحیح تھا. والد ماجد نے ذہن نقاد و طبع و قاد دیکھ کر اسی وقت سے فتوی نویسی کی جلیل الشان خدمت آپ کے سپرد کردی. آپ نے تعلیم و طریقت حضرت مرشد برحق استاذ العارفین مولانا سید آل رسول مارہروی رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ سے حاصل کی. مرشد برحق کے وصال کے بعد بعض تعلیم طریقت نیز ابتدائی علم تکسیر و ابتدائی علم جفر و غیرہ استاذالسالکین حضرت مولانا سید ابو الحسین احمد نوری مارہروی رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ سے حاصل فرمایا. شرح چغمینی کا بعض حصہ حضرت مولانا عبد العلی رامپوری علیہ الرحمہ سے پڑھا پھر آپ نے کسی استاذ سےبغیر پڑھے محض خدا داد بصیرت نورانی سے حسب ذیل علوم و فنون میں دسترس حاصل کی اور ان کے شیخ و امام ہوئے ، قراءت، تجوید، تصوف، سلوک، علم اخلاق، اسماء الرجال، سیر، تواریخ، لغت، ادب، مع جملہ فنون، ارثما طیقی، جبرو مقابلہ، حساب ستیسنی، لوغارثمات یعنی لوگارثم، علم التوقیت، مناظرہ، علم الاکر، زیجات، مثلث کروی، مثلث مسطح، ہیئت جدیدہ یانی انگریزی فلسفہ، مربعات، منتہی علم جفر، علم زائرچہ، علم فرائض، نظم عربی، نظم فارسی، نظم ہندی، انشاء نثر عربی، انشاء نثر فارسی، انشاء نثر ہندی، خط نسخ، خط نستعلیق، منتہی علم حساب، منتہی علم ہیئت، منتہی علم ہندسہ، منتہی علم تکسیر، علم رسم خط قرآن مجید. حاصل کلام یہ ہے کہ مولانا کے اساتذہ کی فہرست تو بہت مختصر ہے لیکن مولانا نے بہت سے فنون میں کتابیں لکھیں حضرت مولانا ملک العلماء سید ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ نے 1327ھ مطابق 1909ء میں مولانا کی تصانیف کی ایک فہرست بنام المجمل المعدعتالیفات المجدد مرتب فرمائی اور آخر میں ایک جدول پیش کی جس میں ان سبھی علوم و فنون کا نام ہے جن میں 1327ء تک مولانا کتابیں تصنیف کیں۔ [6]

معلمین

ان حضرات کے اسماء جن سے امام احمد رضا نے اکتساب علم و فیض حاصل فرمایا[7]

  • مرزا غلام قادر بیگ بریلوی م 1898ء
  • والد ماجد مولانا محمد نقی علی خان بریلوی م 1297ھ 1880ء
  • مولانا عبد العلی خان رامپوری م 1303ھ 1885ء تلمیذ علامہ فضل حق خیرآبادی م 1278ھ 1861ع
  • شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی م 1324 ھ 1906ء مولانا نور احمد بدایونی م 1301ھ
  • شاہ آل رسول مارہروی م 1297ھ 1879ء تلمیذ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی م 1239ھ.
  • امام شافعیہ شیخ حسین صالح م1306ھ 1884ء
  • مفتی حنفیہ شیخ عبد الرحمٰن سراج م 1301ھ 1883ء
  • مفتی شافعیہ شیخ احمد بن زین دحلان م 1299ھ 1881ء قاضی القضاۃ حرم محترم.

بیعت و خلافت

5 فاضل بریلوی 1294 ھ،1877 ء میں اپنے والد ماجد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ کے ہمراہ حضرت شاہ آل رسول رحمۃ اللہ علیہ (م 1692ھ 1878 ء ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے-فاضل بریلوی رحمۃ اللہ نے اپنے دیوان میں اپنے مرشد طریقت کی شان میں ایک منقبت لکھی جس کا مطلع ہے

خوشا دے کہ دہندش دلائے آل رسول

خوشا مرے کہ کنندش فدائے آل رسول

فاضل بریلوی کو جن سلاسل و طریقت میں اجازت و خلافت حاصل تھی۔ اس کی تفصیل خود موصوف نے اس طرح لکھی-قادریہ برکاتیہ جدیدہ , قادریہ آبائیہ قدیمہ , قادرہ رزاقیہ , قادریہ منوریہ , چشتیہ نظامیہ قدیمہ , قادرہ اہدلیہ ,چشتیہ محبوبیہ جدیدہ , سہروردیہ فضیلہ , نقشبندیہ علائیہ صدیقیہ , نقشبندیہ علائیہ علویہ , بدیعیہ , علویہ منامیہ وغیرھا- مندرجہ بالا سلاسل میں اجازت کے علاوہ فاضل بریلوی کو مصافحات اربعہ کی سندات بھی ملیں جس کی تفصیل اعلٰحضرت نے اس طرح بیان فرمائی- مصا حفۃہ الحسنیہ ,مصاحفۃہ العمریہ , مصاحفۃہ،الخضریہ , مصافحۃہ المنانیہ- ان مصافحات و اجازت کے علاوہ مختلف اذکار اشغال و اعمال وغیرہ کی بھی آپ کو اجازت حاصل تھی جیسے خواص القرآن اسماء الٰہیہ،دلائل الخیرات حصن حصین،حزب البحر،صزب النصر،حرز الامیرین،حرزالیمانی دعاءمغنی،دعا حیدری،دعا عزارائیلی،دعا سریانی،قصیدہ غوثیہ،قصیدہ بردہ وغیرہ وغیرہ-

حج و زیارت

ذی الحجہ 1294ھ مطابق دسمبر 1877ء میں پہلی بار مولانا نے حج کیا پھر ربیع الاول 1324ھ مطابق اپریل 1906ء میں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ ایک ماہ تک مدینہ طیبہ میں رہ کر بارگاہ رسالت کی زیارت کرتے رہے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے بڑےبڑےعلماء آپ کے علمی کمالات اور دینی خدمات کو دیکھ کر آپ کے نورانی ہاتھوں پر مرید ہوئے اور آپ کو استاد و پیشوا مانا[8][9][10]

اشاعت اسلام

مولانا نے ہوش سنبھالنے کے بعد اپنی ساری زندگی اسلام کے خدمت اور سنیت کی اشاعت میں صرف فرمائی اور تقریباً ایک ہزار کتابیں لکھیں جن میں فتوی رضویہ بہت ہی ضخیم کتاب ہے۔ مولانا نے قرآن مجید کا صحیح ترجمہ اردو میں تحریر فرمایا جس کو عالم اسلام کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن کہتی ہے

رد وہابیت

آپ کے زمانے میں نیچریوں، مکار صوفیوں، غیر مقلدوہابیوں، دیوبندی وہابیوں، قادیانیوں نے اسلام و سنیت کے خلاف دھوکے کا جال بچھا کر بھولے بھالے مسلمانوں میں خوب گمراہی پھیلا رکھی تھی ۔ آپ نے دین و شریعت کی حمایت میں ان سب گمراہ گروہوں سے چومکھیا لڑائی لڑ کر سب کے دانت کھٹے کردئے اور حق و باظل کو خوب واضح کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا[11]آپ کے فتاوے اور کتابوں کے زریعہ اللہ تعالٰیٰ نے ہزاروں بہکے مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائی۔ بہت سے وہ علماء جو گمراہی کے سیلاب میں بہتے جارہے تھے آپ کی رہنمائی سے انہوں نے حق قبول کیا اور سیدھی راہ پر ہوگئے۔ جب وہابیوں، دیوبندیوں نے سرکار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے شان میں گستاخی اور توہیں کتابوں میں لکھ کر شائع کی [12] اور مسلمانوں کو بگاڑنا شروع کیا تو آپ نے اظل پہاڑ کی طرح جم کر سرکار محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی عنہ کی محبت کا پرچم لہرایا اور مسلمانوں کو سرکار کی محبت و تعظیم کا سبق دیا اور گستاخ ملاؤں کو لوہے کے چنے چبوادئے۔[13]

تصانیف

آپ رحمۃ اللہ علیہ نے کم و بیش مختلف عنوانات پر کم و بیش ایک ہزار کتابیں لکھیں ہیں۔ یوں تو آپ رحمۃ اللہ تعالٰیٰ علیہ نے 1286ھ سے 1340ھ تک لاکھوں فتوے لکھے۔ لیکن افسوس کہ سب کو نقل نہ کیا جاسکا، جو نقل کرلیئے گئے تھے ان کا نام "العطا یا النبویہ فی الفتاوی رضویہ" رکھا گیا۔ فتاویٰ رضویہ جدید کی 30 جلدیں ہیں جن کے کل صفحات 21656، کل سوالات و جوابات 6847 اور کل رسائل 206 ہیں۔ ہر فتوے میں دلائل کا سمندر موجزن ہے۔ حوالہ: فتاویٰ رضویہ جدید، ج 30، ص 10، رضا فائونڈیشن مرکز الاولیاء لاہور۔قرآن و حدیث، فقہ منطق اور کلام وغیرہ میں آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی وسعت نظری کا اندازہ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے فتاوے کے مطالعے سے ہی ہو سکتا ہے، آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی چند دیگر کتب کے نام درج ذیل ہیں۔ "سبحٰنُ السُّبوح عن عیب کذب مقبوع" سچے خدا پر جھوٹ کا بہتان باندھنے والوں کے رد میں یہ رسالہ تحریر فرمایا جس نے مخالفین کے دم توڑ دیئے اور قلم نچوڑ دیئے۔نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان اس کتاب میں آپ نے قرآنی آیات سے زمین کو ساکن ثابت کیا ہے۔ [14]اور سانسدانوں کے اس نظریئے کا کہ زمین گردش کرتی ہے رد فرمایا ہے۔علاوہ ازیں یہ کتابیں تحریر فرمائیں، المعتمد المستند، تجلی الیقین، الکوکبتھ، اتشھائبھ سل، اکسیوف، الھندیھ، حیات الاموات وغیرہ. کُتب کے لئے ویب سائٹ

نعت گوئی

آپ نے اردو، عربی، فارسی تین زبانوں میں نعت گوئی و منقبت نگاری کی۔

حدائق بخشش

آپ کا نعتیہ دیوان حدائق بخشش تین جلدوں میں ہے، پہلے دو جلدیں آپ کی حیات میں اور تیسری، بعد از وفات جمع کر کے کلام شائع کیا گيا، مگر اس میں رضا کا تخلص رکھنے والے ایک دوسرے عام سے شاعر کا عامیانہ کلام بھی در آیا، جس پر کافی تنقید ہوئی، جس کو تحقیق کے بعد نکال دیا گیا۔حدائق بخشش اردو نعتیہ شاعری کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی جس نے اپنے بعد آنے والے تمام نعت گوؤوں کو ایک ادب کا جامہ پہنا دیا، ورنہ اس سے پہلے اردو نعت صرف عقیدت کے طور پر دیواں کے شروع میں شامل نظر آتی، مگر حدائق بخشش کے بعد اردو نعت ادب کا ایک مستقل حصہ بنا، جس کی نعتیں آج بھی مشہور و معروف ہے۔

مصطفیٰ جانِ رحمت پے لاکھوں سلام

شمع بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

بہت مشہور ہے

عربی کلام

عربی کلام بساتین الغفران کے نام سے موجود ہے۔

فارسی کلام

آپ کا فارسی کلام ارم‏غان رضا کے نام سے، ادارہ تحقیقات امام احمد رضا نے پہلی بار، 1994 میں شائع کیا، اس میں حمدو نعت، قصاہد و مناقب اور رباعیات شامل ہیں۔

یا رب زمن بر شہ ابرار درودی

برسید و مولائی من زار، درودی

بر آبروی آن قبلہ قوسین سلامی

بر چشم خطا پوش، عطا بار، درودی

[15]

کنزالایمان ترجمہ قرآن شریف

آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا جو کہ اردو کے موجودہ تراجم میں سب پر فائق ہے۔ [16]۔ آپ کے ترجمہ کا نام "کنز الایمان" ہے۔ جس پر آپ کے خلیفہ صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادی نے حاشیہ لکھا ہے۔ اس ترجمہ کو اب تک انگریزی، ہندی، سندھی، گجراتی، ڈچ، بنگلہ وعیرہ میا ہے۔

وصال یار

25 صفر المظفر 1340ھ مطابق 1921ء کو جمعہ مبارک کے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق 2 بج کر 38 منٹ عین اذان کے وقت ادھر موذن نے حی الفلاح کہا اور ادھر امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن نے داعئی اجل کو لبیک کہا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مزار پر انوار بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہ خاص و عام بنا ہوا ہے۔ [17]

درگاہ شریف

آپ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا مزار پر انوار بریلی شریف محلہ سوداگران میں آج بھی زیارت گاہ خاص و عام بنا ہوا ہے

اعلیٰحضرت پر پی ایچ ڈی

آپ کی زندگی ، دینی خدمات، مکتوبات و تصانیف پر اکثر اسکالروں نے پی ایچ ڈی کی ہے

  • ڈاکٹر حسن رضا خان،پٹنہ یونیورسٹی، انڈیا، 1979 عنوان : فقیہ اسلام.
  • ڈاکٹر مسز اوشا سانیال، کولمبیا یونیورسٹی، نیو یارک، 1990 عنوان: Devotional Islam and Politics in British India (Ahmad Raza Khan Barelivi and his Movement 1870-1920)
  • ڈاکٹر سید جمالالدین، ڈاکٹر ہری سنگھ گور یونیورسٹی، ساگر، ایم پی، 1992 عنوان : اعلیٰ حضرت محمد امام احمد رضا خان اور ان کی نعت گوئی۔
  • ڈاکٹر محمد امام الدین جوہر شفیع آبادی، بہار یونیورسٹی، مظفر پور، انڈیا، 1992عنوان: حضرت رضا بریلوی بحیثیت شاعرِ نعت
  • ڈاکٹر طیب رضا، ہندو یونیورسٹی، بنارس، انڈیا، 1993عنوان: امام احمد رضا خان حیات و کارنامے۔
  • ڈاکٹر مجید اللہ قادری، جامعہ کراچی، پاکستان، 1993، عنوان: کنز الایمان اور دیگر معروف اردو تراجم کا تقابلی جائزہ۔
  • ڈاکٹر حافظ الباری صدیقی، سندھ یونیورسٹی، جامشورو، پاکستان، 1993، عنوان: امام احمد رضا بریلوی کے حالات افکار اور اصلاحی کارنامے (سندھی)۔
  • ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی، روہیل کھنڈ یونیورسٹی، بریلی، انڈیا، 1994، عنوان: اردو نعت گوئی اور فاضل بریلوی۔
  • ڈاکٹر سراج احمد بستوی، کانپور یونیورسٹی، انڈیا، 1995، عنوان: مولانا احمد رضا خان بریلوی کی نعتیہ شاعری۔
  • ڈاکٹر مولانا امجد رضا قادری، ویر کنور سنگھ یونیورسٹی، آرہ، بہار، انڈیا1998، عنوان: امام احمد رضا کی فکری تنقیدیں۔
  • پروفیسر ڈاکٹر محمد انور خان، سندھ یونیورسٹی، جامشورو، پاکستان، 1998، عنوان: مولانا احمد رضا بریلوی کی فقہی خدمات۔
  • ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری، میسور یونیورسٹی، انڈیا، 2002، عنوان: امام احمد رضا کا تصورِ عشق۔
  • ڈاکٹر رضا الرحمٰن حاکف سنبھلی، روہیل کھنڈ یونیورسٹی، بریلی، انڈیا، 2003، عنوان: روہیل کھنڈ کے نثری ارتقا میں مولانا امام احمد رضا خان کا حصہ۔
  • ڈاکٹر غلام غوث قادری، رانچی یونیورسٹی، انڈیا، 2003، عنوان: امام احمد رضا کی انشاء پردازی
  • مسز ڈاکٹر تنظیم الفردوس، جامعہ کراچی، پاکستان2004، عنوان: مولانا احمد رضا خان کی نعتیہ شاعری کا تاریخی اور ادبی جائزہ۔
  • ڈاکٹر سید شاہد علی نورانی، پنجاب یونیورسٹی، لاہور، پاکستان، 2004، عنوان: الشیخ احمد رضا شاعر اربیا مع تدوین دیوانہ العربی۔
  • ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی، بی آر امبیڑکر یونیورسٹی، مظفر پور، انڈیا، 2004، عنوان: امام احمد رضا اور ان کے مکتوبات۔

حوالہ

  • سوانح امام احمد رضا، ص 391، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر .
  • الملفوظ، حصہ اول، ص 3، مشتاق بک کارنر مرکز اولیاء لاہور.
  • حیاتِ اعلی حضرت، ج1، ص 58، مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی.
  • فتاویٰ رضویہ جدید، ج 30، ص 10، رضا فائونڈیشن مرکز الاولیاء لاہور۔
  • حدائک بخشیش، رضا اکیڈمی، ممبی، الہند۔
  1. ^ حیاتِ اعلٰی حضرت, جلد.1 p.1
  2. ^ الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ ،۱۳۱۲ھ، مطبع اہلسنت بریلی و رضا اکیڈمی ممبئی (ستروجہ سے امام وہابیہ دہلوی پر لزوم کفر
  3. ^ فتافی الحرمین برجف ندوۃالمین ۱۳۱۷ھ، (عربی)، مطبح گلزار حسینی ومکتبہ ایایشیق استنبول (ندوۃ العلماء والوں کے عقائد اور ان پر فتاویئ حرمین
  4. ^ الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیۃ ۱۳۲۳ھ(عربی) ، مطبح اہلسنت وجاعت بریلی، (الدولۃ والمکیہ پر مصنف کا مبسوط حاشیہ فرقئہ نیچریہ کارد۔ یہ کتاب اعلیحضرت نے مکہ مکرمہ میں اس وقت لکھا جب آپ سے علم غیب رسول کے بارے میں سوال کیا گیا بغیر کسی کتاب کی مدد کے زبانی طور پر یہ کتاب چند گھنٹوں میں تحریر ہوئی اور اس پر علمائے حرمیں شریفین یعنی علمائے مکہ و مدینہ نے تصدیقات رقم کیں، یہ کتاب اردو ترجمہ کے ساتھ بھی متعدد بار تبع ہوئی ہے۔
  5. ^ سوانح اعلیٰ حجرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مرتبہ بدر الدین احمد قادری ، ناشر قادری مشن بریلی شریف
  6. ^ سوانح اعلیٰ حجرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مرتبہ بدر الدین احمد قادری ، ناشر قادری مشن بریلی شریف
  7. ^ امام احمد رضا کی فقہی بصیرت مرتبہ محمد یٰس اختر مصباحی، ناشر رضوی کتاب گھر دھلی
  8. ^ الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیۃ 1323ھ(عربی) ، مطبح اہلسنت وجاعت بریلی، (الدولۃ والمکیہ پر مصنف کا مبسوط حاشیہ فرقئہ نیچریہ کا رد۔ یہ کتاب اعلیحضرت نے مکہ مکرمہ میں اس وقت لکھا جب آپ سے علم غیب رسول کے بارے میں سوال کیا گیا بغیر کسی کتاب کی مدد کے زبانی طور پر یہ کتاب چند گھنٹوں میں تحریر ہوئی اور اس پر علمائے حرمیں شریفین یعنی علمائے مکہ و مدینہ نے تصدیقات رقم کیں، یہ کتاب اردو ترجمہ کے ساتھ بھی متعدد بار تبع ہوئی ہے۔
  9. ^ الاجازۃ الرضویہ لمجبل مکۃ البہۃ ، 1323ھ (عربی) مکتبہ قادریہ لوہاری گیٹ لاہور (اجازت نامے جو اعلیٰ حضرت نے علمائے مکہ کو دئیے
  10. ^ الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ ولمدینۃ ، 1324 ھ (عربی) مکتبہ قادریہ لوہاری گیٹ لاہور و رضا اکیڈمی ممبئی وغیرہ جس میں علمائے مکہ و مدینہ کی عطا کردہ اجازتیں ہیں ، مرتبہ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خلیف اکبر اعلیٰ حضرت علیہما الرحمہ
  11. ^ Historic Judgment of Session Judge, Fyzabad,UP, India 30.04.1949.
  12. ^ حفظ الایمان، تقویت الایمان، براہین قاطعہ، صراط المستقیم وغیرہ
  13. ^ العطا یا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ ، مطبح اہلسنت وجاعت بریلی و رضا اکیڈمی ممبئی و کتبخانہ سمنانی میرٹھ و سنی دار الاشاعت مبارکپور و لائلپور
  14. ^ امام احمد رضا اور حرکتِ زمین از پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مطبع ادارہ تحقیقات امام احمد رضا ، کراچی
  15. ^ ارمغان رضا، امام احمد رضا خان بریلوی، مرتبہ پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد رضوی، ادارہ تحقیقات رضا، کراچی، پاکستان- 1994، صفحہ 23
  16. ^ سوانح امام احمد رضا، ص 373، مکتبہ نوریہ، رضویہ سکھر
  17. ^ سوانح امام احمد رضا، ص 391، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر

بیرونی روابط