مسلمانوں میں تفرقات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Sphinx Darius Louvre.jpg
Syria bosra theater.jpg
مکے کی خلافت ایک نظریاتی جمہوریت تھی لیکن دمشق اور اس سے بھی پرے بغداد میں صورتحال مختلف تھی۔ شامی و فارسی نومسلم اور مخلوط النسل نوعربوں کے درمیان خالص النسل عرب مٹھی بھر ہورہے تھے۔ یہ افراد استبدادی ثقافت و عادات سے بھرے ہوئے تھے
(The New World of Islam: Lothrop Stoddard)

فرقہ کا لفظ فرق سے بنا ہے جس کے معنی مختلف یا الگ کرنے یا تمیز کرنے کے ہوتے ہیں ، مگر جب بات مذہب کی ہو تو اس سے مراد اختلاف ، قطع یا منحرف کی لی جاتی ہے یعنی کسی ایک مذہب میں اسکے ماننے والوں میں ایسے گروہ واقع ہونا کہ جن میں آپس میں متعدد یا چند امور یا ارکان یا خیالات میں (واقعتاً یا مجازاً) اختلاف پایا جاتا ہو اور وہ ایک دوسرے سے انحراف رکھتے ہوں ، اس مذہب کے فرقے کہلاتے ہیں اور یہ عمل فرقہ بندی کہلاتا ہے۔ فرقہ کی جمع ؛ فرقے یا فرقات کی جاتی ہے اور اسکی ضد ، جمع (جماعۃ) کی جاتی ہے۔ مذہب اسلام کے ماننے والوں میں بھی متعدد تاریخی و سیاسی وجوہات کی باعث اپنے خیالات میں ایک دوسرے سے اختلافی یا افتراقی گروہ پائے جاتے ہیں [1] جن کی تعداد مختلف بتائی جاتی ہے لیکن ان میں اگر نہایت ہی چھوٹے چھوٹے (اور ایسے کہ جو قریباً معدومیت کا شکار ہو چکے ہیں) گروہوں کی فہرست کو الگ کر کہ دیکھا جاۓ تو باقی ایسے تفرقاتی گروہ (فرقے) جن کو موجودہ دور میں قابل ذکر سمجھا جاسکتا ہے وہ تعدادِ چند سے آگے نہیں جاتے جن میں سنی (85 تا 90 فیصد) ، شیعہ ، سلفی اور وہابی وغیرہ شامل کیے جاسکتے ہیں۔ فی الحقیقت ، اسلام کا معاشرے اور سیاست سے مربوط ہونا اور پھر سیاسی ضروریات کو (قصداً یا لاشعوری طور پر) مذہب جیسی اہمیت دے دینا ہی فرقوں کی پیدائش کا ایک ابتدائی سبب بنا اور جس کی وجہ سے فطرت سے افتراق کی ابتداء ہوئی ؛ قرآن میں فطرت پر قائم اسلامی اصولوں پر یکسو رہنے کے بارے میں سورۃ یونس کی آیت تیس میں درج ہے کہ : فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي (ترجمہ: سو سیدھا رکھو تم اپنا رخ دین اسلام کی سمت یکسو ہوکر۔ جو اللہ کا دین فطرت ہے) [2]۔ جب قرآن کی تعلیمات سے لاپرواہی (دانستہ یا نادانستہ) کی گئی اور سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کی خاطر اسلام کے نام کو استعمال کیا جانے لگا تو پھر نۓ نۓ چھوٹے بڑے متعدد فرقے گو آۓ دن نکلتے رہے۔ ایسا سب کچھ قرآن میں واضح طور منع کیے جانے کے باوجود کیا جاتا رہا؛ ترجمہ: اور مضبوطی سے تھام لو تم اللہ کی رسی کو سب مل کر اور فرقہ بندی نہ کرو۔ قرآن سورۃ آل عمران ، آیت 103۔ [2]

پیغمبر اسلام کی وفات[ترمیم]

610ء میں قرآن کی پہلی صدا کی بازگشت ایک صدی سے کم عرصے میں بحر اوقیانوس سے وسط ایشیا تک سنائی دینے لگی تھی اور پیغمبرِ اسلام کی وفات (632ء) کے عین سو سال بعد ہی اسلام 732ء میں فرانس کے شہر تور (tours) کی حدود تک پہنچ چکا تھا لیکن تاریخ اسلام (history of islam) کا یہ تمام دور داخلی نفاق و انتشار سے عاری نا تھا۔ معاشرتی انصاف ابتدائے اسلام میں ایک اہم کردار رکھتا ہے اور اسی کی بدولت اسلام میں داخل ہونے والے افراد پر مشتمل آبادی نے ایک ایسی امت کی صورت اختیار کی کہ جس کے معاشرے میں مساوات و رواداری اور ہر فرد کے حقوق پر انصاف پایا جاتا ہو۔ محمدDUROOD3.PNG کی وفات کے بعد ایک طرف تو نفسیاتی طور امت مسلمہ میں الہامی یا وحی کی صورت میں ملنے والی براہ راست راہنمائی کا سلسلہ منقطع ہوا اور اس دوسری جانب جغرافیائی لحاظ سے تیز رفتاری سے اپنی حدود میں اضافہ کرتی ہوئی امت کو نئے معاشرتی مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔ 632ء تا 661ء تک کے دور کو کو عام طور پر (بشمول غیرمسلم مورخین) خلافت راشدہ کا دور کہا جاتا ہے ؛ معاویہRAZI.PNG کے بجائے علیRAZI.PNG کی طرفداری کرنے والے اور چند ابتدائی مورخین کے مطابق ، خلافت راشدہ کے بعد خلیفۂ پنجم حسنRAZI.PNG کا قریباً چھـ ماہ پر محیط عہد شروع ہوا۔

پیغمبر اسلام کی جانشینی[ترمیم]

اصل مضمون: مسلمانوں میں تفرقات

پیغمبر اسلام کی جانشینی

مسلم اور غیرمسلم مورخین کے بیان کردہ واقعات اور وجوہات و نظریات ؛ کہ مسلمانوں میں تفرقوں کی ابتداء کب سے ہوئی اور کیوں اور کیسے ہوئی ؛ ایک دوسرے سے ناصرف مختلف بلکہ بسا اوقات متضاد آتے ہیں لیکن چند ایسی کمیاب باتوں کہ جن پر کم و پیش تمام مورخ متفق نظر آتے ہیں میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں میں تفرقہ سازی کی ابتداء پیغمبر اسلامDUROOD3.PNG کی جانشینی پر شروع ہوئی[3][4] گو کہ اس جانشینی وجہ کے باعث وجود میں آنے والے دو بڑے تفرقوں ؛ شیعہ اور سنی کے علاوہ بھی پیغمبر اسلامDUROOD3.PNG کی وفات کے بعد چند دیگر اختلافات نظر آتے ہیں جو خواہ جانشینی پر نا بھی ہوں تب بھی ان میں سیاسی پہلو کی موجودگی سے انکار مشکل ہے۔ پیغمبر اسلام کی جانشینی سے اختلافِ امت کے آغاز کا یہ تذکرہ اس جگہ خالصتاً تاریخی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے جبکہ سنی اور شیعہ تفرقات کے علماء میں مختلف افکار پائے جاتے ہیں اور اکثر سنی و شیعہ تفرقے کھل کر سامنے آنے کا زمانہ عثمانRAZI.PNG کی شہادت سے بیان کیا جاتا ہے[5][6]۔

ممکنہ شش و پنج[ترمیم]

ایسے مسائل یا سوالات جو رسول اللہDUROOD3.PNG کی وفات کے فوراً بعد امت کو درپیش ہوئے اور ایک ہنگامی (باالفاظ بہتر ہیجانی) شوری کے باوجود تاریخی حقائق و نتائج سے مسئلۂِ لاینحل کی مانند رہے ، ان میں سے چند اہم درج ذیل بیان ہوتے ہیں[7]۔

  • کیا پیغمبر اسلام نے خود کسی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا؟ یا کیا کسی شخصیت کی جانب اشارہ کیا تھا؟
  • کیا پیغمبر اسلام کا جانشین وراثتی بنیادوں پر ہونا چاہیۓ؟ یا سیاسی بنیادوں پر؟
  • پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد قرآن کو بنیاد بنا کر منعقد ہونے والی ہنگامی شوری کی حیثیت کیا ہونی چاہیۓ؟
  • اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون راہنما کے طور منتخب ہونے کا اہل ہے؟
  • کیا روحانی وجاہت کو ترجیح دی جائے یا تجربہ کاری و اسلام کو درپیش جغرافیائی و سیاسی مقاصد کو؟

اولین تفرقہ[ترمیم]

عام طور پر خوارج کو اسلام میں ظاہر ہونے والا سب سے پہلا تفرقہ کہا جاتا ہے لیکن تاریخی اعتبار سے ان کا ظہور کھل کر اس وقت سامنے آیا کہ جب حضرت علیRAZI.PNG اور امیر معاویہRAZI.PNG کے مابین جنگ صفین کو بلا کسی فیصلہ کن نتیجے کے ثالثی (تحکیم) پر ختم کیا گیا۔ حضرت علیRAZI.PNG کی فوج میں شامل کوئی بارہ ہزار افراد اس ثالثی سے اختلاف اور اسے اللہ کی حاکمیت سے انحراف قرار دے کر الگ (اجتماع سے خارج) ہوگئے، تاریخی طور پر ان ہی سے خارجیوں کی ابتداء ہوئی ، یہ 657ء کا واقعہ ہے جبکہ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ جانشینی پر اختلاف رائے رسول اللہDUROOD3.PNG کی وفات (632ء) کے نزدیک زمانہ ہے[3][4][5] یعنی شیعہ اور سنی تفرقوں کی ابتداء ، خارجیوں سے قدیم آتی ہے۔ لفظ شیعہ پہلی بار کب استعمال ہوا؟ اس بارے میں ، شیعہ (رسول اللہDUROOD3.PNG کے دور سے[8][9]) اور سنی (جنگ جمل کے وقت سے[10]) ؛ بیانات مختلف آتے ہیں۔ تاریخی واقعات کے تقدم کے لحاظ سے اولین تفرقے کا اندازہ مذکورہ بالا تاریخی واقعات کے تسلسل سے لگایا جاسکتا ہے لیکن نظریاتی طور پر متعدد علماء ذو الخویصرۃ التمیمی کے اس واقعے (جس میں اس نے رسول اللہDUROOD3.PNG کو نعوذ باللہ ، غیر عادل کہہ کہ نشست سے اخراج کیا تھا) کو خوارج کی ابتداء قرار دیتے ہیں[11][12][13]۔ مجموعی طور پر یہ تمام واقعات اسلام کی ابتدائی امت (اسلاف) کے ایک کامل ترین مثالی معاشرہ ہونے کے دعوے پر کیے جانے والے اعتراضات کے جواب کو مشکل بناتے ہیں؛ بطور خاص غیرمسلم مورخین و معترضین ان واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اسلام کا وہ ابتدائی دور کہ جس کو ایک کامل مثالی ، اعلٰی اور متحد عہد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اتنا مثالی متحد بھی ثابت نہیں ہوتا[14]۔

اولین عہد[ترمیم]

تاریخی صفحات پر اسلام کے اولین عہد کے واقعات سے جو تاثر (بطور خاص غیرمسلم مورخین) کے یہاں نظر آتا ہے اسے بالائی قطعے میں بیان کیا گیا ہے اور اس پر مسلم علماء عموماً تو یہ وضاحت رکھتے ہیں کہ بنیادی طور پر اولین عہد کے غیرمعیاری واقعات (بلاواسطہ یا بالواسطہ) منافقین کے باعث وقوع پذیر ہو رہے تھے یا پھر اس میں بدعت کا عنصر شامل تھا۔ ان کے مطابق ؛ بدعت کا ماخذ سنت سے عداوت یا اس کی غیرتوقیری میں ہے جو سنت کے کسی (یا متعدد) پہلو پر ذاتی خواہشات و مقاصد کی وجہ سے ہو سکتی ہے اور یہ بدعت ، سنت پر قائم اجماع امت سے تفریق کا باعث بنتی ہے[13]۔ ایک اور موقف مسلم کتب میں یہ بھی پایا جاتا ہے کہ بہرحال اولین عہد میں امت کی تشکیل قبل از اسلام کے مختلف پس منظر اور ثقافت یا رسم و رواج رکھنے والے افراد پر مشتمل تھی جن کو متحد کرنے کا سبب رسول اللہDUROOD3.PNG کی الہامی تعلیمات بن رہی تھیں اور ان کے مابین ابتدائی طور پر نظریاتی اختلافات سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعے کا سبب بنے، یہ موقف شیعہ کتب میں ملتا ہے[8]۔

شیعہ سنی فسانہ بہ زبانِ زمانہ[ترمیم]

بالائی قطعہ بنام پیغمبر اسلام کی جانشینی میں کیے گئے اندراجات سے مسلمانوں کی ابتدائی نسل میں رونما ہونے والے افتراقِ شیعہ و سنی کی متعدد وجوہات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ان وجوہات و اسبابِ تفرقات کے بعد اب اسلافی دور میں جاری ہونے والی اس شیعہ سنی کہانی کو ایک زمانی تواتر کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے تاکہ تاریخی خاکے کا ایک اندازہ قائم کیا جاسکے؛ اس کہانی میں طوالت سے اجتناب کی خاطر مذکورہ بالا قطعے کے مندرجات کو دہرانے سے گریز کیا جائے گا۔ صفر یا ربیع الاول 11ھ (مئی یا جون 632ء) کے بعد جب مسلمانوں میں کوئی متفقہ راہنما موجود نا رہا تو روحانی وجاہت و قربِ رسولDUROOD3.PNG کے باعث قابلِ تقلید ، 34 سالہ علی ابن ابی طالبRAZI.PNG اور اولین داخلینِ اسلام و والدِ زوجۂ رسولDUROOD3.PNG ، 59 سالہ ابو بکر الصدیقRAZI.PNG منطقی انتخابات کے طور پر سامنے آئے اور انصار کی ابتدائی مخالفت اور پھر موافقت کے بعد انتخاب ، بعد الذکر کا ہوا جسے خارجی طور پر تو ناکام نہیں کہا جاسکتا لیکن داخلی طور پر متنازعہ ضرور ہوا۔ کیا یغمبر اسلام نے کسی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا یا نہیں؟ اس بارے میں سنی اور شیعہ تفرقے والے مختلف نظریات رکھتے ہیں جن کی تفصیل کے لیۓ پیغمبر اسلام کی جانشینی مخصوص ہے۔

تین اسلافی اجتماعات[ترمیم]

مذکورہ بالا واقعات سے خلیفہ کی تقرری پر اسلاف میں تین اقسام کے تفکرات ظاہر ہوتے ہیں جن کو بعض مورخین تین الگ الگ گروہوں میں بھی شمار کرتے ہیں۔ حضرت عمرRAZI.PNG کی مداخلت پر سقیفہ میں ہونے والا انتخابِ خلیفہ ، قریش و مہاجرین کے لیۓ قابل قبول تھا لیکن اس موقع پر موجود دو الگ گروہ ؛ اول: انصار (سعد بن عبادہRAZI.PNG کی قیادت میں) اور دوم: طرفداران حضرت علیRAZI.PNG نے بعد میں اس اطاعت میں شراکت کی[15]۔ زبیر بن العوامRAZI.PNG اور طلحہ بن عبید اللہRAZI.PNG جنہیں فاطمہ بنت محمدDUROOD3.PNG کے گھر سے نکالنے کے لیۓ حضرت عمرRAZI.PNG کے آگ لگانے کا انتباہ بھی تاریخ میں ملتا ہے[16] جو انہوں نے حضرت علیRAZI.PNG کے بغیر ہونے والے انتخابِ خلیفہ کے بعد ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیۓ گھر سے مسجد لانے کے لیۓ دیا تھا؛ یہ بلاوہ کب دیا گیا ؟ سقیفہ سے مسجد واپس آنے پر فوراً ؟ یا محمدDUROOD3.PNG کی نماز جنازہ کے بعد اگلے روز ؟ اس بارے میں روایات سے کوئی متفقہ شہادت نہیں ملتی[17]۔ کتب میں حضرت علیRAZI.PNG کو خلیفہ (ابوبکرRAZI.PNG) کے انتخاب تک نا بلانے کی وجہ انہیں رسول اللہDUROOD3.PNG کے جنازے میں زحمت نا دینا بیان کی جاتی ہے جو اس موقع پر اسامہ بن زیدRAZI.PNG اور فضل بن العباسRAZI.PNG کے ساتھ حضرت عائشہRAZI.PNG کے گھر میں رسول اللہDUROOD3.PNG کے غسل و دیگر فرائض میں مصروف تھے[18][19] اور اس ہنگامی انتخاب کی وجہ مدینے میں انصار کی جانب سے سقیفہ کے اجتماع کی اطلاع ملنے پر ابوبکرRAZI.PNG ، عمرRAZI.PNG اور ابو عبیدہRAZI.PNG (جو وہاں بعد میں پہنچے تھے[20]) کی جانب سے کی جانے والی سرعت بیان کی جاتی ہے کہ انصار اپنا خلیفہ قبیلہ بنو الخزرج کے سعد بن عبادہRAZI.PNG کو بنانا چاہ رہے تھے جو زیادہ تر عربوں کے لیۓ متنازع ہونے کی کیوجہ سے امت کے شیرازے کو بکھیر سکتا تھا[18]۔

عہدِ جانشینِ اول بہ نظر مورخین و علماء[ترمیم]

بہ نظر مورخین: ابوبکرRAZI.PNG ، رسول اللہDUROOD3.PNG کے پہلے جانشین بنے جن کا عرصۂ خلافت گو طویل تو نا تھا لیکن چند سالوں بعد امت مسلمہ میں آنے والے طوفانوں کی نسبت خاموش نہیں تو متحد ضرور رہا۔ پہلے خلیفہ کو تمام امت کی حمایت حاصل ہوئی مگر ابتدائی طور پر کچھ انصار اور فاطمہ بنت محمدRAZI.PNG و علیRAZI.PNG کی جانب سے رسول اللہDUROOD3.PNG کے اہل خانہ نے خود کو اس بیت سے الگ رکھا[17] ؛ ہم تک تاریخ سے یہ بات پہنچتی ہے کہ علیRAZI.PNG نے حضرت فاطمہRAZI.PNG کی وفات تک اس خلافت کو قبول نا کیا؛ اور اس مدت پر کہ جب حضرت علیRAZI.PNG کی یہ حمایت سامنے آئی تاریخدان مختلف بیانات درج کرتے ہیں؛ Michel Le Gall کی کتاب میں المسعودی (896ء تا 956ء) کی تاریخ مروج الذھب و معادن الجواھر کے حوالے سے یہ مدت وفات فاطمہRAZI.PNG سے دس روز بعد ، تین ماہ بعد اور چھ ماہ بعد و دیگر [21] اور بعد میں آنے والی بعض شیعہ کتب کے مطابق کبھی نہیں آتی [17]۔ بعض مورخین سقیفہ کے اجلاس (اور حضرت علیRAZI.PNG کے رویے) کی بنیاد حجۃ الوداع سے واپسی پر مقام غدیر الخم (10 مارچ 632ء) سے منسلک کرتے ہیں [22] اور وہاں رسول اللہDUROOD3.PNG کی ایک حدیث بیان ہوتی ہے : من كنت مولاه فهذا علي مولاه (ترجمہ: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں)۔ اس حدیث کی شیعہ اور سنی تشریحات بالکل مختلف ہیں اور سیاسی و قبائلی تعصب کو عیاں کرتی ہیں [23]؛ شیعاؤں کے مطابق یہاں حضرت علیRAZI.PNG کی ولایت و خلافت (دینی و دنیاوی راہنما) کا اعلان ہوا جبکہ سنیوں کے مطابق اس خطاب کا سیاق و سباق حضرت علیRAZI.PNG پر چند الزامات کی صفائی پیش کرنا تھا؛ لفظ مولا یا مولی (جو کہ ولی سے بنا ہے) کے عربی معنوں میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ابن خلدون کی مقدمہ ابن خلدون (1377ء) میں آتا ہے۔

العباس (ابن عبدالمطلب)RAZI.PNG نے علیRAZI.PNG کو اپنے ساتھ رسول اللہDUROOD3.PNG کے پاس چلنے اور ان کی جانشینی کے بارے میں اپنا مقام دریافت کرنے کی دعوت دی لیکن حضرت علیRAZI.PNG نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اگر وہ ہمیں (خلافت سے) الگ رکھتے ہیں تو ہمیں اسے حاصل کرنے کی کبھی امید نہیں لگانا چاہیۓ [24]۔

کم از کم اس اقتباس پر (کتاب کے مصنف کا) موقف یہ ہے کہ اس (بیان) سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علیRAZI.PNG جانتے تھے کہ رسول اللہDUROOD3.PNG نے نا تو کسی (جانشین کے انتخاب کا) حکم دیا اور نا ہی کسی کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ مذکورہ بالا کتاب میں اس واقعے کا زمانہ نہیں ملتا اور اسی طرح متعدد قدیم ترین تاریخی کتب کے بیانات سے بھی کوئی بات حتمی طور پر کہنا مشکل ہو جاتا ہے؛ اس قسم کی دقت کا اندازہ خود طبری میں آنے والے ایک جملے سے ہو جاتا ہے جس کے مطابق وہ کسی بھی واقعے بعد لکھتا ہے کہ ؛ یہ (یعنی جو درج کیا) وہ ہے جو ہمیں مستند معلوم ہوا۔
بہ نظر سنی علماء: سنی علماء صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسی کتب احادیث کی بنیاد پر یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ ابوبکرRAZI.PNG ، عمرRAZI.PNG ، عثمانRAZI.PNG اور علیRAZI.PNG جیسے جلیل القدر اصحاب اکرام سے کسی لغزش کا احتمال بھی عقل سے بالا ہے اور حضرت علیRAZI.PNG نے رسول اللہDUROOD3.PNG کی جانب سے ابوبکرRAZI.PNG کو نماز میں امامت کے لیۓ مقرر کرنے کا حوالہ دے کر اگلے ہی روز تمام افراد کے ساتھ (بعض کے مطابق چالیس روز بعد) بیت کر لی تھی اس کے بعد حضرت فاطمہRAZI.PNG کی علالت کے باعث گھر سے نکلنا کم ہو گیا تھا ساتھ ہی وراثت (فدک وغیرہ) کی حوالگی کے موضوع کی وجہ سے بھی شبہات آگئے تھے؛ وراثت کے بارے میں حضرت ابوبکرRAZI.PNG نے رسول اللہDUROOD3.PNG کی حدیث کا ذکر کیا کہ؛ حدیث : ہماری جائداد موروثی نہیں ہے اور جو کچھ ہم چھوڑیں وہ خیرات (صدقہ) ہے البتہ (فتوی کے اندراج کے مطابق) حضرت ابوبکرRAZI.PNG نے کہا کے اس وراثت سے رسول اللہDUROOD3.PNG کے اہل خانہ کی کفالت کا حصہ ادا کیا جاسکتا ہے، جسے حضرت علیRAZI.PNG نے تسلیم کر لیا اور اس وجہ سے انہوں نے حضرت فاطمہRAZI.PNG کی وفات کے بعد جو بیت کی وہ ان شبہات کو دور کرنے کی خاطر دوسری مرتبہ کی گئی (تفصیل کے لیۓ دیکھیے islamweb اور فتوی اسلام پر فتاویٰ [25][26]۔
بہ نظر شیعہ علماء: شیعہ علماء کے موقف کے مطابق حدیث خم سے حضرت علیRAZI.PNG کی نامزدگی ظاہر ہوتی ہے اور حضرت ابوبکرRAZI.PNG نے متعدد عوامل بشمول 1- نبوت اور خلافت دونوں کا بنو ھاشم میں چلے جانا 2- حضرت علیRAZI.PNG کا کم عمر ہونا 3- عربوں (بطور خاص قریش) کی حضرت علیRAZI.PNG سے عداوت 4- حضرت علیRAZI.PNG کے خلیفہ نامزد ہونے کی صورت میں حق گوئی اور صاف بیانی سے خلافت کرنے کا خطرہ شامل ہیں ؛ اور ان کے مطابق حضرت علیRAZI.PNG کو بیت پر مجبور کیا گیا اور حضرت فاطمہRAZI.PNG نے اس کی مخالفت میں حصہ لیا [27]۔ اس قسم کی صورتحال پیدا ہونے کی ایک نفسیاتی وجہ رسول اللہDUROOD3.PNG سے محبت بھی ہے کہ اہل بیت کو ان کے والدDUROOD3.PNG کی وراثت سے کفالت حضرت ابوبکرRAZI.PNG اور حضرت عمرRAZI.PNG پر لازم آتی ہے [28] (جس کے بارے میں سنی علماء اپنا الگ موقف بیان کرتے ہیں جو مذکورہ بالا فتاویٰ میں دیکھا جاسکتا ہے)۔ ان کے مطابق حضرت ابوبکرRAZI.PNG نے حضرت علیRAZI.PNG کے بیت سے انکار کے بعد حضرت فاطمہRAZI.PNG کی حیات تک اس بیت پر زور نہیں دیا؛ یعنی حضرت علیRAZI.PNG نے بیت کی بھی تو حضرت فاطمہRAZI.PNG کی وفات کے بعد [29]۔

مزید دیکھیۓ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ متعدد اور ان میں درست فرقے کے بارے میں ایک بحث۔
  2. ^ 2.0 2.1 قرآن روۓ خط ، اردو ترجمے کے ساتھ۔
  3. ^ 3.0 3.1 shi'ite (islam) at britannica encyclopedia (روئے خط ربط)
  4. ^ 4.0 4.1 Historical atlas of Islam; Malise Ruthven, Azim Nanji: Harvard University Press (May 28, 2004) ISBN-10: 0674013859
  5. ^ 5.0 5.1 Differences in the Ummah and the Straight Path by Maulana Yusuf Ludhyanwi پیڈی ایف ملف
  6. ^ imamat and khilafat by Ayatullah Murtada Mutahhari (روئے خط ربط)
  7. ^ The most learned of the Shia: the institution of the Marja taqlid; Linda Walbridge: Oxford university press
  8. ^ 8.0 8.1 The Origins & Early Development Of Shia'a Islam; S.H.Jafri روئے خط کتاب
  9. ^ لفظ شیعہ کا ظہور شیعہ موقف
  10. ^ لفظ شیعہ کا ظہور سنی موقف
  11. ^ Is Dhul-Khuwaisarah regarded as a companion or a khaarijee (روئے خط ربط)
  12. ^ The Kharijites and their Successors (روئے خط ربط)
  13. ^ 13.0 13.1 Revilement of the Sunnah is the Origin of Innovation (پیڈی ایف ملف)
  14. ^ For the glory of God: Rodney Stark (گوگل کتاب)
  15. ^ Classical Arabic biography: the heirs of the prophets in the age of al-Maʼmūn: Michael Cooperson (گوگل کتاب)
  16. ^ تاریخ طبری از ابن جریر الطبری
  17. ^ 17.0 17.1 17.2 Early shii thought: the teachings of Imam Muhammad al-Baqir گوگل کتاب
  18. ^ 18.0 18.1 Muhammad, seal of the prophets: Sir Muhammad Zafrulla Khan گوگل کتاب
  19. ^ The death of Muhammad, the messanger of God روئے خط مضمون
  20. ^ The life of Muḥammad: Islamic Book Trust, Muḥammad Ḥusayn Haykal گوگل کتاب
  21. ^ The maghrib in question: essays in history and historigraphy گوگل کتاب
  22. ^ The Qur'an: an encyclopedia by: Oliver Learman گوگل کتاب
  23. ^ Early Islam between myth and history by Suleiman Ali Mourad گوگل کتاب
  24. ^ The Muqaddimah: an introduction to history گوگل کتاب
  25. ^ islamweb پر ایک فتویٰ
  26. ^ Did the Messenger (sallallaahu alaihi wa sallam) commission Ali as a Caliph? فتوی اسلام کا موقع
  27. ^ How was the First Caliph Nominated? امام رضا نیٹ کا موقع
  28. ^ Fatimah Al-Zahra's (a.s.) anger on Abu Bakr and Omar انصار ویب کا موقع
  29. ^ The Events of Saqifa امام رضا ویب پر مضمون