مسلمانوں میں تفرقات
| مکے کی خلافت ایک نظریاتی جمہوریت تھی لیکن دمشق اور اس سے بھی پرے بغداد میں صورتحال مختلف تھی۔ شامی و فارسی نومسلم اور مخلوط النسل نوعربوں کے درمیان خالص النسل عرب مٹھی بھر ہورہے تھے۔ یہ افراد استبدادی ثقافت و عادات سے بھرے ہوئے تھے (The New World of Islam: Lothrop Stoddard) |
فرقہ کا لفظ فرق سے بنا ہے جس کے معنی مختلف یا الگ کرنے یا تمیز کرنے کے ہوتے ہیں ، مگر جب بات مذہب کی ہو تو اس سے مراد اختلاف ، قطع یا منحرف کی لی جاتی ہے یعنی کسی ایک مذہب میں اسکے ماننے والوں میں ایسے گروہ واقع ہونا کہ جن میں آپس میں متعدد یا چند امور یا ارکان یا خیالات میں (واقعتاً یا مجازاً) اختلاف پایا جاتا ہو اور وہ ایک دوسرے سے انحراف رکھتے ہوں ، اس مذہب کے فرقے کہلاتے ہیں اور یہ عمل فرقہ بندی کہلاتا ہے۔ فرقہ کی جمع ؛ فرقے یا فرقات کی جاتی ہے اور اسکی ضد ، جمع (جماعۃ) کی جاتی ہے۔ مذہب اسلام کے ماننے والوں میں بھی متعدد تاریخی و سیاسی وجوہات کی باعث اپنے خیالات میں ایک دوسرے سے اختلافی یا افتراقی گروہ پائے جاتے ہیں [1] جن کی تعداد مختلف بتائی جاتی ہے لیکن ان میں اگر نہایت ہی چھوٹے چھوٹے (اور ایسے کہ جو قریباً معدومیت کا شکار ہو چکے ہیں) گروہوں کی فہرست کو الگ کر کہ دیکھا جاۓ تو باقی ایسے تفرقاتی گروہ (فرقے) جن کو موجودہ دور میں قابل ذکر سمجھا جاسکتا ہے وہ تعدادِ چند سے آگے نہیں جاتے جن میں سنی (85 تا 90 فیصد) ، شیعہ ، سلفی اور وہابی وغیرہ شامل کیے جاسکتے ہیں۔ فی الحقیقت ، اسلام کا معاشرے اور سیاست سے مربوط ہونا اور پھر سیاسی ضروریات کو (قصداً یا لاشعوری طور پر) مذہب جیسی اھمیت دے دینا ہی فرقوں کی پیدائش کا ایک ابتدائی سبب بنا اور جس کی وجہ سے فطرت سے افتراق کی ابتداء ہوئی ؛ قرآن میں فطرت پر قائم اسلامی اصولوں پر یکسو رہنے کے بارے میں سورۃ یونس کی آیت تیس میں درج ہے کہ : فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي (ترجمہ: سو سیدھا رکھو تم اپنا رخ دین اسلام کی سمت یکسو ہوکر۔ جو اللہ کا دین فطرت ہے) [2]۔ جب قرآن کی تعلیمات سے لاپرواہی (دانستہ یا نادانستہ) کی گئی اور سیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کی خاطر اسلام کے نام کو استعمال کیا جانے لگا تو پھر نۓ نۓ چھوٹے بڑے متعدد فرقے گو آۓ دن نکلتے رہے۔ ایسا سب کچھ قرآن میں واضح طور منع کیے جانے کے باوجود کیا جاتا رہا؛ ترجمہ: اور مضبوطی سے تھام لو تم اللہ کی رسی کو سب مل کر اور فرقہ بندی نہ کرو۔ قرآن سورۃ آل عمران ، آیت 103۔ [2]
فہرست |
پیغمبر اسلام کی وفات [ترمیم]
610ء میں قرآن کی پہلی صدا کی بازگشت ایک صدی سے کم عرصے میں بحر اوقیانوس سے وسط ایشیا تک سنائی دینے لگی تھی اور پیغمبرِ اسلام کی وفات (632ء) کے عین سو سال بعد ہی اسلام 732ء میں فرانس کے شہر تور (tours) کی حدود تک پہنچ چکا تھا لیکن تاریخ اسلام (history of islam) کا یہ تمام دور داخلی نفاق و انتشار سے عاری نا تھا۔ معاشرتی انصاف ابتدائے اسلام میں ایک اہم کردار رکھتا ہے اور اسی کی بدولت اسلام میں داخل ہونے والے افراد پر مشتمل آبادی نے ایک ایسی امت کی صورت اختیار کی کہ جس کے معاشرے میں مساوات و رواداری اور ہر فرد کے حقوق پر انصاف پایا جاتا ہو۔ محمد کی وفات کے بعد ایک طرف تو نفسیاتی طور امت مسلمہ میں الہامی یا وحی کی صورت میں ملنے والی براہ راست راہنمائی کا سلسلہ منقطع ہوا اور اس دوسری جانب جغرافیائی لحاظ سے تیز رفتاری سے اپنی حدود میں اضافہ کرتی ہوئی امت کو نئے معاشرتی مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔ 632ء تا 661ء تک کے دور کو کو عام طور پر (بشمول غیرمسلم مورخین) خلافت راشدہ کا دور کہا جاتا ہے ؛ معاویہ
کے بجائے علی
کی طرفداری کرنے والے اور چند ابتدائی مورخین کے مطابق ، خلافت راشدہ کے بعد خلیفۂ پنجم حسن
کا قریباً چھـ ماہ پر محیط عہد شروع ہوا۔
پیغمبر اسلام کی جانشینی [ترمیم]
1 (اول) لازمی ہے۔مسلم اور غیرمسلم مورخین کے بیان کردہ واقعات اور وجوہات و نظریات ؛ کہ مسلمانوں میں تفرقوں کی ابتداء کب سے ہوئی اور کیوں اور کیسے ہوئی ؛ ایک دوسرے سے ناصرف مختلف بلکہ بسا اوقات متضاد آتے ہیں لیکن چند ایسی کمیاب باتوں کہ جن پر کم و پیش تمام مورخ متفق نظر آتے ہیں میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں میں تفرقہ سازی کی ابتداء پیغمبر اسلام کی جانشینی پر شروع ہوئی[3][4] گو کہ اس جانشینی وجہ کے باعث وجود میں آنے والے دو بڑے تفرقوں ؛ شیعہ اور سنی کے علاوہ بھی پیغمبر اسلام
کی وفات کے بعد چند دیگر اختلافات نظر آتے ہیں جو خواہ جانشینی پر نا بھی ہوں تب بھی ان میں سیاسی پہلو کی موجودگی سے انکار مشکل ہے۔ پیغمبر اسلام کی جانشینی سے اختلافِ امت کے آغاز کا یہ تذکرہ اس جگہ خالصتاً تاریخی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے جبکہ سنی اور شیعہ تفرقات کے علماء میں مختلف افکار پائے جاتے ہیں اور اکثر سنی و شیعہ تفرقے کھل کر سامنے آنے کا زمانہ عثمان
کی شہادت سے بیان کیا جاتا ہے[5][6]۔
ممکنہ شش و پنج [ترمیم]
ایسے مسائل یا سوالات جو رسول اللہ کی وفات کے فوراً بعد امت کو درپیش ہوئے اور ایک ہنگامی (باالفاظ بہتر ہیجانی) شوری کے باوجود تاریخی حقائق و نتائج سے مسئلۂِ لاینحل کی مانند رہے ، ان میں سے چند اہم درج ذیل بیان ہوتے ہیں[7]۔
- کیا پیغمبر اسلام نے خود کسی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا؟ یا کیا کسی شخصیت کی جانب اشارہ کیا تھا؟
- کیا پیغمبر اسلام کا جانشین وراثتی بنیادوں پر ہونا چاہیۓ؟ یا سیاسی بنیادوں پر؟
- پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد قرآن کو بنیاد بنا کر منعقد ہونے والی ہنگامی شوری کی حیثیت کیا ہونی چاہیۓ؟
- اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ کون راہنما کے طور منتخب ہونے کا اہل ہے؟
- کیا روحانی وجاہت کو ترجیح دی جائے یا تجربہ کاری و اسلام کو درپیش جغرافیائی و سیاسی مقاصد کو؟
اولین تفرقہ [ترمیم]
عام طور پر خوارج کو اسلام میں ظاہر ہونے والا سب سے پہلا تفرقہ کہا جاتا ہے لیکن تاریخی اعتبار سے ان کا ظہور کھل کر اس وقت سامنے آیا کہ جب حضرت علی اور امیر معاویہ
کے مابین جنگ صفین کو بلا کسی فیصلہ کن نتیجے کے ثالثی (تحکیم) پر ختم کیا گیا۔ حضرت علی
کی فوج میں شامل کوئی بارہ ہزار افراد اس ثالثی سے اختلاف اور اسے اللہ کی حاکمیت سے انحراف قرار دے کر الگ (اجتماع سے خارج) ہوگئے، تاریخی طور پر ان ہی سے خارجیوں کی ابتداء ہوئی ، یہ 657ء کا واقعہ ہے جبکہ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ جانشینی پر اختلاف رائے رسول اللہ
کی وفات (632ء) کے نزدیک زمانہ ہے[3][4][5] یعنی شیعہ اور سنی تفرقوں کی ابتداء ، خارجیوں سے قدیم آتی ہے۔ لفظ شیعہ پہلی بار کب استعمال ہوا؟ اس بارے میں ، شیعہ (رسول اللہ
کے دور سے[8][9]) اور سنی (جنگ جمل کے وقت سے[10]) ؛ بیانات مختلف آتے ہیں۔ تاریخی واقعات کے تقدم کے لحاظ سے اولین تفرقے کا اندازہ مذکورہ بالا تاریخی واقعات کے تسلسل سے لگایا جاسکتا ہے لیکن نظریاتی طور پر متعدد علماء ذو الخویصرۃ التمیمی کے اس واقعے (جس میں اس نے رسول اللہ
کو نعوذ باللہ ، غیر عادل کہہ کہ نشست سے اخراج کیا تھا) کو خوارج کی ابتداء قرار دیتے ہیں[11][12][13]۔ مجموعی طور پر یہ تمام واقعات اسلام کی ابتدائی امت (اسلاف) کے ایک کامل ترین مثالی معاشرہ ہونے کے دعوے پر کیے جانے والے اعتراضات کے جواب کو مشکل بناتے ہیں؛ بطور خاص غیرمسلم مورخین و معترضین ان واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اسلام کا وہ ابتدائی دور کہ جس کو ایک کامل مثالی ، اعلٰی اور متحد عہد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اتنا مثالی متحد بھی ثابت نہیں ہوتا[14]۔
اولین عہد [ترمیم]
تاریخی صفحات پر اسلام کے اولین عہد کے واقعات سے جو تاثر (بطور خاص غیرمسلم مورخین) کے یہاں نظر آتا ہے اسے بالائی قطعے میں بیان کیا گیا ہے اور اس پر مسلم علماء عموماً تو یہ وضاحت رکھتے ہیں کہ بنیادی طور پر اولین عہد کے غیرمعیاری واقعات (بلاواسطہ یا بالواسطہ) منافقین کے باعث وقوع پذیر ہو رہے تھے یا پھر اس میں بدعت کا عنصر شامل تھا۔ ان کے مطابق ؛ بدعت کا ماخذ سنت سے عداوت یا اس کی غیرتوقیری میں ہے جو سنت کے کسی (یا متعدد) پہلو پر ذاتی خواہشات و مقاصد کی وجہ سے ہو سکتی ہے اور یہ بدعت ، سنت پر قائم اجماع امت سے تفریق کا باعث بنتی ہے[13]۔ ایک اور موقف مسلم کتب میں یہ بھی پایا جاتا ہے کہ بہرحال اولین عہد میں امت کی تشکیل قبل از اسلام کے مختلف پس منظر اور ثقافت یا رسم و رواج رکھنے والے افراد پر مشتمل تھی جن کو متحد کرنے کا سبب رسول اللہ کی الہامی تعلیمات بن رہی تھیں اور ان کے مابین ابتدائی طور پر نظریاتی اختلافات سقیفہ بنی ساعدہ کے واقعے کا سبب بنے، یہ موقف شیعہ کتب میں ملتا ہے[8]۔
شیعہ سنی فسانہ بہ زبانِ زمانہ [ترمیم]
بالائی قطعہ بنام پیغمبر اسلام کی جانشینی میں کیے گئے اندراجات سے مسلمانوں کی ابتدائی نسل میں رونما ہونے والے افتراقِ شیعہ و سنی کی متعدد وجوہات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ان وجوہات و اسبابِ تفرقات کے بعد اب اسلافی دور میں جاری ہونے والی اس شیعہ سنی کہانی کو ایک زمانی تواتر کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے تاکہ تاریخی خاکے کا ایک اندازہ قائم کیا جاسکے؛ اس کہانی میں طوالت سے اجتناب کی خاطر مذکورہ بالا قطعے کے مندرجات کو دہرانے سے گریز کیا جائے گا۔ صفر یا ربیع الاول 11ھ (مئی یا جون 632ء) کے بعد جب مسلمانوں میں کوئی متفقہ راہنما موجود نا رہا تو روحانی وجاہت و قربِ رسول کے باعث قابلِ تقلید ، 34 سالہ علی ابن ابی طالب
اور اولین داخلینِ اسلام و والدِ زوجۂ رسول
، 59 سالہ ابو بکر الصدیق
منطقی انتخابات کے طور پر سامنے آئے اور انصار کی ابتدائی مخالفت اور پھر موافقت کے بعد انتخاب ، بعد الذکر کا ہوا جسے خارجی طور پر تو ناکام نہیں کہا جاسکتا لیکن داخلی طور پر متنازعہ ضرور ہوا۔ کیا یغمبر اسلام نے کسی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا یا نہیں؟ اس بارے میں سنی اور شیعہ تفرقے والے مختلف نظریات رکھتے ہیں جن کی تفصیل کے لیۓ پیغمبر اسلام کی جانشینی مخصوص ہے۔
تین اسلافی اجتماعات [ترمیم]
مذکورہ بالا واقعات سے خلیفہ کی تقرری پر اسلاف میں تین اقسام کے تفکرات ظاہر ہوتے ہیں جن کو بعض مورخین تین الگ الگ گروہوں میں بھی شمار کرتے ہیں۔ حضرت عمر کی مداخلت پر سقیفہ میں ہونے والا انتخابِ خلیفہ ، قریش و مہاجرین کے لیۓ قابل قبول تھا لیکن اس موقع پر موجود دو الگ گروہ ؛ اول: انصار (سعد بن عبادہ
کی قیادت میں) اور دوم: طرفداران حضرت علی
نے بعد میں اس اطاعت میں شراکت کی[15]۔ زبیر بن العوام
اور طلحہ بن عبید اللہ
جنہیں فاطمہ بنت محمد
کے گھر سے نکالنے کے لیۓ حضرت عمر
کے آگ لگانے کا انتباہ بھی تاریخ میں ملتا ہے[16] جو انہوں نے حضرت علی
کے بغیر ہونے والے انتخابِ خلیفہ کے بعد ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیۓ گھر سے مسجد لانے کے لیۓ دیا تھا؛ یہ بلاوہ کب دیا گیا ؟ سقیفہ سے مسجد واپس آنے پر فوراً ؟ یا محمد
کی نماز جنازہ کے بعد اگلے روز ؟ اس بارے میں روایات سے کوئی متفقہ شہادت نہیں ملتی[17]۔ کتب میں حضرت علی
کو خلیفہ (ابوبکر
) کے انتخاب تک نا بلانے کی وجہ انہیں رسول اللہ
کے جنازے میں زحمت نا دینا بیان کی جاتی ہے جو اس موقع پر اسامہ بن زید
اور فضل بن العباس
کے ساتھ حضرت عائشہ
کے گھر میں رسول اللہ
کے غسل و دیگر فرائض میں مصروف تھے[18][19] اور اس ہنگامی انتخاب کی وجہ مدینے میں انصار کی جانب سے سقیفہ کے اجتماع کی اطلاع ملنے پر ابوبکر
، عمر
اور ابو عبیدہ
(جو وہاں بعد میں پہنچے تھے[20]) کی جانب سے کی جانے والی سرعت بیان کی جاتی ہے کہ انصار اپنا خلیفہ قبیلہ بنو الخزرج کے سعد بن عبادہ
کو بنانا چاہ رہے تھے جو زیادہ تر عربوں کے لیۓ متنازع ہونے کی کیوجہ سے امت کے شیرازے کو بکھیر سکتا تھا[18]۔
عہدِ جانشینِ اول بہ نظر مورخین و علماء [ترمیم]
بہ نظر مورخین: ابوبکر ، رسول اللہ
کے پہلے جانشین بنے جن کا عرصۂ خلافت گو طویل تو نا تھا لیکن چند سالوں بعد امت مسلمہ میں آنے والے طوفانوں کی نسبت خاموش نہیں تو متحد ضرور رہا۔ پہلے خلیفہ کو تمام امت کی حمایت حاصل ہوئی مگر ابتدائی طور پر کچھ انصار اور فاطمہ بنت محمد
و علی
کی جانب سے رسول اللہ
کے اہل خانہ نے خود کو اس بیت سے الگ رکھا[17] ؛ ہم تک تاریخ سے یہ بات پہنچتی ہے کہ علی
نے حضرت فاطمہ
کی وفات تک اس خلافت کو قبول نا کیا؛ اور اس مدت پر کہ جب حضرت علی
کی یہ حمایت سامنے آئی تاریخدان مختلف بیانات درج کرتے ہیں؛ Michel Le Gall کی کتاب میں المسعودی (896ء تا 956ء) کی تاریخ مروج الذھب و معادن الجواھر کے حوالے سے یہ مدت وفات فاطمہ
سے دس روز بعد ، تین ماہ بعد اور چھ ماہ بعد و دیگر [21] اور بعد میں آنے والی بعض شیعہ کتب کے مطابق کبھی نہیں آتی [17]۔ بعض مورخین سقیفہ کے اجلاس (اور حضرت علی
کے رویے) کی بنیاد حجۃ الوداع سے واپسی پر مقام غدیر الخم (10 مارچ 632ء) سے منسلک کرتے ہیں [22] اور وہاں رسول اللہ
کی ایک حدیث بیان ہوتی ہے : من كنت مولاه فهذا علي مولاه (ترجمہ: جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں)۔ اس حدیث کی شیعہ اور سنی تشریحات بالکل مختلف ہیں اور سیاسی و قبائلی تعصب کو عیاں کرتی ہیں [23]؛ شیعاؤں کے مطابق یہاں حضرت علی
کی ولایت و خلافت (دینی و دنیاوی راہنما) کا اعلان ہوا جبکہ سنیوں کے مطابق اس خطاب کا سیاق و سباق حضرت علی
پر چند الزامات کی صفائی پیش کرنا تھا؛ لفظ مولا یا مولی (جو کہ ولی سے بنا ہے) کے عربی معنوں میں بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ابن خلدون کی مقدمہ ابن خلدون (1377ء) میں آتا ہے۔
| ” | العباس (ابن عبدالمطلب) |
“ |
کم از کم اس اقتباس پر (کتاب کے مصنف کا) موقف یہ ہے کہ اس (بیان) سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت علی جانتے تھے کہ رسول اللہ
نے نا تو کسی (جانشین کے انتخاب کا) حکم دیا اور نا ہی کسی کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ مذکورہ بالا کتاب میں اس واقعے کا زمانہ نہیں ملتا اور اسی طرح متعدد قدیم ترین تاریخی کتب کے بیانات سے بھی کوئی بات حتمی طور پر کہنا مشکل ہو جاتا ہے؛ اس قسم کی دقت کا اندازہ خود طبری میں آنے والے ایک جملے سے ہو جاتا ہے جس کے مطابق وہ کسی بھی واقعے بعد لکھتا ہے کہ ؛ یہ (یعنی جو درج کیا) وہ ہے جو ہمیں مستند معلوم ہوا۔
بہ نظر سنی علماء: سنی علماء صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسی کتب احادیث کی بنیاد پر یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ ابوبکر ، عمر
، عثمان
اور علی
جیسے جلیل القدر اصحاب اکرام سے کسی لغزش کا احتمال بھی عقل سے بالا ہے اور حضرت علی
نے رسول اللہ
کی جانب سے ابوبکر
کو نماز میں امامت کے لیۓ مقرر کرنے کا حوالہ دے کر اگلے ہی روز تمام افراد کے ساتھ (بعض کے مطابق چالیس روز بعد) بیت کر لی تھی اس کے بعد حضرت فاطمہ
کی علالت کے باعث گھر سے نکلنا کم ہو گیا تھا ساتھ ہی وراثت (فدک وغیرہ) کی حوالگی کے موضوع کی وجہ سے بھی شبہات آگئے تھے؛ وراثت کے بارے میں حضرت ابوبکر
نے رسول اللہ
کی حدیث کا ذکر کیا کہ؛ حدیث : ہماری جائداد موروثی نہیں ہے اور جو کچھ ہم چھوڑیں وہ خیرات (صدقہ) ہے البتہ (فتوی کے اندراج کے مطابق) حضرت ابوبکر
نے کہا کے اس وراثت سے رسول اللہ
کے اہل خانہ کی کفالت کا حصہ ادا کیا جاسکتا ہے، جسے حضرت علی
نے تسلیم کر لیا اور اس وجہ سے انہوں نے حضرت فاطمہ
کی وفات کے بعد جو بیت کی وہ ان شبہات کو دور کرنے کی خاطر دوسری مرتبہ کی گئی (تفصیل کے لیۓ دیکھیے islamweb اور فتوی اسلام پر فتاویٰ [25][26]۔
بہ نظر شیعہ علماء: شیعہ علماء کے موقف کے مطابق حدیث خم سے حضرت علی کی نامزدگی ظاہر ہوتی ہے اور حضرت ابوبکر
نے متعدد عوامل بشمول 1- نبوت اور خلافت دونوں کا بنو ھاشم میں چلے جانا 2- حضرت علی
کا کم عمر ہونا 3- عربوں (بطور خاص قریش) کی حضرت علی
سے عداوت 4- حضرت علی
کے خلیفہ نامزد ہونے کی صورت میں حق گوئی اور صاف بیانی سے خلافت کرنے کا خطرہ شامل ہیں ؛ اور ان کے مطابق حضرت علی
کو بیت پر مجبور کیا گیا اور حضرت فاطمہ
نے اس کی مخالفت میں حصہ لیا [27]۔ اس قسم کی صورتحال پیدا ہونے کی ایک نفسیاتی وجہ رسول اللہ
سے محبت بھی ہے کہ اہل بیت کو ان کے والد
کی وراثت سے کفالت حضرت ابوبکر
اور حضرت عمر
پر لازم آتی ہے [28] (جس کے بارے میں سنی علماء اپنا الگ موقف بیان کرتے ہیں جو مذکورہ بالا فتاویٰ میں دیکھا جاسکتا ہے)۔ ان کے مطابق حضرت ابوبکر
نے حضرت علی
کے بیت سے انکار کے بعد حضرت فاطمہ
کی حیات تک اس بیت پر زور نہیں دیا؛ یعنی حضرت علی
نے بیت کی بھی تو حضرت فاطمہ
کی وفات کے بعد [29]۔
مزید دیکھیۓ [ترمیم]
حوالہ جات [ترمیم]
- ^ متعدد اور ان میں درست فرقے کے بارے میں ایک بحث۔
- ^ 2.0 2.1 قرآن روۓ خط ، اردو ترجمے کے ساتھ۔
- ^ 3.0 3.1 shi'ite (islam) at britannica encyclopedia (روئے خط ربط)
- ^ 4.0 4.1 Historical atlas of Islam; Malise Ruthven, Azim Nanji: Harvard University Press (May 28, 2004) ISBN-10: 0674013859
- ^ 5.0 5.1 Differences in the Ummah and the Straight Path by Maulana Yusuf Ludhyanwi پیڈی ایف ملف
- ^ imamat and khilafat by Ayatullah Murtada Mutahhari (روئے خط ربط)
- ^ The most learned of the Shia: the institution of the Marja taqlid; Linda Walbridge: Oxford university press
- ^ 8.0 8.1 The Origins & Early Development Of Shia'a Islam; S.H.Jafri روئے خط کتاب
- ^ لفظ شیعہ کا ظہور شیعہ موقف
- ^ لفظ شیعہ کا ظہور سنی موقف
- ^ Is Dhul-Khuwaisarah regarded as a companion or a khaarijee (روئے خط ربط)
- ^ The Kharijites and their Successors (روئے خط ربط)
- ^ 13.0 13.1 Revilement of the Sunnah is the Origin of Innovation (پیڈی ایف ملف)
- ^ For the glory of God: Rodney Stark (گوگل کتاب)
- ^ Classical Arabic biography: the heirs of the prophets in the age of al-Maʼmūn: Michael Cooperson (گوگل کتاب)
- ^ تاریخ طبری از ابن جریر الطبری
- ^ 17.0 17.1 17.2 Early shii thought: the teachings of Imam Muhammad al-Baqir گوگل کتاب
- ^ 18.0 18.1 Muhammad, seal of the prophets: Sir Muhammad Zafrulla Khan گوگل کتاب
- ^ The death of Muhammad, the messanger of God روئے خط مضمون
- ^ The life of Muḥammad: Islamic Book Trust, Muḥammad Ḥusayn Haykal گوگل کتاب
- ^ The maghrib in question: essays in history and historigraphy گوگل کتاب
- ^ The Qur'an: an encyclopedia by: Oliver Learman گوگل کتاب
- ^ Early Islam between myth and history by Suleiman Ali Mourad گوگل کتاب
- ^ The Muqaddimah: an introduction to history گوگل کتاب
- ^ islamweb پر ایک فتویٰ
- ^ Did the Messenger (sallallaahu alaihi wa sallam) commission Ali as a Caliph? فتوی اسلام کا موقع
- ^ How was the First Caliph Nominated? امام رضا نیٹ کا موقع
- ^ Fatimah Al-Zahra's (a.s.) anger on Abu Bakr and Omar انصار ویب کا موقع
- ^ The Events of Saqifa امام رضا ویب پر مضمون