جنگ جمل
| جنگ جمل | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| Part of the First Islamic civil war | |||||||
|
|||||||
| Belligerents | |||||||
| خلیفہ راشد | عرب | ||||||
| Commanders and leaders | |||||||
| حضرت علی رضی اللہ عنہ
مالک بن حارث رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ |
عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ |
||||||
10 جمادی الثانی 36 ھ مطابق 4 دسمبر 656ء۔ مسلمانوں کے درمیان قصاص عثمان پر لڑی جانے والی جنگ۔
[ترمیم] وجوہات
ام المومنین حضرت عائشہ حج کی غرض سے مکہ تشریف لے گئی تھیں۔ وہاں انھیں معلوم ہوا کہ حضرت عثمان شہید کر دیئے گئے ہیں۔ اور حضرت علی خلیفہ ہوگئے ہیں۔ تو انھوں نے حضرت عثمان کے قصاص کے لیے آواز اٹھائی اور پھر بصرہ چلی گئیں۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر بھی آپ کے ساتھ ہوگئے۔ یہ بزرگ اس لیے ناراض تھے کہ حضرت علی نے قاتلوں سے قصاص عثمان کیوں نہیں لیا۔ جب یہ لوگ بصرہ پہنچے تو وہاں کے گورنر عثمان بن حنیف نے انھیں روکا مگر عثمان کو شکست ہوئی اور حضرت عائشہ کے ساتھیوں نے بصرہ پر قبضہ کر لیا ۔ حضرت علی کو پتہ چلا تو وہ بصرہ کی طرف روانہ ہوئے۔ کوفہ سے بھی ایک فوج آپ کی مدد کے لیے آگئی۔
[ترمیم] واقعات
حضرت علی علیہ سلام کے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ دونوں اس بات پر متفق ہوگئے تھے کہ پہلے امن و امان قائم ہوجائے پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قصاص لیا جائے۔ مگر جن لوگوں کو ان کی مصالحت کی وجہ سے اپنی جان کا خطرہ تھا، وہ دونوں کو لڑانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ لڑائی کوفہ کے باہر خریبہ کے مقام پر ہوئی اس میں حضرت طلحہ و حضرت زیبر شہید ہوئے اور کوئی دس ہزار مسلمان کام آئے [حوالہ درکار]۔ اس جنگ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک اونٹنی پر سوار تھیں۔ (جمل کا مطلب ہے اونٹ اور اسی لیے اس جنگ کو جنگ جمل کہتے ہیں) ۔ حضرت علی علیہ سلام نے جلال میں آنے کے بعد اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ وہ بلبلا کر بیٹھ گی ۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فوج کو شکست ہوئی۔ حضرت علی علیہ سلام نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو بڑے احترام کے ساتھ مدینے روانہ کر دیا۔ اس جنگ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بیٹے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی کے بھائی محمد بن ابی بکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جو حضرت علی علیہ سلام کے قریبی اور پیارے صحابی تھے، حضرت علی علیہ سلام کی طرف سے لڑے
[ترمیم] نتائج
یہ جنگ مسلمانوں کے درمیان لڑی جانے والی پہلی جنگ تھی جس میں بھائی نے بھائی کا خون بہایا۔ اس جنگ کے شعلے مزید بھڑکے اور امیر معاویہ نے قصاص عثمان کا مطالبہ کر دیا۔ اور شام میں بغاوت کی۔ جس کی سرکوبی کے لیے جنگ صفین لڑی گئی۔ یوں مسلمانوں کی عظیم ریاست دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ اور اتحاد پارہ پارہ ہوگیا۔