جنگ صفین

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

جنگ صفین جولائی 657 عیسوی میں مسلمانوں کے خلیفہ علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ اور شام کے گورنر امیر معاویہ بن ابی سفیان کے درمیان ہوئی۔ یہ جنگ دریائے فرات کے کنارے اس علاقے میں ہوئی جو اب ملک شام میں شامل ہے اور الرقہ (اردو میں رقہ) کہلاتا ہے۔ اس جنگ میں شامی افوج کے 45000 اور خلیفہ کی افواج کے 25000 افراد مارے گئے ۔ جن میں سے بیشتر اصحاب رسول تھے۔ اس جنگ کی پیشینگوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کی تھی اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو بتایا تھا کہ اے عمار تجھ کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔ [1] [2] [3] حضرت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بھی اسی جنگ میں شہید ہوئے۔ یہ دونوں اصحاب رضی اللہ عنہ حضرت علی کی فوج میں شامل تھے۔ اسی جنگ میں حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ بھی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حمایت میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی فوج کے امیر حضرت مالک اشتر اور دوسری طرف عمرو ابن العاص تھے۔

حوالہ

  1. ^ صحيح البخاري کتاب الجھاد والسير
  2. ^ سنن الترمذی مناقب عمار بن ياسر رضی اللہ عنہ
  3. ^ صحيح مسلم الفتن واشراط الساعۃ