سنت
| اس مضمون یا قطعہ کو وکیپیڈیا کے معیار کے مطابق از سر نو لکھنے کی ضرورت ہے۔ برائے مہربانی اسے بہتر بنائیں۔ |
سنت اصولی معنی میں حدیث سے الگ نہیں ہے،محدثین کے نزدیک حدیث کی جو تعریف کی جاتی ہے وہی تعریف سنت کی بھی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی اوصاف اس سے مستثنی ہیں تشریعی طور سے آپ نے جو امور سر انجام دی ہیں، وہی حجت شرعیہ ہیں۔ علمائے حدیث علمائے اصول کے برعکس سنت کو دوسرے زاویے سے دیکھتے ہیں،مثلا علمائے حدیث سنت کو سند کے ثبوت،صحت،حسن،ضعف یا وضع کے لحاظ سے دیکھتے ہیں،جبکہ علمائے اصول حدیث کو اس لحاظ سے لیتے ہیں کہ کسی حدیث سے حکم ثابت کرنے کے لیے اس سے دلیل لی جاسکتی ہے یا نہیں؟ اسی لیے ان کی تقسیم متواتر ،آحاد اور مشہور تک محدود ہے۔
لغوی تعریف:-وہ طریقہ جس پر لوگ چلتے ہوں اصل میں سنۃ الشيئ بالمسن ،کسی چیز کو چھری سے کاٹنا کہ اس میں کٹنے کا نشان آجائے،کسائی کا کہنا ہے کہ سنت کا معنی دوام جیسے عرب کہتے ہیں سنت الماء یہ تب بولتے ہیں جب مسلسل پانی بہایاجائے۔اگر صرف سنت کہاجائے تو اس سے مراد اچھا راستہ، اور برا راستہ کہنا ہوتو سنت کے لفظ کے ساتھ سیئہ کہنا پڑتاہے۔[1] ،،سنت، سیرت اورطریقہ کو کہاجاتاہے۔ والاصل فیہ الطریقۃ والسیرۃ[2]
شرعی اصطلاح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ قول ،فعل یا تقریر،
قول کی مثال:((من سن سنۃ حسنۃ فلہ اجرھا۔۔۔۔۔۔)) ،فعل ،جیسے نماز اور حج:صلوا کمارائیتمونی اصلی۔ خذوا عنی مناسککم۔ نماز ایسے پڑھو جس طرح مجھے پڑھتے دیکھتے ہو۔مجھ سے حج کے مناسک سیکھ لو۔
تقریر:کسی اور کے فعل کی تائید کرنا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر ضب کھایا گیا مگر آپ نے نہیں کھایا،اور خاموشی اختیار کی،یا قیافہ شناسی کے ذریعے نسب پر استدلال کو صحیح سمجھنا(زید بن حارثہ واسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا قصہ) یا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں پر اعتراض نہ کرنا جنہوں نے بنو قریظہ پہنچنے کے بعد نماز عصر پڑھی تھی اور جنہوں نے راستے میں پڑھی تھی۔[3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم یا نہی اور جائز قرار دینے کو سنت کہتے ہیں،ما امر بہ الرسول ونھی عنہ وندب الیہ قولا وفعلا ولھذا یقال فی ادلۃ الشرع الکتاب والسنہ ای القرآن والحدیث[4] اور بقول ابن منظور :- واذا طلقت فی الشرع فانما یراد بھا ما امربہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ونھی عنہ وندب الیہ قولا وفعلا مما لم ینطق بہ الکتاب العزیز[5] بعض لوگ اس کو صرف رسول اللہ کے فعل تک محدود رکھتے ہیں لیکن بعد میں یہ لفظ حدیث کے مترادف ہونے لگا۔اس لحاظ سے گویا سنت ،حدیث کے مترادف ہے۔
- عرف عام میں لفظ سنۃ، شیعہ کے مقابلہ میں بولاجاتاہے۔
- اصولیین کی اصطلاح میں سنہ وہ تمام مستند احادیث جن سے احکام کا استنباط کیا جاتاہے۔ کو کہتے ہیں۔
- فقہاء کی اصطلاح میں :فرض کے مقابلہ میں نفلی عبادات کو کہاجاتاہے۔
- سنت ، بدعت کے مقابلہ میں بھی بولاجاتاہے۔ مثلا کہاجاتاہے صاحب سنہ،یعنی (صاحب اتباع،) سنت کا پیروکار
- سلف اورفقہاء اہل الحدیث کے نزدیک مرفوع حدیث کو کہاجاتاہے۔ جیسا کہ عبد الرزاق
کا قول ہے:أخبرنا ابن جریج قال:قال ابن شهاب فی الرجل یقع علی البهیمة من الأنعام قال لم أسمع فیها سنة ولکن نراه مثل الزانی ان کان محصنا أو لم یحصن [6]
- سنن سنۃ کی جمع کتب کے ان مجوعے کو کہاجاتاہے جس میں مرفوع احادیث فقہی ابواب پر مرتب کی گئی ہیں۔جیسے کہ السنن الاربعة حدیث کی وہ کتب جنہیں ابو داود، تر مذی نسائی اور ابن ماجہ نے مرتب کی ہیں۔ اور ان اصحاب سنن نے اپنی کتب میں کسی نے کم اور کسی نے زیادہ ، آثار موقوفہ اور مقطوع کا اندراج کیاہے۔
[ترمیم] سند کے لحاظ سے سنت کی اقسام
(1)- سنت متواترہ:جیسے پانچوں نمازیں اور حدیث انما الاعمال بالنیات،اس کے منکر کے کفر پر تمام معتبر علماء کا اجماع ہے، تواتر کی شرطیں: ا-روات کی اتنی کثرت ہو کہ اس کی وجہ سے کذب سے مامون رہا جائے۔ ب- اس کا ادراک حسی طریقے سے ہو عقلی نہ ہو(یعنی مشاہدہ وسماعت ہو مفہوم نہ ہو)۔یہ کثرت تمام طبقات میں موجودرہے،
(2)-مشہور یا مستفیض سنت:اسے کہتے ہیں کہ روات کاپہلا طبقہ تواتر کی حد کو نہ پہنچا ہو لیکن دوسرے طبقہ سے تواتر کی تعداد ہو(احناف) مثلا مسح علی الخفین،متعہ کا مباح ہونے کے بعد حرام ہونا۔بھانجی خالہ یا پھوپی بھتیجی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے کی حرمت۔
(3)-الآحاد:وہ حدیث جو صحیح متصل سند کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہو اتنی تعداد کے راوی ہوں کہ تواتر کی حد کو نہ پہنچتے ہوں ،اہل سنت کا علماء کا اجماع ہے کہ اس پر عمل واجب ہے اور اس کی مخالفت کرنے والا فاسق وبدعتی ہے(اگرچہ اس کی وجہ سے کافر قرار نہیں پاتا) اگر حدیث صحت کے لیے معتبر شروط پر پوری اترتی ہے یعنی عادل،ثقہ،ضابط،عادل ثقہ ضابط سے آخرسند تک متصل روایت کرے بغیر کسی شذوذ یا علت کے تو اس پر عمل واجب ہے،آحاد ہونے کی وجہ سے اس سے دلیل نہ لینا کوئی معنی نہیں رکھتا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر واحد پر اعتماد کیاہے حدیث میں آتاہے کہ اہل قباء کے پاس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک آدمی نے آکر قبلہ تبدیل ہونے کی خبر دی تو وہ پھر گئے اور یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اعتراض یا ناراضگی کا اظہار نہیں کیا،اسی طرح رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کرکے اپنے ایلچی لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بھیجے یا اپنے عمال کو لوگوں کے پاس حکومت کرنے کے لیے بھیجتے تھے اگر ایک سے زیادہ لوگوں کا بھیجنا ضروری ہوتا تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے سے گریز نہ کرتے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اجماع ہے کہ ان سے بہت سے واقعات منقول ہیں کہ خبر واحد قبول کرنے پر اتفاق تھا اور اسے ضرور قبول کرتےتھے۔مثلا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور محد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے بھی مجوس سے جزیہ لینے میں خبر واحد کو تسلیم کیا ،عبد الرحمن بن عوف کی روایت کو قبول کرلیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مجوس سے اہل کتاب والا سلوک کرو اور کسی کا حمل ضائع ہونے کے بارے میں بن مالک کی خبر پر عمل کیا جس نے بتایا کہ میری دوبیویاں تھیں ایک نے دوسرے کو بیلن مارا جس سے اس کا حمل ضائع ہوگیا تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنے کا فیصلہ کیا،عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اگر ہم یہ نہ سنتے تو کچھ اور فیصلہ کرتے۔ عثمان وعلی رضی اللہ عنہما نے فریعہ بنت مالک کی خبر پر اعتماد کیا کہ بیوہ اپنے شوہر کےگھر میں عدت گزارے گی،کہتی ہیں میں اپنے شوہر کی وفات کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی عدت گزارنے کی اجازت لینا چاہتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(اپنے متوفی شوہر کے گھر)ٹھری رہو جب تک عدت پوری نہ کرلو۔ دیگ صحابہ رضی اللہ عنہم مثلا عائشہ،ابی بن کعب،زید بن ثابت وابن عباس رضی اللہ عنہم وغیرہ بھی خبر واحد کو قبول کرتے تھے بلکہ ان کا اجماع خبر واحد کو قبول کرنے کے لیے کافی ہے جو سقیفہ والے دن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خبر پر ہوا تھا الائمۃ من قریش، ان کی طرف سے یہ اجماع تھا اس بات میں بھی کوئی فرق نہیں کہ خبر واحد عقائد میں لی جائے گی یا احکام میں،معتزلہ یا دیگر بدعتی فرقے جو یہ فرق کرتے ہیں وہ صحیح نہیں ہے بلکہ بنیادی بات یہ ہے کہ خبر واحد صحیح ہو تو اطمینان قلب کا سبب بنتاہے اور موجب عمل ہے اس لیے سلف نے آخرت میں اللہ کے دیدار اور پل صراط،میزان،حوض کوثر،شفاعت اور عذاب قبر پر اجماع کیا ہے علمائے اہلسنت نے صحیح وضعیف احادیث کو الگ الگ کرکے مبتدعہ فرقوں کی وہ کوششیں ناکام بنادیں جو وہ احادیث کو ختم کرنے کے لیے کررہے تھے اور محدثین نے اہل بدعت سے احادیث لینے سے منع کردیا۔ابن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں :پہلے محدثین کسی سے سند کا نہیں پوچھتے تھے مگر جب فتنہ واقع ہوگیا تو پھر کہتے تھے کہ سند بیان کرو پھر دیکھا جات کہ راوی اہلسنت میں سے ہیں تو حدیث لے لی جاتی اور اگر اہل بدعت ہیں تو نہ لی جاتی(مقدمہ صحیح مسلم) اس کے بعد اہل بدعت نے خبر واحد کو حجت ماننے سے انکار کردیا ان میں سے کچھ لوگ عقائد واحکام میں اسے حجت نہیں مانتے اور کچھ صرف عقائد میں حجت نہیں مانتے کہتے ہیں کہ عقل خبر واحد پر مقدم ہے ،ان کا یہ خیال غلط اور صحیح نہج سے خارج ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل کسی کام کی مطلق اجازت کی دلیل ہے یعنی وجوب یا ندب یا اباحت کی یعنی جیسے قرائن ہوں ان کے مطابق کسی واجب مندوب یا مباح قرار دیا جائے گا جس کا وجوب دیگر دلائل سے ثابت ہوگیا اسے واجب قرار دیا جائے گا جیسے پنجوقتہ نماز کا اپنے اوقات میں پڑھنے کا التزام کرنا اور اگر قرائن ودلائل سے وجوب ثابت نہ ہو تو مندوب ہوگا جیسے نفل نمازیں یا مباح ہوگا جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے دستر خوان پر سانڈہ کھانے کی اجازت دینا جبکہ آپ نے خود نہیں کھایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی فعل کو ترک کرنا اس فعل سے مطلق نہیں کی دلیل ہے یعنی حرمت یا کراہیت مثلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام حرام امور واشیاء کو ترک کرنا جن کی حرمت دوسرے طریقوں سے ثابت ہو جیسے زنا چوری وغیرہ، انہی متروک امور سے لڑکیوں کا گانا سننا بھی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوے ((لست من در ولا درمنی)) میں کوئی غلط کا م نہیں کرتا دو بچیوں کا گانا نہیں سنا۔ یعنی مباح کھیل جو کہ حرام نہیں لیکن اس میں حرج نہیں ہے ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ چیز یا فعل جس میں حرج نہیں تو اس کی اجازت ہو البتہ وہ مباح ہوگا یعنی جس میں حرج نہیں تو وہ اجازت یافتہ نہیں ہوتا بلکہ اس کا ترک کرنا بہتر ہوتاہے،یہ مباح کی وہ قسم ہے کہ جو جزئی طور پر مباح کلی طور پر ممنوع ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی فعل کو ترک کرنا چند اسباب کی وجہ سے ہوتاتھا:
- -آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کسی چیز کو نہیں چاہ رہی تھی جیسے سانڈہ ترک کرنا۔
- -افضل وبہتر کو اختیار کرنے کے لیے مباح کھیل کا ترک کرنا۔
- -کسی فعل کو اس لیے ترک کرنا کہ اس کا کرنا بڑی خرابی کا سبب بن رہا ہو جیسے منافقین کا قتل جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ بنایاتھا۔ اسی طرح کعبہ کی نئی تعمیر کو ترک کرنا کہ لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔
- -مکارم اخلاق کی وجہ سے کسی فعل کو ترک کرنا جیسے اس عورت کو قتل نہ کرنا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے بدلہ نہیں لیا لیکن جب اس زہر سے بشیر بن البراء رضی اللہ عنہ ہلاک ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کے طور پر اس عورت کو قتل کروادیا۔ لہذا کسی فعل کے کرنے یا نہ کرنے میں غور کرنا چاہیے اس سے متعلق قرائن کو دیکھنا چاہیے حالات کو مد نظر رکھنا چاہیے اس لیے کہ ترک اور فعل ہر ایک کے مراتب علیحدہ ہیں ان سب کو جاننا اجتہاد کے لیے لازم ہے۔
فائدہ: اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول آپ کے فعل سے مطابقت رکھتا ہو تو اسے لینا ضروری ہے۔اور اگر فعل کے خلاف ہوتو فعل کو ترک کرنا بہتر ہے۔ مثلا ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنی بیوی کے سامنے جھوٹ بول سکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا کہ جھوٹ بولنے میں کوئی بھلائی فائدہ نہیں اس نے دوبارہ کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم پر کوئی حرج نہیں۔لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ایسا نہیں کیا، اسی طرح ایک آدمی نے جب ایک بیٹے کو کچھ ہبہ کیا اور دیگر اولاد کو نہیں دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کہ کسی اور گواہ بناؤ۔اس کا مطلب یہ ہے ہوا کہ اس کی اجازت ہے مگر اسے ناپسند کیا(مکروہ جانا) لہذا ایسے فعل سے رک جانا بہتر ہے۔ [7]
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر طارق عبد الحلیم ، مترجم:فضیلۃ الشیخ عبد العظیم حسن زئی، عربی نام:مفتاح الدخول الی علم الاصول ،مختصر جامع فی علم الاصول للمبتدئین، اردو نام:علم اصول تک پہنچنے کا راستہ، مکتبہ دار القرآن والسنۃ،مرکز دار الارقم الاسلامی، ص: 128-132
- ^ لسان العرب 6/399
- ^ علم اصول تک پھنچنے کا راستہ از ڈاکٹر طارق عبد الحلیم
- ^ العجاج للخطیب،اصول الحدیث:18
- ^ لسان العرب لابن منظور 6/399
- ^ المصنف (13500)
- ^ علم اصول تک پہنچنے کا راستہ از ڈاکٹر طارق عبد الحلیم حفظہ اللہ