حنفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
بسلسلۂ مضامین

فقہ

ائمہ فقہ

امام ابو حنیفہ · امام مالک
امام شافعی · امام احمد بن حنبل

فقہ اربعہ

فقہ حنفی · فقہ شافعی
فقہ مالکی · فقہ حنبلی

تقسیم بلحاظ تقلید

احناف · شوافع
مالکی · حنابلہ
غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلافِ اولی
مباح


شریعت اسلامی کی اصطلاح میں امام ابو حنیفہ کی فقہ پر عمل کرنے والے مسلمان حنفی کہلاتے ہیں۔


فقہ کیا ہے؟[ترمیم]

جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں:

· قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟ · قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ · سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ · سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ · قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ · قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ · رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ · اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔

اصول فقہ کا موضوع[ترمیم]

قرآن مجید کو سمجھنے کے اصول · زبان و بیان کے اصول · حلال و حرام سے متعلق احکام معلوم کرنے کا طریق کار · دین کے عمومی اور خصوصی نوعیت کے احکامات کے تعین کا طریق کار · دین کے ناسخ و منسوخ احکامات کے تعین کا طریق کار (یہ تمام مباحث بنیادی طور پر اصول تفسیر کے فن کا حصہ ہیں لیکن ان کے بنیادی مباحث اصول فقہ میں بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ · رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت اور حدیث کو سمجھنے کا طریق کار · رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے روایت کردہ احادیث کو پرکھنے اور ان کی چھان بین کرنے کا طریق کار (یہ بالعموم علم اصول حدیث کا موضوع ہے لیکن اس کے بنیادی مباحث اصول فقہ میں بھی بیان کیے جاتے ہیں۔) · اجماع (امت کے اتفاق رائے) کے ذریعے بنائے گئے قوانین کی حیثیت · قیاس و اجتہاد کا طریق کار · اختلاف رائے سے متعلق اصول

فقہ کی ضرورت[ترمیم]

دین میں کچھ باتیں تو بہت آسان هوتی هیں جن کے جاننے میں سب خاص وعام برابر هیں ، جیسے وه تمام چیزیں جن پرایمان لانا ضروری هے یا مثلا وه احکام جن کی فرضیت کو سب جانتے هیں ، چنانچہ هر ایک کو معلوم هے کہ نماز ، روزه ، حج ، زکوه ، ارکان اسلام میں داخل هیں ، لیکن بہت سارے مسائل ایسے هیں جن کا حل قرآن و سنت میں بالکل واضح موجود نہیں ہوتا، ان کو غیر منصوص مسائل کہتے ہیں، غیر منصوص مساءل کا حکم معلوم کرنے کیلیے مجتہدین کے اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے بعد مجتہدین امت نے جن میں صحابہ؛ تابعین؛ تبع تابعین اور بعد کے مجتہدین شامل ہیں؛ اس سلسلے میں اجتہاد کر کے امت کی رہنماءی کی۔ مجتہدین قرآن وحدیث میں خوب غور وخوض کے بعد سمجھتے هیں ان مجتہدین کے لیئے بھی یہ مسائل سمجھنے کے لیئے شرعی طور پر ایک خاص علمی استعداد کی ضرورت هے ، جس کا بیان اصول فقہ کی کتابوں میں بالتفصیل مذکور هے ، بغیر اس خاص علمی استعداد کے کسی عالم کو بھی یہ حق نہیں هے کہ کسی مشکل آیت کی تفسیر کرے ، یاکوئ مسئلہ قرآن وحدیث سے نکالے ، اور جس عالم میں یہ استعداد هوتی هے اس کو اصطلاح شرع میں " مجتهد " کہا جاتا هے ، اور اجتهاد کے لیئے بہت سارے سخت ترین شرائط هیں ، ایسا نہیں هے کہ هر کس وناکس کو اجتهاد کا تاج پہنایا هوا هے۔ عام علماء بھی مجتہدین کی تحقیق و دلیل پر فتوی دیتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا اجتہاد وفتوی کا یہ سلسلہ عهد نبوی سے شروع هوا ، صحابہ میں بہت سے لوگ دینی سمجھ بوجھ میں دوسروں سے بڑھ کر تھے اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی اجازت سے فتوی دیا کرتے اور سب لوگ ان کے فتوی کے مطابق عمل کرتے ، صحابہ وتابعین کے دور میں یہ سلسلہ قائم رها ، هر شہر کا مجتهد ومفتی مسائل بیان کرتے اور اس شہر کے لوگ انهی کے فتوی کے مطابق دین پر عمل کرتے، پھر تبع تابعین کے دور میں ائمہ مجتهدین نے کتاب وسنت اور صحابہ وتابعین کے فتاوی کو سامنے رکھ کر زندگی کے هر شعبہ میں تفصیلی احکام ومسائل مرتب ومدون کیئے ، ان ائمہ میں اولیت کا شرف امام اعظم ابوحنیفہ کوحاصل هے اور ان کے بعد دیگر ائمہ هیں ۔ چونکہ ائمہ اربعہ نے زندگی میں پیش آنے والے اکثر وبیشتر مسائل کو جمع کردیا ، اور ساتھ هی وه اصول وقواعد بھی بیان کردیئے جن کی روشنی میں یہ احکام مرتب کیئے گئے هیں ، اسی لیئے پورے عالم اسلام میں تمام قاضی ومفتیان انہی مسائل کے مطابق فتوی وفیصلہ کرتے رهے اور یہ سلسلہ دوسری صدی سے لے کر آج تک قائم ودائم هے ۔

فقہ کی حیثیت[ترمیم]

جس طرح فہم قرآن کے لیئے حدیث ضروری هے ، فہم حدیث کے لیئے" فقه " کی ضرورت هے ، اگرقرآن سمجھنے کے لیئے حضور صلی الله علیہ وسلم کی ضرورت هے ، تو آپ کی حدیث سمجھنے کے لیئے آپ کے خاص شاگرد صحابہ کرام اور ان کے شاگرد تابعین وتبع تابعین رضی الله عنهم کی ضرورت هے ، اگرحدیث قرآن کی تفسیر هے تو " فقه " حدیث کی شرح هے ، اور فقہاء کرام نے دین میں کوئی تغیر تبدل نہیں کیا بلکہ دلائل شرعیہ کی روشنی احکامات ومسائل مستنبط ( نکال ) کرکے همارے سامنے رکھ دیئے ، جو کام همیں خود کرنا تھا اور هم اس کے لائق و اهل نہ تھے وه انهوں نے هماری طرف سے همارے لیئے کردیا " فجزاهم الله عنا خیرالجزاء "

فقہ کے فن کا تاریخی ارتقاء[ترمیم]

عہد رسالت و صحابہ کرام کا دور اول(0-60H) رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اللہ تعالی کی وحی کی بنیاد پر دینی احکام جاری فرماتے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ وحی سے کوئی حکم نہ ملنے کی صورت میں آپ اجتہاد فرماتے۔ بعد میں اللہ تعالی کی جانب سے بذریعہ وحی اس اجتہاد کی توثیق کر دی جاتی یا اگر کسی تغیر و تبدل کی ضرورت پیش آتی تو اس بارے میں آپ کو وحی کے ذریعے رہنمائی فراہم کر دی جاتی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے تربیت یافتہ اصحاب میں بہت سے ایسے تھے جو آپ کی حیات طیبہ ہی میں فتوی (دینی معاملات میں ماہرانہ رائے) دینا شروع کر چکے تھے۔ ظاہر ہے ایسا حضور کی اجازت کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ ان صحابہ میں سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، علی، عائشہ، عبدالرحمٰن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم کے فتاوی مشہور ہیں۔ ان کے فتوی دینے کا طریق کار یہ تھا کہ جب ان کے سامنے کوئی صورت حال پیش کی جاتی تو وہ اس کا موازنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے سامنے پیش آ جانے والی صورتحال سے کرتے اور ان میں مشابہت کی بنیاد پر حضور کے فیصلے کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنا دیتے۔ خلافت راشدہ کے دور میں بھی یہی طریق کار جاری رہا۔ حکومت سے ہٹ کر انفرادی طور پر بھی بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم لوگوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ انہیں فقہی اور قانونی معاملات میں فتاوی جاری کیا کرتے تھے۔ یہ فتاوی اگرچہ قانون نہ تھے لیکن لوگ ان صحابہ پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے اجتہادات کی پیروی کرتے۔ سیدنا عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے دور میں بہت سے صحابہ مفتوحہ ممالک میں پھیل گئے اور مقامی آبادی کو دین کی تعلیم دینے لگے۔ یہ حضرات لوگوں کے سوالات کا قرآن و سنت کی روشنی میں جواب دیتے اور فتاوی جاری کرتے۔

تابعین کا دور (90-150H)

پہلی صدی ہجری کے آخری عشرے (لگ بھگ 730ء) تک صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دنیا سے رخصت ہو چکے تھے۔ سیدنا سہل بن سعد الساعدی، انس بن مالک اور عامر بن واثلہ بن ابو عبداللہ رضی اللہ عنہم آخر میں وفات پانے والے صحابہ ہیں۔ اب تابعین کا دور تھا۔ اس دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تربیت یافتہ افراد کثرت سے موجود تھے۔ ان میں نافع مولی ابن عمر، عکرمہ مولی ابن عباس، مکہ کے عطاء بن رباح، یمن کے طاؤس بن کیسان، یمامہ کے یحیی بن کثیر، کوفہ کے ابراہیم النخعی، بصرہ کے حسن بصری اور ابن سیرین، خراسان کے عطاء الخراسانی، اور مدینہ کے سعید بن مسیب اور عمر بن عبدالعزیز (رحمھم اللہ) کے نام زیادہ مشہور ہیں۔ شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے اصحاب کے نقطہ ہائے نظر میں اختلاف پیدا ہو گیا اور تابعین نے حسب توفیق ان کے علوم کو ان سے اخذ کر لیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث اور صحابہ کرام کے نقطہ ہائے نظر کو سنا اور سمجھا۔ اس کے بعد انہوں نے اختلافی مسائل کو اکٹھا کیا اور ان میں سے بعض نقطہ ہائے نظر کو ترجیح دی۔۔۔۔۔ اس طرح ہر تابعی نے اپنے علم کی بنیاد پر ایک نقطہ نظر اختیار کر لیا اور ان میں سے ہر ایک کسی شہر کا امام (لیڈر) بن گیا۔ مثال کے طور پر مدینہ میں سعید بن المسیب اور سالم بن عبداللہ بن عمر اور ان کے بعد زہری، قاضی یحیی بن سعید اور ربیعۃ بن عبدالرحمٰن، مکہ میں عطاء بن ابی رباح، کوفہ میں شعبی اور ابراہیم النخعی، بصرہ میں حسن بصری، یمن میں طاؤس بن کیسان، شام میں مکحول۔ اللہ تعالی نے لوگوں کے دل میں علوم کا شوق پیدا کر دیا تھا، اس وجہ سے لوگ ان اہل علم کی طرف راغب ہو گئے اور ان سے حدیث اور صحابہ کے نقطہ ہائے نظر اور آراء حاصل کرنے لگے۔ تابعین نے نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث کے ریکارڈ کو محفوظ کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ہر شاگرد نے اپنے استاذ صحابی کے عدالتی فیصلوں اور فقہی آراء کو محفوظ کرنے کا اہتمام بھی کیا۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے فیصلوں اور احادیث کو محفوظ کرنے کا سرکاری حکم جاری کیا اور فتوی دینے کا اختیار اہل علم تک ہی محدود کیا۔ آپ ابوبکر محمد بن عمرو بن حزم الانصاری کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی جو حدیث بھی آپ کو ملے، اسے لکھ کر مجھے بھیج دیجیے کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ اہل علم کے رخصت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ علم بھی ضائع نہ ہو جائے۔"

تبع تابعین کا دور (150-225H)

تابعین کا دور کم و بیش 150 ہجری (تقریباً 780ء) کے آس پاس ختم ہوا۔ اپنے دور میں تابعین کے اہل علم اگلی نسل میں کثیر تعداد میں عالم تیار کر چکے تھے۔ یہ حضرات تبع تابعین کہلاتے ہیں۔ ان میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ بھی شامل ہیں۔ اس وقت تک اصول فقہ کے قواعد اور قوانین پر اگرچہ مملکت اسلامیہ کے مختلف شہروں میں عمل کیا جا رہا تھا لیکن انہیں باضابطہ طور پر تحریر نہیں کیا گیا تھا۔یہ دور فقہ کے مشہور ائمہ کا دور تھا۔

کوفہ میں امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ (وفات 150ھ) فقہیہ تھے ۔ انہوں نے کوفہ میں قیام پذیر ہو جانے والے فقہاء صحابہ سیدنا عبداللہ بن مسعود اور علی رضی اللہ عنہما اور فقہا تابعین جیسے قاضی شریح (وفات 77ھ)، شعبی (وفات 104ھ)، ابراہیم نخعی (وفات 96ھ) رحمۃ اللہ علیہم کے اجتہادات کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل جاری رکھا۔

اہل مدینہ میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ (وفات 179ھ) کا مکتب فکر وجود پذیر ہوا۔ انہوں نے مدینہ کے فقہاء صحابہ سیدنا عمر، ابن عمر، عائشہ، عبداللہ بن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور فقہا تابعین و تبع تابعین سعید بن مسیب (وفات 93ھ)، عروہ بن زبیر (وفات 94ھ)، سالم (وفات 106ھ)، عطاء بن یسار (وفات 103ھ)، قاسم بن محمد بن ابوبکر (وفات 103ھ)، عبیداللہ بن عبداللہ (وفات 99ھ)، ابن شہاب زہری (وفات 124ھ)، یحیی بن سعد (وفات 143ھ)، زید بن اسلم (وفات 136ھ)، ربیعۃ الرائے (وفات 136ھ) رحمۃ اللہ علیہم کے اجتہادات کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا۔

امام ابوحنیفہ ، جو کہ ابراہیم نخعی کے شاگرد حماد (وفات 120ھ) اور امام جعفر صادق (وفات 148ھ) رحمہم اللہ کے شاگرد تھے، کی تقریباً چالیس افراد پر مشتمل ایک ٹیم تھی جو قرآن و سنت کی بنیادوں پر قانون سازی کا کام کر رہی تھی۔ اس ٹیم میں ہر شعبے کے ماہرین شامل تھے جن میں زبان، شعر و ادب، لغت، گرامر، حدیث، تجارت ، سیاست ، فلسفے ہر علم کے ماہرین نمایاں تھے۔ ہر سوال پر تفصیلی بحث ہوتی اور پھر نتائج کو مرتب کر لیا جاتا۔ امام صاحب نے خود تو فقہ اور اصول فقہ پر کوئی کتاب نہیں لکھی لیکن ان کے فیصلوں کو ان کے شاگردوں بالخصوص امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن شیبانی علیہما الرحمۃ نے مدون کیا۔ امام ابوحنیفہ اور مالک کے علاوہ دیگر اہل علم جیسے سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد علیہم الرحمۃ یہی کام کر رہے تھے لیکن ان کے فقہ کو وہ فروغ حاصل نہ ہو سکا جو حنفی اور مالکی فقہ کو ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ہارون رشید کے دور میں حنفی فقہ کو مملکت اسلامی کا قانون بنا دیا گیا اور مالکی فقہ کو سپین کی مسلم حکومت نے اپنا قانون بنا دیا۔


آئمہ و فقہاء[ترمیم]

اہلسنت والجماعت کے چار ائمہ ہیں:

  1. امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ (م 150 ھ)
  2. امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ ( م 189 ھ)
  3. امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ (م 204 ھ)
  4. امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ (م 241 ھ)

ان ائمہ کرام نے اپنی خداد داد علمی و فکری صلاحیتوں اور مجتہدانہ بصیرت کی بناء پر اپنے اپنے دور میں حسب ضرورت قرآن و حدیث سے مسائل فقہ مرتب کئے، یوں ان ائمہ کے زیر اثر چار فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے۔

  • امام اعظم کے مقلدین حنفی کہلاتے ہیں۔
  • امام مالک کے مقلدین مالکی کہلاتے ہیں۔
  • امام شافعی کے مقلدین شوافع کہلاتے ہیں۔
  • امام احمد بن حنبل کے مقلدین حنبلی کہلاتے ہیں۔

امام اعظم کا طریق اجتھاد[ترمیم]

امام ابو حنیفہ قرآن مجید اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں قیاس اور رائے سے کام لے کر اجتہاد اور استنباط مسائل کرتے ہیں۔ امام اعظم اپنا طریق اجتہاد و استنباط یوں بیان کرتے ہیں:


إني آخذ بكتاب الله إذا وجدته، فما لم أجده فيه أخذت بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم والآثار الصحاح عنه التي فشت في أيدي الثقات، فإذا لم أجد في كتاب الله وسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذت بقول أصحابه، آخذ بقول من شئت، ثم لا أخرج عن قولهم إلى قول غيرهم. فإذا انتهى الأمر إلى إبراهيم والشعبي وابن المسيب (وعدّد رجالاً)، فلي أن أجتهد كما اجتهدوا . سبحان الله الإمام الأعظم أبي حنيفة رحمہ الله کے مذهب کے اس عظیم اصول کوپڑهیں ، فرمایا میں سب سے پہلے کتاب الله سے( مسئلہ وحکم ) لیتا هوں ، اگرکتاب الله میں نہ ملے تو پھر سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم اور احادیث صحیحہ کی طرف رجوع کرتا هوں ، اور اگر كتاب الله وسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم میں بھی نہ ملے تو پھر میں اقوال صحابہ کرام کی طرف رجوع کرتا هوں اور میں صحابہ کرام کے اقوال سے باهر نہیں نکلتا ، اور جب معاملہ إبراهيم، والشعبي والحسن وابن سيرين وسعيد بن المسيب تک پہنچ جائے تو پھر میں بھی اجتهاد کرتا هوں جیسا کہ انهوں نے اجتهاد کیا ۔ یہ هے وه عظیم الشان اصول وبنیاد جس کے اوپر فقہ حنفی قائم هے ، امام اعظم کے نزدیک قرآن مجید فقہی مسائل کا پہلا مصدر هے،پھردوسرا مصدر سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم اور احادیث صحیحہ هیں حتی کہ امام اعظم دیگرائمہ میں واحد امام هیں جو ضعیف حدیث کو بھی قیاس شرعی پرمقدم کرتے هیں جب کہ دیگرائمہ کا یہ اصول نہیں هے ، پھر تیسرا مصدرامام اعظم کے نزدیک صحابہ کرام اقوال وفتاوی هیں ،اس کے بعد جب تابعین تک معاملہ پہنچتا هے تو امام اعظم اجتهاد کرتے هیں ،کیونکہ امام اعظم خود بھی تابعی هیں ،

فقہ حنفی کی تدوین و ترویج[ترمیم]

امام ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں امام قاضی ابو یوسف اور امام محمد بن الحسن الشیبانی نے حنفی فقہ کی باضابطہ تدوین کی۔ قاضی ابو یوسف کو ہارون نے مملکت کا قاضی القضاۃ بنا دیا تھا۔ اس لیے ان کی وجہ سے فقہ حنفی کے پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

آپ کے اجتہادی مسائل تقریبًا بارہ سو سال سے تمام اسلامی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لئے بڑی بڑی عظیم اسلامی سلطنتوں میں آپ ہی کے مسائل، قانون سلطنت تھے اور آج بھی اسلامی دنیا کا بیشتر حصہ آپ ہی کے فقہی مذہب کا پیرو کار ہے۔

عباسی خلفا کے عہد میں سرکاری فقہ حنفی تھی۔ یہ فقہ مشرقی ملکوں بالخصوص غیر عربوں میں زیادہ مقبول ہوئی۔ عثمانی ترک بھی حنفی تھے۔ بخارا، خراسان، اور بغداد ان کے خاص مرکز تھے۔

'فقہ حنفی کی خصوصیات'

آج کے دور میں[ترمیم]

اس وقت بھی پاکستان، بھارت، افغانستان، چینی ترکستان، وسطی ایشیا اور ترکی وغیرہ میں مسلمانوں کی غالب اکثریت حنفی فقہ پر کاربند ہے۔

امام ابوحنیفہ کی اہم تصانیف[ترمیم]

آپ کی چند مشہور کتابیں درج ذیل ہیں :

  • الفقه الأکبر
  • الفقه الأبسط
  • العالم والمتعلم
  • رسالة الإمام أبي حنيفة إلی عثمان البتی
  • وصية الامام أبي حنيفة