حنفی
وکیپیڈیا سے
| مقالہ بہ سلسلۂ مضامین |
| ائمہ فقہ |
| فقہ اربعہ |
| تقسیم بلحاظ تقلید |
| اقسام جائز و ناجائز |
|
فرض <=> حرام |
شریعت اسلامی کی اصطلاح میں امام ابو حنیفہ کی فقہ پر عمل کرنے والے مسلمان حنفی کہلاتے ہیں۔
فہرست |
[ترمیم] پس منظر
اہلسنت والجماعت کے چار ائمہ ہیں:
- امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ (م 150 ھ)
- امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ ( م 189 ھ)
- امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ (م 204 ھ)
- امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ (م 241 ھ)
ان ائمہ کرام نے اپنی خداد داد علمی و فکری صلاحیتوں اور مجتہدانہ بصیرت کی بناء پر اپنے اپنے دور میں حسب ضرورت قرآن و حدیث سے مسائل فقہ مرتب کئے، یوں ان ائمہ کے زیر اثر چار فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے۔
- امام اعظم کے مقلدین حنفی کہلاتے ہیں۔
- امام مالک کے مقلدین مالکی کہلاتے ہیں۔
- امام شافعی کے مقلدین شوافع کہلاتے ہیں۔
- امام احمد بن حنبل کے مقلدین حنبلی کہلاتے ہیں۔
[ترمیم] امام اعظم کا طریق اجتھاد
امام ابو حنیفہ قرآن مجید اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں قیاس اور رائے سے کام لے کر اجتہاد اور استنباط مسائل کرتے ہیں۔ امام اعظم اپنا طریق اجتہاد و استنباط یوں بیان کرتے ہیں:
’’میں سب سے پہلے کسی مسئلے کا حکم کتاب اﷲ سے اخذ کرتا ہوں، پھر اگر وہاں وہ مسئلہ نہ پاؤں تو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے لیتا ہوں، جب وہاں بھی نہ پاؤں تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے اقوال میں سے کسی کا قول مان لیتا ہوں اور ان کا قول چھوڑ کر دوسروں کا قول نہیں لیتا اور جب معاملہ ابراہیم شعبی، ابن سیرین اور عطاء پر آجائے تو یہ لوگ بھی مجتہد تھے اور اس وقت میں بھی ان لوگوں کی طرح اجتہاد کرتا ہوں۔‘‘
[ترمیم] فقہ حنفی کی تدوین و ترویج
امام ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں امام قاضی ابو یوسف اور امام محمد بن الحسن الشیبانی نے حنفی فقہ کی باضابطہ تدوین کی۔ قاضی ابو یوسف کو ہارون نے مملکت کا قاضی القضاۃ بنا دیا تھا۔ اس لیے ان کی وجہ سے فقہ حنفی کے پیروکاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
آپ کے اجتہادی مسائل تقریبًا بارہ سو سال سے تمام اسلامی ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس لئے بڑی بڑی عظیم اسلامی سلطنتوں میں آپ ہی کے مسائل، قانون سلطنت تھے اور آج بھی اسلامی دنیا کا بیشتر حصہ آپ ہی کے فقہی مذہب کا پیرو کار ہے۔
عباسی خلفا کے عہد میں سرکاری فقہ حنفی تھی۔ یہ فقہ مشرقی ملکوں بالخصوص غیر عربوں میں زیادہ مقبول ہوئی۔ عثمانی ترک بھی حنفی تھے۔ بخارا، خراسان، اور بغداد ان کے خاص مرکز تھے۔
[ترمیم] آج کے دور میں
اس وقت بھی پاکستان، بھارت، افغانستان، چینی ترکستان، وسطی ایشیا اور ترکی وغیرہ میں مسلمانوں کی غالب اکثریت حنفی فقہ پر کاربند ہے۔
[ترمیم] امام ابوحنیفہ کی اہم تصانیف
آپ کی چند مشہور کتابیں درج ذیل ہیں :
- الفقه الأکبر
- الفقه الأبسط
- العالم والمتعلم
- رسالة الإمام أبي حنيفة إلی عثمان البتی
- وصية الامام أبي حنيفة