جعفر الصادق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Padlock.svg اس صفحہ کو ترامیم کیلیے نیم محفوظ کر دیا گیا ہے اور صارف کو اندراج کر کے داخل نوشتہ ہونا لازم ہے؛ (اندراج کریں یا کھاتہ بنائیں)
جعفر صادق
مکمل نام جعفر ابن محمد
ترتیب ششم
جانشین حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام
تاریخ ولادت 17 ربیع الاول، 83 ہجری < 702 عیسوی
لقب صادق
کنیت ابو عبد اللہ
والد حضرت امام محمد باقر علیہ السلام
والدہ بی بی ام فروہ
تاریخ وفات 25 شوال، 148 ہجری < 765 عیسوی
وجۂ وفات شہادت


جعفر صادق، حضرت محمد باقر کے فرزند اور اہل تشیع میں حضرت علی سے شروع ہونے والے سلسلۂ امامت کے چھٹے (6) امام تھے۔ سید خاندان کے بہت سے افراد اپنے نام کے ساتھ جعفری انہی کی نسبت سے لگاتے ہیں۔

ان کا نام جعفر، کنیت ابو عبداللہ اور لقب صادق تھا۔ آپ امام محمد باقر علیہ السلام کے بیٹے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے پوتے اور شہید کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام کے پرپوتے تھے۔ سلسلۂ عصمت کی آٹھویں کڑی اور آئمۂ اہلبیت علیہم السّلام میں سے چھٹے امام تھے آپ کی والدہ حضرت محمد ابن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی پوتی تھیں جن کی والدہ قاسم ابن محمد رضی اللہ عنہ مدینہ کے سات فقہا میں سے تھے۔

ولادت

83ھ میں 17 ربیع الاول کو آپ کی ولادت ہوئی۔ اس وقت آپ کے دادا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بھی زندہ تھے۔ آپ کے والد حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی عمر اس وقت چھبیس برس تھی۔ خاندان آلِ محمد میں اس اضافہ کا انتہائی خوشی سے استقبال کیا گیا۔

نشوونما اور تربیت

بارہ برس آپ نے اپنے جدِ بزرگوار حضرت امام زین العابدین علیہ السّلام کے زیر سایہ تربیت پائی۔ شہادت امام حسین علیہ السّلام کے بعد سے پینتیس برس امام زین العابدین علیہ السّلام کا مشغلہ عبادتِ الٰہی اور اپنے مظلوم باپ حضرت سید الشہداء کو رونے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ واقعہ کربلا کو ابھی صرف بائیس برس گزرے تھے۔ اس مدت میں کربلا کا عظیم الشان واقعہ اپنے تاثرات کے لحاظ سے ابھی کل ہی کی بات معلوم ہوتا تھا امام جعفر صادق علیہ السّلام نے آنکھ کھولی تو اسی غم واندوہ کی فضا میں شب و روز شہادتِ حسین علیہ السّلام کا تذکرہ اور اس غم میں نوحہ و ماتم اور گریہ و بکا کی آوازوں نے ان کے دل و دماغ پر وہ اثر قائم کیا کہ جیسے وہ خود واقعہ کربلا میں موجود تھے. پھر جب وہ یہ سنتے تھے کہ ان کے والد بزرگوار امام محمد باقر علیہ السّلام بھی کمسنی ہی کے دور میں ہی اس جہاد میں شریک تھے تو ان کے دل کو یہ احساس بہت صدمہ پہنچاتا ہو گا کہ خاندان عصمت کے موجودہ افراد میں ایک میں ہی ہوں جو اس قابلِ فخر یاد گار معرکہ ابتلا میں موجود نہ تھا۔ چنانچہ اس کے بعد ہمیشہ اور عمر بھر امام جعفر صادق علیہ السّلام نے جس جس طرح اپنے جدِ مظلوم امام حسین علیہ السّلام کی یاد کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے وہ اپنی مثال ہے۔

95ھ میں بارہ برس کی عمر میں امام زین العابدین علیہ السلام کا سایہ سر سے اٹھا۔ اس کے بعد انیس برس آپ نے اپنے والد ماجد حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کے دامنِ تربیت میں گزارے، یہ وہ وقت تھا جب سیاست بنی امیہ کی بنیادیں ہل چکی تھیں اور امام محمد باقر علیہ السّلام کی طرف فیوضِ علمی حاصل کرنے کے لئے خلائق رجوع کر رہی تھی۔ اس وقت اپنے پدرِ بزرگوار کی مجلسِ درس میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام ہی ایک وہ طالب علم تھے جو قدرت کی طرف سے علم کے سانچے میں ڈھال کر پیدا کئے گئے تھے۔ آپ سفر اور حضر دونوں میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ رہتے تھے چنانچہ ہشام ابن عبدالمالک کی طلب پر حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کے ساتھ تھے اس کا ذکر پانچویں امام کے حالات میں ہو چکا ہے۔

دورِ امامت 114ھ میں حضرت امام محمد باقر علیہ السّلام کی وفات ہوئی۔ اب امامت کی ذمہ داریاں امام جعفر صادق علیہ السّلام پر عائد ہوئیں۔ اس وقت دمشق میں ہشام بن عبدالمالک کی سلطنت تھی۔ اس زمانہ سلطنت میں ملک میں سیاسی خلفشار بہت زیادہ ہو چکا تھا۔ مظالمِ بنی امیہ کے انتقام کا جذبہ تیز ہو رہا تھا اور بنی فاطمہ میں سے متعدد افراد حکومت کے مقابلے کے لیے تیار ہوگئے تھے، ان میں نمایاں ہستی حضرت زید (رض) کی تھی جو امام زین العابدین علیہ السّلام کے بزرگ مرتبہ فرزند تھے۔ ان کی عبادت زہد و تقویٰ کا بھی ملک عرب میں شہرہ تھا۔ مستند اور مسلّم حافظِ قران تھے۔ بنی امیہ کے مظالم سے تنگ آ کر انھوں نے میدانِ جہاد میں قدم رکھا۔

امام جعفر صادق علیہ السّلام کے لیے یہ موقع نہایت نازک تھا مظالمِ بنی امیہ سے نفرت میں ظاہر ہے کہ آپ زید (رض) کے ساتھ متفق تھے پھر جناب زید (رض) آپ کے چچا بھی تھے جن کا احترام آپ پر لازم تھا مگر آپ کی دور رس نگاہ دیکھ رہی تھی کہ یہ اقدام کسی مفید نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس لیے عملی طور سے آپ ان کا ساتھ دینا مناسب نہ سمجھتے تھے مگر یہ واقعہ ہوتے ہوئے بھی خود ان کی ذات سے آپ کو انتہائی ہمدردی تھی۔ آپ نے مناسب طریقہ پر انھیں مصلحت بینی کی دعوت دی مگر اہل عراق کی ایک بڑی جماعت کے اقرارِ اطاعت و وفاداری نے جناب زید (رض) کو کامیابی کی توقعات پیدا کر دیں اور آخر 120ھ میں ظالم ہشام کی فوج سے تین روز تک بہادری کے ساتھ جنگ کرنے کے بعد شہید ہوئے۔ دشمن کا جذبۂ انتقام اتنے ہی پر ختم نہیں ہوا بلکہ دفن ہو چکنے کے بعد ان کی لاش کو قبر سے نکالا گیا اور سر کو جدا کر کے ہشام کے پاس بطور تحفہ بھیجا گیا اور لاش کو دروازۂِ کوفہ پر سولی دے دی گئی اور کئی برس تک اسی طرح آویزاں رکھا گیا۔ جناب زید (رض) کے ایک سال بعد ان کے بیٹے یحیٰی ابن زید علیہ السّلام بھی شہید ہوئے۔ یقیناً ان حالات کا امام جعفر صادق علیہ السّلام کے دل پر گہرا اثر پڑ رہا تھا۔ مگر وہ جذبات سے بلند فرائض کی پابندی تھی کہ اس کے باوجود آپ نے ان فرائض کو جو اشاعت علوم اہلبیت علیہ السّلام او رنشرشریعت کے قدرت کی جانب سے آپ کے سپرد تھے برابر جاری رکھا تھا۔

انقلابِ سلطنت

بنی امیہ کا اخری دور ہنگاموں اور سیاسی کشمکشوںکا مرکز بن گیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بہت جلدی جلدی حکومتوں میں تبدیلیاںہورہی تھی اور اسی لیے امام جعفر صادق علیہ السّلام کو بہت سی دنیوی سلطنتوں کے دور سے گزرنا پڑا۔ ہشام بن عبدالملک کے بعد ولید بن عبدالملک پھر یزید بن ولید بن عبدالملک اس کے بعد ابراہیم بن ولید بن عبدالملک اور اخر میں مروان حمار جس پر بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

جب سلطنت کی داخلی کمزوریاںقہر وغلبہ کی چولیں ہلا چکی ہوں تو قدرتی بات ہے کہ وہ لوگ جو اس حکومت کے مظالم کا مدتوں نشانہ رہ چکے ہوں اور جنھیں ان کے حقوق سے محروم کرکے صرف تشدد کی طاقت سے پنپنے کا موقع نہ دیا گیا ہو، قفس کی تتلیوں کو کمزور پا کر پھڑ پھڑانے کی کوشش کریں گے اور حکومت کے شکنجے کو ایک دم توڑ دینا چاہیں گے، سوائے ایسے بلند افراد کے جو جذبات کی پیروی سے بلند ہوں۔ عام طور پر اس طرح کی انتقامی کوششوں میں مصلحت اندیشی کادامن بھی ہاتھ سے چھوٹنے کا امکان ہے مگر وہ انسانی فطرت کا ایک کمزور پہلو ہے جس سے خاص خاص افراد ہی مستثنیٰ ہوسکتے ہیں۔

بنی ہاشم میں عام طور پر سلطنت بنی امیہ کے اس اخری دور میں اسی لیے ایک حرکت اور غیر معمولی اضطراب پایا جارہا تھا۔ اس اضطراب سے بنی عباس نے فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے اخری دور امویت میں پوشیدہ طریقے سے ممالکِ اسلامیہ میں ایک ایسی جماعت بنائی جس نے قسم کھائی تھی کہ ہم سلطنت کو بنی امیہ سے لے کر بنی ہاشم تک پہنچائیں گے جن کا وہ واقعی حق ہے۔ حالانکہ حق تو ان میں سے مخصوص ہستیوں ہی میں منحصر تھا جو خدا کی طرف سے نوع انسانی کی رہبری اور سرداری کے حقدار دیئے گئے تھے مگر یہ وہی جذبات سے بلند انسان تھے جو موقع کی سیاسی رفتار سے ہنگامی فوائد حاصل کرنا اپنا نصب العین نہ رکھتے تھے۔ سلسلہ بنی ہاشم میں سے ان حضرات کی خاموشی قائم رہنے کے ساتھ اس ہمدردی کو جو عوام میں خاندان ہاشم کے ساتھ پائی جاتی تھی، بنی عباس نے اپنے لیے حصول سلطنت کاذریعہ قرار دیا۔ حالانکہ انھوں نے سلطنت پانے کے ساتھ بنی ہاشم کے اصل حقداروں سے ویسا ہی یا اس سے زیادہ سخت سلوک کیا جو بنی امیہ ان کے ساتھ کرچکے تھے۔ یہ واقعات مختلف اماموں کے حالات میں ائیندہ آپ کے سامنے ائیں گے۔

بنی عباس میں سے سب سے پہلے محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس نے بنی امیہ کے خلاف تحریک شروع کی اور ایران میں مبلغین بھیجے جو مخفی طریقہ پر لوگوں سے بنی ہاشم کی وفاداری کاعہدوپیمان حاصل کریں۔ محمد بن علی کے بعد ان کے بیٹے ابراہیم قائم مقام ہوئے۔جناب زیدرض اور ان کے صاحبزادے جناب یحییٰرض کے دردناک واقعات شہادت سے بنی امیہ کے خلاف غم وغصہ میں اضافہ ہوگیا۔ اس سے بھی بنی عباس نے فائدہ اٹھایا اور ابو سلمہ خلال کے ذریعہ سے عراق میں بھی اپنے تاثرات قائم کرنے کا موقع ملا۔ رفتہ رفتہ اس جماعت کے حلقئہ اثر میں اضافہ ہوتا گیا اور ابو مسلم خراسانی کی مدد سے عراق عجم کا پورا علاقہ قبضہ میںاگیا اوربنی امیہ کی طرف سے حاکم کو وہاں سے فرار اختیار کرنا پڑا۔ 129ھ سے عراق اورخراسان وغیرہ میںسلاطین بنی امیہ کے نام خطبہ سے خارج کرکے ابراہیم بن محمد کانام داخل کردیا گیا۔

ابھی تک سلطنت بنی امیہ یہ سمجھتی تھی کہ یہ حکومت سے ایک مقامی مخالفت ہے۔ جو ایران میں محدود ہے مگر اب جاسوسوں نے اطلاع دی کہ اس کا تعلق ابراہیم ابن محمد بن عباس کے ساتھ ہے جو مقام جابلقا میں رہتے ہیں۔ اس کانتیجہ یہ تھا کہ ابراہیم کو قید کردیا گیا اور قید خانہ ہی میں پھر ان کو قتل کرادیا گیا۔ ان کے پس ماندگان دوسرے افراد بنی عباس کے ساتھ بھاگ کر عراق میں ابو سلمہ کے پاس چلے گئے۔ ابو مسلم خراسانی کو جو ان حالات کی اطلاع ہوئی تو ایک فوج کو عراق کی طرف روانہ کیا جس نے حکومتی طاقت کو شکست دے کر عراق کو ازاد کرالیا۔

ابوسلمہ خلال جو وزیر ال محمد کے نام سے مشہور ہے بنی فاطمہ کے ساتھ عقیدت رکھتے تھے، انھوںنے چند خطوط اولاد رسول میں سے چند بزرگوں کے نام لکھے اور ان کو قبول خلافت کی دعوت دی. ان میں سے ایک خط حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کے نام بھی تھا۔ سیاست کی دنیا ہیں ایسے مواقع اپنے اقتدار کے قائم کرنے کے لیے غنیمت سمجھے جاتے ہیں مگر وہ انسانی خود داری واستغنا کامثالی مجمسہ تھا جس نے اپنے فرائض منصبی کے لحاظ سے اس موقع کو ٹھکرا دیا ور بجائے جواب دینے کے حقارت امیز طریقہ پرا س خط کو اگ کی نذر کردیا۔

ادھر کوفہ میں ابو مسلم خراسانی کے تابعین اوربنی عباس کے ہوا خواہوں نے عبداللہ سفاح کے ہاتھ پر 14ربیع الثانی 132ھ کو بیعت کرلی اور اس کو امت اسلامیہ کا خلیفہ اور فرمانروا تسلیم کر لیا۔ عراق میں اقتدار قائم کرنے کے بعد انہوں نے دمشق پر چڑھائی کردی۔ مروان حمارنے بھی بڑے لشکر کے ساتھ مقابلہ کیامگر بہت جلد اس کی فوج کو شکست ہوئی۔ مروان نے فرار کیا اور اخر میں افریقہ کی سر زمین پر پہنچ کر قتل ہوا۔اس کے بعد سفاح نے بنی امیہ کاقتل عام کرایا۔ سلاطین بنی امیہ کی قبریں کھدوائیں اور ان لاشوں کے ساتھ عبرتناک سلوک کیے گئے۔ اس طرح قدرت کاانتقام جو ان ظالموں سے لیا جاناضروری تھا بنی عباس کے ہاتھوں دنیا کی نگاہ کے سامنے ایا۔ 136ھ میں ابو عبداللہ سفاح بنی عباس کے پہلے خلیفہ کا انتقال ہوگیا۔ جس کے بعداس کا بھائی ابو جعفر منصور تخت خلافت پر بیٹھا جو منصور دوانقی کے نام سے مشہور ہے۔

سادات پر مظالم

یہ پہلے لکھا جاچکا ہے کہ بنی عباس نے ان ہمدردیوں سے جو عوام کو بنی فاطمہ کے ساتھ تھیں ناجائز فائدہ اٹھایا تھا اور انھوں نے دنیا کو یہ دھوکا دیا تھا کہ ہم اہلبیتِ رسول کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوئے ہیں چنانچہ انھوں نے رضائے الِ محمد ہی کے نام پر لوگوں کو اپنی نصرت وحمایت پر امادہ کیاتھا اور اسی کو اپنانعرئہ جنگ قرار دیا تھا۔ اس لیے انھیں برسر اقتدار انے کے بعد اور بنی امیہ کو تباہ کرنے کے بعد سب سے بڑا اندیشہ یہ تھا کہ کہیں ہمارایہ فریب دنیا پر کھل نہ جائے اور تحریک پیدا نہ ہوجائے کہ خلافت بنی عباس کی بجائے بنی فاطمہ کے سپرد ہونا چاہیے، جو حقیقت میں الِ رسول ہیں۔ ابو سلمہ خلال بنی فاطمہ کے ہمدردوں میںسے تھے اس لیے یہ خطرہ تھا کہ وہ اس تحریک کی حمایت نہ کرے، لہذا سب سے پہلے ابو سلمہ کو راستے سے ہٹا یا گیا وہ باوجود ان احسانات کے جو بنی عباس سے کرچکا تھا سفاح ہی کے زمانے میں تشدد بنا اور تلوار کے گھاٹ اتارا گیا۔ ایران میں ابو مسلم خراسانی کااثر تھا، منصور نے انتہائی مکاری اور غداری کے ساتھ اس کی زندگی کا بھی خاتمہ کردیا۔

اب اسے اپنی من مانی کاروائیوں میںکسی بااثر اور صاحبِ اقتدار شخصیت کی مزاحمت کا اندیشہ نہ تھالٰہذا اس کا ظلم وستم کا رخ سادات بنی فاطمہ کی طرف مڑ گیا۔ مولانا شبلی سیر ت نعمان میں لکھتے ہیں۔»صرف بد گمانی پر منصور نے سادات علویئین کی بیخ کنی شروع کردی۔ جو لوگ ان میں ممتاز تھے ان کے ساتھ بے رحمیاں کی گئیں۔محمد ابن ابراہیم کہ حسن وجمال میںیگانہ روز گار تھے اور اسی وجہ سے دیبا#ج کہلاتے تھے زندہ دیواروں میں چنوادیئے گئے۔ ان بے رحمیوں کی ایک داستان ہے جس کے بیان کرنے کو بڑا سخت دل چاہیے۔,, حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کے دل پر ان حالات کابہت اثر ہوتا تھا۔ چنانچہ جب سادات بنی حسین طوق وزنجیر میں قید کرکے مدینہ سے لے جائے جارہے تھے تو حضرت ایک مکان کی اڑ میں کھڑے ہوئے ان کی حالت کو دیکھ دیکھ کر رورہے تھے او رفرمارہے تھے کہ افسوس مکہ ومدینہ بھی دار الامن نہ رہا۔ پھر آپ نے اولادِ انصار کی حالت پر افسوس کیا کہ انصار نے رسالت مابکی اس عہدوپیمان پر مدینہ تشریف لانے کی دعوت دی تھی کہ ہم آپ کی اوراپ کی اولاد کی اس طرح حفاظت کریں کے جس طرح اپنے اہل وعیال اور جان ومال کی حفاظت کرتے ہیں مگر اج انصار کی اولاد باقی ہے اورکوئی ان سادات کی امداد نہیں کرتا، یہ فرما کر آپ بیت الشرف کی طرف واپس ہوئے اوربیس دن تک شدت سے بیمار رہے۔

ان قیدیوں میں امام حسین علیہ السّلام کے صاحبزادے عبداللہمحض بھی تھے۔ جنھوںنے کبرسنی کے عالم میں عرصہ تک قید کی مصیبتیں اٹھائیں۔ ان کے بیٹے محمد نفسِ زکیہ نے حکومت کامقابلہ کیاا ور 145ھ میں دشمن کے ہاتھ سے مدینہ منورہ کے قریب شہید ہوئے۔ جوان بیٹے کاسر بوڑھے باپ کے پاس قید خانہ میں بھیجا گیا اور یہ صدمہ ایساتھا کہ جس سے عبداللہ محض پھر زندہ نہ رہ سکے اور ان کی روح نے جسم سے مفارقت کی۔ اس کے بعد عبداللہ کے دوسرے صاحبزادے ابراہیم بھی منصور کی فوج کے مقابلہ میں جنگ کرکے کوفہ میں شہید ہوئے۔ اسی طرح عباس ابن حسن، عمر ابنِ حسن مثنیٰ, علی وعبداللہ فرزندانِ نفسِ زکیہ، موسیٰ اور یحییٰ برادران نفس زکیہ وغیرہ بھی بے دردی اور بے رحمی سے قتل کئے گئے۔ بہت سے سادات عمارتوں میں زندہ چنوادیئے گئے۔

امام کے ساتھ بدسلوکیاں

ان تمام ناگوار حالات کے باوجود جن کاتذکرہ انتہائی اختصار کے ساتھ اوپر لکھا گیا ہے امام جعفر صادق علیہ السّلام خاموشی کے ساتھ علوم اہلبیت علیہ السّلام کی اشاعت میںمصروف رہے اور اس کانتیجہ یہ تھا کہ وہ لوگ بھی بحیثیت امامت حقہ آپ کی معرفت نہ رکھتے تھے یا اسے تسلیم کرنا نہیں چاہتے تھے وہ بھی آپ کی علمی عظمت کو مانتے ہوئے آپ کے حلقئہ درس میں داخل ہونے کو فخر سمجھتے تھے۔

منصور نے پہلے حضرت کی علمی عظمت کااثر عوام کے دل سے کم کرنے کے لیے ایک تدبیر یہ کی کہ آپ کے مقابلے میں ایسے اشخاص کو بحیثیت فقیہہ اور عالم کے کھڑا کردیا جو آپ کے شاگردوں کے سامنے بھی زبان کھولنے کی قدرت نہ رکھتے تھے اور پھر وہ خود اس کا اقرار رکھتے تھے کہ ہمیں جو کچھ ملا وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلام کی محبت کا دم بھرتا ہے اسے گرفتار کیا جائے۔

چناچہ معلیٰ ابن خنیس ان ہی شیعوں میں سے تھے جو گرفتار کیے گئے اور ظلم وستم کے ساتھ شہید کیے گئے۔ خود حضرت امام جعفر صادق علیہ السّلامکو تقریباً پانچ مرتبہ مدینہ سے دربار شاہی میں طلب کیا گیا جو آپ کے لیے سخت روحانی تکلیف کاباعث تھا۔ یہ او ربات ہے کہ کسی مرتبہ آپ کے خلاف کوئی بہانہ اسے ایسا نہ مل سکا کہ آپ کے قید یاقتل کیے جانے کا حکم دیتا۔ بلکہ اس سلسلہ میں عراق کے اندر ایک مدت کے قیام سے علوم اہلبیت علیہ السّلام کی اشاعت کاحلقہ وسیع ہوا اور اس کو محسوس کرکے منصور نے پھر آپ کو مدینہ بھجوادیا۔ اس کے بعد بھی آپ ایذارسانی سے محفوظ نہیں رہے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ آپ کے گھر میں اگ لگادی گئی۔ قدرت خدا تھی کہ وہ اگ جلد فرد ہوگئی اور آپ کے متعلقین اور اصحاب کوکوئی صدمہ نہیں پہنچا۔

اخلاق واوصاف

آپ اسی عصمت کی ایک کڑی تھے جسے خداوندِ عالم نے نوعِ انسانی کے لیے نمونہ کامل بناکر ہی پیدا کیا تھا۔ ان کے اخلاق واوصاف زندگی کے ہر شعبہ میں معیاری حیثیت رکھتے تھے۔خاص خاص جن کے متعلق مورخین نے مخصوص طور پر واقعات نقل کیے ہیں مہمان نوازی، خیروخیرات، مخفی طریقہ یاغربا کی خبر گیری، عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک۔ عفو جرائم، صبر وتحمل وغیرہ ہیں۔

ایک مرتبہ ایک حاجی مدینہ میں وارد ہوا اور مسجد رسول میں سوگیا۔انکھ کھلی تو اسے شبہ ہوا کہ اس کی ایک ہزار کی تھیلی موجود نہیں۔ اس نے اَدھر ادھر دیکھا, کسی کو نہ پایا۔ ایک گوشئہ مسجد میں امام جعفر صادق علیہ السّلام نماز پڑھ رہے تھے۔ وہ آپ کوبالکل نہ پہچانتا تھا۔ آپ کے پاس اکر کہنے لگا کہ میری تھیلی تم نے لی ہے۔ حضرت علیہ السّلام نے فرمایا، »اس میں کیا تھا ?«اس نے کہا»ایک ہزار دینار «۔ حضرت نے فرمایا۔,, میرے ساتھ میرے مکان تک اؤ وہ آپ کے ساتھ ہوگیا۔ بیت الشرف پر تشریف لاکر ایک ہزار دینار اس کے حوالے کردیئے۔ وہ مسجد میں واپس اگیا اور اپنا اسباب اٹھانے لگا تو خود اس کے دیناروں کی تھیلی اسباب میں نظر ائی۔ یہ دیکھ کر وہ بہت شرمندہ ہوا اور دوڑتا ہوا پھر امام علیہ السّلام کی خدمت میں ایا اور غلط خواہی کرتے ہوئے وہ ہزار دینار واپس کرنا چاہے »ہم جو کچھ دے دیتے ہیں وہ پھرواپس نہیں لیتے۔

موجودہ زمانے میں یہ حالات سب ہی کی انکھوں کے دیکھے ہوئے ہیں کہ جب یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ اناج مشکل سے ملے گا تو جس کو جتنا ممکن ہو وہ اناج خرید کر رکھ لیتا ہے مگر امام جعفرصادق علیہ السّلام کے کردار کاایک واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے وکیل معتب# سے ارشادفرمایا کہ غلہ روز بروز مدینہ میں گراں ہوتا جارہا ہے۔ہمارے ہاں کس قدر غلہ ہوگا ? معتب# نے کہا کہ »ہمیں ا س گرانی اور قحط کی تکلیف کا کوئی اندیشہ نہیں ہے، ہمارے پاس غلہ کا اتنا ذخیرہ ہے کہ جو بہت عرصہ تک کافی ہوگا۔,, حضرت علیہ السّلام نے فرمایا۔» تمام غلہ فروخت کر ڈالو۔ اس کے بعد جو حال سب کا ہو وہ ہمارا بھی ہو۔,, جب غلہ فروخت کر دیا گیا تو فرمایا.»اب خالص گیہوں کی روٹی نہ پکا کرے بلکہ ادھے گیہوں اور آدھے جو, جہاں تک ممکن ہو ہمیں غریبوںکاساتھ دینا چاہیے۔

آپ کا قاعدہ تھا کہ آپ مالداروں سے زیادہ غریبوں کی عزت کرے تھے۔ مزدوروں کی بڑی قدر فرماتے تھے۔ خود بھی تجارت فرماتے تھے اور اکثر اپنے باغوں میں بہ نفس نفیس محنت بھی کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ بیلچہ ہاتھ میں لیے باغ میں کام کررہے تھے اور پسینہ سے تمام جسم تر ہوگیا۔ کسی نے کہا »یہ بیلچہ مجھے عنایت فرمائیے کہ میں یہ خدمت انجام دوں۔,, حضرت علیہ السّلام نے فرمایا طلبِ معاش میں دھوپ اور گرمی کی تکلیف سہنا عیب کی بات نہیں۔,, غلاموں او رکنیزوں پر وہی مہربانی رہتے تھے جو ا س گھرانے کی امتیازی صفت تھی۔ ا س کاا یک حیرت انگیز نمونہ یہ ہے جسے سفیان# ثوری نے بیان کیا ہے کہ میں ایک مرتبہ امام جعفرصادق علیہ السّلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دیکھا کہ چہرہ مبارک کارنگ متغیر ہے۔ میں نے سبب دریافت کی۔ فرمایا میں نے منع کیا تھا کہ کوئی مکان کے کوٹھے پر نہ چڑھے۔اس وقت جو گھر میںگیا تو دیکھا کہ ایک کنیز جو ایک بچہ کی پرورش پر معیّن تھی اسے گود میں لیے زینہ سے اوپر جارہی تھی۔مجھے دیکھا تو ایساخوف طاری ہوا کہ بد حواسی میں بچہ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور صدمے سے جان بحق ہوا۔ مجھے بچے کے مرنے کااتنا صدمہ نہیں ہوا جتنا اس کا رنج ہے کہ اس کنیز پر اتنا رعب وہراس کیوں طاری ہوا۔ پھر حضرت علیہ السّلام نے اس کنیز کو پکا رکر فرمایا۔»ڈرو نہیں، میں نے تمھیں راہ خدا میں ازاد کردیا۔,, اس کے بعد حضرت علیہ السّلام بچے کی تجہیز وتکفین کی طرف متوجہ ہوئے۔

اشاعت علوم

تمام عالم اسلامی میں آپ کی علمی جلالت کا شہرہ تھا۔ دور دور سے لوگ تحصیل علم کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے شاگردوں کی تعداد چار ہزار تک پہنچ گئی ان میں فقہ کے علمائ بھی تھے، تفیسر کے متکلمین بھی تھے اور مناظرین بھی، آپ کے دربار میں مخالفین مذہب ااکر سوالات پیش کرتے تھے اور آپ کے اصحاب سے اور ان سے مناظرے ہوتے رہتے تھے جن پر کبھی کبھی نقد وتبصرہ بھی فرماتے تھے اورا صحاب کو ان کی بحث کے کمزور پہلو بتلا بھی دیتے تھے تاکہ ائندہ وہ ان باتوں کا خیال رکھیں۔کبھی آپ خود بھی مخالفین مذہب اور بالخصوص دہریوں سے مناظرہ فرماتے تھے۔ علاوہ علوم و فقہ و کلام وغیرہ کے علوم عربیہ جیسے ریاضی اور کیمیا وغیرہ کی بھی بعض شاگردوں کوتعلیم دی تھی۔ چنانچہ آپ کے اصحاب میںسے جابر بن حیان طرسوسی سائنس اور ریاضی کے مشہور امام فن ہیں جنھوں نے چار سو رسالے امام جعفرصادق علیہ السّلام کے افادات کو حاصل کرکے تصنیف کئے۔آپ کے اصحاب میں سے بہت سے بڑے فقہا تھے جنہوں نے کتابیں تصنیف کیں جن کی تعداد سینکڑوں تک پہنچتی ہے۔

شہادت

ایسی مصروف زندگی رکھنے والے انسان کو جاہ سلطنت حاصل کرنے کی فکروں سے کیا مطلب؟ مگر آپ علمی مرجعیّت اور کمالات کی شہرت سلطنت وقت کے لیے ایک مستقل خطرہ محسوس ہوتی تھی۔ جب کہ یہ معلوم تھا کہ اصلی خلافت کے حقدار یہی ہیں جب حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود کوئی بہانہ اسے آپ کے خلاف کسی کھلے ہوئے اقدام اور خونریزی کا نہ مل سکا تو اخر خاموش حربہ زہر کا اختیار کیا گیا اور زہر الود انگور حاکم مدینہ کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میںپیش کیے گئے، جن کے کھاتے ہی زہر کااثر جسم میں سرایت کر گیا اور 15شوال148ھ میں 56سال کی عمر میں شہادت پائی۔ آپ کے فرزند اکبر اور جانشین حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السّلام نے تجہیز وتکفین کی اور نماز جنازہ پڑھائی او جنت البقیع کے اس احاطہ میں جہاں اس کے پہلے امام حسن علیہ السّلام، امام زین العابدین علیہ السّلام اور امام محمد باقر علیہ السّلام دفن ہوچکے تھے آپ کو بھی دفن کیا گیا

مسلم آئمہ کرام بلحاظ ترتیب زمانی
ترتیب نام مکتبہ فکر پیدائش وفات تبصرہ
1 امام ابو حنیفہ اہل سنت 80ھ (699ء) کوفہ 150ھ (767ء) بغداد فقہ حنفی
2 امام جعفر صادق اہل تشیع 83ھ (702ء) مدینہ منورہ 148ھ (765ء) مدینہ منورہ فقہ جعفریہ
3 امام مالک اہل سنت 93ھ (712ء) مدینہ منورہ 179ھ (795ء) مدینہ منورہ فقہ مالکی ، موطا امام مالک
4 امام شافعی اہل سنت 150ھ (767ء) غزہ 204ھ (819ء) فسطاط فقہ شافعی
5 امام احمد بن حنبل اہل سنت 164ھ (781ء) مرو 241ھ (855ء) بغداد فقہ حنبلی ، مسند احمد بن حنبل
6 امام بخاری اہل سنت 194ھ (810ء) بخارا 256ھ (870ء) سمرقند صحیح بخاری
7 امام مسلم اہل سنت 206ھ (821ء) نیشاپور 261ھ (875ء) نیشاپور صحیح مسلم