بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عربی خوبصورت خطاطی میں لکھی ہوئی بسم اللہ
ایران کی خط نستعلیق میں لکھی ہوئی بسم اللہ
ناشپاتی کی شکل میں لکھی ہوئی بسم اللہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ایک ایسا عربی کلمہ ہے جو تمام دنیا کے مسلمان استعمال کرتے ہیں جو چاہے کوئی بھی زبان بولتے ہوں۔ یہ قرآن کا جز ہے اور ہر سورت سے پہلے آتا ہے سوائے سورۃ التوبہ کے۔اس کے علاوہ یہ سورۃ النمل میں بھی آتا ہے یوں قرآن میں یہ 114 مرتبہ آتا ہے۔ اسے مختصراً بسم اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ مسلمان اسے عموماً مختلف کاموں کے شروع کرنے سے پہلے پڑھتے ہیں مثلاً کھانا کھانے سے پہلے۔ یہ عربی کے علاوہ باقی زبانوں میں بھی ایک کلمہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے خصوصاً فارسی، ترکی، اردو اور کھوار وغیرہ۔ اکثر پرانی عمارتوں اور گھروں کے دروازوں پر برکت کے لیے بسم اللہ لکھی جاتی تھی۔ مسلمانوں نے اسے خطاطی میں بہت استعمال کیا ہے اور ھزاروں اقسام کی لکھی ہوئی بسم اللہ پرانی کتابوں، مخطوطوں اور عمارتوں پر مل جاتی ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق مستحب ہے کہ اسے ہر کام کے شروع کرنے سے پہلے پڑھا جائے۔ پرانی کتابوں کے پہلے صفحے پر اکثر اسے لکھا جاتا تھا اور اس میں ایک سے ایک جدت اختیار کی جاتی تھی۔ یہ قرآن کا پہلا جملہ بھی ہے۔ غرض اسلامی معاشرہ کا یہ ایک اہم کلمہ ہے۔ اس کا اردو زبان میں ترجمہ کچھ یوں کیا جاتا ہے۔

  • اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔ [1]
  • شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہائت رحم کرنے والا ہے۔ [2]

اس میں 19 حروف ہیں اور عربی قواعد کی رو سے اس کے اعداد 786 بنتے ہیں۔ اسی لیے بعض لوگ اس کی جگہ 786 لکھ دیتے ہیں تاکہ اس کی بے ادبی کا امکان نہ رہے۔ مختلف علاقوں میں خط لکھنے سے پہلے 786 لکھا جاتا تھا اگرچہ یہ رواج اب برقی خط کی وجہ سے کم ہو گیا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ قرآن حکیم (اردو ترجمہ عرفان القرآن از ڈاکٹر طاہرالقادری۔ منہاج القرآن)
  2. ^ قرآن حکیم (اردو ترجمہ از سید شبیر شاہ۔ قرآن آسان تحریک۔ لاہور۔ پاکستان)