احمدیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

احمدیہ جسے عرف عام میں قادیانیت بھی کہا جاتا ہے ایک مسیحیہ تحریک ہے جو کہ 1889ء میں مرزا غلام احمد (1835ء تا 1908ء) نے قادیان (گورداسپور) میں قائم کی۔ 1889ء میں قادیان کے اس جاگیردار نے اعلان کیا کہ مرزا کو الہام کے زریعے اپنے پیروکاروں سے بعیت لینے کی اجازت دی گئی ہے ؛ اسکے بعد مرزا نے (1891ء) میں اپنے امام مہدی ہونے کا دعوی کیا اور یہی وہ زمانہ تھا کہ جب اسلامِ راسِخ (orthodox) علماء کی جانب سے مرزا کی عمومی مخالفت سامنے آنا شروع ہوئی۔ شیعہ اور سنی دونوں تفرقے ہی حضرت امام مہدی کے بارے میں نظریات رکھتے ہیں لہٰذا یہ مسیحائی (عہد کا راہنما یا مہدی) ہونے کا دعویٰ مسلمان علماء کے لیئے کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں تھا بلکہ مسئلہ (بطور خاص سنی علماء کے لیئے) اس وقت شدت اختیار کر گیا کہ جب مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا (گو احمدی اس نبوت کو ختم نبوت کی مخصوص تاویل کی مدد سے محمدDUROOD3.PNG کی ختم نبوت کی اصطلاح سے انکار نہیں کہتے)[1]۔ مرزا کے عقائد میں اسلام کے ساتھ صوفی ، ہندوستانی اور مغربی عناصر کی آمیزش بھی نمایاں ہے اور مرزا نے اپنے تبلیغی انداز میں عیسائی ، ہندو اور سکھ تبلیغیوں کے طریقۂ کار کو بھی استعمال کیا[2]۔ مرزا کی وفات کے بعد مولانا نورالدین کو خلیفہ منتخب کیا گیا ، 1914ء میں نورالدین کا انتقال ہوا تو پیروکاروں کا اجتماع دو گروہوں میں بٹ گیا جن میں ایک کو احمدیہ مسلم جماعت اور دوسرے کو احمدیہ انجمن اشاعت اسلام تحریک یا لاہوری احمدیہ بھی کہا جاتا ہے۔

تجزیاتی نظریات

انیسویں صدی کے وسط میں جب مسلم دنیا میں یورپی تسلط کے خلاف جذبات بڑھ رہے تھے اور ان ہی جذبات اور رجحانات سے استفادہ اٹھاتے ہوئے اور کسی مسیحا (راہنما) کی شدید طلب کو محسوس کرتے ہوئے مسلم دنیا میں تین اطراف مہدی نمودار ہوئے۔ ایران میں علی محمد شیرازی (1819ء تا 1850ء) نمودار ہوا تو سوڈان میں محمد احمد المہدی (1844ء تا 1885ء) اور ادھر ہندوستان میں مرزا غلام احمد (1853ء تا 1908ء) کا ظہور ہوا[3]؛ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب ہندوستانی مسلمان 1857ء کی جنگ آزادی کی پسپائی پر ذہنی طور پر انتشار کا شکار تھے۔ اس کے علاوہ ایک اور نظریہ جو احمدیہ تحریک کے رجحان (بطور خاص اس میں مسیحیہ تصور) کا بین المذاہب تجزیہ کرنے والے محققین بیان کرتے ہیں وہ ہندوستان میں پائی جانے والی کثیرالمذاہب صورتحال بھی ہے[2]۔ حضرت امام مہدی کے ان دعویداروں اور غیبت صغرٰی سے تسلسل یافتہ دائمی امامت و نبوت کے نظریات کو محققین و تاریخدان نفسیاتی طور پر قبل از اسلام کے مغناطیسیت (magianism) نظریات سے تقابل کر کے بھی دیکھتے ہیں[4]۔

تاریخ

تجزیاتی نظریات کے قطعے میں محققین کی جانب سے بیان کردہ صورتحال کی موجودگی میں استعماریت اور عام ملایئت کے خلاف اور (متعدد تجزیہ نگاروں کے بقول) مسلمانوں کی حالت سنوارنے یا اسے جدید تقاضوں سے مطابقت دینے کے خواہشمند علماء (یا افراد) کی ناپیدی خارج از امکان ہے؛ مرزا غلام احمد (قادیانی) کی ابتداء سے بھی کچھ ایسا ہی تاثر ملتا ہے کہ مرزا نے خود کو مسلمانوں کے لیئے ایک سچے مصلح (یا مجتہد) کے طور پر پیش کیا[5]۔ مرزا کے اجداد سولہویں صدی سلطنت مغلیہ (بابر) کے عہد میں وسط ایشیاء سے ہندوستان آکر بسے تھے اور وسیع جائداد رکھتے تھے؛ اس آبائی جائداد کو اٹھارویں صدی میں سکھ مثلداروں نے فتح کر لیا تھا لیکن پھر مہاراجہ رنجیت سنگھ اپنے آخری ایام میں پانچ گاؤں (بشمول قادیان) غلام احمد کے والد مرتضٰی غلام احمد کو دے دیئے تھے [6]۔ برطانوی راج کے دور میں بھی مرزا غلام احمد کے والد مرزا غلام مرتضٰی حیثیت کے مالک تھے جو انہیں برطانوی حکومت (بطور خاص 1857ء) سے وفاداری کے سبب حاصل تھی۔۔۔۔۔

جنرل نکولسن نے غلام قادر (مرزا غلام احمد کے بھائی) کو سند عطا کی کہ 1857ء میں قادیان خاندان نے دیگر تمام اضلاع کی نسبت سب سے زیادہ وفاداری کا اظہار کیا [7]۔

مرزا نے عربی اور فارسی کی تعلیم بھی حاصل کی اور سترہ سال کی عمر میں کچھ عرصہ سیالکوٹ میں ملازمت کے دوران چرچ آف سکاٹ لینڈ کے افراد سے شناسائی بھی حاصل رہی۔ یہاں سے چار سال بعد مرزا کی قادیان واپسی ہوئی اور 1880ء میں مرزا کی کتاب براہین احمدیہ کا پہلا حصہ سامنے آیا[8]، پھر 1889ء میں مرزا کو الہام میں اپنے مریدوں سے بعیت لینے کی اجازت ملی اور مرزا کے گرد عقدت مندوں کا ایک گروہ پیدا ہونا شروع ہوا۔

سنیوں میں احمدی ظہور

بانی احمدیہ (قادیانیت)، مرزا غلام احمد۔

1891ء میں مرزا نے وہ مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا جس کے (احادیثی نا کہ قرآنی بنیادوں پر) مسلمان منتظر تھے (ہیں) اور جماعت احمدیہ کا پہلا جلسۂ سالانہ وقوع پذیر ہوا[9] ، یہیں سے راسخ العقیدہ مسلم علماء کے ساتھ کشمکش شدید ہوئی۔ بہائی مت کی ابتداء کو شیعوں میں امامت کے جاری رہنے اور غیبت صغرٰی و غیبت کبرٰی سے منسلک ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہاں سنیوں میں مرزا غلام احمد کے ظہور کو احادیث کی بنیاد پر قائم سنی تفرقے کے نظریۂ مہدی سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا کو عربی اور بسا اوقات انگریزی[10] میں بھی الہام نازل ہونے لگے؛ ان الہاموں کے بارے میں غیرمسلم مورخین یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ نفسیاتی تجزیے سے محسوس ہوتا ہے مرزا کو خود ان تخیلات کے الہامی ہونے کے بارے میں کامل یقین تھا اور ان کی حیثیت مذاہب عالم کے اعتبار سے سطحی اور اِستِيعاب المعرفت میں ناقص تھی جبکہ انگریزی کو بھی منقوص قرار دیتے ہیں[11]۔ بیسویں صدی کی ابتداء تھی اور اب مرزا پر جسمانی نقاہت کا دور شروع ہوا اور 1905ء کی اپنی وصیت میں مرزا نے کہا

قادر مطلق خدا نے مجھے یکے بعد دیگرے متعدد الہاموں میں مطلع کیا ہے کہ میری موت قریب ہے، اور اس ضمن میں آنے والے الہام اس قدر تعداد میں اور اس قدر تسلسل میں ہیں کے انہوں نے میرے وجود کو بنیادوں سے ہلا دیا ہے اور اس زندگی سے مجھے خاصا بے اعتنا کر دیا ہے۔ لہٰذا میں نے یہ بہتر جانا کہ میں اپنے دوستوں اور دیگر افراد کے لیئے اپنی تعلیمات سے استفادے کی خاطر لازماً کچھ ہدایتی الفاظ لکھوں[12]۔

لاہور کے ایوان جامعہ میں منعقد ہونے والی موتمر الدینیہ (religious conference) میں خطاب کے لیئے مرزا کی آمد ہوئی لیکن اس سے قبل ہی مرزا کی خواہشات کے برعکس قادیان کے بجائے لاہور (1908ء) میں انتقال ہوا ، مرزا کی میت کو لاہور سے قادیان لے جایا کر تدفین کی گئی جس قبل ہی پہلے خلفیۃ المسیح حکیم نورالدین کا انتخاب عمل میں آیا[13]۔ وہ مذکورہ بالا آخری خطاب مرزا کے بجائے خواجہ کمال الدین نے پڑھا[11]۔

اسلام سے قربت ، اسلام سے دوری

خلیفۃ المسیح اول، حکیم نورالدین۔

حکیم نورالدین (1841ء تا 1914ء) کی پہلی ملاقات مرزا سے 1885ء میں ہوئی اور مرزا کی وفات کے بعد چھ سال ، 1908ء سے اپنی وفات 1914ء تک ، احمدیوں کے پہلے خلیفۃ المسیح کی حیثیت حاصل رہی۔ اسی زمانے میں احمدیہ میں ایسے افراد بھی تھے جو احمدیہ کو واپس اسلام راسخ سے قریب لانا چاہتے تھے، ان میں لاہور کے خواجہ کمال الدین (1870ء تا 1932ء) اور مولانا محمد علی (1874ء تا 1951ء) کے نام آتے ہیں جبکہ قادیان والے (جن میں اکثریت امراء اور تجارتکاروں کی تھی جیسے سید احسان امروہی اور اور نواب محمد علی خان) احمدیہ جماعت کو انہی مرزائی خطوط پر الگ قائم رکھنا چاہتے تھے۔ لاہوری کہلائے جانے والے گروہ نے خود کو قادیان والے گروہ سے الگ کر لیا اور مولانا محمد علی کو اپنا امیر بنایا جبکہ قادیان والوں نے مرزا غلام احمد کے بڑے بیٹے مرزا بشیر الدین (1898ء تا 1965ء) کو اپنا دوسرا خلیفۃ المسیح منتخب کرا۔ اول الذکر کو احمدیہ انجمن اشاعت اسلام یا لاہوری احمدیہ جبکہ بعد الذکر (قادیان والوں) کو احمدیہ مسلم جماعت کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم سے قبل ہی احمدیہ بیرونی ممالک میں اپنی تبلیغ کی سرگرمیاں متحرک کر چکی تھی، خواجہ کمال الدین نے انگلستان میں اس سلسلے میں سرگرمی دکھائی[14]۔ گو لاہوری گروہ مرزا کے لیئے اس قسم کے شدید تصورات اور الفاظ استعمال نہیں کرتا جیسا کہ قادیان والوں کا گروہ کرتا ہے اور لاہوری گروہ کے مطابق مرزا کی حیثیت نبی یا رسول کی نہیں بلکہ ایک مہدی یا مسیح موعود یا مجتہد کی ہے لیکن اس کے باوجود علماء کے مطابق اسلام راسخ کی رو سے ان کے نظریات باطل ہیں[15]۔ یہاں سے وہ زمانہ شروع ہوتا ہے کہ جب احمدیہ (واحد) کی تاریخ منطقی اعتبار سے اپنے انجام کو پہنچتی ہے اور اس کے بعد سے احمدیہ (منقسم) کی تاریخ کی ابتداء ہوتی ہے جس میں اس کے مذکورہ بالا دو حصے ہوئے اور اس تاریخ کا مقام یہ مضمون نہیں بلکہ ان کے اپنے مخصوص صفحات ہیں۔

عقائد کا تقابلی جائزہ

احمدیہ عقائد کے بارے میں اسلام سے منسلک افراد کی معلومات عموماً غیرکامل اور سطحی پائی جاتی ہیں جبکہ غیرمسلم افراد میں احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں (اور احمدیہ تبلیغ کے لیئے اسلامی اصطلاحات اختیار کرنے) کے باعث احمدیہ اور اسلام میں فرق کی تمیز باقی نہیں رہتی؛ اس وقت تک کہ جب تک وہ متعلقہ شخص خود عالمانہ اور فاضلانہ مستند کتب اور مواد کا مطالعہ نا کرے؛ یہ بات اس لیئے بھی قابل ذکر ہے کہ اس کا موازنہ مہدی (قائم) کے تصور کی بنیادوں پر ہی قائم ہونے والے ایک اور مت ، بہائی مت ، سے کیا جائے تو صورتحال (موجودہ عہد میں) اس قدر ابہام کا شکار نہیں ہوتی کیونکہ بہائی مت والوں نے خود کو واضح طور پر اسلام راسخ سے الگ مذہب قرار دے دیا ہے۔ کسی بھی عقیدے (یا مذہب) میں جب ذیلی عقائد رکھنے والے افکار نمودار ہو جائیں تو اس مذہب کا اجتماعی (اکثریتی) حصہ ذیلی افکار رکھنے والوں کی مخالفت یا تصحیح کی کوشش کرتا ہے اور اس ذیلی عقیدے (عموماً اقلیتی) کے عقائد کو قابل توجہ نہیں سمجھتا جبکہ وہ ذیلی عقیدہ رکھنے والے افراد اقلیتی نفسیات کے باعث ناصرف اپنے ذیلی (الگ) عقیدے میں مستحکم بلکہ (مقابل آنے کی خاطر) اکثریتی عقیدے کے عقائد سے بھی کامل آگاہی حاصل کرتے ہیں ؛ اور ایسا ہی معاملہ اسلام اور احمدیہ والوں کے مابین عام آدمی کی سطح پر دیکھنے میں آتا ہے۔ قبل اس کے کہ احمدیہ عقائد پر بات کی جائے اور انکا تقابل اسلام سے کیا جائے اسلامی عقائد کا مطالعہ (جو مضمون اسلام کے قطعات ، اجزاۓ ایمان اور ارکانِ اسلام میں بھی درج ہیں) لازم آتا ہے۔

احمدیہ عقائد کا اسلامی عقائد سے تقابل (مضمون) = وضاحت کے لیئے متن سے رجوع
اسلامی عقیدہ احمدیہ (قادیانی) عقیدہ[16] احمدیہ (لاہوری) عقیدہ[17]
  1. محمدDUROOD3.PNG ہر اعتبار سے خاتم النبیین
  2. محمدDUROOD3.PNG کے بعد امکان نبوت باقی نہیں
  3. قرآن اللہ کی آخری کتاب ہے
  4. مرزا غلام احمد کاذب و دجال
  5. مسیحALAYHE.PNG کو زندہ اٹھایا لیا گیا
  6. مرزا غلام احمد کاذب و دجال۔
  7. تمام دینی وحی محمدDUROOD3.PNG پر بند
  1. محمدDUROOD3.PNG شریعت کے خاتم النبیین [18]
  2. محمدDUROOD3.PNG کے بعد امتی نبوت کا امکان ختم نہیں ہوا [18]
  3. مطابق اسلام (مضمون)
  4. مرزا؛ مہدی، مسیح اور نبی
  5. مسیحALAYHE.PNG کی دنیاوی موت
  6. مرزا پر یقین ایمان کا جز
  7. مرزا پر وحی نبوت کا نزول
  1. محمدDUROOD3.PNG خاتم النبیین ہیں (مضمون)
  2. زیر تحقیق
  3. مطابق اسلام (مضمون)
  4. مرزا؛ مجدد، مہدی اور مسیح
  5. مسیحALAYHE.PNG کی دنیاوی موت
  6. مرزا پر یقین لازمی ہے
  7. مرزا پر وحی ولایت کا نزول

مذکورہ بالا جدول میں چند چیدہ نظریات کا تقابل محض اس لیے دیا گیا ہے کہ ایک نظر طائر میں اھم نکات پر گرفت ہو سکے لیکن اس جدول میں دیئے گئے بیانات کسی طرح بھی اپنے طور کافی نہیں ہیں اور ہر بیان کے متعدد پہلوؤں کی علمی وضاحت کے لیئے مضمون کے متن کی جانب رجوع کرنا اور حوالہ جات کا مطالعہ کرنا جدول کی گنجائش کی کمی اور اختصار کو پورا کرتا ہے۔ ان تمام نظریات کو ان پر درج حوالہ جات کے مواقع (sites) پر مطالعہ کیا جاسکتا ہے؛ ایک انتہائی متنازع معاملہ ختم نبوت کا ہے اور اس بارے میں جو عقاید درج ہیں وہ مذکورہ بالا نظریات رکھنے والوں کے مواقع سے ہی اخذ ہیں ، ختم نبوت کے بارے میں خود مرزا غلام احمد کے الفاظ یوں آتے ہیں۔۔۔۔۔

میں اس کے رسولDUROOD3.PNG پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں۔ اور جانتا ہوں کہ تمام نبوّتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔ مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوّت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں ہوتی [18]

ختمِ نبوت کا اسلامی تصور

مذہب اسلام سے تعلق رکھنے والے تمام خاص و عام افراد (جنہیں ملتِ اسلامیہ بھی کہا جاتا ہے) کا یہ اجتماعی عقیدہ ہے اسلام پر اللہ نے اپنا دین کامل کردیا اور محمدDUROOD3.PNG اس دین کو انسانوں تک پہنچانے والے اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں؛ یعنی نا تو اب کوئی نیا دین آئے گا اور نا ہی کوئی نبی یا رسول اور چونکہ دین کامل ہے اس لیئے نا ہی کوئی اس کی تجدید کرنے والا مجتہد ایسا آئے گا کہ جو اسلام میں کوئی حجت قائم کر سکے۔ اس نظریے سے ہی یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مسلم عقیدے کے مطابق رسالت کی تکمیل یا خاتم النبیین کی واحد تعریف یہ ہے کہ محمدDUROOD3.PNG ہر اعتبار سے آخری نبی ہیں اور انDUROOD3.PNG کے بعد کسی بھی قسم کا کوئی نبی آئے گا اور نا ہی کوئی ایسا شخص آسکتا ہے کہ جس پر کسی بھی قسم کی کوئی وحی جو دین سے متعلق ہو نازل ہو۔

ختمِ نبوت کا احمدیہ تصور

اس جماعت احمدیہ کے مطابق انبیاء دو اقسام کے ہوا کرتے ہیں ، اول وہ کہ جو کوئی قانون بناتے ہیں (جیسے محمدDUROOD3.PNG) اور دوم وہ جو کہ اس قانون کی تشریح بیان کریں اور وقت کے ساتھ اس میں شامل ہونے والی اضافتوں کا صفایا کر کے اس کو پاک کریں(جیسے مرزا غلام احمد)[19]۔ جبکہ بعض حوالہ جات میں احمدیہ جماعت کے نظریے کے مطابق یہ اقسام تین بتائی جاتی ہیں؛ اول وہ انبیاء جو کہ کوئی قانون لے کر آتے ہیں دوم وہ انبیاء جو کہ قانون نہیں لاتے اور سوم وہ انبیاء جن کو قانون لانے والے انبیاء سے نسبت اور ان کی حرمت کے لحاظ سے انبیاء کا درجہ دیا جاتا ہے[20]۔ اس قسم کے اصطلاحاتی ابہام کی اور مثالیں بھی ملتی ہیں؛ مثال کے طور پر نبی اور رسول (پیغمبر) کے تعریفوں میں اختلاف اور اس ابہام میں خود مرزا غلام احمد کا حصہ بھی مندرجہ ذیل اقتباس سے واضح ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔

میں نبی نہیں ہوں اور نا ہی کسی (الہامی) کتاب کو رکھتا ہوں[21]

مرزا غلام احمد ہی کی تحریر سے ایک اور اقتباس درج ذیل انداز میں کتاب بنام نزول المسیح میں آتا ہے۔۔۔۔۔۔

اور میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار ظلیتِ کاملہ کے میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمدی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن خدا تعالٰی نے ہر ایک بات میں وجودِ محمدی میں مجھے داخل کر دیا یہاں تک کہ یہ بھی نا چاہا کہ یہ کہا جائے کہ میرا کوئی الگ نام ہو یا کوئی الگ قبر ہو کیونکہ ظل اپنے اصل سے الگ ہو ہی نہیں سکتا [22]۔

احادیث کا دجال

صحیح بخاری کے الفاظ میں دجال کا لفظ دجل (کذب / دھوکہ) سے بنا ہے جس کے معنی جھگڑا فساد پرپا کرنے والے کے، لوگوں کو فریب دھوکے میں ڈالنے والے کے ہوتے ہیں؛ بڑا دجال آخر زمانے میں پیدا ہوگا اور چھوٹے چھوٹے دجال بکثرت ہر وقت پیدا ہوتے رہیں گے جو غلط مسائل کے لیۓ قرآن کو استعمال کر کے لوکوں کو بے دین کریں گے[23]۔ احادیث میں محمدDUROOD3.PNG نے اپنے بعد آنے والے نبوت کے دعویداروں کے لیئے دجال کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی انتہائی دھوکہ باز اور دجل میں ڈالنے والا۔ اور کاذب انبیاء کے لیئے احادیث میں یہ لفظ اختیار کرنے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ کاذب انبیاء دجل (دھوکے) سے کام لیں گے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے نبوت کا دعویٰ کریں گے[24]۔

قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہوگی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریباً تیس دجال۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا۔۔۔۔۔ جاری: حدیث 7121 کتاب الفتن[23]۔

مہدی کون؟

امام مہدیALAYHE.PNG کا نظریہ اسلام کی دستاویزات میں رچا بسا ہے اور اس شخصیت کے انتظار میں مسلمان آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ لیکن اس کی تشریح میں تضاد پایا جاتا ہے؛ اہل سنت کے علماء امام مہدی کے بارے میں احادیث کے بیان سے نہیں تھکتے [25] اور اثنا عشریہ اہل تشیع کے علماء کے نزدیک یہ غیبت صغرٰی کے بعد غیبت کبرٰی میں چلے جانے والے بارھویں امام ہیں [26] جبکہ سبیعہ اسماعیلی اہل تشیع کے نزدیک یہ امام جعفر الصادقALAYHE.PNG (چھٹے امام) کے بڑے فرزند اسماعیل بن جعفر کے فرزند محمد بن اسماعیل یعنی ساتویں امام ہیں [27]۔ اہل تشیع کے معیار کے مطابق تو مرزا غلام احمد کو منطقی اعتبار سے مہدی (بارھواں امام) نہیں کہا جاسکتا، اہل سنت کی احادیث اور اہل تشیع کے نظریۂ غیبت کا سہارا لے کر دنیائے اسلام میں یکے بعد دیگرے مہدیوں کا نزول ہوتا رہا ہے جن میں مہدی سوڈانی ، نیشن آف اسلام سے فارڈ محمد اور سید علی محمد باب کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اہل سنت کی احادیث سے امام مہدیALAYHE.PNG کا جو تصور ملتا ہے اس میں مندرجہ ذیل باتیں شامل ہیں[25]۔

  1. مہدیALAYHE.PNG کا تعلق محمدDUROOD3.PNG کے خاندان (حضرت فاطمہRAZI.PNG) کے سلسلے سے ہوگا۔
  2. نام محمدDUROOD3.PNG سے مماثلت رکھتا ہوگا۔
  3. قرب قیامت کے وقت ظہور ہوگا۔
  4. مدینہ سے مکہ ہجرت کریں گے، جہاں ان کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی۔
  5. انہیں عراقی عوام کی بیعت اور مدد حاصل ہوگی۔
  6. ناانصافی کے خلاف معرکوں میں حصہ لیں گے۔
  7. عیسیٰALAYHE.PNG ان کی امامت میں نماز ادا کریں گے۔
  8. عربوں پر سات یا آٹھ برس حکومت کریں گے۔

مہدی اور عیسیٰ ایک یا دو؟

مرزا غلام احمد نے اپنے مسیح موعود ہونے کا بھی دعوی کیا اور احادیث کی بنیادوں پر مہدی اور مسیح دو الگ شخصیات کا نظریہ رکھنے والے مسلم علماء کے اعتراض کا جواب اپنی کتاب بنام ' حقیقت المسیح ' میں دیا جہاں ابن ماجہ کا حوالہ دے کر ایک حدیث درج کی گئی ہے

لامهدي الاعيسى
عیسیٰ کے سوا کوئی مہدی نہیں

مرزا غلام احمد نے اس کی تشریح میں درج کیا کہ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ بجز اس شخص کے جو عیسیٰ کی خو اور طبیعت پر آئے گا اور کوئی بھی مہدی نہیں آئیگا۔ یعنی وہی مسیح موعود ہوگا اور وہی مہدی ہوگا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خو اور طبیعت اور طریق تعلیم پر آئیگا [28]۔ اس کے برعکس اہل سنت کے علماء متعدد احادیث ایسی بیان کرتے ہیں کہ جن میں مہدیALAYHE.PNG اور عیسیٰALAYHE.PNG کی شخصیات الگ الگ ثابت ہوتی ہیں۔ ابن ماجہ کی سنن ابن ماجہ میں ایک طویل حدیث کا حصہ یوں بیان ہوا ہے۔۔۔

فَقَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ بِنْتُ أَبِي الْعُكَرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ قَالَ ‏"‏ هُمْ يَوْمَئِذٍ قَلِيلٌ وَجُلُّهُمْ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَإِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ فَبَيْنَمَا إِمَامُهُمْ قَدْ تَقَدَّمَ يُصَلِّي بِهِمُ الصُّبْحَ إِذْ نَزَلَ عَلَيْهِمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذَلِكَ الإِمَامُ يَنْكُصُ يَمْشِي الْقَهْقَرَى لِيَتَقَدَّمَ عِيسَى يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَيَضَعُ عِيسَى يَدَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ لَهُ تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَإِنَّهَا لَكَ أُقِيمَتْ ‏.‏ فَيُصَلِّي بِهِمْ إِمَامُهُمْ
ام شریک بنت ابی العکر نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ تو رسول اللہ نے فرمایا۔ عرب اس وقت کم ہوں گے اور ان میں بھی اکثر بیت المقدس میں ہوں گے اور ان کا امام و امیر ایک رجل صالح ہوگا۔ جس وقت ان کا امام نماز فجر کے لیے آگے بڑھے گا اچانک عیسیٰ ابن مریم اسی وقت نازل ہوں گے اور وہ امام آپ کو دیکھ کر پیچھے ہٹنا چاہے گا تاکہ عیسیٰ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ عیسیٰ ، امام کے کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے؛ آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ کیونکہ تمہارے ہی لیے اقامت کہی گئی ہے۔ سو ان کے امام لوگوں کو نماز پڑھائیں گے [29]

مکمل حدیث کو مذکورہ بالا ربط پر دیکھا جاسکتا ہے اس میں لفظ امام کی نسبت امام مہدیALAYHE.PNG کو ہے اور حدیث سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخصیت امامت کر رہی ہے اور دوسری اس کی امامت میں نماز ادا کر رہی ہے۔

اسلام میں مسیح موعود

حضرت عیسٰیALAYHE.PNG کی دوبارہ آمد (مسیح موعود، جو کہ مہدی سے الگ شخصیت کے تصور میں مسیحا ہیں) کے بارے میں ایک انتہائی اہم اور ابتدائی بات یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے بنیادی مآخذ قرآن میں (تمام تاویلات و متعدد الانواع تفاسیر کو الگ کرتے ہوئے) کوئی براہ راست یا مفروغ و مثبوت پیغام یا حوالہ نہیں ملتا۔ مستند احادیث کی کتب میں عیسٰیALAYHE.PNG ابن مریم کے اترنے کا تذکرہ آتا ہے؛

كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ
اس وقت کیا حال ہوگا جب عیسٰی ابن مریم تم میں اتریں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا [30]

مذکورہ بالا حدیث سے یہ واضح ہے کہ (نمودار ہونے والے) عیسٰیALAYHE.PNG اور مہدیALAYHE.PNG علیحدہ علیحدہ شخصیات رکھتے ہونگے یعنی دو الگ الگ افراد ہونگے؛ اسی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عیسٰیALAYHE.PNG کے برخلاف مہدیALAYHE.PNG اتریں گے نہیں بلکہ انسانوں میں سے ہی ہونگے۔ اسلام میں احادیث کی رو سے عیسٰیALAYHE.PNG کی قیامت سے قبل دوبارہ آمد کا نظریہ موجود ہے لیکن یہ عیسٰیALAYHE.PNG وہی ہوں گے جو کہ سن 30ء (610 ق‌ھ) میں اس دنیا کی موت کے بغیر زندہ اٹھا لیئے گئے تھے

وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا - بَل رَّفَعَهُ اللّهُ إِلَيْهِ
اور نہیں قتل کیا ہے انہوں نے مسیح کو یقیناً - بلکہ اٹھا لیا ہے اس کو اللہ نے اپنی طرف [31]

تجسیدِ کرشنا

کرشنا ہندو مت میں ایک دیوتا (خدا) کا نام ہے اور کرشنا کے تناسخ (reincarnation) کو ہندو مت میں سب سے کامل ترین ہونے کا درجہ دیا جاتا ہے۔ تناسخ (جو کے نسخ سے ماخوذ ہے) ایک ایسا لفظ ہے جو کہ متعدد مذاہب عالم میں بکثرت مستعمل ہوتا ہے اور سے مراد نسخ (بصورت فعل) یعنی کسی کی جگہ لینے، تجسید (embodiment) حاصل کرنے یا کسی میں حلول کر جانے کی لی جاتی ہے۔ ہندو مت کے نظریے کے مطابق تمام زندہ اجسام فی الحقیقت خدا کی تجسید (بہ اعتبار تناسخ) ہیں لیکن کامل نہیں [32]۔

امت مسلمہ کافر

جماعت احمدیہ کے علماء اکرام کے نزدیک وہ تمام مسلمان جو کہ مرزا غلام احمد پر ایمان نہیں رکھتے وہ کافر ہیں مسلمان نہیں؛ اور امت مسلمہ کہلائی جانے والی امت کے ان کفار المسلمین سے متعلق، مرزا غلام احمد کے الفاظ اس طرح بیان ہوتے ہیں۔

بہرحال جبکہ خدا تعالٰی نے مجھ پر ظاہر کیا کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور خدا کے نزدیک قابلِ مؤاخذہ ہے۔ تو یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ اب میں ایک شخص کے کہنے سے جس کا دل ہزاروں تاریکیوں میں مبتلاء ہے۔ خدا کے حکم کو چھوڑ دوں اس سے سہل تر یہ بات ہے کہ ایسے شخص کو اپنی جماعت سے خارج کردیا جاوے اس لیے میں آج کی تاریخ سے آپ کو اپنی جماعت سے خارج کرتا ہوں (مرزا غلام احمد) [33]۔

خلیفۃ الثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اپنے الفاظ استعمال کرتے ہوئے اس نظریے کی تشریح یوں بیان کی ہے

اس (مذکورہ بالا) الزام میں وہی لوگ شامل نہیں ہیں جنہوں نے تکفیر میں جد و جہد کی ہے۔ بلکہ ہر ایک شخص جس نے قبول نہیں کیا۔ وہ مسلمان نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ حضرت مسیح موعودALAYHE.PNG کو کافر تو نہیں کہتے مگر آپ پر ایمان بھی نہیں لاتے وہ بھی انہی لوگوں کے ساتھ شامل ہیں جو آپ کو کافر کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ وہ بھی جو آپ کو دل میں سچّا قرار دیتا ہے اور زبانی بھی آپ کا انکار نہیں کرتا لیکن ابھی بیعت میں اسے کچھ توقف ہے کافر قرار دیا گیا ہے [33] [34]۔

لاہوری جماعت والے احمدی اس بات خود کو الگ کرنے کے لیے اس کو مرزا بشیر الدین محمود اور ان کے ساتھیوں کی خلافت حاصل کرنے کے لیے حکمت عملی قرار دیتے ہیں؛ لاہوری احمدی اس نظریے سے خود کو الگ کرتے ہیں کہ جو کلمۂ شہادت پر ایمان رکھتا ہے وہ کافر ہے! [34] لیکن خلیفۃ المسیح الثانی کے نظریات سے مبرا ہو جانے کے بعد تشنگی جو باقی رہ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ خود مرزا غلام احمد نے بھی یہی نظریہ درج کیا ہے۔

حوالہ جات

  1. ^ Louis A. DeCaro, Jr.، On the Side of My People: A Religious Life of Malcolm X، New York University روئے خط کتاب
  2. ^ 2.0 2.1 William Montgomery Watt، Islamic fundamentalism and modernity، Routledge روئے خط کتاب
  3. ^ Farzana Hassan، Prophecy and the fundamentalist quest، McFarland & Company Inc 2008 روئے خط کتاب
  4. ^ Jawaharlal Nehru, Nand Lal Gupta، Jawaharlal Nehru on Communalism، Hope India Publications روئے خط کتاب
  5. ^ Mohammad Yasin، Reading in Indian History، Atlantic Publishers & Distributors 1988 روئے خط کتاب
  6. ^ History and Culture of Panjab: Mohinder singh
  7. ^ The Ahmadiyya movement, british jewish connections. Bashir ahmad
  8. ^ "جماعت احمدیہ مسلم پر براہین احمدیہ تاریخ اشاعت"، http://www.alislam.org/urdu/library/1459/page12.html
  9. ^ "Chronology of Important Events"، http://www.thepersecution.org/facts/chronology.html
  10. ^ "انبیاء کا معلم ، رب کائنات"، http://www.farooqia.com/ar/node/149؛ جامعہ فاروقیہ کراچی
  11. ^ 11.0 11.1 H. A. Walter، The Ahamadiya Movement-1918، Manohar 1991 روئے خط کتاب
  12. ^ "Final Days [آخری وصیت]" (in انگریزی)، http://www.muslim.org/books/f-ahm-mv/ch7.htm؛ لاہوری احمدیہ تحریک
  13. ^ "احمدیہ کی مختصر تاریخ (انگریزی موقع)"، http://www.alfazal.com/library/history/ahmadiyya/33.html؛ احمدیہ مسلم جماعت
  14. ^ Richard Brent Turner، Islam in the African-American experience، Indiana University Press روئے خط کتاب
  15. ^ "الاحمدیہ : آغاز و عقائد (انگریزی)"، http://www.islamonline.net/servlet/Satellite?pagename=IslamOnline-English-Ask_Scholar/FatwaE/FatwaE&cid=1119503543500 اسلام آن لائین نیٹ پر ایک فتویٰ
  16. ^ احمدیہ قادیان والوں کا موقع
  17. ^ احمدیہ لاہور والوں کا موقع
  18. ^ 18.0 18.1 18.2 آیت خاتم النبین اور جماعت احمدیہ کا مسلک: نشر؛ نظارت اشاعت لٹریچر و تصنیف صدر انجمن احمدیہ پاکستان بورڈ
  19. ^ Mirza bashiruddin mahmud, Ahmadiyyat or the True Islam, 5th ed. 1959. p 17-18 Rabwa
  20. ^ Islam and the ahmadiyya jamaʻat: history, belief, practice By Simon ross valentine
  21. ^ A misunderstanding removed by Ghulam Ahmad
  22. ^ نزول المسیح: مرزا غلام احمد ؛ مطبع ضیاء الاسلام قادیان
  23. ^ 23.0 23.1 محمد بن اسماعیل بخاری (اردو ترجمہ: مولانا محمد داؤد راز)، صحیح بخاری، مرکزی جمیعت اہل حدیث ہند 2004
  24. ^ محمد عثمان الوری، عقیدۂ ختم نبوت اور فتنۂ قادیانیت، مکتبہ مدینہ ، بادشاہی روڈ، مسجد اقصٰی کراچی
  25. ^ 25.0 25.1 The awaited imam mahdi by Tahir ul qadri
  26. ^ Introduction to Islamic theology and law by Ignac goldziher
  27. ^ CIA world factbook 2010, Book 2010 by central intelligence agency
  28. ^ حقیقت المہدی: مرزا غلام احمد ؛ مطبع ضیاء الاسلام قادیان
  29. ^ سنن ابن ماجہ 4215
  30. ^ صحیح بخاری: کتاب الانبیاء باب 52 نزول عیسی؛ حدیث 3488 روئے خط ربط (عربی)
  31. ^ قرآن؛ سورت 4 آیات 157 تا 158
  32. ^ Gandhi, a spiritual journey by M. V. kamath
  33. ^ 33.0 33.1 آئینۂ صداقت: مرزا بشیر الدین محمود احمد ؛ خلیفۃ المسیح الثانی۔
  34. ^ 34.0 34.1 A survey of the Lahore Ahmadiyya movement: by Zahid Aziz, Ahmadiyya Anjuman Ishaat Islam (Lahore, Pakistan)