ریاستہائے متحدہ امریکہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


United States of America
Estados Unidos de América
États-Unis d’Amérique
ریاستہائے متحدہ امریکہ
ریاستہائے متحدہ امریکہ کا پرچم ریاستہائے متحدہ امریکہ کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: In God We Trust
(خدا پر ہمارا بھروسہ ہے)
ترانہ: The Star-Spangled Banner
ریاستہائے متحدہ امریکہ کا محل وقوع
دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی
عظیم ترین شہر نیو یارک
دفتری زبان(یں) قومی سطح پر کوئی نہیں ،انگریزی 28 ریاستوں میں
نظامِ حکومت
صدر
جمہوریہ (صدارتی نظام)
بارک حسین اوباما
آزادی
- اعلانِ آزادی
تاریخِ آزادی
برطانیہ سے
4 جولائی 1776ء
3 ستمبر 1783ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
9629091  مربع کلومیٹر (4)
3717813 مربع میل
6.76
آبادی
 - تخمینہ:2008ء
 - 2000 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
303,528,492 (3)
281421906
31 فی مربع کلومیٹر(180)
80 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

13860 ارب بین الاقوامی ڈالر (پہلا)
46000 بین الاقوامی ڈالر (7 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.951
(12) – بلند
سکہ رائج الوقت امریکی ڈالر (USD)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)

(یو۔ٹی۔سی۔ -5 تا -10)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ -4 تا -9)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.us
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+1

ریاستہائے متحدہ امریکہ (انگریزی: United States of America؛ یونائیٹڈ سٹیٹس آف امیریکہ) شمالی امریکہ میں واقع ایک ملک ہے۔ اسے عرف عام میں صرف یونائیٹڈ سٹیٹس (انگریزی: United States؛ ریاستہائے متحدہ) بھی کہتے ہیں جبکہ امریکہ (انگریزی: America؛ امیریکہ) کا لفظ بھی زیادہ تر اسی ملک سے موسوم کیا جاتا ہے جو بعض ماہرین کے مطابق تکنیکی لحاظ سے غلط ہے۔

ریاستہائے متحدہ شمالی امریکہ کا دوسرا اور دنیا کا تیسرا (یا چوتھا) بڑا ملک ہے۔ اس کے شمال میں کینیڈا، جنوب میں میکسیکو، مشرق میں بحر اوقیانوس اور مغرب میں بحر الکاہل واقع ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ ایک وفاقی آئینی ریاست ہے اور اس کا دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی ہے۔

37 لاکھ مربع میل یعنی 96 لاکھ مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا یہ ملک دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جس میں کل تیس کروڑ سے زائد باشندے آباد ہیں۔

امریکی فوج، معشیت، ثقافت اور سیاسی اثر و رسوخ میں انیسیوں اور بیسویں صدی میں بڑھا ہے۔ روس کے زوال کے بعد جب سرد جنگ ختم ہوئی تو امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور کے طور پر ظاہر ہوا اور اب امریکہ دنیا بھر میں کھلا مکھلا مداخلت کر رہا ہے۔

نام[ترمیم]

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے عام ناموں میں یونائیٹڈ سٹیٹس، یو ایس، یو ایس اے، دی یو ایس اے، دی یو ایس آف اے، دی سٹیٹس اور امریکہ شامل ہیں۔ امریکہ نام کا پہلا استعمال 1507 میں ہوا جب ایک جرمن نقشہ ساز نے گلوب بنا کر جنوبی اور شمالی امریکی براعظموں کو ظاہر کرنے کے لئے لفظ امریکہ چنا۔

امریکاؤں کو کولمبس کے حوالے سے کولمبیا کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور بیسویں صدی کے شروع تک امریکہ کے دارلحکومت کو کولمبیا بھی کہتے تھے۔ بعد ازاں اس کے استعمال کو ختم کیا گیا، لیکن ابھی بھی سیاسی طور پر کولمبیا کا نام استعمال ہوتا ہے۔ کولمبس ڈے امریکہ اور دیگر ممالک میں عام تعطیل ہوتی ہے جو کولبس کی 1492 میں امریکی سرزمین پر اترنے کے حوالے سے منایا جاتا ہے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کو سب سے پہلے 4 جولائی 1776 میں سرکاری طور پر اعلان آزادی میں استعمال کیا گیا۔ 15 نومبر 1777 کو دوسری براعظمی کانفرنس نے کنفیڈریشن کے آرٹیکل کو قبول کیا جس میں لکھا "The Stile of this Confederacy shall be 'The United States of America.'" تھا۔ اس نام کو درحقیقت تھامس پائن نے تجویز کیا تھا۔

امریکی باشندوں کے لئے امریکی یا امریکن کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے چاہے وہ شمالی امریکہ سے ہوں چاہے وہ جنوبی امریکہ سے۔

جغرافیہ[ترمیم]

امریکہ اور اس کی ریاستیں (اردو نقشہ)

عام درخت اور گھاس کے میدان مشرق کی طرف پائے جاتے ہیں جو بتدریج میدانوں میں بدل جاتے ہیں، کونیفریس جنگلات اور راکی پہاڑ مغرب کی طرف ہیں اور جنوب مغرب میں صحرا ہیں۔ شمال مشرق میں عظیم جھیلیں اور بحرِ الکاہل بورڈ کے ساحلوں پر ملک کی زیادہ تر آبادی رہتی ہے۔

کل رقبے کے لحاظ سے امریکہ کو دنیا کا تیسرا بڑا ملک مانا جاتا ہے اور انفرادی رقبے کے لحاظ سے بھی روس اور کینیڈا کے بعد اس کا تیسرا نمبر ہے۔ اس کا زیادہ تر اکٹھا حصہ مشرق میں بحر اوقیانوس سے جڑا ہے اور مغرب میں شمالی بحرالکاہل موجود ہے، میکسیکو اور خلیج میکسیکو جنوب میں ہیں اور کینیڈا شمال میں ہے۔ الاسکا کی سرحدیں بھی کینیڈا سے ملتی ہیں اور بحرالکاہل اس کے جنوب میں ہے اور بحر شمالی اس کے شمال میں ہے۔ الاسکا کے مغرب میں بیرنگ سٹریٹ یعنی بیرنگ نامی تنگ سی سمندری پٹی کے پار روس موجود ہے۔ ہوائی کی ریاست بحر الکاہل میں جزائر کی پٹی کی صورت میں موجود ہے جو براعظم شمالی امریکہ سے جنوب مغرب کی طرف ہے۔

سرزمین[ترمیم]

امریکی سرزمین خصوصاً مغرب میں بہت زیادہ فرق پائی جاتی ہے۔ شمالی ساحل پر ساحلی میدان پائے جاتے ہیں جو کہ جنوب میں وسیع اور شمال میں تنگ ہوتے جاتے ہیں۔ ساحلی پٹی نیو جرسی کے شمال میں ختم ہو جاتی ہے ۔ بالکل جنوب مشرق میں فلوریڈا ہے جو دلدلی میدانوں کی سرزمین ہے۔

ساحلی میدانوں سے ہٹ کر پیڈا ماؤنٹ کا علاقہ آتا ہے جو اپالانچیان پہاڑوں میں ختم ہوتا ہے جو شمالی کیرولائنا، ٹینیسی اور نیو ہمپشائر میں 6000 فٹ تک بلند ہیں۔ اپا لانچیز کی مغربی ڈھلوانوں پر میدان نسبتا ہموار ہیں اور گریٹ لیک اور مسی سیپی دریا جو کہ دنیا کا چوتھا بڑا دریا ہے، موجود ہیں۔ دریائے مسی سیپی کے مغرب میں بنجر پہاڑ ہیں۔

گریٹ پلینز کے مغربی کنارے سے راکی پہاڑوں کا سلسلہ اچانک بلند ہوتا ہے اور شمال سے جنوب کی طرف پورے امریکہ میں پھیل جاتا ہے اور اس کی بلندی کولوراڈو میں 14000 فٹ یعنی 4270 میٹر ہے۔ ماضی میں راکی پہاڑ اپنی آتش فشانی سرگرمیوں کی وجہ سے مشہور تھے لیکن آج صرف ایک علاقہ ایسا ہے جو آتش فشانی کے حوالے سے سرگرم ہے۔ یہ علاقہ ییلو سٹون پارک، وائی اوومنگ میں ہے اور اس سے سپر والکینو کہتے ہیں۔

الاسکا میں بھی بہت سارے پہاڑی سلسلے موجود ہیں جن میں میک کینلی پہاڑ شمالی امریکہ کا سب سے بلند پہاڑ ہے۔ الاسکا کے پورے علاقے میں آتش فشاں پائے جاتے ہیں۔

ہوائی کے جزائر منطقہ حارہ کے آتش فشانی جزائر ہیں جو 1500 میل یعنی 2400 کلومیٹر سے زیادہ جگہ پر پھیلے ہیں اور اس میں چھ بڑے اور درجن بھر چھوٹے جزائر بھی شامل ہیں۔

ہوائی کے جزائر منطقہ حارہ کے آتش فشانی جزائر ہیں جو 1500 میل یعنی 2400 کلومیٹر سے زیادہ جگہ پر پھیلے ہیں اور اس میں چھ بڑے اور درجن بھر چھوٹے جزائر بھی شامل ہیں۔

موسم[ترمیم]

اپنے بڑے اور وسیع رقبے کی وجہ سے ریاست ہائے متحدہ میں دنیا کے ہر خطے کا موسم پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر علاقے معتدل ہیں، ہوائی اور جنوبی فلوریڈا میں موسم منطقہ حارہ جیسا ہے، الاسکا میں قطبی، گریٹ پلینز میں نیم بارانی ہے، کیلیفورنیا کے ساحل پر بحیرہ روم کے ممالک جیسا اور گریٹ بیسن میں خشک ہے۔ اس ملک کے نسبتا فیاضانہ موسم نے اسے ورلڈ پاور بننے میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ اس کے زیادہ تر زرعی علاقے میں خشک سالی کم کم ہوتی ہے، سیلاب محدود علاقے تک رہتا ہے اور زیادہ تر معتدل موسم ہے جہاں مناسب حد تک بارش بھی ہوتی ہے۔

تاريخ[ترمیم]

پانچ صدیاں قبل تک ساری مشرقی دنیا یعنی براعظم یورپ، افریقہ اور ایشیا مغربی نصفکرہ کے ممالک امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک کے وجود سے بالکل بے خبر تھی۔ پندرہویں صدی کے اواخر میں یورپی مہم جوئی کا آغاز ہوا تو یکے بعد دیگرے مختلف ممالک اور خطے دریافت ہوتے چلے گئے۔

12 اکتوبر 1492 ءکو کولمبس امریکہ کے مشرقی ساحل کے قریب بہاماز پہنچا۔ یہ مقام امریکہ کے جنوب مشرقی ساحل پر فلوریڈا کے قریب واقع ہے۔ امریکہ کی سرزمین پر کسی یورپی کا یہ پہلا قدم تھا۔ پھر یکے بعد دیگرے مختلف مقامات کی دریافت کا سلسلہ چل پڑا۔ 1524 ءمیں فرانسیسی مہم جو ”جیووانی ویرازانو“ (Giovanni Verra Zano) ایک مہم لے کرکیرولینا سے شمال کی طرف بڑھتا ہوا نیویارک میں داخل ہوا۔ 1579 ءمیں فرانسسزڈریک (Francies Drake) مغربی ساحل پر سان فرانسیسکو کی خلیج میں داخل ہوا اور ایک برطانوی نوآبادی کی بنیاد رکھی۔ 1607 ءمیں کیپٹن جان سمتھ تین جہازوں میں 105 سپاہی لے کر ورجینیا کے ساحل پر اترا اور جیمز ٹائون کے نام سے پہلی برطانوی نوآبادی قائم کی۔ 1624 ءمیں البانی اور نیویارک کے علاقوں میں ولندیزی نوآبادیاں” نیو نیدرلینڈز “کے نام سے قائم ہوئیں۔

اس طرح مختلف یورپی ممالک کی نوآبادیاں بنتی چلی گئیں۔ ان نو آبادیوں میں آپس میں چپقلش اور بعض اوقات جنگ و جدل تک نوبت پہنچتی رہی۔ اس کے ساتھ ہی برطانوی حکومت نے اپنی نو آبادیوں سے واقعتا نوآبادیاتی سلوک شروع کر دیا۔ ان کا استحصال کرنے کے لئے آئے دن نت نئے ٹیکس عائد ہونے لگے۔ جس کی وجہ سے ان میں بے چینی اور بغاوت کے آثار پیدا ہونے لگے جو آخرکار تحریک آزادی کی شکل اختیار کر گئے۔ ہم یہاں مختصر طور پر چند مثالیں پیش کر کے اپنی بات کو واضح کریں گے۔

  • یکم دسمبر 1660 ءکو برطانوی پارلیمان نے جہازرانی کا قانون (Navigation Act) پاس کیا جس میں نوآبادیات کے ساتھ تجارت کو اپنے مفادات کے مطابق ضابطوں کا پابند بنایا گیا۔ 8 ستمبر 1664 ءکو برطانوی فوجی دستوں نے نیو نیدرلینڈز پر قبضہ کر لیا۔ 1676ءمیں نیتھانیل بیکن (Nathaneil Bacon) نے برطانوی آمریت کے خلاف کسانوں کی بغاوت کی قیادت کی۔ بیکن کا انتقال ہو گیا اور بغاوت ناکام ہو گئی۔ بیکن کے 23 ساتھیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
  • 6 اپریل 1712 ءکو نیویارک میں غلاموں نے بغاوت کر دی۔ باغیوں میں سے 21 قتل کر دیئے گئے، 6 نے خودکشی کر لی، 71 کو ملک بدر کر دیا گیا۔
  • 1764 ءمیں برطانوی حکومت نے شوگر ایکٹ (Sugar Act) نافذ کرکے نوآبادیات میں مختلف خوردنی اشیاءپر ٹیکس لگا دیا۔
  • 1765ءمیں برطانوی پارلیمینٹ نے اپنی افواج کے اخراجات پورے کرنے کے لئے سٹمپ ایکٹ (Stamp Act) پاس کیا۔ ا سی سال 7 اکتوبر کو نوآبادیوں نے نیویارک میں ایک کانگریس بلا کر عوامی حقوق کا اعلامیہ (Declaration of rights) جاری کیا۔
  • 1767ءمیں چائے اور دیگر کئی اشیاءپر ٹیکس لگا دیا گیا۔
  • 1770ءمیں برطانوی دستوں نے بوسٹن میں مظاہرہ کرنے والے ایک ہجوم پر گولی چلا دی، پانچ آدمی ہلاک ہوئے۔ جن میں مظاہرین کا لیڈر بھی شامل تھا۔ یہ واقعہ بوسٹن کا قتل عام (Boston massacre) کہلایا۔ مئی 1773ءمیں بوسٹن، نیویارک اور فلاڈلفیا میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے چائے کے جہاز واپس کر دیئے گئے۔ چائے پر لگائے جانے والے ٹیکس کے خلاف 4 اکتوبر کو چائے کے ایک جہاز کو آگ لگا دی گئی اور 16 دسمبر کو بوسٹن میں چائے کا سٹاک جہازوں سے سمندر میں پھینک دیا گیا۔ یہ واقعہ بوسٹن ٹی پارٹی (Boston tea party)کہلایا۔
  • 5 ستمبر 1774ءکو فلاڈلفیا میں پہلی براعظمی کانگریس (First continental congress) منعقد ہوئی جس میں برطانوی حکومت کے خلاف (Civil disobedience) شہری عدم تعاون کی قرارداد منظور ہوئی۔
  • 23 مارچ 1775ءکو ورجینیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرک ہنری (Patrick Henry) نے یہ تاریخی الفاظ کہے۔

Give me Liberty or give me Death

”مجھے آزادی دو یا موت دے دو“

  • 1776ءمیں 7 جون کو براعظمی کانگریس میں رچرڈ ہنری لی نے قرارداد پیش کی کہ ” ان متحدہ نوآبادیات کو آزاد اور خودمختار رہنے کا حق حاصل ہے۔“
  • 2 جولائی کو یہ قرارداد منظور ہوئی اور 4 جولائی کو اعلان خود مختاری (Declaration of Independence) پر دستخط ہو گئے۔

مارچ 1782 ءمیں برطانوی کابینہ نے امریکہ کی خودمختاری کو تسلیم کر لیا۔ 1789ءمیں جارج واشنگٹن امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے اور 1796ءمیں وہ اس عہدے سے ریٹائر ہو گئے۔ جارج واشنگٹن امریکہ کے عظیم رہنما تھے ان کے بارے میں First in war, first in peace, first in the hearts of his countrymen یعنی ”جنگ میں بھی ادّل امن میں بھی اوّل اور اپنے ہم وطنوں کے دلوں میں بھی اول کا مقولہ بہت مشہور ہے۔ واشنگٹن نے عہدہ صدارت سے سبکدوش ہوتے وقت اپنی قوم کو خبردار کیا تھا کہ ”کسی غیر ملکی حکومت سے کبھی کوئی مستقل الائنس (اتحاد) نہ بنانا۔

اب ہم 4 جولائی کے اعلان آزادی پر واپس آتے ہیں اور تاریخ کے اوراق میں سے اس اعلان آزادی پر دستخط کرنے والے وطن پرستوں پر برطانوی افواج کے ہاتھوں روا رکھے جانے والے انسانیت سوز وحشیانہ مظالم کا کھوج لگاتے ہیں۔ یہ نہایت دلدوز کہانی ہے اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کے لئے سبق آموز ہے۔

ان عظیم لوگوں کی کل تعداد 56 تھی جنہوں نے اعلان پر دستخط کئے۔ یہ نہایت آسودہ حال اور خوش حال لوگ تھے۔ ان میں سے 14 قانون دان تھے ، 13 کا تعلق عدلیہ سے تھا یعنی جج تھے، 11 تاجر تھے، 12 زمیندار اور جنگلات کے مالک تھے ایک پادری اور تین ڈاکٹر تھے۔ دو کا تعلق دیگر معزز پیشوں سے تھا۔ ان سب انقلابیوں نے اعلان آزادی پر یہ جانتے ہوئے بھی دستخط کئے کہ اس کی سزا انہیں گرفتاری اور موت کی شکل میں ملے گی۔

  1. ان میں 5 دستخط کنندگان کو برطانوی قابض افواج نے گرفتار کر کے غداری کے الزام میں اتنے ظالمانہ تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
  2. بارہ انقلابیوں کے گھر تباہ و برباد کر کے نذر آتش کر دیئے گئے۔
  3. دو انقلابیوں کے بیٹے جو انقلابی عسکری دستوں میں کام کر رہے تھے جان سے مار دیئے گئے۔
  4. ایک اور انقلابی کے دو بیٹے گرفتار کر کے غائب کر دیئے گئے۔
  5. 56 انقلابیوں میںسے 9 عسکری جدوجہد میں شریک رہے اور انقلاب کی اذیت ناک تکالیف اور زخموں سے ہلاک ہو گئے۔
  6. ورجینیا کے ایک خوشحال اور مالدار تاجر نے دیکھا کہ اس کے تجارتی جہاز سمندروں میں سے برطانوی بحریہ قبضہ کر کے لے گئی ہے۔ اس نے اپنا گھر اور اپنی بقیہ جائیداد بیچ کر اپنے قرضے ادا کئے اور انتہائی مفلسی کی موت قبول کی۔
  7. ایک اور انقلابی تھامس میک کین (Mckean) کا برطانوی فوج نے اس قدر پیچھا کیا کہ اسے بار بار اپنی سکونت تبدیل کرنی پڑی اور اپنے خاندان کو ادھر ادھر منتقل کرنا پڑا۔ وہ کانگریس میں بغیر تنخواہ کام کرتا رہا۔ اس کی فیملی مسلسل روپوشی کے عالم میں رہی۔ اس کا سارا اسباب خانہ لوٹ لیا گیا ۔اور اس کو بقیہ عمر ناداری کے عالم میں گزارنی پڑی
  8. برطانوی فوج کے سپاہیوںاور لٹیرے رضاکاروں نے ولیم ایلری (Welliam Ellery) لائمن ہال (Lyman Hall) جارج کلائمر (George Clymer) جارج والٹن (George Walton) بٹن گوئینٹ (Button Gwinnet)تھامس ہیورڈ جونیئر (Thomas Heyward Jr.) ایڈورڈ رٹلیج (Edward Rutledge) اور آرتھر مڈلٹن (Arthur Middleton) کی تمام جائیدادیں لوٹ کر تباہ و برباد کر دیں۔
  9. یارک ٹائون کے معرکہ میں تھامس نیلسن (Thomas Nelson) نے نوٹ کیا کہ برطانوی جنرل کارنوالس نے نیلسن کے گھر پر قبضہ کر کے اسے اپنا ہیڈکوارٹر بنا لیا ہے۔ اس نے خاموشی سے انقلاب کے جنرل واشنگٹن کو مشورہ دیا کہ اس کا گھر گولہ باری سے اڑا دیا جائے۔ گھر تباہ ہو گیا اور نیلسن قلاش ہو کر مرا۔
  10. فرانسیس لیوس (Fracis Lewis) کا گھر تباہ کر دیا گیا اور اس کی بیوی کو جیل میں ڈال دیا گیا۔ جہاں وہ چند ماہ بعد خالق حقیقی سے جا ملی۔
  11. جان ہارٹ (John Hart) کو اس کی بیوی کے بستر مرگ سے جدا کر دیا گیا۔ اس کے 13 بچے اپنی جانیں بچانے کے لئے بھاگ گئے۔ جان ہارٹ کے کھیت اور اس کی آٹا پیسنے کی مل تباہ و برباد کر دی گئی۔ ایک سال تک وہ جنگلوں اور غاروں میں چھپا پھرتا رہا اور جب وہ گھر واپس آیا تو اس کی بیوی مرچکی تھی اور بچے نہ معلوم کہاں چلے گئے تھے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد وہ خود بھی نہایت دل شکستگی کے عالم میں فوت ہو گیا۔
  12. رابرٹ مورس (Robert Moriss) اور فلپ لیونگ سٹون (Philip Levingstone) کو بھی اسی نوع کے حالات سے گزرنا پڑا۔
  13. 22 ستمبر 1776 ءکو برطانوی افواج نے تحریک آزادی کے ایک رہنما ناتھن ھیل (Nathan Hale)کو جاسوسی کے الزام میں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مرنے سے پہلے اس کی زبان سے یہ تاریخی الفاظ ادا ہوئے:”مجھے افسوس ہے کہ وطن کو دینے کے لئے میرے پاس صرف ایک زندگی ہے۔“

اسی طرح کی قربانیوں سے امریکی انقلاب کے سبھی رہنمائوں کو گزرنا پڑا۔ یہ سب لوگ خوشحال اور تعلیم یافتہ لوگ تھے۔ جرائم پیشہ، فسادی یا تخریب کار قسم کے لوگ نہیں تھے۔ یہ سب حکومت برطانیہ کے رعایا تھے اور اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے جس سے حکمرانوں کا تعلق تھا۔ امریکہ کے سبھی نوآبادکار لوگ انگلینڈ، سکاٹ لینڈ، آئرلینڈ، ویلز اور یورپ کے مختلف ممالک سے آئے تھے۔ ان کا مذہب بھی وہی تھا جو حکمرانوں کا تھا۔ یہ سب حضرت مسیح کے ماننے والے رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ تھے۔ اگر یہ خاموش بیٹھے رہتے تو انہیں حکومت میں بڑے بڑے عہدے مل سکتے تھے اور یہ نہایت پرآسائش زندگی گزار سکتے تھے۔ لیکن ان عظیم انقلابی لوگوں نے امریکی عوام کو برطانوی سامراج کی لعنت سے نجات دلانے کے لئے 4جولائی 1776 ءکو ملک کے کونے کونے سے فلاڈلفیا کے مقام پر جمع ہو کر کانگریس کے آئینی کنونشن میں شامل ہوکر اعلان خود مختاری پر دستخط کئے۔ انہوں نے اپنے آرام و آسائش پر آزادی کو ترجیح دی اور یہ عہد کیا کہ

”اس اعلان آزادی و خودمختاری کی تائید کے لئے پروردگار عالم کی قوت حاکمہ کی حفاظت اور مدد پر پورا بھروسہ کرتے ہوئے ہم آپس میں یہ عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے حصول مقصد کے لئے اپنی جانوں، اپنی جائیدادوں اور اپنی عزت و ناموس کے ساتھ اس کا تحفظ اور اس کی تائید کریں گے۔“

اس عزم و استقلال کے نتیجے میں انقلابی قیادت کو جن مشکلات اور مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا ان کا مختصر بیان اوپر کی سطور میں آ چکا ہے۔ لیکن ان انقلابی قائدین کے سامنے واضح منزل تھی۔ اپنے ملک کی آزادی و خودمختاری۔ وہ اس منزل کی طرف ثابت قدمی سے بڑھتے رہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اعلان خود مختاری کے225 سال بعد ترقی و تعمیر کی تمام منزلیں طے کر کے امریکہ دنیا کی سپر طاقت بن چکا ہے اور تاج برطانیہ کے کئے گئے مظالم کا بدلہ بے گناہ مسلمانوں سے لے رہا ہے۔

اصلی امریکی[ترمیم]

یورپی نوآبادیوں کی ابتدا سے قبل امریکہ میں مختلف مقامی قبائل آباد تھے جن میں الاسکا کے قبائل بھی تھے جو 35000 سال سے لیکر 11000 سال قبل تک یہاں آباد ہوتے رہے۔

یورپی نوآبادیاں[ترمیم]

آج تک سب سے پہلا بندہ جس نے امریکہ کی سرزمین پر باہر سے آکر قدم رکھا، وہ کرسٹوفر کولمبس ہے جس نے 19 نومبر 1493 کو ریو ڈی جنیریو میں اپنے دوسرے بحری سفر کے دوران سفر کیا تھا۔ سان جوان جو کہ امریکہ کی سرزمین پر پہلی یورپی نوآبادی تھی، 8 اگست 508 میں جوان پونسی ڈی لائن نے قائم کی۔ جوان پونسی ڈی لائن تاریخ کا پہلا یورپی بندہ بنا جس نے براعظم امریکہ میں فلوریڈا کے ساحل پر 2 اپریل 1513 کو پہلا قدم رکھا۔فلوریڈا ابتدائی یورپی نوآبادیوں کا مرکز بنی جن میں پنساکولا، فورٹ کیرولائن اور سینٹ آگسٹائن شامل ہیں۔ سینٹ آگسٹائن وہ واحد نو آبادی ہے جو اپنے قیام سے لے کر اب تک مسلسل آباد رہی ہے۔

فرانسیسیوں نے ملک کا شمال مشرقی حصہ، ہسپانیوں نے جنوبی اور مغربی حصہ آباد کاری کے لئے چنا۔ پہلی کامیاب انگریزی آبادکاری جیمز ٹاؤن، ورجینیا میں 1607ء میں قائم ہوئی۔ اس کے فورا بعد 1620ء میں پلے ماؤتھ، میسا چوسٹس میں بھی آباد کاری ہوئی۔ 1609ء اور 1617ء میں ولندیزی آبادکار موجودہ نیو یارک اور نیو جرسی کے علاقوں میں آباد ہوئے۔ 17ویں اور 18ویں صدی کے اوائل میں انگلینڈ (جو بعد ازاں عظیم برطانیہ بنا) نے ولندیزی کالونیوں پر قبضہ کرکے یا تو انہیں ختم کرکے یا تقسیم کرکے نئی نوآبادیاں بنائیں۔ 1729ء میں کیرولینا کی تقسیم کے بعد اور 1732ء میں جارجیا کی آبادکاری کے بعد برطانوی کالونیاں شمالی امریکہ (موجودہ کینیڈا کے علاوہ) تک پھیل گئیں اور مشرقی اور مغربی فلوریڈا کی شاہی کالونیوں کو تیرہواں نمبر دیا گیا۔ بیشتر اصلی امریکی مار دیے گئے یا پھر دوسرے علاقوں کو چلے گئے۔

امریکی انقلاب اور ابتدائی جمہوریہ[ترمیم]

1760ء سے 1770ء کے دوران امریکی نو آبادیوں اور برطاونی راج کے درمیان جاری کشیدگی نے 1775ء کی کھلی لڑائی کا روپ دھار لیا۔ جارج واشنگٹن نے جنگ انقلاب کے دوران کانٹی نینٹل فوج کی سربراہی کی کیونکہ دوسری کانٹینینٹل کانگریس نے 4 جولائی 1776 کو آزادی کے اعلان کو قبول کر لیا تھا۔ کانگریس کا قیام اس لئے عمل میں آیا تھا تاکہ برطانوی اقدام کی مخالفت کی جاسکے لیکن اس کانگریس کو ٹیکسوں کے نفاذ کا اختیار حاصل نہیں تھا۔ 1777ء میں کانگریس نے آرٹیکل آف کنفیڈریشن کو تسلیم کیا جس کے تحت تمام ریاستیں ایک لچکدار وفاقی حکومت کے تحت اکٹھی ہو گئیں۔ یہ آرٹیکل 1781ء سے لے کر 1788ء تک نافذ العمل رہا۔ قومی حکومت کی کمزوری کی وجہ سے 1787ء کا آئین بنانا پڑا۔ جون 1788ء میں اکثر ریاستوں نے نئی حکومت کے قیام کے لئے ریاست ہائے متحدہ کو قبول کر لیا۔ آئین کے باعث اس اتحاد کو مضبوطی ملی اور وفاقی حکومت کو یہاں کی سب سے بڑی حکومت اور مقننہ تسلیم کر لیا گیا۔

مغربی توسیع[ترمیم]

1803ء سے 1848ء تک اس نئی قوم کے حجم میں تین گنا اضافہ ہوا کیونکہ آباد کاروں کو مغربی سرحدوں سے باہر دھکیل دیا گیا۔ 1812ء کی جنگ[1] کی وجہ سے توسیع کچھ متاثر ہوئی لیکن امریکہ-میکسیکو جنگ کے بعد 1848ء میں یہ اور زیادہ تیز ہوئی۔

1830ء سے 1880ء تک چار کروڑ امریکی بھینسوں کو کھال اور گوشت کے لئے اور ریلوے کی توسیع کے لئے قتل کیا گیا۔ ریلوے کے توسیع سے لوگوں اور اشیا کی نقل و حمل آسان اور جلدی ہونے لگ گئی اور اس سے مغرب کی طرف توسیع آسان ہوئی لیکن انڈین لوگوں سے جھڑپیں تیز ہوتی گئیں جس کی وجہ سے مقامی ثقافت اور مقامی افراد کی بقا خطرے میں پڑتی گئی۔

خانہ جنگی[ترمیم]

جوں جوں نئی سرزمینیں شامل ہوتی گئیں، ریاستی اختیارات، وفاقی حکومت کا کردار، غلاموں کی تجارت جو کہ تیرہ ریاستوں میں قانونی تھی، اور شمال کی طرف اس کا کوئی رحجان نہ دکھائی دیتا تھا اور جو 1804ء میں ختم ہوئی، جیسے مسائل پر قوم مختلف آراء میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔ شمالی ریاستیں غلاموں کی تجارت کے خلاف جبکہ جنوبی ریاستیں اس کے حق میں تھیں اور انہوں نے اس کو اپنے معامالات میں مداخلت سمجھا کیونکہ ان کی معیشت کا بڑا حصہ اس تجارت سے وابستہ تھا۔ ان مسائل کے حل میں ناکامی کی وجہ سے خانہ جنگی کی ابتدا ہوئی۔ 1860ء میں ابراہم لنکن کے انتخاب کے بعد جنوبی ریاستوں نے مل کر ایک الگ امریکی حکومت بنا ڈالی۔ 1865ء کی خانہ جنگی میں وفاق کی فتح سے غلاموں کی تجارت ختم ہوئی اور اس سوال کا جواب مل گیا کہ کیا ریاستیں اپنی مرضی سے اپنے موقف سے پیچھے ہٹ سکتی ہیں۔ امریکی تاریخ میں یہ ایک اہم موڑ تھا اور اس کی وجہ سے وفاق کی طاقت میں اضافہ ہوا۔

تعمیر نو اور صنعتی انقلاب[ترمیم]

خانہ جنگی کے بعد اتنی بڑی تعداد، جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی تھی، میں لوگوں نے امریکہ آنا شروع کردیا ، کی وجہ سے امریکی صنعتوں کو سستے مزدور ملنے لگے اور غیر ترقی یافتہ حصوں میں مختلف اقوام کے لوگوں نے اپنا ماحول بنا ڈالا۔ اس وجہ سے معاوضوں کا تحفظ، قومی انفرا سٹرکچر کی تعمیر اور بینکوں کے نظام کی باقاعدگی ہوئی۔ ریاست ہائے متحدہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کی وجہ سے انہوں نے نئی ریاستوں کو خریدنا شروع کردیا جن میں پورٹو ریکو اور فلپائن بھی شامل ہیں، جو سپین اور امریکہ کی جنگ میں فتح کے بعد خریدی گئیں۔ ان کی وجہ سے امریکہ کا شمار دنیا کی سپر پاورز میں ہونے لگا۔

جنگ عظیم اول اور جنگ عظیم دوم[ترمیم]

1914ء میں پہلی جنگ عظیم کے آغاز پر ریاست ہائے متحدہ غیر جانبدار رہی۔ تاہم 1917ء میں ریاست ہائے متحدہ نے اتحادیوں کا ساتھ دیا اور ان کےمخالفین کی شکست کا باعث بنا۔ تاریخی اعتبار سے بھی امریکہ ہمدریاں برطانوی اور فرانسیسی طرف تھیں اگرچہ بہت بڑی تعداد میں جرمن اور آئرش عوام نے اس کی مخالفت بھی کی تھی۔ تاہم جنگ کے بعد، سینیٹ نے ورسیلز کے امن معاہدے میں شمولیت سے انکار کردیا کیونکہ اس سے ریاست ہائے متحدہ کا عمل دخل یورپ میں بڑھ جانے کا خطرہ تھا۔ اس کے بجائے انہوں نے ایک طرف ہونے کو ترجیح دی۔

1920ء کے عشرے کے دوران زیادہ تر امریکہ نے بہت زیادہ ترقی کے مزے لوٹے کیونکہ فارموں کی قیمتیں گریں اور صنعتی منافع جات بڑھے۔ اس کی وجہ سے 1929ء میں سٹاک مارکیٹ کریش ہوئی اور اس وجہ سے عظیم مندی دیکھنی پڑی۔ فرینکلن ڈیلانو روز ویلٹ نے 1932ء میں صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد اس ضمن میں ایک نیا منصوبہ بنایا اور اس سے معیشت میں حکومتی مداخلت بڑھی۔

1941ء تک امریکی قوم اس عظیم مندی کے اثرات سے پوری طرح باہر نہ آسکا تھا کہ پرل ہاربر پر ہونے والے حملے کی وجہ سے امریکہ کو پھر اتحادی افواج کا ساتھ دینا پڑا۔ دوسری جنگ عظیم امریکی تاریخ کی سب سے مہنگی جنگ ہے لیکن اس کی وجہ سے امریکی معیشت کو بہت سہارا ملا کیونکہ جنگی مال کی طلب کی وجہ سے نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں اور خواتین کو بھی پہلی بار ملازمتوں میں حصہ ملا۔ جنگ کے دوران سائنسدانوں نے امریکہ کی وفاقی حکومت کو دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے کے لئے شب و روز کام کیا۔ یورپ میں اس جنگ کے خاتمے کے بعد، امریکہ نے جاپان کے دو شہروں ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تاکہ بقول امریکی انتظامیہ اور زرائع ابلاغ کے، "جنگ کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکے"۔ ہیرو شیما اور ناگاساکی پر گرائے جانے والے ایٹم بم، دنیا کے دوسرے اور تیسرے ایٹم بم تھے اور تاحال یہ کسی حکومت کی طرف سے جنگ میں استعمال کئے جانے کی واحد مثالیں ہیں۔ [2]

اس کے فورا بعد، 2 ستمبر 1945ء میں جاپان نے ہتھیار ڈال دئیے اور دوسری جنگ عظیم کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔

سرد جنگ اور شہری حقوق[ترمیم]

جنگ عظیم کے خاتمے پر ریاست ہائے متحدہ اور سوویت یونین سپر پاور بن کر ابھرے اور ان کے درمیان جاری کشمکش نے سرد جنگ کا روپ اختیار کر لیا۔ امریکہ نے عوام کی آزادی اور سرمایہ داری کو فروغ دیا جبکہ سوویت یونین نے کمیونزم اور مرکزی منصوبہ شدہ معیشت کو پروان چڑھایا۔ اس کا نتیجہ کئی بالواسطہ جنگوں کی صورت میں نکلا جن میں کوریا کی جنگ اور ویت نام، کیوبین میزائل بحران اور سوویت یونین کی افغانستان کے ساتھ جنگ شامل ہیں۔

اس اندازے کی بنیاد پر کہ ریاست ہائے متحدہ خلائی ریس میں بہت پیچھے رہ گیا ہے، کی وجہ سے سکولوں کی سطح پر سائنس اور ریاضی کی مہارت میں اضافے کے سلسلے میں حکومت نے بہت سے اقدامات اٹھائے۔ صدر جان ایف کینیڈی نے 1960ء میں اعلان کیا کہ وہ چاند پر پہلا آدمی بھیجیں گے، اور 1969ء تک یہ بھی مکمل ہو گیا۔

اسی دوران امریکی معاشرہ معاشی پھیلاؤ کے متناسب دور سے گزرا۔ ساتھ ہی ساتھ عوام میں شعور بیدار ہوا اور مختلف تفریقوں کے لئے افریقی امریکی مثلا مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نمایاں ہیں۔ اس کے نتیجے میں جم کرو قوانین کو جنوبی ریاستوں میں ختم کردیا گیا۔

1991ء میں سوویت یونین کے زوال کے بعد امریکہ نے دوسرے ممالک کی جنگوں جیسا کہ خلیجی جنگ، میں مداخلت جاری رکھی۔ امریکہ اب دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔

÷=== 11 ستمبر 2001ء اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ===

انتباہ: اس مضمون میں ہو سکتا ہے کہ کچھ غیر مصدقہ باتیں شامل ہوں۔ براہ کرم ان کی تصدیق یا تردید کے لئے گفتگو کا ربط استعمال کریں۔ یاد رہے کہ یہ مضمون انگریزی والے ویکی پیڈیا کا ترجمہ ہے۔

11 ستمبر 2001ء کو القاعدہ کے انیس ارکان نے چار کمرشل ہوائی جہازوں کو اغوا کرلیا۔ (بقول امریکہ کے) دو جہازوں کو نیو یارک شہر میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاوروں سے ٹکرا دیا گیا اور تیسرا جہاز پینٹاگون، واشنگٹن ڈی سی سے ٹکرا کر تباہ کیا گیا ۔ چوتھا جہاز ہائی جیکرز اور مسافروں کے درمیان جنگ کی وجہ سے شانکسول، پینسلوانیا میں تباہ ہوا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چوتھا جہاز اغوا ہوجانے کے بعد امریکی جنگی طیاروں نے خود ہی کسی مزید ممکنہ حملے کے خوف سے مار گرایا ۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد، امریکہ خارجہ پالیسی دہشت گردی کی عالمی صورتحال پر مرکوز ہوگئی۔ جواب کے طور پر جارج ڈبلیو بش کی زیر صدارت، امریکی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت سارے فوجی اور قانونی آپریشن شروع کئے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ 8 اکتوبر 2001ء میں شروع ہوئی جب امریکہ کی سربراہی میں افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف فوجی کاروائی شروع ہوئی تاکہ القاعدہ کی تنظیم اور اس کے لیڈروں کو باہر نکالا جائے۔ 11 ستمبر کے واقعات نے امریکی تحفظ کے خلاف ہونے والے کسی بھی واقعے کے خلاف پیشگی حملوں کی پالیسی کو جنم دیا جسے بش ڈاکٹرائن کے نام سے جانا جاتا ہے۔

2002ء کو قوم سے خطاب کے دوران، صدر جارج ڈبلیو بش نے شمالی کوریا، عراق اور ایران کو برائی کا محور قرار دیا اور بتایا کہ یہ ممالک امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف بڑا خطرہ ہیں۔ اسی سال امریکہ نے عراق میں حکومت کی تبدیلی کے اشارے دینا شروع کردئیے۔ اقوام متحدہ کی کئی قراردوں کی ناکامی اور صدام حسین کی طرف سے ہتھیار ڈالنے سے انکار کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے مارچ 2003ء میں عراق پر حملہ کردیا۔ اس حملے کے جواز کے طور پر امریکی حکومت نے کہا کہ عراق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا ذخیرہ ہے اور یہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے لئے تگ و دو کر رہا ہے۔ جنگ کے بعد بہت کم مقدار میں غیر ایٹمی ہتھیاروں کے چند ذخیرے ملے اور اس کے بعد امریکی حکومت نے اقرار کیا کہ انہوں نے غلط جاسوسی اطلاعات پر حملہ کیا تھا۔ دسبمر 2006ء (جب اصل مضمون لکھا گیا) عراق کی آزادی کی جنگ جاری تھی۔

(نوٹ برائے ایڈمن: اس افقی لائن سے اوپر اور نیچے دو مختلف امریکی تاریخیں دی گئی ہیں، ان میں سے کسی ایک کا چناؤ کر لیجئے گا)

تفصیلی مضمون: سقوط بغداد 2003ء
تفصیلی مضمون: اسامہ بن لادن

انسانی حقوق[ترمیم]

امریکی ذرائع ابلاغ آئین کے تحت شہریوں کو ترمیم 1 تا 5 کے تحت حاصل انسانی حقوق کا ذکر فخریہ کرتے ہیں۔ البتہ امریکی عدالتوں کے کئی فیصلے ان ترامیم کا لحاظ نہیں کرتے۔[3] امریکی عدالت عظمیٰ کا حکم ہے کہ اگر حکومت قومی سلامتی کا خدشہ بتائے تو کوئی امریکی عدالت کسی شخص کی فریاد نہیں سُن سکتی۔[4]

طريق حكومت[ترمیم]

سیاسی نظام[ترمیم]

ریاست ہائے متحدہ دنیا کی سب سے زیادہ عرصہ تک قائم رہنے والی آئینی جمہوریہ ہے جس کا آئین دنیا کا سب سے پرانا اور مکمل طور پر تحریری ہے۔ اس کی حکومت کا انحصار کانگریسی نظام کے تحت نمائندہ جمہوریت پر ہے جو آئین کے تحت اختیارات کی حامل ہوتی ہے۔ تاہم یہ کوئی عام نمائندہ جمہوریت نہیں ہے بلکہ اس میں اکثریت کو اقلیت کے حقوق کے لئے آئینی طور پر پابند کیا گیا ہے۔ حکومت تین سطحی ہے، وفاقی، ریاستی اور مقامی۔ ان تینوں سطحوں کے اراکین کا انتخاب یا تو رائے دہندگان کے خفیہ ووٹ سے یا پھر دوسرے منتخب اراکین کی طرف سے نامزدگی کی مدد سے ہوتا ہے۔ ایگزیکٹو اور قانون ساز دفاتر کا فیصلہ شہریوں کی طرف سے ان کے متعلقہ حلقوں میں اجتماعی ووٹ سے کیا جاتا ہے، عدلیہ اور کابینہ کی سطح کے دفاتر کو ایگزیکٹو برانچ نامزد کرتی ہے اور مقننہ انہیں منظور کرتی ہے۔ کچھ ریاستوں میں عدلیہ کی نشستیں عام انتخابات سے پر کی جاتی ہیں۔

وفاقی حکومت تین شاخوں سے مل کر بنتی ہے جن کی تشکیل ایک ایک دوسرے کے اختیارات پر چیک اینڈ بیلنس کی خاطر کی گئی ہے:

  • مقننہ: کانگریس جو کہ سینیٹ اور ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز سے مل کر بنتی ہے اور یہ وفاقی قوانین بناتی ہے، اعلان جنگ کرتی ہے، معاہدوں کی منظوری دیتی ہے اور مواخذے کا اختیار شامل ہے۔
  • ایگزیکٹوز: صدر، جو کہ سینیٹ کی رضامندی کے ساتھ کابینہ اور دیگر افسران کی نامزدگی کرتا ہے، وفاقی قوانین کی دیکھ بھال اور ان کی بالادستی قائم کرتا ہے، بلوں کو مسترد کرسکتا ہے اور فوج کا کمانڈر ان چیف بھی ہوتا ہے
  • عدلیہ: سپریم کورٹ اور زیریں وفاقی عدالتیں جن کے ججوں کا تعین صدر سینیٹ کی منظوری سے کرتا ہے، جو قوانین کی تشریح کرتے ہیں اور آئین کے تحت ان کی معیاد مقرر کرتے ہیں اور وہ قوانین جو غیر آئینی ہو گئے ہوں، انہیں ختم بھی کرسکتے ہیں۔

امریکی کانگریس دو ایوانوں پر مشتمل مقننہ ہے۔ایوانِ نمائندگان( ہاؤس آف رپریزنٹیٹوز) کے ارکان کی تعداد 435 ہے، ہر ایک الگ ضلعے کی نمائندگی دو سال کے لئے کرتا ہے۔ ہر ریاست کو اس کی آبادی کی شرح سے سیٹوں کی تعداد ملتی ہے۔ آبادی کا تعین ہر دس سال بعد از سر نو کیا جاتا ہے۔ہر ریاست کو کم از کم ایک نمائندے کی اجازت ہوتی ہے: سات ریاستوں کے ایک ایک نمائندے ہیں، کیلیفورنیا کے نمائندگان کی تعداد سب سے زیادہ 53 ہے۔ ہر ریاست کے دو سینیٹر ہوتے ہیں جو کہ ریاستی سطح پر چھ سال کے لئے منتخب ہوتے ہیںْ۔ ایک تہائی سینیٹ کے انتخابات ہر دوسرے سال منعقد ہوتے ہیں۔

ریاست ہائے متحدہ کا آئین امریکی نظام میں سب سے اعلٰی قانونی دستاویز ہے اور اسے سماجی معاہدہ بھی سمجھا جاسکتا ہے جو کہ امریکی شہریوں اور ان کی حکومت کے مابین ہے۔ وفاقی اور ریاستی حکومت کے تمام قوانین پر نظر ثانی کی جاتی ہے جو کسی طور پر بھی آئین کے خلاف ہوں اور عدلیہ انہیں ختم بھی کرسکتی ہے۔ آئین ایک زندہ دستاویز ہے اور اس میں ترمیم کئی طریقوں سے کی جاسکتی ہے لیکن اس کی بہر طور منظوری ریاستی اکثریت ہی دیتی ہے۔اب تک آئین میں 27 بار ترمیم کی جاچکی ہے۔ آخری ترمیم 1992ء میں کی گئی تھی۔ آئین میں آزادی کی ضمانت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حقوق کی بھی وضاحت موجود ہے اور دیگر ترامیم بھی جن میں آزادئ اظہار رائے، مذہب، پریس کی آزادی، منصفانہ عدالتی کارروائی، ہتھیار رکھنا اور ان کا استعمال، ووٹ کا حق اور غریبوں کے حقوق شامل ہیں۔ تاہم ان قوانین کو کس حد تک استعمال کیا جاتا ہے، قابل بحث بات ہے۔ آئین ایک عوامی طرز کی حکومت کی ضمانت دیتا ہے لیکن اس کی بہت کم وضاحت کی گئی ہے۔

امریکی سیاست پر ریپبلک اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے اثرات بہت گہرے ہیں اور انہی جماعتوں کی حکمرانی ہے۔ وفاقی، ریاستی اور نچلے درجوں کی حکومت میں انہی پارٹیوں کی اکثریت موجود ہے۔ آزاد امیدوار نچلے درجوں پر بہتر کام کرسکتے ہیں اگرچہ ان کی کچھ مقدار سینیٹ اور ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز میں بھی موجود ہے۔ امریکی سیاسی کلچر کے مطابق ری پبلک پارٹی کو دائیں بازو کی جماعت یا قدامت پرست جماعت کہا جاتا ہے جبکہ ڈیمو کریٹک پارٹی کو بائیں بازو کی جماعت یا آزاد خیال جماعت کہا جاتا ہے۔ تاہم پارٹیوں کے حجم اور ان کے قوانین میں لچک کی وجہ سے دونوں پارٹیوں کے اراکین کی رائے بہت مرتبہ پارٹی سے مختلف بھی ہو جاتی ہے اور آپ محض پارٹی کے نام کی وجہ سے اس کے رائے کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔

2001ء سے امریکی صدرجارج ڈبلیوبش ایک ری پبلکن صدر ہیں۔ 2006ء کے وسط مدتی انتخابات کے دوران ڈیمو کریٹس کو 1994ء کے بعد دونوں ایوانوں میں پہلی بار اکثریت حاصل ہوئی ہے۔

حالت جمہوریت[ترمیم]

امریکہ نے برطانوی بادشاہت سے بغاوت کے بعد ملک کی بنیاد جمہوریت پر رکھی تاہم ووٹ کا حق صرف زمیندار مردوں کو دیا گیا۔ آئین میں ترامیم کے زریعہ عوام کو بنیادی حقوق دیے گئے۔ اس کے بعد 1920ء میں خواتین کو بھی ووٹ کا حق دے دیا گیا اور پھر 1950ء کی دہائی میں حقوق کی تحریک کے بعد کالوں کو بھی ووٹ کا حق مل گیا۔ پھر 2008ء میں ایک کالا امریکی صدر، باراک حسین اوباما، منتخب ہوا۔ تاہم 2001ء کے واقعات کے بعد امریکی سرکار بہت سے ایسے قوانین بنا چکی تھی جس میں عوام کے حقوق سلب کیے جاتے رہے۔ حتٰی کہ 2013ء میں کالے صدر کے دور حکومت میں سابق امریکی صدر جمی کارٹر کو یہ کہنا پڑا کہ آج ملک میں عملی جمہورت موجود نہیں۔[5]

America does not have a functioning democracy at this point in time

خارجہ تعلقات اور فوج[ترمیم]

امریکہ کا دنیا بھر میں وسیع معاشی، سیاسی اور فوجی اثر ہے جس کی وجہ سے اس کی خارجہ پالیسی دنیا بھر میں مباحثوں کا ایک پسندیدہ موضوع ہے۔ تقریبا تمام ممالک کے سفارت خانے واشنگٹن ڈی سی میں موجود ہیں اور قونصل خانے پورے ملک میں موجود ہوتے ہیں۔ تاہم کیوبا، ایران، شمالی کوریا اور سوڈان کے امریکہ کے ساتھ کوئی خاص سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ امریکہ اقوام متحدہ کا بانی رکن ہے اور اسے سلامتی کونسل میں مستقل نشست بھی ملی ہوئی ہے اور اس کے علاوہ اور بھی بہت سے بین الاقوامی اداروں کا بھی رکن ہے۔ امریکہ میں فوجی معاملات میں شہری کنٹرول کی طویل روایت موجود ہے۔ محکمہ دفاع کا کام امریکی مسلح افواج کو سنبھالنا ہے جو کہ بری، بحری، میرین کارپس اور فضائی افواج پر مشتمل ہے۔ کوسٹ گارڈ زمانہ امن میں محکمہ داخلہ کے ذمے ہے اور دوران جنگ یہ بحری فوج کے ماتحت۔

امریکی فوج میں چودہ لاکھ افراد خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور کئی لاکھ مزید افراد ریزور اور نیشنل گارڈز کی صورت میں موجود ہیں۔ فوجی خدمات سرانجام دینا ایک رضاکارانہ فعل ہے تاہم بعض اوقات عام لام بندی کے احکامات بھی دئیے جا سکتے ہیں۔ امریکہ کی فوج دنیا کی سب سے زیادہ طاقتور فوج ہے۔ اس کا بجٹ بھی دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ امریکی فوجی بجٹ 2005 میں امریکہ کے بعد آنے والے چودہ ممالک کے فوجی بجٹ سے زیادہ ہے۔ مزے کی بات کہ امریکہ کا فوجی بجٹ کل ملکی آمدنی کا صرف چار فیصد ہے۔ امریکی فوج کے زیر انتظام 700 سے زیادہ مراکز ہیں۔ انٹارکٹیکا کے سوا دنیا کے ہر براعظم میں اس کے فوجی مراکز موجود ہیں۔

انتظامی تقسیم[ترمیم]

امریکہ کی ریاستیں
اس زمرے کے اصل مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: امریکہ کی ریاستیں

اڑتالیس ریاستیں، الاسکا اور ہوائی کے سوا، جو زمینی طور پر ایک ساتھ موجود ہیں، مل کر کانٹیننٹل ریاست ہائے متحدہ کہلاتی ہیں۔ کچھ ذرائع الاسکا کو بھی اس میں شامل سمجھتے ہیں کیونکہ یہ امریکہ کی دیگر ریاستوں سے تو ہٹ کر ہے لیکن ہے براعظم شمالی امریکہ کا حصہ ہی۔ ڈسٹرکٹ کولمبیا اس میں شمار ہوتا ہے۔ ہوائی، جسے پچاسویں ریاست کہا جاتا ہے، بحرالکاہل میں جزائر کی ایک پٹی کی صورت میں ہے۔

ریاست ہائے متحدہ کے پاس کئی دیگر علاقے موجود ہیں جن میں کولمبیا کی ڈسٹرکٹ بھی شامل ہے اور جہاں ملکی دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی موجود ہے اور اس کے علاوہ سمندر پار بھی بہت سے علاقے امریکہ کا حصہ ہیں۔

اس کے علاوہ بھی کئی ریاستیں ایسی ہیں جنہوں نے امریکہ سے الحاق کیا ہوا ہے۔

ماحول[ترمیم]

امریکہ میں 17000 سے زائد اقسام کے پودے اور درخت پائے جاتے ہیں جن میں سے 5000 صرف کیلیفورنیا میں ہیں۔ ان 5000 دنیا کے سب سے لمبے، سب سے بھاری اور سب سے پرانے درخت بھی شامل ہیں۔ امریکہ کا ماحول خط استوائی ماحول سے لے کر ٹنڈرائی نوعیت کا ہے اور اس میں نباتات کی اقسام دنیا بھر کے کسی دوسرے ملک سے زائد ہیں۔ اگرچہ ہزاروں غیر ملکی نباتات کی وجہ سے اس ملک کی اپنی نباتات اور انسانوں پر منفی اثرات واقع ہوئے ہیں۔ 400 سے زائد ممالیا، 700 سے زائد پرندے، 500 ریپٹائل یعنی خزندے اور 90000 سے زئاد حشرات کو نوٹ کیا جا چکا ہے۔

بہت سے جانور اور پودے خاص جگہوں تک محدود ہیں اور بہت سے انواع معدوم ہونے والی ہیں۔ امریکہ نے معدومیت کے خطرے سے دوچار انواع کے تحفظ کے لئے 1973 میں قانون بنایا ہے کہ ان انواع کو ان کے قدرتی ماحول میں تحفظ دیا جائے۔

معدومیت کے خلاف تحفظ کے حوالے سے امریکی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 1872 میں دنیا کا پہلا نیشنل پارک ییلو سٹون میں بنایا گیا۔ اس کے بعد اب تک 57 مزید نیشنل پارک اور سینکڑوں دیگر پارک اور جنگلات کو اس ضمن میں بنایا جا چکا ہے۔ ملک کے کچھ حصوں کو اس مقصد کے لئے مخصوص کردیا ہے کہ ادھر کوئی تبدیلی واقع نہیں کی جا سکتی۔ امریکی ماہی پروری اور جنگلی حیات کے محکمے نے خطرے میں اور معدوم ہونے کے قریب موجود نسلوں کو ان کے قدرتی ماحول میں بچا کر الگ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ امریکہ کی حکومت 1020779 مربع میل کا علاقہ چلا رہی ہے جو کل رقبے کا 28 % ہے۔ اس زمین کو پارکوں اور جنگلات کے لئے مختص کیا گیا ہے لیکن اس کا کچھ حصہ تیل اور گیس کی دریافت، کان کنی اور مویشیوں کے فارمز کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔

معیشت[ترمیم]

عمومی صورتحال[ترمیم]

امریکہ کی معیشت کی تاریخ دراصل ایک کہانی ہے جو نوآبادیاتی نظام کی معاشی ترقی سے شروع ہوئی اور ترقی کرکے اب بیسیوں اور اکیسویں صدی میں دنیا کی سب سے بڑی معاشی اور صنعتی طاقت بننے کی ہے۔

ریاست ہائے متحدہ کا معاشی نظام مخلوط سرمایہ دارانہ معاشی نظام ہے جس میں کارپوریشنیں، دیگر پرائیوٹ فرمیں اور افراد مل کر زیادہ تر مائیکرو اکنامک فیصلے کرتے ہیں اور حکومت اس سطح پر زیادہ مداخلت نہیں کرتی تاہم بحیثیت مجموعی تمام سطحوں پر حکومت کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ ریاست ہائے متحدہ کے زیادہ تر کاروبار اور تجارت کارپوریشنیں نہیں ہیں اور ان کا کوئی پے رول نہیں ہے بلکہ وہ ذاتی ملکیت ہیں۔

امریکہ میں اوسط گھریلو آمدنی 46326 ڈالر سالانہ ہے اور 25 سے 64 سال کی عمر کے افراد کی اوسط سالانہ انفرادی آمدنی 32611 ڈالر ہے۔

معاشی سرگرمیاں ملک میں بہت زیادہ متفرق ہوتی ہیں۔ نیو یارک شہر کو ملک کی معاشی، چھپائی، نشر و اشاعت اور اشتہاراتی مرکز کی حیثیت ہے جبکہ لاس اینجلس کو فلم اور ٹیلی ویژن کے لئے مشہور مانا جاتا ہے۔ سان فرانسسکو کی خلیج ٹیکنالوجی کے لئے بہت اہم ہے۔ وسطی مغربی علاقہ اپنی بھاری صنعتوں کے لئے مشہور ہے، ڈیٹرائیٹ امریکی موٹر گاڑیوں کی صنعت کے لئے تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور شکاگو اپنے علاقے میں تجارتی اور معاشی حوالے سے بہت اہم ہے۔ جنوب مشرق میں زراعت، سیاحت اور درختوں کی صنعت کے لئے مشہور ہے کیونکہ یہاں معاوضے ملک کے دیگر حصوں سے نسبتا کم ہوتے ہیں۔

امریکی معیشت کا زیادہ تر حصہ خدمات سے حاصل ہوتا ہے جہاں کل افراد کا تین چوتھائی حصہ کام کرتا ہے۔ صنعتی زوال کی وجہ سے 2011ء میں 22 ملین افراد حکومت کے ملازم تھے اور صناعی میں 11 ملین، جبکہ 1960ء میں صورتحال اس کے برعکس تھی۔[6]

ملک کی معیشت کا بہت بڑا حصہ قدرتی ذرائع کی کثرت ہے جیسا کہ کوئلہ، تیل اور قیمتی دھاتیں۔ تاہم ابھی تک یہ ملک اپنی توانائی کے لئے زیادہ تر دیگر ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ زراعت میں مکئی، سورج مکھی، چاول اور گندم کی پیداوار کے لئے یہ ملک پہلے نمبر پر ہے۔ امریکہ میں سیاحت کی کافی وسیع صنعت موجود ہے اور یہ دنیا میں تیسری نمبر پر آتی ہے۔ اس کے علاوہ ہوائی جہازوں، سٹیل، ہتھیاروں اور الیکٹرانکس کی مصنوعات کی برآمد کے لئے امریکہ کا بہت بڑا حصہ ہے۔ کینیڈا امریکہ کی بیرونی تجارت میں انیس فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پے اور اس کے بعد چین، میکسیکو اور جاپان کے نمبر آتے ہیں۔

امریکہ میں فی کس آمدنی کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ آمدنیوں میں سے ہوتا ہے۔ اس کی فی کس آمدنی مغربی یورپ سے زیادہ ہے۔ 1975ء سے ملکی منڈی کی حقیقی آمدنی تقریباً ساری کی ساری بیس فیصد خاندانوں میں پہنچتی ہے ۔

امریکی معاشرے میں سماجی طبقات کی تبدیلی یورپی، سکینڈے نیویا کے ممالک اور کینیڈا سے کم ہے۔ بعض ماہرین کے خیال میں اس کی وجہ تعلیمی نظام ہے۔ امریکی تعلیمی نظام میں تعلیم کا خرچہ زیادہ تر ٹیکسوں سے اور بقیہ حصہ حکومتی خزانے سے ادا کیا جاتا ہے۔ اس لئے امیر علاقوں اور غریب علاقوں کی تعلیم میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ ایک سابقہ فیڈرل ریزرو بورڈ کے چئیرمین ایلن گرین سپین کے مطابق یہ آمدنیوں کا یہ فرق اور لوگوں کا معاشی ترقی کرنے کی کم ہوتی ہوئی رفتار بلآخر اس پورے نظام کو زمین بوس کردے گی۔

ایجادات[ترمیم]

امریکہ اپنی سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ایجادات کی وجہ سے اور نئی ایجاد ہونے والی مصنوعات کی پیداوار کے لئے بہت مشہور ہے۔ تحقیق و ترویج کے لئے فنڈز کا 69% حصہ پرائیوٹ سیکٹر سے ملتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکہ نے ایٹم بم کی ایجاد کے کام کی سربراہی کی اور نئے ایٹمی دور کی بنیاد قائم کی۔ سرد جنگ کے آغاز میں امریکہ نے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت کامیابیاں حاصل کیں اور خلائی دوڑ کا آغاز بھی کیا۔ اس دوران امریکہ نے راکٹ، ہتھیاروں، مادی سائنسوں، کمپیوٹروں اور دیگر شعبوں میں ترقی کی۔ ٹیکنالوجی میں ترقی کی معراج تب دکھائی دی جب نیل آرم سٹرانگ نے پہلی بار جولائی 1969ء میں اپالو 11 کی مدد سے چاند پر قدم رکھا۔ اسی طرح امریکہ نے انٹرنیٹ اور اس سے پہلے آرپا نیٹ کو بھی بنایا۔ امریکہ اپنے زیادہ تر انفراسٹرکچر کو خود ہی کنٹرول کرتا ہے۔

سائنسی بالخصوص فزیالوجی اور میڈیسن میں امریکیوں نے بہت زیادہ نوبل پرائز حاصل کئے ہیں۔ قومی ادارہ برائے صحت بائیو میڈیسن کے لئے امریکہ کا مرکز ہے اور پرائیوٹ فنڈ سے چلنے والا ادارہ سیلیرا جی نومکس نے انسانی جینیاتی پروجیکٹ کی تکمیل میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہوابازی اور خلا کے لئے ناسا کا کردار بہت اہم ہے۔ بوئنگ اور لاک ہیڈ مارٹن بھی بہت اہم ہیں۔

ذرائع نقل و حمل[ترمیم]

آٹو موبائل کی صنعت اکثر ممالک کی نسبت جلدی شروع ہوئی۔ ملکی ذرائع نقل و حمل کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ہائی ویز ادا کرتے ہیں جن میں بہت بڑی تعداد میں مسافر گاڑیاں اور مال برداری کے ٹرک روزانہ گزرتے ہیں۔ 2004ء میں لئے گئے ڈیٹا کے مطابق امریکہ میں 3982521 میل یعنی 6407637 کلو میٹر لمبی سڑکیں موجود ہیں جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔

عوام کے سفر کے لئے نظام بڑے شہروں میں موجود ہیں جیسا کہ نیو یارک میں دنیا کا بہت مصروف سب وے سسٹم موجود ہے۔ چند شہروں کے سوا، اکثر امریکی شہر نسبتا کم گنجان آباد ہیں اور اس کی وجہ سے اکثر خاندانوں کے پاس ذاتی گاڑیاں لازمی چیز بن گئی ہیں۔

امریکہ پرائیوٹ مسافر ریل کی پٹڑیوں کے لئے بھی منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ 1970ء کے دوران حکومت نے مداخلت کرکے انہیں باقاعدہ کیا اور تمام پیسنجر سروسوں کو حکومتی ماتحت ایمٹریک کارپوریشن کے ماتحت کردیا۔ امریکہ کا ریلوے کا نظام دنیا میں سب سے بڑا نظام ہے۔

لمبے فاصلے کے لئے مسافر ہوائی سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔ مسافروں کی تعداد کے لحاظ سے 2004ء میں دنیا کے تیس مصروف ترین میں امریکی سترہ ائیر پورٹ شمار ہوتے تھے۔ مسافروں کے لحاظ سے دنیا کا سب سے مصروف ائیر پورٹ ہارٹس فیلڈ جیکسن اٹلانٹا انٹرنیشنل ائیر پورٹ امریکہ میں ہی ہے۔ اسی طرح سامان کی منتقلی کے لئے دنیا کے تیس مصروف ترین ائیر پورٹوں میں سے بارہ امریکہ کے تھے۔ سامان کی منتقلی کے لئے دنیا کا سب سے مصروف ائیر پورٹ ممفس انٹرنیشنل ائیر پورٹ تھا۔

دنیا کی کئی بڑی بندرگاہیں امریکہ میں ہیں جن میں سے تین سب سے زیادہ مصروف بندرگاہیں کیلیفورنیا کی لاس اینجلس کی بندرگاہ، لانگ بیچ کی بندرگاہ اور نیویارک اور نیو جرسی کی بندرگاہ شامل ہیں۔ امریکہ کے اندر بھی آبی نقل و حمل کے لئے سینٹ لارنس کی بحری گزرگاہ اور دریائے مسسی سیپی بہت مشہور ہیں اٹلانٹک اور گریٹ لیک کے درمیان بننے والی پہلی نہر ایری کینال نے زراعت اور صنعت کو وسط مغربی امریکہ میں بہت ترقی دی اور نیویارک شہر کو ملک کا معاشی مرکز بنا دیا۔

لوگ[ترمیم]

امریکہ کے لوگ امریکی حکومت کے برعکس نرم مزاج اور انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے ہیں۔

ثقافت[ترمیم]

ریاست ہائے متحدہ کی ثقافت کی ابتدا انگریز نو آباد کاروں کی ثقافت سے ہوئی تھی۔ اس ثقافت نے بہت تیزی سے ارتقا کے مراحل طے کئے اور اپنی آزادانہ شناخت کے علاوہ مقامی اور سپینی-میکسیکو کے کاؤ بوائے ثقافت اور پھر بعد ازاں یورپی اور افریقی اور ایشیائی نو آباد کاروں نے بھی اس پر اپنے اثرات ڈالے۔ مجموعی طور پر یورپ میں جرمنی، برطانوی اور آئرش ثقافتوں نے اپنے اثرات دکھائے اور بعد ازاں اطالوی، یونانی اور اشکینازی (یہودی جو جرمنی اور مشرقی یورپ سے تعلق رکھتے ہیں) نے بھی کچھ نہ کچھ اثرات مرتب کئے۔ ابتدائی امریکی ثقافت میں افریقی غلاموں کی اولادوں نے بھی اپنے کچھ علاقائی اثرات ڈالے۔ جغرافیائی مقامات کے نام بھی انگریزی، ولندیزی، فرانسیسی، جرمن، ہسپانوی اور مقامی امریکی الفاظوں سے مل کر بنے ہیں۔

ثقافتی حوالوں سے ہمیں دو مختلف ماڈل(خاکے) ملتے ہیں۔ روایتی 'میلٹنگ پاٹ' یا 'پگھلتے برتن' کاخاکہ جس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ تمام ثقافتیں کیسے مل کر ایک ہوئیں۔ اس کے مطابق ہر نئے آنے والے نے اپنی ثقافت کو امریکی معاشرے میں متعارف کرایا۔ اس کے بعد جس چیز کو قبول کر لیا گیا، وہ ایک بڑی ثقافت کا حصہ بنی۔ اس طرح یہ ایک 'یکجان آمیزے' کی طرح موجود ہیں۔ نیا ماڈل جسے 'سلاد کا پیالا ماڈل' یعنی 'سے لیڈ باؤل ماڈل' کہا جاتا ہے، کے مطابق ہر ثقافت آکر امریکی معاشرے میں اس طرح جمع ہوئی ہے جیسے مختلف سبزیوں سے بنا ہوا سلاد، جس میں ہرسبزی اس سلاد کا حصہ ہوتے ہوئے اپنی الگ شناخت بھی قائم رکھتی ہے۔امریکی ثقافت کا ایک اہم جزو امریکی کا خواب ہے، جس کے مطابق اپنی معاشی حیثیت سے قطع نظر، سخت محنت، ہمت اور مقصد کی سچی لگن سے آپ بہتر زندگی کو حاصل کر سکتے ہیں۔

خوراک[ترمیم]

امریکی خوراک زیادہ تر قدیم امریکیوں سے آئی ہے جس میں ٹرکی، آلو، مکئی اور سکوائش شامل ہیں۔ اب یہ خوراکیں امریکی غذا کا لازمی جزو بن چکی ہیں۔ اس کے علاوہ ایپل پائی، پیتزا اور ہیم برگر بھی یا تو یورپی خوراکوں سے آئے ہیں یا یورپی خوراکوں کو کچھ تبدیلی کے ساتھ اپنا لیا گیا ہے۔ بوریٹو اور ٹاکو میکسیکو سے آئے ہیں۔ سول فوڈ افریقی غلاموں کی پسندیدہ خوراک تھی جو اب امریکہ میں بہت مشہور ہے۔ تاہم آج دنیا میں پسند کی جانے والی خوراکوں کا زیادہ تر حصہ یا تو امریکہ سے شروع ہوا یا اسے امریکی باورچیوں نے تبدیلی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ واضح رہے کہ پوری دنیا کے معصوم انسانوں بالخصوص مسلمانوں کا خون پینا امریکی ثقافت کا حصہ ہے۔

بصری فنون لطیفہ[ترمیم]

اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں امریکی فنون لطیفہ نے یورپ سے بہت اثر لیا۔ مصوری، مجسمہ سازی اور ادب کے لئے یورپ کی تقلید کی گئی اور پورپ سے اس کی قبولیت کو معیار بنایا گیا۔ امریکی خانہ جنگی کے اختتام تک امریکی ادب کی تخلیق شروع ہو گئی تھی۔ مارک ٹوئین، ایمائیلی ڈکنسن اور والٹ وہائٹ مین نے سب کچھ امریکی انداز میں پیش کرنا شروع کیا۔ بصری فنون میں امریکی اثرات بہت آہستہ روی سے مرتب ہوئے۔ 1913ء میں نیویارک میں ہونے والے آرمری شو کے دوران ایک نمائش منعقد ہوئی جس میں یورپی جدت پسند فنکاروں کا امریکہ کے لئے کیا جانے والا کام سامنے لایا گیا اور اس نے نہ صرف عوام کو جھنجھوڑا بلکہ بیسوی صدی کے بقیہ حصے میں اپنے اثرات مرتب کئے۔ اس نمائش کے دو سطحی اثرات واقع ہوئے جس میں انہوں نے امریکی فنکاروں کو یہ دکھایا کہ فنون لطیفہ اپنے خیالات کا اظہار ہے اور یہ کوئی ادبی یا حقیقت پسندی کو ظاہر نہیں کرتی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دکھایا کہ یورپ فنکاروں کے کام پر تنقید کے لئے اپنے قدیم خیالات کو چھوڑ چکا ہے جن میں فنکاروں کو سختی کے ساتھ اصولوں کی پاسداری کرنی پڑتی تھی۔ اس سے امریکی فنکاروں کو اپنی شناخت کا موقع ملا اور ایک جدت پسندی کی مہم چلی اور امریکی تہذیب ابھر کر سامنے آئی۔ ایلفرڈ سٹی گلیٹز (1864ء سے 1946ء) فوٹو گرافر، چارلس ڈی متھ (1883ء سے 1935ء) اور مارسڈین ہارٹلے (1877ء سے 1943ء)، دونوں مصوروں نے فنون لطیفہ کے حوالے سے امریکہ کا مقام بنایا۔ ماڈرن آرٹ کے عجائب گھر، جو کہ نیو یارک میں 1929ء میں بنایا گیا، امریکی اور بین الاقوامی فنون لطیفہ کا شوکیس بن گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے فیصلے کے بعد دنیا کے فنون لطیفہ کا مرکز پیرس سے منتقل ہو کر امریکہ میں منتقل ہو گیا۔

موسیقی[ترمیم]

ملکی موسیقی بھی مختلف شاخوں سے ہوتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہے۔ راک، پاپ، سول، ہپ ہاپ، کنٹری، بلیوز اور جاز ابھی بھی اس ملک کے وہ ساز ہیں جو بین الاقوامی طور پر مانے جاتے ہیں۔ 19ویں صدی کے اختتام پر امریکی ریکارڈ شدہ موسیقی پوری دنیا میں پھیل چکی تھی اور امریکی موسیقی کی مشہور دھنوں کو آج بھی ہر جگہ سنا جا سکتا ہے۔

سینما[ترمیم]

سینما کی ابتدا اور اس کی ترقی تقریبا ساری کی ساری امریکہ میں ہی ہوئی۔ 1878ء میں پہلی بار سلسلہ وار کیمروں کی مدد سے ایک برطانوی فوٹو گرافر نے دوڑتے گھوڑے کی متحرک تصاویر بنائیں۔ اسی طرح کامک بک اور ڈزنی کی متحرک فلمیں آج بھی دنیا میں اپنا منفرد مقام رکھتی ہیں۔

کھیل[ترمیم]

کھیل ملکی تفریح کا ذریعہ ہیں اور ہائی سکولوں کی سطح پر خصوصا امریکی فٹ بال، بیس بال اور باسکٹ بال کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ پروفیشنل سپورٹس کو امریکہ میں ایک بہت بڑا کاروبار سمجھا جاتا ہے اور دنیا بھر میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی کھلاڑیوں کو یہیں ملتا ہے۔ چار مشہور کھیلوں میں بیس بال، امریکی فٹ بال، آئس ہاکی اور باسکٹ بال ہیں۔ بیس بال کو قومی کھیل کا درجہ حاصل ہے لیکن 1990ء کی دہائی کے شروع سے امریکی فٹ بال کو زیادہ شہرت ملی ہے۔ ہاکی بھی حال ہی میں اپنی شہرت کھو چکا ہے۔

دیگر کھیلوں میں کار ریسنگ، لیکروس، سوکر (فٹبال) گالف اور ٹینس کے کھیلنے والے کافی ہیں۔ امریکہ نے تین بورڈز والی کھیلوں پر اپنا اثر ڈالا ہے جن میں سرف بورڈنگ، سکیٹ بورڈنگ اور سنو بورڈنگ شامل ہیں۔ اب تک آٹھ اولمپک مقابلے امریکہ میں منعقد ہو چکے ہیں۔ اب تک کے تمغوں کے لحاظ سے امریکہ سرمائی کھیلوں میں 218 تمغوں کے ساتھ (78 طلائی، 81 چاندی کے اور 59 تابنے کے) تیسرے نمبر پر اور 2321 تمغوں کے ساتھ (943 طلائی، 736چاندی کے اور 642 تابنے کے) گرمائی کھیلوں میں پہلے نمبر پر ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ آیون ایلنڈ (12 مئی 2011ء). "‘Unprovoked’ attacks, from 1812 to 9/11". دی نیشن. http://nation.com.pk/pakistan-news-newspaper-daily-english-online/International/12-May-2011/Unprovoked-attacks-from-1812-to-911. Retrieved 13 May 2011. 
  2. ^ بی سی ڈاٹ کام، 6 اگست 2007ء، "1945:امریکہ نے ہیروشیما پر ایٹم بم گرا دیا"
  3. ^ "Court: No right to resist illegal cop entry into home". nwi.com. http://www.nwitimes.com/news/local/govt-and-politics/article_ec169697-a19e-525f-a532-81b3df229697.html. Retrieved 13 May 2011. 
  4. ^ "Supreme Court Declines Rendition Torture Case Involving ‘State Secrets’". وائرڈ. http://www.wired.com/threatlevel/2011/05/scotus-rendition-torture/. Retrieved 17 May 2011. 
  5. ^ "Jimmy Carter Defends Edward Snowden, Says NSA Spying Has Compromised Nation's Democracy". ہفنگٹن پوسٹ. 19 جولائی 2013ء. http://www.huffingtonpost.com/2013/07/18/jimmy-carter-edward-snowden_n_3616930.html. 
  6. ^ اسٹیفم موور (وال سٹریٹ جورنل1 اپریل 2011ء). "[http://online.wsj.com/article/SB10001424052748704050204576219073867182108.html We've Become a Nation of Takers, Not Makers: More Americans work for the government than in manufacturing, farming, fishing, forestry, mining and utilities combined.]". http://online.wsj.com/article/SB10001424052748704050204576219073867182108.html. Retrieved 2 April 2011.