ایل سیلواڈور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


República de El Salvador
جمہوریہ ایل سیلواڈور
ایل سیلواڈور کا پرچم ایل سیلواڈور کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: Dios, Unión, Libertad
(خدا، اتحاد، آزادی)
ترانہ: Saludemos la Patria orgullosos
ایل سیلواڈور کا محل وقوع
دارالحکومت سان سلواڈور
عظیم ترین شہر سان سلواڈور
دفتری زبان(یں) ہسپانوی
نظامِ حکومت
صدر
جمہوریہ (صدارتی نظام)
انتونیا ساکا
آزادی
- ہسپانیہ سے
UPCA سے
ہسپانیہ سے
15 ستمبر 1821ء
1842ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
21041  مربع کلومیٹر (152)
8124 مربع میل
1.4
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - کثافتِ آبادی
 
6,857,000 (98)
327 فی مربع کلومیٹر(34)
847 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

35.97 ارب بین الاقوامی ڈالر (95 واں)
5200 بین الاقوامی ڈالر (102 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.735
(103) – متوسط
سکہ رائج الوقت امریکی ڈالر (USD)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)

(یو۔ٹی۔سی۔ 0)
مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 1)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.sv
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+503

ال سلوا ڈور جسے سیور کی جمہوریہ بھی کہتے ہیں، وسطی امریکہ کا سب سے چھوٹا اور سب سے زیادہ گنجان آباد ملک ہے۔ اس وقت یہاں تیزی سے صنعتی ترقی جاری ہے۔ ال سلوا ڈور بحرِ الکاہل کے ساحل پر گوئٹے مالا اور ہونڈراس کے درمیان خلیج فونسیکا پر واقع ہے۔

ال سلوا ڈور کی کل آبادی تقریباً 57٫44٫113 افراد پر مشتمل ہے جو مقامی اور یورپی النسل کے اختلاط سے بنی ہے۔ سان سلواڈور ملکی دارلحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ 1892 سے 2001 تک یہاں کولن کو پیسے کے طور پر استعمال کرتے تھے لیکن اس کے بعد امریکی ڈالر چلتا ہے۔ یہاں کے باشندوں کو سلواڈورین یا وسطی امریکی کہتے ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

پری کولمبیئن دور میں اس علاقے میں بہت سارے مقامی امریکی قبائل رہتے تھے۔

پری کولمبیئن[ترمیم]

ہسپانوی یہاں پیڈرو ڈی الوراڈو اور اس کے بھائی گونزالو کے ساتھ 1524 سے 1525 کے دوران موجودہ دور کے گوئٹے مالا سے آئے۔ نوآبادیاتی دور میں ال سلواڈور گوئٹے مالا کے زیر انتظام تھا۔

1811 سے 1814 تک ہسپانوی قبضے کے خلاف احتجاج ہوتے رہے اور بالاخر 15 ستمبر 1821 کو اسے آزادی ملی۔ 5 جنوری 1822 کو وسطی امریکی صوبوں نے اہم شخصیات کی مرضی کے برخلاف میکسیکو کی ریاست میں شمولیت اختیار کر لی۔ تاہم یہ اتحاد 1838 کو ختم ہوا۔

قبضہ، نوآبادی اور آزادی[ترمیم]

ہسپانوی یہاں پیڈرو ڈی الوراڈو اور اس کے بھائی گونزالو کے ساتھ 1524 سے 1525 کے دوران موجودہ دور کے گوئٹے مالا سے آئے۔ نوآبادیاتی دور میں ال سلواڈور گوئٹے مالا کے زیر انتظام تھا۔

1811 سے 1814 تک ہسپانوی قبضے کے خلاف احتجاج ہوتے رہے اور بالاخر 15 ستمبر 1821 کو اسے آزادی ملی۔ 5 جنوری 1822 کو وسطی امریکی صوبوں نے اہم شخصیات کی مرضی کے برخلاف میکسیکو کی ریاست میں شمولیت اختیار کر لی۔ تاہم یہ اتحاد 1838 کو ختم ہوا۔

ہسپانوی دورِ حکومت[ترمیم]

سولہویں صدی کے اوائل میں ہسپانوی فاتحین نے اس علاقے میں اپنی موجودگی بڑھانے کے لئے بندرگاہوں کا سہارا لیا۔ انہوں نے اس علاقے کو "ہمارے یسوح مسیح کا صوبہ، دنیا کے نجات دہندہ" قرار دیا۔ ہسپانوی میں اسے "پرونشیا ڈی نوسترو سینور جیسس کرائسٹو، ال سلواڈور ڈیل منڈو" کہا جاتا تھا جو بعد ازاں سکڑ کر محض ال سلواڈور رہ گیا۔ 1524 میں پیڈرو ڈی الوراڈو نے اس علاقے میں گوئٹے مالا سے ایک مہم بھیجی لیکن اسے مقامی افراد نے 1526 میں نکال باہر کیا۔ 1528 میں بھیجی جانے والی دوسری مہم کامیاب رہی اور ہسپانویوں نے یہاں اپنا پہلا شہر بسایا۔

1811 کے اختتام پر اندرونی اور بیرونی عوامل نے طبقہ اشرافیہ کو ہسپانوی بادشاہت سے آزادی پر مجبور کیا۔ اندرونی عوامل میں طبقہ اشرافیہ کی خواہش کہ وہ اس علاقے کے معاملات کو ہسپانوی مداخلت کے بغیر چلا سکیں، اہم تھا۔ بیرونی عوامل میں فرانس اور امریکہ کے کامیاب انقلاب تھے۔ اس کے علاوہ نپولن کی جنگوں کے باعث سپین کی کمزور ہوتی ہوئی حکومت بھی اہم تھی۔

5 نومبر 1811 کو ال سلواڈور کے پادری نے علم بغاوت بلند کیا لیکن جلد ہی بغاوت کو دبا کر اہم باغی رہنماؤں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ 1814 میں ایک اور بغاوت ہوئی اور اسے بھی دبا دیا گیا۔ آخر کار 15 ستمبر 1821 کو گوئٹے مالا میں موجود بے چینی کے مدِ نظر ہسپانوی حکمرانوں نے آزادی کے معاہدے پر دستخط کر دیئے۔ اس معاہدے کے تحت گوئٹے مالا، ال سلواڈور، ہونڈراس، نکاراگوا اور کوسٹاریکا وغیرہ آزاد ہو گئے۔

1822 کے اوائل میں ان تمام نو آزاد صوبوں کے رہنما اکٹھے ہوئے اور فیصلہ کیا کہ میکسیکو کی ریاست میں شمولیت اختیار کی جائے۔ تاہم ال سلواڈور نے اس سے انکار کیا۔ میکسیکو کی فوج نے ال سلواڈور پر قبضہ کر لیا۔ تاہم 19 مارچ 1823 کو میکسیکو کی فوج کی واپسی کے ساتھ ہی ال سلواڈور کے حکمرانوں نے میکسیکو میں شمولیت کو کالعدم قرار دے دیا۔

کافی سے ہونے والے بے پناہ منافع سے ساری زرخیز زمین چند خاندانوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔

انیسویں صدی کے دوسرے نصف میں آنے والے تمام تر صدور طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے ہر ممکن طریقے سے کافی کی پیداوار کو بڑھایا اور کافی کی برآمد کے سلسلے میں بنیادی ڈھانچے کو ترقی دی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ انہوں نے عام لوگوں سے زمینیں چھیننے اور انہیں انہی کی اپنی زمینوں پر بیگار کرنے پر مجبور کیا۔ 1912 میں نیشنل گارڈ کا قیام عمل میں آیا جو دیہاتی پولیس کا کام کرتی تھی۔

بیسویں صدی[ترمیم]

19ویں صدی کے نصف سے کافی مقامی معیشت میں اہم ستون کا کردار ادا کرتی آئی تھی۔ ال سلواڈور کے صدر ٹومس ریگالڈو زبردستی 1898 میں اقتدار میں آئے اور 1903 کو ان کا اقتدار ختم ہوا۔ تاہم انہوں نے اپنے جانشینوں کا تقرر کر دیا تھا۔ 1913 تک ال سلواڈور سیاسی اعتبار سے مستحکم رہا لیکن عوامی سطح پر حکومت کو مقبولیت حاصل نہیں تھی۔ صدر اراوجو کو قتل کیا گیا تھا اور ان کے قتل سے متعلق بہت سارے مفروضے پائے جاتے ہیں۔

اراوجو کے بعد 1913 سے 1927 تک میلینڈیز اور کوئنونز خاندان کی حکمرانی رہی۔ ان کے بعد پیو روموری باسک جو کہ حکومت کے سابقہ ویزر تھے، صدر بنے اور 1930 میں آزادانہ انتخابات کا اعلان کیا۔ انتخابات کے نتیجے میں یکم مارچ 1931 کو ارترو اراوجو صدر بنے۔ تاہم ان کی حکومت محض نو ماہ چل سکی۔

اسی سال فرابنڈو مرتی جلاوطنی سے واپس آئے۔ ان سے ملنے کے لئے کچھ کمیونسٹ آئے۔ صدر رومیرو باسک نے 1930 کے انتخابات سے قبل انہیں ملک سے باہر بھیج دیا کیونکہ ان کی کمیونسٹ سرگرمیاں کسی سے پوشیدہ نہ تھیں۔ صدر اراوجو عوام میں ناپسندیدہ بن گئے کیونکہ عوام کی اکثریت زمینوں کی واپسی اور معاشی اصلاحات چاہتی تھی۔ ان کی حکومت کے پہلے ہی ہفتے حکومت مخالف مظاہرے شاہی محل کے سامنے شروع ہو گئے۔

جونیئر افسروں کی طرف سے بغاوت کی تیاری کی گئی اور شاہی محل پر حملہ کر دیا گیا۔ صدر کی حامی افواج محض گھڑ سواروں کی پہلی رجمنٹ اور نیشنل پولیس پر مشتمل تھیں۔ جلد دسمبر 1931 کی رات کو انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ اس بغاوت کی ایک وجہ صدر کی طرف سے فوجیوں کو کئی ماہ سے تنخواہ نہ دینا تھی۔

نائب صدر کی مدد سے حکومت بنا دی گئی۔ نائب صدر نے صدارتی انتخابات بعد میں کرانے کا وعدہ کیا۔ انتخابات سے چھ ماہ قبل انہوں نے مستعفی ہو کر انتخابی مہم میں حصہ لیا اور صدر منتخب ہوئے۔ انہیں پہلے 1935 سے 1939 اور پھر 1939 سے 1943 تک صدر منتخب کیا گیا۔ 1944 میں چوتھی بار صدر منتخب ہونے پر ان کے خلاف عام ہڑتال کی گئی۔ اس وجہ سے انہوں نے صدارتی عہدہ خالی کر دیا۔

پی ڈی سی اور پی سی این پارٹیاں[ترمیم]

1960 میں دو سیاسی جماعتیں بنائی گئیں اور آج بھی وہ متحرک ہیں۔ ان کے نام کرسچیئن ڈیموکریٹک پارٹی اور نیشنل کنسیلیشن پارٹی ہیں۔ دونوں کے مطمع نظر ایک لیکن ایک جماعت سفید پوشوں جبکہ دوسری فوجیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

اکتوبر 1979 کی بغاوت[ترمیم]

اکتوبر 1979 میں ایک فوجی بغاوت کے بعد انقلابی فوجی جنتا آف ال سلواڈور حکومت میں آئی۔ اس حکومت نے کئی پرائیوٹ کمپنیاں قومیا لیں اور لوگوں کی ملکیت زمین کا بہت بڑا حصہ بھی ہتھیا لیا۔

چونکہ یہ حکومت فوج کو لوگوں کو ان کے حقوق جیسا کہ یونین بنانا، زرعی اصلاحات، بہتر تنخواہیں، صحت اور آزادئ اظہارِ رائے سے زیادہ عرصہ نہ روک سکی، اس لئے اسے تحلیل کر دیا گیا۔ اس دوران چھاپہ مار کاروائیاں ملک بھر میں پھیل گئیں۔ حتٰی کہ سکول کے بچے بھی اس میں شامل ہونے لگے۔

امریکی حکومت نے کمیونسٹوں کے بڑھتے ہوئے غلبے کو روکنے کے لئے ایک اور فوجی جنتا کی تشکیل کی مالی مدد کی تاہم انقلاب کی راہ ہموار ہو چکی تھی۔ اس نئی جنتا کا نتیجہ ایک اور خانہ جنگی کی صورت میں نکلا۔

خانہ جنگی(1980 تا 1992)[ترمیم]

ال سلواڈور کی یہ خانہ جنگی براہ راست حکومت اور بائیں بازو کے چار گروہوں اور ایک کمیونسٹ گروہ کے درمیان لڑی گئی۔

اس جنگ میں 75٫000 سے زیادہ افراد مارے گئے اور امریکی حکومت نے اس جنگ میں کم از کم 5 ارب ڈالر جھونکے۔ یہ جنگ دراصل عالمی سرد جنگ کے تناظر میں لڑی جا رہی تھی۔ اس جنگ میں کیوبا اور روس حکومت مخالف جبکہ امریکہ حکومت کے ساتھ تھا۔

16 جنوری 1992 کو ال سلواڈور کے صدر اور چھاپہ ماروں کے رہنماؤں نے امن معاہدے پر دستخط کئے جس کے ساتھ ہی 12 سالہ خانہ جنگی اپنے اختتام کو پہنچی۔

بیسویں صدی کا اختتام[ترمیم]

1989 سے 2004 تک سلواڈورین لوگوں نے نیشنل رپبلک الائنس کی حمایت کی اور ہر انتخابات میں اسی جماعت سے صدور منتخب کئے۔ تاہم 2009 میں یہ رحجان بدل گیا اور ایف ایل ایم این پارٹی کے رکن کو صدر چنا گیا۔

1990 کی دہائی سے ہونے والی معاشی اصلاحات کے نتیجے میں سماجی حالت بہتر ہوئی، برآمدات میں تنوع پیدا ہوا اور بین الاقوامی منڈی میں ال سلواڈور بطور سرمایہ کار شریک ہونے لگا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح ایک اہم مسئلہ ہے۔

21ویں صدی[ترمیم]

بائیں بازو کی جماعت نے صدارتی انتخابات میں اپنی مسلسل ناکامیوں سے تنگ آ کر چھاپہ مار رہنما کی بجائے ایک اخبار نویس کو صدارتی امیدوار بنا لیا۔ نتیجتاً 15 مارچ 2009 کو اس جماعت کا پہلا امیدوار صدر منتخب ہوا۔

سیاست[ترمیم]

1983 کا آئین ملک کا بنیادی قانون ہے۔ اس کے مطابق ال سلواڈور جمہوری ملک ہے۔ اس میں حکومت صدر کی سربراہی میں کام کرتی ہے۔ تاہم کوئی بھی صدر اپنے عہدے کی مدت کے ختم ہونے پر دوبارہ نہیں منتخب ہو سکتا۔ صدر کی معاونت کابینہ کے اراکین کرتے ہیں۔ صدر کو مسلح افواج کے سالار کی حیثیت ملی ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ ال سلواڈور میں قانون ساز ادارہ ہے جسے ال سلواڈور کا مقننہ کہتے ہیں۔ اس کا ایک ایوان ہوتا ہے اور 84 ڈپٹی یعنی نائبین ہوتے ہیں۔ تیسرے نمبر پر عدلیہ ہے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کرتی ہے۔ سپریم کورٹ میں 15 جج ہوتے ہیں جن میں سے ایک کو عدلیہ کو صدر چنا جاتا ہے۔

ال سلواڈور کے سیاسی ڈھانچے میں صدر کو حکومت اور ملک کے سربراہ کی حیثیت ملی ہوتی ہے۔ تمام تر اختیارات حکومت کے پاس ہوتے ہیں۔ قانون سازی کا عمل حکومت قانون ساز اسمبلی مل کر کرتے ہیں۔ یہاں کی عدلیہ آزاد ہے۔

محکمے اور بلدیات[ترمیم]

ال سلواڈور میں کل 14 محکمے ہیں جو آگے مزید 262 بلدیات میں منقسم ہیں۔

جغرافیہ[ترمیم]

ال سلواڈور وسطی امریکہ میں واقع ہے۔ اس کا کل رقبہ 21٫040 مربع کلومیٹر ہے۔ اسے براعظم امریکہ کے سب سے چھوٹے ملک کا درجہ ملا ہوا ہے۔ اس کی حدوں میں 320 مربع کلومیٹر آبی ذخائر موجود ہیں۔

یہاں سے کئی چھوٹے دریا گذرتے ہوئے سمندر تک جاتے ہیں۔ سب سے بڑا دریا لِمپا دریا ہے جس میں کشتی رانی کے قابل ہے۔

کئی جھیلیں آتش فشانی عمل کے نتیجے میں بننے والے گڑھوں میں موجود ہیں۔ جھیل گوئجا ملک کی سب سے بڑی قدرتی جھیل ہے۔

ال سلواڈور کی سرحدیں ہونڈراس اور گوئٹے مالا سے ملتی ہیں۔ ال سلواڈور وسطی امریکہ کا واحد ملک ہے جس کی حدیں کریبئن سمندر سے نہیں ملتیں۔

موسم[ترمیم]

ال سلواڈور کا موسم استوائی نوعیت کا ہے اور یہاں نم اور خشک موسم ہوتے ہیں۔ درجہ حرارت بلندی کے ساتھ بدلتے ہیں اور موسم کی تبدیلی سے زیادہ تبدیل نہیں ہوتے۔ بحرِ الکاہل کے کنارے والے علاقے گرم ہیں۔ وسطی سطح مرتفع اور پہاڑی علاقے زیادہ معتدل ہیں۔ مئی سے اکتوبر تک بارش عام ہوتی ہے۔ سارے سال کی تقریباً ساری ہی بارش اسی دوران ہوتی ہے۔ سالانہ بارش کی مقدار بعض علاقوں میں 85 انچ سے زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ ال سلواڈور میں سیر کے لئے سب سے بہترین وقت خشک موسم کے آغاز یا اختتام پر ہے۔ وسطی سطح مرتفع اور پہاڑوں کے سائے میں موجود علاقوں میں بارش نسبتاً کم ہوتی ہے۔ عموماً یہ بارش بحرِ الکاہل میں ہونے والے ہوا کے کم دباؤ سے سہہ پہر کے وقت گرج چمک کے ساتھ ہوتی ہے۔

نومبر سے اپریل تک شمال مشرقی تجارتی ہوائیں موسم پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ ان مہینوں میں ہوا کریبئن سے چلتی ہے اور یہاں پہنچنے تک خشک ہو چکی ہوتی ہے۔

قدرتی آفات[ترمیم]

ال سلواڈور بحرِ الکاہل کے حلقہ آتشیں پر واقع ہے اور یہاں زیر زمین پلیٹیں متحرک رہتی ہیں۔ اس وجہ سے یہاں زلزلے اور آتش فشانی عمل بکثرت ہوتے رہتے ہیں۔ حال ہی مین 13 جنوری 2001 کو آنےو الے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل 7.7 تھی اور 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایک ماہ بعد آنے اولے زلزلے سے 255 لوگ ہلاک ہوئے اور ملک بھر میں تقریباً چوتھائی گھر تباہ ہوئے۔

سان سلواڈور کے علاقے میں 1576، 1659، 1798، 1839، 1854، 1873، 1880، 1917، 1919، 1965، 1986، 2001 اور 2005 میں زلزلے آئے ہیں۔ 1986 کے زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر 5.7 تھی اور اس سے 1٫500 لوگ ہلاک جبکہ 10٫000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ایک لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے۔

ال سلواڈور کے محل وقوع کی بناء پر یہاں کا موسم بحرِ الکاہل سے زیادہ متائثر ہوتا ہے۔ ال نینو اور لا نینا کے عوامل سے یہاں ہونے والے طوفان اور قحط سالی مزید شدید ہو جاتے ہیں۔ 2001 کے موسم گرما میں قحط سالی سے ملک کی 80 فیصد سے زیادہ فصلیں تباہ ہو گئی تھیں اور دیہاتوں میں قحط پڑ گیا تھا۔ 4 اکتوبر 2005 کو ہونے والی شدید بارشوں سے سیلاب آئے جس سے کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے۔

معیشت[ترمیم]

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور سی آئی اے کی ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق خطے میں ال سلواڈور کی معیشت کوسٹا ریکا اور پاناما کے بعد تیسری بڑی ہے۔ فی کس آمدنی 4٫365 ڈالر سالانہ ہے۔

اگرچہ ال سلواڈور کی زیادہ تر معیشت قدرتی آفات جیسا کہ زلزلوں اور ہری کین سے متائثر ہوتی رہی ہے تاہم اس کی ترقی کی رفتار مستحکم ہے۔

جی ڈی پی میں خدمات کا شعبہ 64.1 فیصد کے ساتھ سرِفہرست جبکہ صنعتی شعبہ 24.7 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ زراعت 11 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

نوآبادیاتی دور میں ال سلواڈور کی معیشت کا انحصار محض ایک برآمد پر تھا۔ اس دور میں یہاں سے نیل دوسرے ملکوں کو بھیجا جاتا تھا۔ تاہم مصنوعی نیل کی ایجاد سے ال سلواڈور نے نیل کی بجائے کافی کی برآمد بڑھا دی۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ سونا اور چاندی یہاں کی اہم برآمدات تھیں۔

ال سلواڈور کے میکسیکو، چلی، ڈومینکن ریپبلک اور پاناما کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے ہیں۔

حکومت نے بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی پر زور بڑھا دیا ہے۔ ستمبر 1992 میں 10 فیصد کا وی اے ٹی نافذ ہونے کے بعد جولائی 1995 میں 13 فیصد کر دیا ہے۔

1997 سے ال سلواڈور میں افراطِ زر کی شرح 3 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 5 فیصد ہو گئی ہے۔ تاہم خطے میں اب بھی یہ شرح سب سے کم ہے۔

آبادی کی خصوصیات[ترمیم]

ال سلوا ڈور کے لوگ[ترمیم]

ال سلواڈور کی آبادی 1950 میں 19 لاکھ تھی جو 1984 میں 47 لاکھ ہو چکی تھی۔ چونکہ 1992 سے 2007 تک باقاعدہ مردم شماری نہیں ہوئی اس لئے مصدقہ اعداد و شمار مہیا نہیں۔ 2007 کی مردم شماری سے قبل اندازہ لگایا گیا تھا کہ ملک کی کل آبادی 71 سے 72 لاکھ کے درمیان ہے۔ اس مردم شماری کے نتیجے میں کل آبادی 71٫85٫218 ہے۔

ملک کی تقریباً ساری ہی آبادی یورپی النسل اور مقامی آبادی سے نکلی ہے۔ اس میں زیادہ تر ہسپانوری، فرانسیسی، جرمن، سوئس، انگریز، آئرش، اطالوی، ڈینش، سوئیہڈش، ناوریجیئن، ولندیزی اور وسطی یورپی ممالک کے لوگ شامل ہیں۔ وسطی یورپی ممالک کے لوگ دوسری جنگِ عظیم کے نتیجے میں یہاں آئے۔

دیگر لسانی گروہوں میں عرب، یورپی، یہودی، شمالی امریکی، وسطی امریکی، جنوبی امریکی، کیریبئن اور معمولی تعداد میں ایشیائی بھی شامل ہیں۔

ال سلواڈور وسطی امریکہ کا واحد ملک ہے جہاں افریقی نژاد باشندے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں بحرِ اوقیانوس کا ساحل نہیں لگتا۔ 1930 کے قانون کے مطابق یہاں سیاہ فام، خانہ بدوش، ایشیائی اور عرب لوگوں کی آمد پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ لبنانی، شامی، فلسطینی اور ترک افراد جو یورپی النسل تھے، کو ملک میں آنے کی اجازت تھی۔ یہ قانون 1980 کی دہائی میں کالعدم قرار دیا گیا۔ دارلحکومت سان سلواڈور میں 21 لاکھ کے قریب افراد رہتے ہیں۔ ملک کی کل آبادی کا 42 فیصد دیہاتوں میں رہتا ہے۔ 1960 کی دہائی میں شہروں کا رخ کرنے کا رحجان بڑھا اور لاکھوں افراد شہروں کو منتقل ہوئے۔

2004 میں ال سلواڈور کے 32 لاکھ شہری ال سلواڈور کے باہر بالخصوص امریکہ میں رہتے تھے۔

زبان[ترمیم]

وسطی امریکی ہسپانوی سرکاری زبان ہے اور تقریباً تمام آبادی اسے بول اور سمجھ سکتی ہے۔ کچھ مقامی قبائل اپنی زبانیں بھی بولتے ہیں لیکن ہسپانوی بھی بول سکتے ہیں۔

مذہب[ترمیم]

2008 کے سروے کے ماطبق 52.6 فیصد آبادی کیتھولک جبکہ 27.9 فیصد پروٹسٹنٹ تھی۔

صحت[ترمیم]

2005 سے 2010 کے دوران ال سلواڈور میں شرح پیدائش وسطی امریکہ میں تیسرے نمبر پر سب سے کم تھی جو 22.8 بچے فی ہزار تھی۔ تاہم اسی عرصے میں شرح اموات وسطی امریکہ میں سب سے زیادہ 5.9 فی ہزار تھی۔ اس وقت مردوں کی اوسط حدِ عمر 68 جبکہ خواتین کی اوسط حدِ عمر 74 سال ہے۔ ایک لاکھ افراد کے لئے تقریباً 148 ڈاکٹر موجود ہیں۔

جرائم[ترمیم]

ماضی قریب میں ال سلواڈور میں جرائم کی شرح بہت بلند رہی ہے۔ ان جرائم میں جرائم پیشہ گروہ اور 18 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے جرائم بھی شامل تھے۔

اس وقت ال سلواڈور میں قتل کی شرح ان چند گنے چنے ملکوں میں کے برابر ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ 2004 میں قتلِ عمد کی شرح 41 فی ایک لاکھ افراد تھی۔ 60 فیصد قتل جرائم پیشہ گروہوں نے کئے تھے۔ جنوری اور فروری 2005 میں ال سلواڈور میں 552 قتل ہوئے۔ اسی سال شرح جرائم میں 7.5 فیصد کا اضافہ ہوا۔ تاہم اس وقت یہ شرح کم ہو رہی ہے۔

تعلیم[ترمیم]

عوامی تعلیمی نظام اس وقت انتہائی مشکل کا شکار ہے۔ ایک جماعت میں 50 تک بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں۔ اس لئے کھاتے یپتے گھرانوں کے بچے پرائیوٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ غریبوں کے بچوں کے لئے سرکاری سکول ہی ہوتے ہیں۔

ال سلواڈور میں ہائی سکول تک تعلیم مفت ہے۔ 9 سال کے بنیادی سکول کے بعد دو یا تین سال کے لئے ہائی سکول جاتے ہیں۔ دو سالہ ہائی سکول کے بعد طلباء یونیورسٹی کے لئے تیار ہوتے ہیں اور تین سالہ ہائی سکول کے بعد انہیں ووکیشنل سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ چاہیں تو یونیورسٹی میں تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں یا نوکری کر سکتے ہیں۔

ثانوی تعلیم بہت مہنگی ہوتی ہے۔

ال سلواڈور میں بہت ساری پرائیوٹ یونیورسٹیاں موجود ہیں۔

فہرست متعلقہ مضامین ایل سیلواڈور[ترمیم]