انقلاب روس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

انقلاب روس

انقلاب فرانس نے یورپ کے نظام کو ہمیشہ کے لیے دگرگوں اور پراگندہ کر دیا تھا۔مگر اس کے بعد جب صنعتی انقلاب آیا تو اس نے جہاں ہالینڈ، فرانس اورانگلستان کو یورپ کے سب سے متمدن اور ترقی یافتہ ممالک بنا دیا۔ وہاں روس جیسے ممالک کو ، جن کی معیشت ابھی تک زرعی تھی۔ قعرِ عزلت میں ڈال دیا۔ 1847ء میں کارل مارکس اور انگلس نے اشتمالی منشور شائع کیا۔بادی النظر میں یہ منشور صنعتی لحاظ سے ترقی یافتہ ممالک کے عوام کو ان کارخانہ داروں کے خلاف بغاوت پر آمادہ کرتا تھا جو کارخانوں میں مزدوروں سے کام لینے کے لیے کوڑے برساتے تھے اور طرح طرح کی اذیتیں دیتے تھے۔ مگر اس فلسفے نے روس میں ، جو صنعتی لحاظ سے پسماندہ اور جاگیردارانہ نظام معیشت کا حامل تھا۔ لینن کے دماغ کو انگیخت دی اور اس نے کمیونسٹ اصولوں کی علم بردار سیاسی تحریک کی طرح ڈالی۔

لینن خطاب کرتے ہوئے

جس زمانے میں فرانس ، جرمنی ، انگلستان وغیرہ میں اشتمالی افکار کا دور دورہ تھا۔ اس وقت کارل مارکس نے (شاید عالم بے توجہی میں کوئی دلیل دیے بغیر) یہ کہا تھا کہ سرمایہ داری نظام کے خلاف انقلاب روس میں ہوگا۔ اُس کے یہ الفاظ حیرت انگیز طور پر درست ثابت ہوئے اور روس میں جہاں 1915ء کی فوجی شکستوں اور جرمنی کی حمایت میں راسپوٹین اور دیگر افراد کی کوششوں نے ملک میں بے اطمینانی پیدا کر دی تھی ، وہ سیاسی زلزلہ واقع ہوا۔ جو بالاخر 13 مارچ 1917ء کو زار روس کی حکومت کو زمین بوس کرنے پر منتج ہوا۔زار روس کے زوال کے بعد لینن روس پہنچا اور اس نے اس حکومت کا سنگ بنیاد رکھا۔ جو دنیا میں سب سے پہلی سوشلسٹ جمہوریہ کہلائی۔

انقلاب روس دراصل دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا انقلاب فروری جس میں زار کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور عبوری حکومت قائم کی گئی اور دوسرا انقلاب اکتوبر جس میں اشتراکیوں نے عبوری حکومت کا خاتمہ کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور دنیا کی پہلی اشتراکی جمہوریت قائم کی۔

مزید مطالعات[ترمیم]