چی گویرا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
چی گویرا

‘‘‘چی گویرا‘‘‘ (انگریزی : Ernesto Guevara)ارجنٹینا کا انقلابی لیڈر تھا۔ چی عرف ہے۔ وہ 14 مئی 1928 کو ارجنٹائن میں پیدا ہوا۔

بچپن سے دمہ کا مریض ہونے کے باوجود وہ ایک بہترین ایتھلیٹ تھا، اور چیس کا بھی شوقین تھا۔ اپنی نوجوانی میں وہ کتابوں کا بہت زیادہ شوقین تھا، اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے گھر میں 3000 سے زائد کتابوں پر مشتمل ‏ذخیرہ موجود تھا، جس سے اس نے اپنے علم میں بہتر اضافہ کیا۔

موٹر سائیکل پر سیاحت‎[ترمیم]

چی بنیادی طور پر میڈیکل کا طالب علم تھا، تعلیمی کیرئر کے دوران ہی اس کے اندر سیاحت کا شوق پیدا ہوا، اور 1950 سے لیکر 1953 تک اس نے جنوبی امریکہ کو تین بار اپنی سیاحت کا مرکز بنایا، جس میں پہلے1950 میں اس نے سائیکل پر تنہا 4500 کلومیٹر کا سفر براعظم کے جنوب سےشمال کی جانب طے کیا۔

پھر دوسرا سفر اس نے 1951 میں موٹر سائیکل پر طے کیا۔جو تقریباً دگنا لمبا یعنی8000 کلومیٹر تھا۔ تیسرا سفر اس نے 1953 میں کیا– تینوں بار اس نے متعد ممالک جیسے چلی ، پیرو ، ایکواڈور ، کولمبیا ، وینیزویلا ، پانامہ ، برازیل ، بولیویا اور کیوبا کراس کئے۔

اس سفر کو موٹر سائیکل جرنی کے نام سے یاد کیا جا تا ہے، جس پر کئی کتابیں،اور خود اس کی یاداشتیں چھپ چکی ہیں، اور ایک فلم بھی بن چکی ہے اسی نام سے ہے۔

اس سفر کے دوران چی کے مشاہدے میں جہاں بے پناہ اضافہ ہوا، وہی جب وہ دیہاتوں اور چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں سے گزرا، تو وہاں کے رہنے والےباشندوں کی حالت زار، غربت اور بھوک اور بیماریوں نے اس کی آنکھیں کھول دیں، وہ غریبوں کے لئے بہت حساس دل رکھتا تھا، اوراس مشاہدے سے اس نتیجے ‏پر پہنچا، کہ تقریباً تمام جنوبی امریکہ اس وقت کٹھ پتلی حکمرانوں کے زیر تسلط ہے، اور ان کی آڑ میں سرمایہ داری نظام یہاں جڑ پکڑ رہا ہے، جس کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ امریکہ بہادر خود ہے۔

وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ دونوں یعنی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کا سرپرست امریکہ کبھی بھی غریبوں کے دوست نہیں ‏ہوسکتے، اور ان کی تسلط سے اس خطے کو آزاد کرانے کے لئے اسے اپنی تعلیم چھوڑ کر انقلابی راہ اپنا پڑے گی۔

گوئٹے مالا[ترمیم]

اپنے تیسرے سفر کے دوران وہ گوئٹے مالا پہنچا، جہاں کے صدر گزمین کے خلاف امریکن سی آئی اے سرگرم تھی، تاکہ اس کی حکومت گراکر اپنی پسند کا کٹھ پتلی حکمران بٹھا یا جاسکے۔اور اس سازش میں وہ کامیاب بھی ہوگئے۔جس پر نئی امریکن نواز حکومت کے خلاف مختلف کیمونسٹ گروپ سرگرم ‏ہوگئے۔چی نے بھی ان کاساتھ دیا۔مگر جلد ہی وہ اختلافات کا شکار ہوگئے، اور گزمین نےباغیوں کی سربراہی کرنے کے بجائے میکسیکوکے سفارت خانےمیں گھس کر پناہ لی۔ جس سے اس کی بحالی کی تحریک کمزور پڑگئی، اور حکومتی کارندے ان پر بھاری پڑ گئے، چی نے آخری لمحے تک مذاحمت کی، مگر بالاآخر اسے بھی ‏اپنے سفارت خانے میں پناہ طلب کرنی پڑی۔ ‏

کیوبا[ترمیم]

چی 1954 میں میکسیکو چلاگیا، وہاں ایک سال تک جنرل ہسپتال میں الرجی کا شعبہ سنبھالنے کے بعد 1955 میں اس کی ملاقات کیوبا کے نئے ابھرتے انقلابی لیڈر فیدل کاسترو کے بھائی رائول کاسترو سے ہوئی، جس نے اس کی سوچ سے متاثر ہوکر بعد میں اسے اپنے بھائی سے ملوایا۔ اس ملاقات کو اگر چی کی ‏زندگی کا نقطہ آغاز کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا، دونوں نے متضاد شخصیت ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو کافی متاثر کیا، اور چی نے کاسترو کی تحریک میں شمولیت اختیار کرلی۔

دونوں کا نشانہ امریکی نواز کیوبن حکمران باتستاتھا، جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا، یہ تحریک تقریباً چار سال چلی، اس دوران چی نے باقاعدہ گوریلا ٹریننگ بھی لی، اور اس میں بہت کامیاب رہا۔ کاسترو بھی اس کی قابلیت اور ڈسپلن سے بہت متاثر تھا، یہی وجہ تھی کہ کچھ ہی عرصے میں اسے اپنا دست راست بنالیا۔

چی جیسے انقالبیوں کی بدولت ہی وہ وقت دور نہ رہا، جب 1959 کی پہلی صبح کٹھ پتلی حکمران ملک چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوگیا۔

انقلابیوں کی حکومت آئی تو انھیں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، چی کوصنعت اور خزانے کی وزارتیں دیں گئیں، مگر انقلابی جدوجہد کے مقابلے میں اصلاحات کا کام نہایت دشوار ثابت ہوا، خصوصاً جب امریکہ بہادر ان کے گرد گھیرا تنگ کررہا تھا، اور طرح طرح کی معاشی پابندیاں عائد کررہا تھا،اس دوران چی نے کافی ‏کوشش کی، کئی ملکوں کے دورے کئے، اور بڑے بڑے مگرمچھوں سے زمینیں چھین کر غریبوں میں تقسیم کیں، مگر ان اصلاحات کے خاطر خواہ نتائج نہیں نکل سکے، اور اسے پس پردہ جانا پڑا۔

یہی وہ وقت تھا جب اس کے اندر پھر انقلابی باغی نے سر ااٹھایا، اور اس نے ان معاشی مغزماریوں میں سر کھپانے کی بجائے کانگو کا انتخاب کیا، جہاں ایک اور امریکی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف تحریک چلنے لگی تھی۔‏

کانگو[ترمیم]

چی 1965 کی شروعات میں کانگو پہنچا، اس کے ساتھ اس کے درجن بھر وفادار ساتھی بھی ساتھ تھے، یہاں اس کے آنے کا مقصد یہاں تحریک چلانے والوں کو اپنا تجربہ منتقل کرنا، اور ان کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا تھی، مگر ابتدا ہی میں اسے مایوس ہونا پڑ۔

یہ کیوبا نہیں تھا، جہاں انقلابی پرعزم اور ڈسپلن کے پابند ‏تھے، جبکہ عوام بھی ان کے لئے اچھے جذبات رکھتے تھے۔ کانگو میں تحریک تو شروع تھی، مگر لوگوں میں وہ ڈسپلن اورجذبہ موجود نہیں تھا، جو کسی تحریک کی کامیابی کے لئے ضروری ہوتا ہے، اس کے علاوہ اسے یہاں کی زبانیں بھی نہیں آتی تھیں جس کی وجہ سے اپنے خیالات اور منصوبوں پردوسرے لیڈروں کے ساتھ ‏اظہار خیال کرنے میں اسے مترجم کی خدمات لینی پڑتی تھیں۔ جبکہ سی آئی اے بھی اس علاقے میں پوری طرح سرگرم تھی، جو اپنے جدید مواصلاتی آلات کی مدد سےان کے اکثر پلان پہلےسے جان لیتے تھے۔

چی وہاں تقریباً سات مہینے رہا، اور آخر میں بیمار پڑگیا، وہ مقامی گوریلا لیڈروں کی نااہلی اور عوام کی انقلاب میں غیر دلچسپی سے حد درجہ مایوس ہوا، اگرچہ وہ آخری دم تک وہاں رہ کر لڑنا چاہتا تھا، مگر کاسترو کے خصوصی پیغاموں نے اسے وہاں سے نکلنے پرمجبور کیا۔

بولیویا‏[ترمیم]

صحت بہتر ہوتے ہی چی نے اگلی سرگرمی کے لئے بولیویا کا انتخاب کیا، جہاں ایک اور امریکن نواز حکومت عوام کا خون چوس رہی تھی۔ وہ 1966 کے آخر میں بولیویا پہنچا، اورایک پہاڑی علاقے سے تقریباً 50 ساتھیوں کی مدد سے تحریک شروع کی۔ اور شروعات میں اسے کافی اچھی کامیابیاں ملیں، اور کئی جھڑپوں میں ‏بولیوین آرمی کو شدید نقصان پہنچایا۔ جو بعد میں اس کی موت کا اصل سبب بنا۔کیونکہ اس نے انھیں کافی زک پہنچائی تھی۔

مگریہاں وہ جو پلان لیکر پہنچا تھا، ان میں کئی باتیں اس کی توقعات کی برخلاف تھیں، ان میں سے ایک عوامی سپورٹ کی توقع تھی، جو کانگو کی طرح یہاں بھی نہ ہونے کے برابر تھی، بلکہ یہاں تو عوام میں سے ہی اکثر حکومت کے مخبر تھے، دوسرے اسے یہ توقع تھی کہ صرف بولیوین آرمی سے مقابلہ ہے، مگر یہاں آکے اسے ‏پتہ چلا کہ امریکہ یہاں بھی پوری طرح شامل ہے، اور اسے بولیوین آرمی کے ساتھ ساتھ امریکن کمانڈوز کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا، اس کے علاوہ سب سے بڑا دھچکا اسےیہ پہنچا کہ کیوبا کے ساتھ اس کا ریڈیو رابطہ منقطع ہوگیا، اور یوں مزید سپورٹ کی توقع بھی نہیں رہی تھی۔ ‏

گرفتاری اورموت[ترمیم]

‏7 اکتوبر 1967 کی صبح ایک مقامی مخبر نے قریبی فوجی اڈے پر چی اور اس کے ساتھیوں کے ٹھکانے کی اطلاع دی، جس پر فوج حرکت میں آگئی،امریکن سی آئی اے جو کہ کانگو سے اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑی تھی،اس آپریشن میں بولیوین افواج کی بھرپور مدد کررہی تھی، پھر پلان بنا کر چی اور اس کے ساتھیوں کے گرد پہاڑیوں میں گھیرا ‏تنگ کیا گیا۔

تقریباً 1800 فوجیوں نے اس مشن میں حصہ لیا، سی آئی اے انھیں گائیڈ کررہی تھی، چی اور اس کے ساتھیوں نے اگرچہ مقابلہ کیا، مگر وہ مٹھی بھر تھے، جلد ہی مارے گئے، چی زخمی ہوا، اور گرفتار کرلیا گیا۔ پھر اسے پوچھ تاچھ کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کرلیا گیا۔

جہاں اگلے روز شام تک اس پر کئی بار کوشش کی گئی، تاکہ وہ منہ کھول دے، مگر بقول ایک فوجی کے زخمی ہونے کے باوجود چی بالکل مطمئن بیٹھا ہواتھا، اور کسی گھبراہٹ کے بغیر سب سے آنکھیں ملاکر انھیں گھور رہا تھا۔

اس کی آنکھوں میں ایسی رعب اور چمک تھی کہ ہم میں سے کوئی بھی اس سے صحیح نظر نہیں ملا پارہا تھا۔آفیسر آجا رہے تھے، اور اس سے پوچھ تاچھ کررہے تھے، مگر وہ کسی ‏سوال کا جواب نہیں دے رہا تھا، البتہ اس نے اپنے لئے تمباکو ضرور طلب کیا، جو میں نے اسے فراہم کیا، اس پر وہ کافی خوش ہوا، اور میرا شکریہ بھی ادا کیا۔

پھر جب دو دن تک اس پر مغز ماری کرنے سے بھی حاصل نہ ہوا، تو اس کی رپورٹ صدر کو دےدی گئی، جس نے کسی ممکنہ پریشر سے بچنے کے لئے اس کی فوری موت کا حکم صادر کردیا۔سی آئی اے چاہ رہی تھی کہ اسے پانامہ منتقل کیا جائے، تاکہ وہاں ان کی اسپیشل ٹیم اس سے مزید تفتیش کرے ، مگر صدر کو ڈر تھا کہ اگر وہ فرار ہوگیا تو شائد پھر ہاتھ نہ آئے، اور اس کی حکومت پھر خطرہ میں پڑ سکتی ہے، لہذا اس نے اپنا حکم برقرار رکھا۔

آرڈر کی تکمیل کی گئی، اور اسی شام اسے ایک شرابی جلاد کے حوالے کیا گیا، جو جنگ میں اپنے تین ساتھی کھوچکا تھا، اور چی کو ان کی موت کا ذمہ دار سمجھ رہا تھا۔ جب وہ چی کے سامنے پہنچا تو چی نے اسے اکسایا ، وہ ایک آسان موت کی توقع کررہا تھا، مگر شرابی جلاد نے پلان کے مطابق آڑی ترچھی 9گولیاں برسائیں، اور اسے ‏بڑی اذیت ناک موت سے دوچار کیا۔

ان کا منصوبہ یہ تھا کہ چی کو واپس اسی مقام پر پھینک کر بعد میں اعلان کیا جائے، کہ وہ مقابلے میں مارا گیا، تاک اس طرح ٹرائل نہ کرنے کے الزام سے بچا جاسکے۔

شہرت[ترمیم]

چی گویرا کو مرے 45 سال سے زائد ہوگئے ہیں، مگر وہ ابھی تک لوگوں کے دلوں میں اپنے اصول، قابلیت، سرمایہ درانہ نظام کے خلاف بغاوت، اور انقلابی سوچ کی وجہ سے گھر کئے ہوئے ہے۔ اس کی مشہور تصویر جو کہ1931 میں کھنچی گئی ہے، غالباً دنیا میں سب سے زیادہ پرنٹ ہونے والی تصویر ہے، جو تقریباً ہر جگہ ‏دکھائی دیتی ہے، خصوصاً ان ممالک میں جہاں انقلابی تحریکیں چل رہی ہیں۔

ایک غلط فہمی جو اس سلسلے میں پیدا ہوتی ہے، وہ یہ کہ چی ہر باغی کا ہیرو ہے، جیسا کہ پچھلے برسوں جنوبی سوڈان میں دیکھا گیا تھا، جہاں علیحدگی پسند اس کی تصاویر کے ساتھ نظر آتے تھے، یہ بات قابل غور ہے، کہ علیحدگی پسند ،ملک کا بٹوارہ کرتے ہیں، اور انقلابی اپنے ملک سے نااہل حکمران کو ہٹنے کی تحریک چلاتے ‏ہیں، اورچی کی زندگی کا محور یہی تحریکیں رہیں ہیں۔

اس کاشخصیت آج بھی کیوبا میں ایک نیشنل ہیرو کی طرح ہی ہے، اگرچہ وہ وہاں کا باشندہ نہیں ، اور اپنے ملک ارجنٹائن میں بھی وہ کسی ہیرو کی طرح پڑھایا، اور یاد کیا جاتا ہے۔

تصانیف[ترمیم]

دو کتابیں ۔ گوریلا جنگ اور بولیویا کی ڈائری تصنف کیں۔


بیرونی روابط[ترمیم]