سلسلہ چشتیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(چشتیہ سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالات بہ سلسلۂ

تصوف

Maghribi Kufic.jpg

فقرا اور درویشوں کا مسلک اور سلسلہ جس کے بانی حضرت علی کی نویں پشت میں سے ایک بزرگ ابواسحاق تھے۔ بعض روایات کے مطابق یہ بزرگ ایشیائے کوچک سے آئے اور چشت نام کے ایک گاؤں میں جو علاقہ خراسان میں ہے مقیم ہوئے۔ بعض کے نزدیک شام میں اقامت پذیر ہوئے اور وفات پر وہیں دفن ہوئے۔

بعض لوگ اس سلسلے کا بانی حضرت بندہ نواز نام کے ایک بزرگ کو قرار دیتے ہیں کئی لوگ چشت کے خواجہ احمد ابدال کو اس کا بانی سمجھتے ہیں اور پاک و ہند میں اس کا مبلغ خواجہ معین الدین چشتی کو قرار دیتے ہیں جن کے خلیفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی تھے۔ ان کے خلیفہ بابا فرید الدین گنج شکر پاک پٹن ضلع ساہیوال ’’پاکستان ‘‘ میں ہے۔ بابا فرید کے دو مرید تھے ، علی احمد صابری جن کا مزار رڑکی کے قریب پیران کلیر میں ہے ان کے پیرو صابری چشتی کے نام سے موسوم ہیں۔ ان کے دوسرے ممتاز مرید نظام الدین اولیاء تھے۔ جن کا مزار دہلی میں ہے۔ ان کے پیرو نظامی کہلاتے ہیں۔

سلسله طریقت چشتیہ[ترمیم]

  • خواجہ ابو اسحاق شامی رحمۃا ﷲ علیہ [1]
  • خواجہ ابو احمد ابدال رحمۃا ﷲ علیہ[2]
  • خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃا ﷲ علیہ [3]
  • خواجہ ابو یوسف چشتی رحمۃا ﷲ علیہ [4]
  • خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمۃا ﷲ علیہ[5]
  • خواجہ شریف زند نی رحمۃا ﷲ علیہ [6]
  • خواجہ عثمان ہارونی رحمۃا ﷲ علیہ[7]
  • خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃا ﷲ علیہ [8]
  • خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃا ﷲ علیہ [9]
  • بابا فرید گنج شکر رحمۃا ﷲ علیہ[10]
  • نظام الدین اولیاءرحمۃا ﷲ علیہ [11]
  • نصیرالدین چراغ دہلوی رحمۃا ﷲ علیہ [12]


سلسلہ طریقت مودودیہ چشتیہ[ترمیم]

سلسلہ چشتیہ کی مودودی شاخ کے بانی اور جد ابجد خواجہ قطب الدین مودود چشتی ہیں، چشت سے ہجرت کے بعد سلسلہ چشتیہ کے اولیاء نے بلوچستان پاکستان کا رُخ کیا اور پشین (جو اُس وقت قندھار کا ایک ضلع تھا اور آج پاکستان کے صوبہ بلوچستان کا ایک ضلع ہے) میں آباد ہو گئے، یہاں پر خواجہ نظام الدین علی مودودی چشتی کا مزارھے، اسکے بعد اس سلسلہ کی ہجرت بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ ( شال کوٹ ) کی طرف ہوئی یہاں خواجہ نقرالد ین شال پیر بابا مودود چشتی کا مزارھے اور اِسی وادی کوئٹہ کے مغربی جانب انکے فرزند خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کا مزار بمقام کرانی ہے، کوئٹہ سے یہ سلسلہ بلوچستان کے شہر مستونگ پہنچتا ہے اور بمقام مستونگ سید خواجہ شمس الدین ابراہیم یکپاسی مودود چشتی کا مزار ہے، اگلی منزل درہ ضلع بولان کا شہر ڈھاڈر ہے یہاں شمس الدین خواجہ ابراہیم یکپاسی کے نواسے خواجہ ابراہیم دوپاسی مودود چشتی کا مزار ہے ،


سلسلہ چشتیہ کی ابتدا خواجہ ابو اسحاق شامی رحمت ﷲ علیہ سے واسطہ در واسطہ خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمۃا ﷲ علیہ تک پہنچا اور خواجہ شریف زند نی رحمۃا ﷲ علیہ و خواجہ عثمان ہارونی رحمۃا ﷲ علیہ کے بعد خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃا ﷲ علیہ کے ذریعے خرقہ ادارت اولیاء ہندوستان کی طرف چلا گیا مگر خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمۃا ﷲ علیہ سے ایک اور سلسلہ سلسلۂ مودودیہ چشتیہ کے نام سے شروع ہوا- طریقت سلسلۂ مودودیہ خواجہ قطب الدین مودود چشتی کے نسب کے ذریعے چشت سے بلوچستان کے طرف منتقل ہوا -

  • سید خواجہ ابو یوسف ناصرالدین [13] [14]
  • سید خواجہ قطب الدین مودود چشتی [15] [16]
  • سید خواجہ نجم الدین احمد مشتاق [17] [18]
  • سید خواجہ رکن الدین حسین [19]
  • سید خواجہ قدودین خواجه محمد [20]
  • سید خواجه قطب دین محمد [21]
  • سید اود الدین خواجہ ابو احمد [22]
  • سید تقی الدین خواجہ یوسف [23]
  • سید نصرالدین خواجہ ولید [24]
  • سید خواجہ نقر الدین المعروف شال پیر بابا [25] [26]
  • سید خواجہ ولی کرانی [27] [28]
  • خواجہ ابراہیم یکپاسی [29] [30]
  • خواجہ ابراہیم دوپاسی [31]

اولیاء علماء کی نظر میں[ترمیم]

( اسلام کے مجرم کون ) کے مصنف محمد حسین میمن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ سلسلہ انبیاء کے منقطع ہونے کے بعد معرکہ دین علماء کے ہاتھ آیا اور مزید اپنی کتاب میں سلسلہ ہائے تصوف کو فرقوں کا نام دیا ہے یعنی چشتیہ، قادریہ، قلندریہ، سہروردیہ، وغیرہ اور مزید لکھتے ہیں کہ جیسے جیسے فرقے پیدا ہوتے رہے انکا مقابلہ کرنے کے لیے علماء میدان میں آئے ـ مصنف نے اولیاء کا ذکر حقارت کے ساتھ کیا ہے اور اولیاء کا موازنہ قادیانی، چکڑالوی، پرویزی، زکری، فکری وغیرہ سے کیا ہے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ محمد صلى الله عليه وآله وسلم کے وفات کے بعد امامین، اور اولیاء کا دور قابل ذکر ہے اور ان ادوار میں ارتقاء اسلام بے مثال رہی امامین اور اولیاء نے جو خدمات سرانجام دیں وہ آج بھی مستند ہیں ـ اولیاء کے کسی سلسلہ نے دوسرے سے اختلاف نہیں کیا اور اگر معمولی نوعیت کے اختلافات ہوے بھی ہوں تو انکو تکرار اور اسرار کا باعث نہیں بنایا گیا– اولیاء کے پاس جدید سائنسی سہولیات مثلاً لاوڈ اسپیکر، انٹرنیٹ، ریڈیو، ٹی وی کی سہولیات نہیں تھیں مگر اسلام کی جو خدمت اولیاء کے دور میں ہوئی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تاریخ میں خواجہ مودود چشتی کے صرف خلفاء کی تعداد دس ہزار بتائی جاتی ہے اور مریدین بے شمار تھے خواجہ اجمیر چشتی نے ایک کروڑ ہندو مشرف بہ اسلام کئے جبکہ انسانی آبادیوں کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا اور یہ عین ممکن ہے کہ محترم مصنف کے اپنے اجداد بھی انہی اولیاء کے طفیل مشرف بہ اسلام ہوئے ہوں ـ اسکے برعکس علماء آج تک عیدین کی ایک تاریخ پر متفق نہ ہو سکے اولیاء کے فرقوں کا ذکر بہت تفصیل سے کیا گیا لیکن علماء کے فرقوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ایک عالم کو دوسرے عالم کے عقائد گمراہ کن کیوں لگتے ہیں اُمت کس کو درست اور کس کو غلط تصور کرے ـ بعض علماء نے اپنے فقہی اختلافات کے بنا پر اسلام دشمن قوتوں کی بھرپور مدد کی ہے بی بی عائشہؓ کے نکاح موضوع پر علماء کے متضاد رویئے کے باعث اسلام دشمنوں کے ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں اور آج انٹرنیٹ پر توہین آمیز خاکوں اور کارٹونوں کی بھرمار ہے آج تبلیغ دین کے نام پر اپنے فقہ کی تبلیغ کی جاتی ہے اور جہاد کے نام پر غیر ملکی ایجنڈے پورے کئے جاتے ہیں ـ مسجدوں پر اسلحہ کے زور پر قبضہ کیا جاتا ہے ، علماء کے رویوں نے غیر مسلموں کے دلوں میں اسلام کے لیۓ نفرت پیدا کی ہے بلکہ مسلمانوں کے ایمان کو کمزور کرنے کا باعث بنے ہیں- اﷲ تعالٰی نے اسلام کے اندر اسکے شکست و ریخت کے مرمت کا خودکار انتظام کر رکھا ہے اسلام کو آج ہمارے کسی تبلیغ یا جہاد کی ضرورت نہیں ہے- اگر علماء اسلام کی ارتقاء میں رکاوٹ کا باعث نہ بنیں تو اسکی اپنی اندرونی قوت ہر ملک کی سرحد عبور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ـ ماضی میں اسلامی حکمرانوں نے جو علاقے قبضہ کئے وہ آج موجود نہیں ہیں مگر اولیاء نے جن دلوں کو فتح کیا آج بھی انکی نسلیں مشرف بہ اسلام ہیں اولیاء کے مزارات پہ آج بھی غیر مسلموں کی کثیر تعداد نظر آتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلموں کو اسلام سے نہیں بلکہ علماء کے طریقہ کار اور نظریات سے اختلاف ہے–

حوالہ جات بیرونی[ترمیم]

  1. ^ [1] خواجہ ابو اسحاق شامی
  2. ^ [2] خواجہ ابو احمد ابدال
  3. ^ [3] خواجہ ابو محمد
  4. ^ [4] خواجہ ابو یوسف
  5. ^ [5] خواجہ قطب الدین مودود چشتی
  6. ^ [6] خواجہ شریف زند نی
  7. ^ [7] خواجہ عثمان ہارونی
  8. ^ [8] خواجہ معین الدین چشتی
  9. ^ [9] خواجہ قطب الدین بختیار کاکی
  10. ^ [10] بابا فرید گنج شکر
  11. ^ [11] نظام الدین اولیاء
  12. ^ [12] نصیرالدین چراغ دہلوی
  13. ^ [13] خواجہ ابو یوسف مقالہ انگریزی
  14. ^ [14] خواجہ ابو یوسف مقاله اردو
  15. ^ [15] خواجہ مودود چشتی مقالہ انگریزی
  16. ^ [16] خواجه مودود چشتی مقالہ اردو
  17. ^ [17] خواجه نجم الدین مقالہ انگریزی
  18. ^ [18] خواجہ نجم الدین مقاله اردو
  19. ^ [19] خواجہ رکن الدین مقالہ اردو
  20. ^ [20] خواجہ قد ودین  مقالہ اردو
  21. ^ [21] خواجہ قطب دین مقالہ اردو
  22. ^ [22] اود الدین خواجہ ابو احمد مقالہ اردو
  23. ^ [23] تقی الدین خواجہ یوسف مقالہ اردو
  24. ^ [24] نصر الدین خواجہ ولید مقالہ اردو
  25. ^ [25] خواجہ نقر الدین مقالہ انگریزی
  26. ^ [26] خواجہ نقر الدین مقالہ اردو
  27. ^ [27] خواجہ ولی مقالہ انگریزی
  28. ^ [28] خواجہ ولی مقالہ اردو
  29. ^ [29]
  30. ^ [30]
  31. ^ [31]

حوالہ جات[ترمیم]

  • [32] Chishti Tariqa
  • [33] Soofie(Sufi)
  • [34] Chishti Order
  • [35] خواجگان چشت سيرالاقطاب: زندگينامه هاي مشايخ چشتيه ISBN 964-405-708-2
  • [36] طريقۀ چشتيه در هند و پاكستان و خدمات پيرواناين طريقه به فرهنگهاى اسلامى و ايرانى‎
  • [37]تذكار يكپاسى: سلسله چشتيه كے عظيم روحانى پيشوا شمس العارفين حضرت سيد خواجه ابراهیم یکپاسی مستونگ بلوچستان