معرفت
وکیپیڈیا سے
| مقالہ بہ سلسلۂ مضامین |
| عقائد و عبادات |
| صوفي شخصیات |
|
اویس قرنی• شیخ سیدناعبدالقادرجیلانی |
| تصوف کی معروف کتابیں |
|
احياء علوم الدين • کشف المحجوب • مكتوبات الرباني • دینِ الٰہی • فتوحات مكیہ |
| صوفی مکاتبِ فکر |
|
سنی صوفی • شـیعہ صوفی • |
| سلاسلِ طریقت |
|
قادریہ • چشتیہ |
| علم ِ تصوف کی اصطلاحات |
|
طریقت • معرفت • فناء • بقاء • لقاء • سالک • شیخ • طریقہ • نور • تجلی |
| مساجد |
| تصوف کی نسبت سے معروف علاقے |
|
دمشق• خراسان• بیت المقدس |
بنیادی طور پر معرفت کا مطلب جاننا ، استعراف یا عارف کا ہوتا ہے اور اسے انگریزی میں gnosis کہا جاتا ہے جبکہ اسکی عملی پیروی یا تجربے کو معرفت یا انگریزی میں Gnosticism کہا جاتا ہے۔ گو معرفت عام زندگی میں اکثر استعمال کیا جانے والا لفظ ہے مگر اسکا علمی مفہوم اس مفہوم سے بہت وسیع ہے کہ جس میں یہ روزمرہ زندگی میں آتا ہے۔ اس میں مذہب سے زیادہ فلسفے اور انسانی نفسیات کی ملاوٹ شامل ہوچکی ہے اور اگر یہ کہا جاۓ کہ یہ دراصل وجدان اور تصوف سے بہت قریب ہے تو بیجا نہ ہوگا۔