محمد الیاس قادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمد الیاس قادری
مکمل نام محمد الیاس قادری
پیدائش 12 جولائی 1950 (1950-07-12) ‏(63)
علاقہ عالم دین
مکتبہ فکر اہلسنت حنفی
شعبہ عمل قرآن, حدیث, تصوف، فقہ
افکار و نظریات جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا احیاء اور تجدید
مؤثر شخصیات امام احمد رضا خان, امام ابو حنیفہ
متاثر شخصیات محمد عمران عطاری، مشتاق قادری، مفتی محمد امین،

محمد الیاس قادری ایک مسلم عالم دین ہیں جنہوں نے دعوتِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔[1]

ولادت[ترمیم]

محمد الیاس قادری 26 رمضان 1369ھ بمطابق 1950ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوے۔ آپ کے آباو اجداد ہند کے گاوں کتیانہ کے رہنے والے تھے۔[2]

کنیت[ترمیم]

آپ کی کنیت "ابوبلال"اور تخلص "عطار" ہے۔[3]

القابات[ترمیم]

پاک و ہند کے علماء و عوام میں آپ "امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ" کے نام سے مشہور ہیں۔ مریدین آپ کا نام نامی لینے سے پہلے "شیخ طریقت" کا اضافہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات آپ کو "حضرت صاحب" کہہ کر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی کے بانی ہونے کی وجہ سے آپ کو "بانی دعوت اسلامی" بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کے شہزادگان اور قرب خاص کی برکتیں پانے والے متعدد اسلامی بھائی آپ دامت برکاتہم العالیہ سے عرض و معروض کے وقت "باپا" کے اپنائیت بھرے الفاظ سے بھی پکارتے ہیں۔ پاک و ہند کے مختلف علماء کرام و مفتیان عظام دامت فیوضھم نے مختلف مواقع پر امیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کو جن القابات سے تحریرا یاد کیا ہے، ان میں چند ملاحظہ ہوں: عالم نبیل، فاضل جلیل، عاشق رسول مقبول، یادگار اسلاف، نمونہ اسلاف، مبلغ اسلام، رھبر قوم، عاشق مدینہ، فدائے مدینہ، فدائے غوث الوری، فدائے سیدنا امام احمد رضا خان (رضی اللہ تعالی عنہ)، صاحب تقوی، مسلک اعلی حضرت کے عظیم ناشر و مبلغ پاسبان و ترجمان، ترجمان اہلسنت، مخدوم اہلسنت، محسن اہلسنت، حامی سنت، شیخ وقت، پیر طریقت، امیرملت۔ وغیرہا[4]

آبا و اجداد[ترمیم]

آپ کے آبا و اجداد ہند کے گاوں کتیانہ کے رہنے والے تھے۔ آپ کے دادا کی نیک نامی کی شہرت پورے کتیانہ میں مشہور تھی۔ پاکستان بننے کے بعد آپ کے والدین ہجرت کر کے پاکستان کے شہر حیدر آباد میں آ گے۔ آپ کے والد کا نام حاجی عبدالرحمان تھا، جو ایک نیک اور پارسا انسان تھے۔ انھوں نے سری لنکا کی حنفی میمن مسجد کی بہت سال تک خدمت کی وہاں اس وقت لوگوں نے آپ کی قصیدہ غوثیہ پڑتے ہوے کرامت بھی دیکھی۔ مولانا الیاس قادری کے والد 1370ھ میں اداہیگی حج کے دوران بیماری کی وجہ سے وفات پا گے۔ اس وقت مولانا کی عمر صرف 1سال تھی۔ آپ کے بڑے بھاہی اور والدہ بلترتیب 1396 اور 1398 میں وفات پا گے۔[5]

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

آپ نے علم دین کسی مدرسے میں باقاعدہ حاصل نہیں کیا بلکہ مفتی اعظم پاکستان علامہ مفتی وقارالدین کی خدمت میں 22 سال مسلسل جاتے رہے۔ مفتی مرحوم سے کتنا علم حاصل کیا اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جا سکتا کہ علامہ الیاس قادری پوری دنیا میں ان کے واحد خلیفہ ہیں۔ 1981 میں جب علماء کرام اہلسنت کی تبلیعی جماعت بنانے کے لیے تگ م دو کر رہے تھے۔ اس وقت بھی مفتی وقارالدین نے آپ کا نام اس کام کے لیے پیش کیا، کیونکہ الیاس قادری صاحب پہلی سے ہی خود ہی اس طرز پر کام کر رہے تھے۔[6]

بیعت و ارادت[ترمیم]

امام احمد رضا خان سے بے حد عقیدت کی بنا پر مولاناالیاس قادری کوآپ کے سلسلے میں داخل ہونے کا شوق پیدا ہوا۔ خود لکھتے ہیں:(مرید ہونے کے لئے) ایک ہی ہستی مرکز توجہ بنی ،گومشائخِ اہل سنت کی کمی تھی نہ ہے مگر۔۔ پسند اپنی اپنی خیال اپنا اپنا۔اس مقدس ہستی کا دامن تھام کر ایک ہی واسطے سے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن سے نسبت ہوجاتی تھی اور اس ’’ہستی‘‘ میں ایک کشش یہ بھی تھی کہ براہِ راست گنبد خضرا کا سایہ اُس پر پڑ رہا تھا۔ اس ’’مقدس ہستی‘‘ سے میری مراد حضرت شیخ الفضیلت آفتابِ رَضَویت ضیائے الْمِلَّت، مُقتدائے اَہلسنّت، مُرید و خلیفئہ اعلیٰ حضرت، پیرِ طریقت، رَہبرِ شریعت ، شَیخُ العرب و العَجَم، میزبانِ مہمانانِ مدینہ، قطبِ مدینہ، حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین اَحمد مدنی قادِری رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی ذات گرامی (ہے)[7]

تنظیم دعوت اسلامی کا قیام[ترمیم]

اس پُر فِتن دور میں کہ جب دنیا بھر میں گناہوں کی یلغار،ذرائع ابلاغ میں فحاشی کی بھر مار اور فیشن پرستی کی پھٹکار مسلمانوں کی اکثریت کو بے عمل بناچکی تھی، نیز علمِ دین سے بے رغبتی اور ہر خاص و عام کارُجحان صرف دُنیاوی تعلیم کی طرف ہونے کی وجہ سے اور دینی مسائل سے عدمِ واقفیت کی بنا پر ہر طرف جہالت کے بادل منڈلا رہے تھے، اسلام دشمن قوّتیں مسلمانوں کو مٹانے کے لئے اور اسلام کا پاکیزہ نقشہ بدلنے کے لئے ناپاک سازشیں کر رہی تھیں، مساجد کا تقدس پامال کیا جا رہا تھا، لادینیت و بدمذہبیت کا سیلاب تباہیاں مچا رہا تھا، ہر گھر سنیما گھر بنتا چلا جارہا تھا، مسلمان موسیقی، شراب اور جوئے کا عادی ہوکر تیزی کے ساتھ تباہی کے عمیق گڑھے میں گرتا چلاجا رہا تھا،

گلشن ِاسلام پر خَزاں کے بادل مَنڈلا رہے تھے۔ ان نازک حالات میں قبلہ شیخِ طریقت، امیر اہلسنت، بانیٔ دعوتِ اسلامی، حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادِری رَضَوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ نے نیکی کی دعوت عام کرنے کی ذمہ داری مَحسوس کرتے ہوئے ایک ایک اسلامی بھائی پر انفرادی کوشش کر کے مسلمانوں کو یہ ذہن دینا شروع کیا کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔”

یہاں تک کہ آپ نے ۱۴۰۱ھ میں ’’دعوتِ اسلامی‘‘ جیسی عظیم اورعالمگیر تحریک کے مَدَنی کام کا آغاز فرما دیا۔الحمدللہ عزوجل! یہ آپ کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مختصر سے عرصے میں دعوتِ اسلامی کا پیغام (تادم تحریر)دنیا کے66 ممالک میں پہنچ چکا ہے اور لاکھوں عاشقانِ رسول نیکی کی دعوت کو عام کرنے میں مصروف ہیں۔

مختلف ممالک میں کُفار بھی مُبلِّغینِ دعوت ِ اسلامی کے ہاتھوں مُشرف بہ اسلام ہوتے رہتے ہیں۔ آپ دامت برکاتہم العالیہ کی جہدِمسلسل نے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقلاب برپا کردیاجس کی بدولت وہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سر پر سبز سبز عمامے کے تاج اور چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی بھی سجالیتے ہیں۔[8]

کتب و رسائل[ترمیم]

اب تک 118 رساہل، چند کتب اس کے علاوہ 2 صخیم جلدوں میں فیضان سنت جو تقریبا 3300 صفحات پر شاہع ہو چکی ہے، جب کہ مندرجہ ذیل کتابیں 34 زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]