خواجہ غلام فرید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

خواجہ غلام فرید (1845ء تا 1901ء)ہفت زبان خصوصاً سرائیکی کے عظیم شاعرہیں۔چاچڑان میں پیدا ہوئے۔والد کا نام خواجہ خدا بخش تھا۔منقبِ محبوبیہ(تصنیف۔خواجہغلام فرید)کے مطابق آپ قریشی اورحضرت ابوبکرصدیق کی اولادمیں سے تھے۔لیکن عوام میں" کوریجہ" مشہور تھے۔تذکرہ نگاروں نے آپ کو فاروقی مشہورکررکھاہے۔جو سند سے درست نہیں ہے۔والدہ کاانتقل چارسال کی عمر میں اوروالدکاانتقال آٹھ سال کی عمر میں ہوا۔لیکن اس وقت تک آپ قرآن حفظ کرچکے تھے۔علومِ دینیہ(عربی،فارسی)کی تعلم اپنے دورکے فاضل علما سے حاصل کی۔۔وہ اپنے بڑے بھاءی فخر جہان صاحب کے مرید تھے.

فخر جہان قبول کیتوسے

واقف کل اسرار تھیوسے آپ نے کافی کیصنف میں ایسی باکمال شاعری کی ہے کہ بلاشبہ ان کی شاعر دنیاکے عظیم ترین ادب کااثاثہ ہے۔خواجہ صاحب عربی،فاسی،سندھی،سرائیکی اوردوسری بھاشازبانوں میں مہارت تامہ کے مالک تھے۔سرائیکی شاعری کو جس اعلیٰ مقام پر آپ چھوڑ کے گئے تھے۔آج بھی ان سے بہتر نہیں کہاجاسکا۔لطیف احساسات،جذبات اوراس میں وجدانی کیفیات کواس طرح ملادیناکہ شیروشکر ہوجائیں ،خواجہ کی شاعری کاادنیٰ کمال ہے۔4/فروری 1872ءمیں مرشدومربی فخرجہاں دائم آبادکوروانہ ہوئے تو نواب صادق محمدخاں عباسی رابع(فرماں روائے بہاول پور)نے چاچڑاں پہنچ کر دستاربندی میں شرکت کی۔علامہ رشیدطالوت رقم طرازہیں کہ:"ہزاروں نہیں بل کہ لاکھوں بندگانِ خدا حلقۂ ارادت میں داخل ہوہوکرآپ دستِ مبارک پر بیعت ہوتے رہے اورہندوسندھ کے عامۃ الناس کارجوع آپ کے عتبہ عالیہ کی طرف ہوگیا"۔ نظریہ تصوف سلسلہ چشتیہ کے عام مسلک کے مطابق آپ کا نظریہ بھی"ہمہ اوست"تھا۔یعنی آپ توحیدِ وجودی کے قائل تھے۔آپ کاتمام کلام اسی رنگ میں رنگاہواہے۔انھیں ہر رنگ اورانگ میں اللہ کے حسن کے جلوے نظرآتے۔بقول پروفیسر دل شاد کلانچوی"خواجہ صاحب عموماً حالت وجدمیں اشعارکہتے تھے۔یعنی حال وارد ہوتاتوکچھ کہتےتھے ورنہ نہیں۔ہروقت فکرِ سخن میں محورہناان کامعمول نہ تھا۔لکھنے پرآتے توالہام کی کیفیت ہوتی ۔بعض اوقات تولمبی لمبی کافیاں دس پندرہ منٹوں میں کہہ ڈالتے تھے۔"(مقدمہ دیوانِ خواجہ غلام فرید) موسیقیت اکثر کتب میں،علمااورفصحا اورعامۃ الناس سے سنا ہے کہ آپ علم موسیقی میں خاصادرک رکھتے تھے۔آپ کو 39 راگ ،راگنیوں پر عبورتھا۔آپ نے ان تمام راگنیوں میں کافیاں کہی ہیں۔جناب نشتر گوری لکھتے ہیں کہ اگر خواجہ صاحب کے کلام پرغورکیاجائے تو معلوم ہوتاہے کہآپ نے سنگیت کی تمام رمزوں اورلَے تال کی تمام خوبیوں سے استفادہ کیاہے۔اکثر کافیوں میں لفظوں کے تکرارسے ایسی ہم صوتی اورہم آ ہنگی پیداکی ہے کہ ہوااورپانی کی لہریں اپنے نغمے بھول جائیں۔شعروشاعری کے اسی گن کو"Alliteration"کہتے ہیں۔ کافی ایک مشکل فن ہے۔جوعربی زبان میں توملتاہے مگردوسری زبانوں میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ کمالِ فن خواجہ فرید کا خلام ہررنگ ونسل،عوم وخواص،عالم وان پڑھ،خواندہ وناخواندہ اورعجم وعرب میں مشہورہے۔آپ الفاظ کے ساحر ہیں اورحافظ جیسا سوزِ عشق آپ کے کلام کاخاصہ ہے۔امیرخسرو جیسا راگ رس کلام کی جان ہے،قآنی کا زورِ بیاں رکھتے ہیں،رومی سی تڑپ کوٹ کوٹ کرروحِ شاعری میں بھری ہے،سعدی جیسا مشاہدہ اوراسلوبِ وانداز اشعرسے ٹپکتاہے،صدیوں کے ظلسم کو اشعرمیں مقید کردیاہے۔وہ شاعرِ قال نہیں شاعرِ حال تھے۔ان کا کلام روح پر اس طرح اثر کرتاہے جیسے چشموں اورجھرنوں سے بہتاہوابھیوی راگ نہاں خانۂ دل میں اترتامحسوس ہوتاہے۔دنیامیں "الحسن" کاحسن ہے۔حسن وعشق لازم وملزوم ہیں۔"عشق اندردی پیڑ ڈاڈھاسخت ستایا"حسن کائنات کی اصل ہے باقی سب اسے کافیض وام ہے۔حسن ایک سرچشمہ ہے جہاں سے عشق،تمنا،طلب،خواہش،آرزو،امنگ،حسرت وغیرہ وغیرہ کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ کنتُ کنزاً عشق گواہی پہلے حب خودذات نوں آہی جیں سانگے تھیاجمل جہاں

ہےعشق داجلوہ ہر ہر جا سبحان اللہ سبحان اللہ

ہرصورت وچ دیدار ڈٹھم کل یارکوں اغیارڈٹھم

خوجہ غلام فرید 1901ء میں دنیاسے پردہ فرماگئے۔خواجہ صاحب کے اپنے الفاظ میں"وصل وصال داویلہ آیا"۔ نمونہ کلام میڈی اج کل اکھ پڑکاندی ہے کُئی خبر وصال آندی ہے

انکھیاں بلکن مکھ ڈیکھن کوں گل لاون کو پتھکن باہیں

وہ بہاول پور میں انگریزی اثر رسوخ کے مخالف تھے انھوں نے نواب آف بہاول پءر سے کہا تھا۔ ع۔اپنے ملک کوں ٓآپ وسا توں۔پٹ انگریزی تھانے

نمونہء کلام[ترمیم]

دلڑی لٹی تئیں یار سجن

کدیں موڑ مہاراں تے آ وطن

روہی دے کنڈڑے کالیاں

میڈیاں ڈکھن کناں دیاں والیاں

اساں راتاں ڈکھاں وچ جالیاں

روہی بنائوئی چا وطن


روہی دی عجب بہار دسے

جتھے میں نمانی دا یار ڈسے

جتھاں عاشق لکھ‍ ہزار ڈسے

اتھاں میں مسافر بے وطن


دلڑی لٹی تئیں یار سجن

کدیں موڑ مہاراں تے آ سجن