امداد اللہ مہاجر مکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

پیدائش : 1818ء

وفات: 1899ء

صوفی بزرگ ، عالم دین ، نانوتہ ضلع سہارن پور (اتر پردیش ) بھارت میں‌ پیداہوئے ۔ نسب کے لحاظ سے فاروقی تھے۔ سات برس کی عمر میں یتیم ہوگئے ۔ ذاتی شوق سے فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی ۔ دہلی جا کر اس وقت کے فضلاء اجل سے تفسیر ، حدیث اور فقہ کا درس لیا۔ بعد ازاں حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانوی (میانجو) کی توجہ خاص سے سلوک کی منازل طے کیں اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ 1844ء میں حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ وطن واپس آکر رُشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔

آپ کے متبعین میں عوام مولانا رشید احمد گنگوہی مولانا محمد یعقوب نانوتوی ، مولانا اشرف علی تھانوی ، مولانا فیض الحسن سہارن پوری ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے بلند پایہ علماء دین بھی شامل تھے۔ 1859ء میں‌آپ ہندوستان سے ہجرت کرکے مکہ معظمہ چلے گئے اور بقیہ زندگی وہیں بسر کی۔ اس لیے مہاجر مکی کے لقب سے مشہور ہیں۔ وفات کے بعد جنت اللعلی میں دفن ہوئے۔ علم دین اور تصوف پر تقریباً دس کتب ، جہاد اکبر ، گلزار معرفت، مرقومات امدایہ ، مکتوبات امدادیہ ، درنامہ غضب ناک ، ضیاء القلوب، تصنیف کیں۔ حضرت حاجی صاحب  نسباً فاروقی تھے، آپ کا سلسلہ نسب پچیس واسطوں سے سلسلہ تصوف کے مشہور بزرگ حضرت ابراہیم بن ادہم رحمة الله علیہ سے ملتا ہے۔ آپ کے والدماجد کا اسم گرامی محمد امین تھا۔حضرت حاجی صاحب1233ھ میں تھانہ بھون میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وتربیت کے بعد حجاز مقدس چلے گئے ۔ حجاز سے واپس تشریف لائے تو ارشادو تلقین سے ہندوستان کو منور کر دیا۔ الله تعالٰیٰ نے انہیں دل ودماغ کی بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا، آپ انیسویں صدی کی تین عظیم الشان تحریکوں کا منبع تھے:

مسلمانوں کی دینی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جو تحریک انیسویں صدی میں شروع ہوئی اور جس نے بالآخر دیوبند کی شکل اختیار کی ، انہی کے خلفا ومریدین کی پُرخلوص جدوجہد کا نتیجہ تھی۔

باطنی اصلاح وتربیت کے لیے انیسویں صدی کے آخر اوربیسویں صدی کے شروع میں حضرت حاجی امداد الله صاحب  کے خلیفہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی او رحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة الله علیہ کے مرید حضرت مولانا محمد الیاس رحمة الله علیہ کی کوششیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ الله تعالٰیٰ نے انہیں جو دینی بصیرت اور جذبہ عنایت فرمایا تھا ، اس کی مثال اس عہد میں مشکل سے ملے گی۔

انیسویں صدی کی تیسری اہم تحریک آزادیٴ وطن کی تھی ، اس سلسلہ میں خود حضرت صاحب  او ران کے متعلقین نے جوکارہائے نمایاں سر انجام دیے، وہ ہندوستان کی تاریخ میں آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ حضرت حاجی صاحب  کی والدہ ماجدہ شیخ علی محمد صدیقی نانوتوی کی صاحبزادی اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة الله علیہ بانی چمنستان ( دارالعلوم دیوبند) کے خاندان سے تھیں ۔ آپ جب پیدا ہوئے تو والد ماجد نے امداد حسین نام رکھا، تاریخی نام ” ظفر احمد‘ ‘ ہے۔ حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی نے آپ کا نام بجائے امداد حسین کے امدادالله کر دیا، پہلا نام پسند نہ آیا کہ اس سے شرک کی بو آتی ہے ، چناں چہ اس نام کو حاجی صاحب  نے بھی ترک کر دیا اور کتابوں نیز خطوط میں ہمیشہ امدادلله ہی لکھا کرتے تھے۔

تعلیم

والدہ ماجدہ کو آپ سے بے انتہا محبت تھی ، اگرچہ آپ کے تین بھائی او رایک بہن بھی تھی، مگر والدہ کا خصوصی تعلق آپ سے تھا، اسی لاڈپیار کی وجہ سے آپ ابتدائی تعلیم سے بھی محروم رہے ۔ابھی عمر کی ساتویں منزل ہی میں قدم رکھا تھا کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا۔ انہوں نے انتقال کے وقت خاص طور پر وصیت کی کہ کوئی میرے بعد اس بچے کو ہاتھ نہ لگائے ۔اس وصیت کی تعمیل میں یہاں تک مبالغہ کیا گیا کہ آپ کی تعلیم کی جانب توجہ نہ ہوئی ۔ بالآخر آپ خود ہی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے او راپنے شوق سے قرآن مجید حفظ کرنا شروع کیا ، مگر ہر مرتبہ کچھ ایسے مواقع پیش آتے رہے کہ اس وقت حفظ کی تکمیل نہ ہو سکی ، اس زمانہ میں استاذ الاساتذہ حضرت مولانا مملوک علی نانوتوی رحمة الله علیہ، جن سے آپ کاننھیالی تعلق تھا، دہلی کے عربک کالج میں مدرس تھے، آپ ان کے ہمراہ علوم کے لیے دہلی تشریف لے گئے ، اس وقت آپ کی عمر سولہ سال تھی ، اسی زمانے میں چند مختصرات فارسی تحصیل فرمائے اور کچھ صرف ونحو کی تعلیم اساتذہ عصر کی خدمت میں حاصل کی اور مولانا رحمت علی تھانوی سے شیخ عبدالحق دہلوی کی تکمیل الایمان اخذ فرمائی ۔ مثنوی مولانا روم رحمة الله علیہ آپ نے حضرت شیخ عبدالرزاق سے پڑھی، جو مفتی الہٰی بخش کاندھلوی کے شاگرد تھے ۔ حضرت مفتی صاحب حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی کے شاگرد تھے، مثنوی مولانا روم سے آپ کو تمام عمر بڑا شغف رہا۔

بیعت

دہلی اس زمانہ میں علماء ومشائخ کا مرکز تھا۔ مولانا نصیر الدین دہلوی طریقہ نقشبندیہ، مجددیہ کے مسند نشین تھے۔ دہلی کے زمانہ قیام میں آپ کو ان سے عقیدت ہو گئی اور آپ ان کے حلقہ ارادت میں داخل ہوگئے ، اس وقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی ، چند دن تک پیرومرشد کی خدمت میں رہ کر اجازت وخرقہ سے مشرف ہوئے اور اذکار طریقہ نقشبندیہ اخذ فرمائے، کچھ عرصہ بعد آپ نے خواب دیکھا کہ سرکار دو عالم، فخر موجودات ،حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کی مجلس آراستہ ہے، آپ مسجد نبوی صلی الله علیہ وسلم میں حاضر ہونا چاہتے تھے، لیکن ادب کی وجہ سے قدم آگے نہیں بڑھتا تھا۔ اچانک آپ کے جدا مجد حافظ بلاقی تشریف لائے اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر بارگاہ نبوی صلی الله علیہ وسلم میں پہنچا دیا۔ حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم نے دست مبارک میں آپ کا ہاتھ لے کر حضرت نور محمد جھنجھانوی کے حوالے فرما دیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں جب بیدار ہوا تو پریشانی کا عجیب عالم تھا، میں اس وقت جھنجھانہ سے واقف نہ تھا ،کئی سال اسی طرح گزر گئے ، آخر کا رمولانا محمد قلندر محدث جلال آبادی کی رہنمائی سے حضرت میاں جیو نور محمد جھنجھانوی کی خدمت میں حاضری کا موقع نصیب ہوا۔ دیکھتے ہی پہچان لیا کہ یہ وہی صورت ہے جو خواب میں دکھائی گئی تھی ۔ حضرت میاں جیو نے مجھے دیکھ کر فرمایا کہ کیا تمہیں اپنے خواب پر کامل یقین ہے ؟ یہ پہلی کرامت تھی جو مشاہدہ میں آئی۔

میرا دل بکمال استحکام حضرت جیو کی جانب مائل ہو گیا۔ ایک مدت پیرومرشد کی خدمت میں حاضر رہ کر ریاضت ومجاہدہ کے بعد سلوک کی تکمیل فرمائی اور خلافت سے مشرف ہوئے۔

سفرحج

1260ھ میں آپ نے خواب دیکھا کہ جناب محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم آپ کو طلب فرما رہے ہیں ۔ فرط شوق میں زاد راہ کا بندوبست بھی نہ کرسکے او رخالی ہاتھ روانہ ہو گئے،بھائیوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے پیچھے سے مصارف بھجوائے۔5 ذی الحجہ کو آپ کا جہاز جدہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا۔ آپ جہاز سے اتر کر فی الفور عرفات کے لیے روانہ ہو گئے۔ ارکان حج کی ادائیگی کے بعد مکہ مکرمہ میں آپ نے حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی کی خدمت میں کچھ عرصہ قیام فرما کر فیوض وبرکات حاصل کیے اور بعد ازاں مدینہ منورہ میں روضہ اقدس پر حاضر ہو کر سوزدرون کو تسکین بہم پہنچائی۔ واپسی میں پھرچند دن مکہ مکرمہ میں قیام رہا۔1362ھ بمطابق1846ء میں وطن مراجعت فرمائی۔

مریدیت

حج سے واپسی کے بعد دن بدن لوگوں کا رجوع بڑھتا جاتا تھا اور کثرت سے آپ کے دست مبارک پر بیعت کرنے کے مشتاق تھے ، مگر آپ کسی طرح تیار نہ ہوتے تھے ، بالآخر حافظ محمد امین صاحب کے شدید اصرار پر جو آپ کے پیر بھائی تھے ، بیعت کرانا شروع کیا، علما میں سب سے پہلے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی آپ کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئے۔ عوام الناس کے علاوہ علمائے عصر کی ایک بہت بڑی جماعت آپ کے حلقہ ارادت میں شامل تھی ، جماعت علماء میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کی نسبت آپ فرمایا کرتے تھے کہ جس طرح مولانا روم شمس تبریز کی زبان ہیں، اسی طرح حق تعالٰیٰ نے مولوی محمد قاسم  کو میری زبان بنایا، جو میرے قلب میں آتا ہے ، مولوی صاحب اس کو بیان کر دیتے ہیں، میں علمی اصطلاحات نہ جاننے کی وجہ سے اس کوبیان نہیں کرسکتا۔

انقلاب1857ء

ہندوستان میں انگریزی حکومت کے دور میں عدل وانصاف اور رعایا پروی کے بجائے جبر واستبداد لوٹ کھسوٹ کا عام دور دورہ تھا۔ انگریزی عمل داری میں ہندوستان کو عیسائی بنانے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا تھا، پادریوں کو نہ صرف تبلیغ کی عام اجازت تھی، بلکہ انگریز احکام ان کی پشت پناہی کرتے ، اسکولوں، کالجوں کے مدرسین عموماً پادری ہوتے تھے ۔ انجیل کا درس لازمی کر دیا گیا ،پادری عام اجتماعات میں نہ صرف عیسائیت کی تبلیغ کرتے ، بلکہ ہندو اور مسلمانوں پر بے محابا جارحانہ حملے کیے جاتے تھے، چوں کہ انگریزوں کی نظر میں اس کا اصلی مدمقابل مسلمان تھے اور اسی کو وہ اپنا سیاسی حریف سمجھتے تھے، اس لیے انگریزوں کا خیال تھا کہ جب تک مسلمانوں کو پست اور ناکارہ نہیں بنایا جائے گا۔ اس وقت تک حکومت اور سر بلندی کا نشہ ان کے دماغوں سے نہیں نکلے گا۔ اس لیے مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ ظلم وجور اور تبلیغ عیسائیت کا نشانہ بنایا گیا۔ چناں چہ فضل حق خیر آبادی اور دوسرے علماء کو فتوی جہاد 1857ء کے جرم میں کالے پانی کی سزا دی گئی تھی ۔ یہ حالات تھے جنہوں نے ارباب فکر ودانش کو یہ سوچنے پر مجبو رکر دیا تھا کہ وہ انگریزوں کے خلاف صف آرا ہو جائیں یا اپنے آپ کو انگریزوں کی عیسائی بنانے والی پالیسی کے حوالے کر دیں ، ادھر انگریز کے مظالم اپنی انتہا کو پہنچ گئے تھے ، اس دوران حضرت حاجی صاحب  مکی ، حضرت حافظ محمد ضامن، حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی تھانہ بھون میں مجاہدین کو مختلف دیہات وقصبات سے جمع کرکے میدان میں لانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔ حضرت نانوتوی قدس سرہ امیر عسکر تھے ۔ تھانہ بھون ہی کے قریب ترین مقام شاملی کی تحصیل پر، جس میں انگریز فوج متعین تھی، حملہ کر دیا گیا۔ حضرت حافظ محمد ضامن نے عین معرکہ کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔۔ اگرچہ تحصیل پر مجاہدین کا قبضہ ہو گیا، مگر حضرت محمد ضامن کی شہادت کے بعد مجاہدین تھانہ بھون واپس چلے گئے۔ انگریزوں نے اس کا بڑا سخت انتقام لیا۔ مظفر نگر کا کلکٹر فوج لے کر تھانہ بھون پہنچا اور شدید گولہ باری کرکے تھانہ بھون کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ جماعت مجاہدین کے درہم برہم ہو جانے پر حضرت حاجی صاحب مہاجر عرصہ تک مختلف مقامات پر روپوش رہے اور جب ہندوستان کی زمین وآسمان کو اپنے لیے تنگ پایا تو 1276ھ مطابق1899ء میں ہندوستان سے ہجرت فرما کر حرم کعبہ میں پناہ گزین ہو گئے۔

قیام مکہ مکرمہ

حضرت حاجی صاحب  مکہ مکرمہ میں مقیم ہو گئے ۔ آپ کے حلقہ ارادت میں ہندوستان وعرب کے علاوہ مختلف ممالک کے کثیر تعداد کے لوگ شامل تھے، مکہ مکرمہ میں ممالک اسلامیہ کے جس قدر مشائخ مختلف سلسلوں کے مقیم تھے ، ان سب میں آپ کو نمایاں اور امتیازی مقام حاصل تھا ، اکثر مشائخ کرام حاضر ہو کر فیوض باطنی سے لطف اندوز ہوتے،تزکیہ باطن کے ساتھ اکثرضیاء القلوب کا درس بھی جاری رہتا ۔ مثنوی شریف کے درس کا بھی التزام تھا۔ مثنوی شریف سے شغف کا یہ حال تھا کہ آخری عمر میں جب سیدھا بیٹھنا دشوار تھا، کوئی طالب علم مثنوی لے کر حاضر ہوتا تو فوراً پڑھانا شروع کر دیتے ، ایک دو شعر کے بعد بدن میں ایسی قوت آجاتی کہ تکیہ چھوڑ کر سیدھے بیٹھ جاتے اور اسرار وحقائق کا دریا جوش مارنے لگتا ، ایک مرتبہ قسطنطنیہ کے ایک بڑے شیخ حضرت اسعد آفندی، جو مولانا روم کے خاندان اور سلسلے کے شیخ کامل او رمثنوی شریف کے زبردست عالم تھے ۔ آپ سے ملنے کے لیے تشریف لائے، اس وقت مثنوی شریف کا درس ہو رہا تھا ۔ حضرت حاجی صاحب  بڑے جوش کے ساتھ حقائق ومعارف بیان فرمارہے تھے ، درس اردو میں ہو رہا تھا ، آپ کے ایک خادم مولوی نیاز احمد حیدرآبادی نے عرض کیا کہ اگر شیخ اسعد اردو سمجھتے تو بہت محفوظ ہوتے۔ آپ  نے فرمایا کہ حظ ولطف کے لیے زبان جاننے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ فرماکر مثنوی شریف کے چند اشعار ایک خاص انداز سے پڑھے، جن کو سن کر حضرت شخ اسعد آفندی پر حال طاری ہو گیا۔ جب افاقہ ہوا تو انہوں نے آپ سے اشغال کی اجازت لی او راپنی قباپیش کرکے درخواست کی کہ آپ اس کو پہن کر تبرکاً مجھے عنایت فرما دیجیے۔

حاجی صاحب مرشدوں کے ”مرشد“ کا لقب

یہ لقبحضرت حاجی صاحب  پر صحیح طور پر صادق آتا ہے ، حضرت حاجی صاحب  کے حلقہ ارادت میں علما کی تعداد سینکڑوں تک ہے، پوری امت میں کسی شخص سے علما کی اس قدر کثرت نے بیعت نہیں کی ، جتنی حاجی صاحب  سے کی ہے ۔

اتباع سنت اور کرامات

اکابر دیوبند کے سلسلة الذہب میں اصل چیز اتباع سنت ہے،یہی وجہ ہے کہ اس مشرب کے تمام مشائخ شریعت کے سخت پابند اور متبع سنت تھے اور اس سلسلے کا ہر شیخ ولی الله تھا اور ہے۔ اکابرین دیوبند کرامات کو برحق جانتے ہیں کہ ان کا صدور اہل کمال سے ہوتا ہے ۔

کرامات

آپ کی ایک کرامت کئی تذکروں میں موجود ہے کہ تحریک آزادی 1857ء کے مجاہدوں کی گرفتاریاں ہو رہی تھیں ، حضرت کے بھی وارنٹ جاری ہو چکے تھے ، کسی نے ضلع انبالہ کے کلکٹر کو اطلاع دی کہ حاجی صاحب راؤ عبدالله رئیس پنجلاسہ ضلع انبالہ کے اصطبل میں مقیم ہیں ، کلکٹر بذات خود اصطبل پر آموجود ہوا اور رئیس صاحب سے کہنے لگا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کے پاس عمدہ گھوڑے ہیں ، ہم دیکھنا چاہتے ہیں ؟ چناں چہ اصطبل کھول دیا گیا ، معتقدین سخت گھبرائے ہوئے تھے ، انگریز کلکٹر جب اندر داخل ہوا۔ مصلیٰ بچھا ہوا تھا او روضو کا لوٹا بھی موجود تھا ، اس کے پانی سے زمین تر تھی، مگر حاجی صاحب غائب تھے ، جب وہ چلا گیا تو حاجی صاحب کو مصلے پر نماز پڑھتے پایا گیا۔

ایک اور کرامت

مولانا شاہ محمد حسین صاحب  الہ آبادی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ یہ ناچیز بقصد حرمین شریفین وطن سے چلا ، بمبئی میں سو رہا تھا کہ خواب میں دیکھا ، حضرت تشریف لائے اور فرماتے ہیں کہ اس مرتبہ تو ہم ہی ہندوستان میں آگئے، تم مکہ مکرمہ نہ جاؤ، میں نے عرض کیا کہ حضور اب تو یہاں آگئے اورجہاز کا کرایہ بھی کر لیا ہے او رکل جہاز روانہ ہو جائے گا ؟ فرمایا: نہیں، جانا مناسب نہیں ، میں عرض کرتا رہا۔ ارشاد ہوا کہ نہیں، اس سال نہ جاؤ ۔ آنکھیں کھلیں فی الجملہ تردد رہا، مگر اس دن جہاز روانہ ہوا، میں اس بھید سے واقف نہ تھا ،سوار ہو گیا او رجہاز روانہ ہوا، اسی دن ایسا طوفان آیا کہ جہاز نقصان کی وجہ سے واپس آگیا۔

ایک اور کرامت

حضرت مولانا شاہ محمد حسین صاحب فرماتے ہیں کہ باوجود پیرانہ سالی کے حضرت حاجی صاحب  کے مجاہدہ کا حال یہ تھا کہ ایک سال رمضان شریف میں مجھے حاضری خدمت اقدس کا اتفاق ہوا ، دیکھا کہ تمام رات نماز پڑھنے اور قرآن سننے میں بسر ہوتی ہے ۔ حافظ عبدالله پنجابی ایک بزرگ تھے، تراویح میں ہر روز حرم شریف میں محض حضرت صاحب کے سنانے کو سات آٹھ پارے پڑھتے، اس میں قریب نصف شب گزر جاتی، اس کے بعد حضرت کبھی کبھی شیخ حسن عرب کا قرآن سننے جاتے ۔ نصف شب سے حافظ عبدالحمید صاحب باب الرحمة پر تہجد میں پانچ چھ پارے روز پڑھتے۔ ان کا قرآن سننے جاتے ، فجر تک برابر یہی کیفیت رہتی۔

قطب ارشاد

حضرت حاجی صاحب  کے قطب ارشاد اور شیخ المشائخ ہونے میں کون ساشبہ ہے؟ اولیائے عصر آپ کی ولایت پر اجماع رکھتے ہیں اور علماء زمان آپ کے علو منزل کا اعتراف کرتے تھے۔

وفات

آخر13 جمادی الثانیہ1317ھ، مطابق1899ء کو چہار شنبہ (بدھ) کے دن فجر کی اذان کے وقت چوراسی سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہا، جنت المعلیٰ میں مولانا رحمت الله کیرانوی کے پہلو میں تدفین ہوئی۔

انا لله وانا الیہ راجعون․


شائع ہواالفاروق, ذوالحجہ۱۴۳۰ھ, Volume 25, No. 12