دارالعلوم دیوبند
ہندوستان میں برطانوی سامراجیت کے دور استبداد میں حضرت شاہ ولی اللہ کی تحریک کو جاری رکھنے ، مسلمانانِ ہند کے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے ، مسلک حنفیہ کی مسند تدریس کو منور رکھنے ، دشمنان اسلام ، مشرکین ہندوستان اور عیسائی مبلغین کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کا بیڑا جس ادارے نےاحسن طریقے سے اٹھایا ۔ وہ دیوبند مکتبہ فکر ہے۔ اسلامی تعلیمات کی تدریس کے لیے الازہر یونیورسٹی ، مصر کے بعد درسگاہ عالمگیر شہرت نصیب ہوئی۔
[ترمیم] قیام کی وجوہات
| کلیدی خصوصیات | |
|
مولانا محمد قاسم نانوتوی · مولانا رشید احمد گنگوہی |
|
| اہم ادارے | |
|
دارالعلوم دیوبند, بھارت |
|
| تحریکیں | |
|
تبلیغی جماعت |
1857ء کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانان ہند کے سیاسی اور معاشی زوال کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاق ، ثقافت ، مذہب اور معاشرت پر بھی دوررس نتائج کے حامل برے اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کا ملی تشخص خطرے میں پڑ گیا تھا اگر ایک طرف سقوط دہلی کے بعد مدرسہ رحیمیہ کے دروازے بند کر دئیے گئے تھے تو دوسری طرف ان کو ان کے مذہب سے بیزار کرنے کے لیے مذموم کوششوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا تھا۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کو اسلامی احکامات کی اصل روح سے باخبررکھا جائے اور ان میں جذبۃ جہاد اور جذبۃ شہادت کی تجدید کا عمل بلا تاخیر شروع کیا جائے تاکہ سپین اور خلافت عثمانیہ کے مسلمانوں کی طرح ان کا شیرازہ ملت کہیں نہ جائے
[ترمیم] قیام
مندرجہ بالا مقاصد کے حصول کے لیے حضرت شاہ ولی اللہ کی تعلیمات اور تحریک سے متاثر کچھ علماء نے برطانوی ہند میں دینی مراکز قائم کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یو۔ پی کے ضلع سہارن پور کے ایک قصبے نانوتہ کے حضرت مولانا قاسم نانوتوی نے 30 مئی 1866ء بمطابق 15 محرم الحرام 1283ء کو دیوبند کی ایک چھوٹی سی مسجد (مسجد چھتہ) میں مدرسۃ دیوبند کی بنیاد رکھی۔ واضح رہے کہ اس نیک کام میں انہیں مولانا محمود الحسن کے والد مولوی ذوالفقار علی صاحب اور مولانا شبیر احمد عثمانی کے والد مولوی فضل الرحمن صاحب کا عملی تعاون حاصل رہا۔ یہاں یہ وضاحت بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس مدرسے کا آغاز مسجد چھتہ دیوبند کے انار کے درخت کے نیچے ایک معلم اور ایک طالب علم کے درمیان نشست سے ہوا۔ معلم مولوی محمود اور طالب علم محمود الحسن تھے۔ حسن اتفاق دیکھیے کہ استاد محمود ، شاگرد بھی محمود اور عنوان بھی محمود ۔ کسے معلوم تھا کہ یہ چھوٹا مدرسہ ایک دن دنیائے اسلام کا عظیم درسگاہ بنے گا۔ اسے ایک عظیم دارالعلوم بنانے کا سہرا مولانا قاسم ناناتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی کو جاتا ہے۔ جبکہ اسے معراج کمال پر پہنچانے والے دو مقدس ہستیوں میں مولانا محمود الحسن(شیخ الہند) اور مولانا شبیر احمد عثمانی (شیخ الاسلام) کے اسمائے مبارک شامل ہیں۔
دارالعلوم دیوبند نے اب تک سینکڑوں مفسر ، محدث ، مجاہدین ادیب اور تلامذہ پیدا کیے ہیں جن میں مولانا محمود الحسن اور شبیر احمد عثمانی کے علاوہ مولانا اشرف علی تھانوی ، مولانا عبید اللہ سندھی ، مولانا حسین احمد مدنی اور سید انوار شاہ کاشمیری وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ انہی ہستیوں نے جنوبی ایشیاء اور جنوبی ایشیاء سے باہر اسلام کی شمع کو روشن رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ہے۔ شمع سے شمع روشن کرنے کی یہ روایت اور سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
[ترمیم] خدمات
ذیل میں دیوبند کی خدمات اور کردار کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جارہے ان میں ان باتوں کا احاطہ کیا جائے گا جن کی بدولت دیوبند کا مکتبہ فکر آج بھی جنوبی ایشاء کا سب سے زیادہ لوگوں پراثر انداز ہونے والا مکتبہ فکر ہے۔ اور اس نے برصغیر کے مسلمانوں کی تربیت میں کیا اہم کردارادا کیا ہے۔
[ترمیم] حضرت شاہ ولی اللہ کی تحریک کا تسلسل
مدرسہ رحیمیہ کو دارالعلوم دیوبند کا پیش خیمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ دارالعلوم دیوبند کا بنیادی مقصد حضرت شاہ ولی اللہ کی تحریک کو جاری و ساری رکھنا مقصود تھا ۔ بانی دارالعلوم محمد قاسم ناناتوی مولوی مملوک علی کے شاگرد خاص تھے جبکہ مولوی مملوک علی کے استاد حضرت شاہ ولی اللہ کے فرزندِ ارجمند حضرت شاہ عبدالعزیز تھے۔
[ترمیم] مسلک حنفیہ کی مسند تدریس کو منور رکھنا
علمائے دیوبند عملاً مسلک امام ابوحنیفہ کے پیروکار ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں انگریز کے دور استبداد میں حنفیہ کی مسند تدریس کو منور رکھنا علمائے دیوبند کا وہ کارنامہ ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہندوستان میں انگریزوں کی آمد سے پہلے مغل سلاطین ، حضرت شاہ ولی اللہ اور حضرت مجدد الف ثانی حنفیہ مسلک کے مقلد رہے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق جنوبی ایشیاء میں آباد مسلمانوں کے دوتہائی اکثریت سے بھی زیادہ مسلمان مسلکِ حنفیہ کے پیروکار ہیں۔
[ترمیم] غیر مسلم مبلغین کی یلغار کو روکنا
جنوبی ایشیاء میں برطانوی سامراجیت کے دور استبداد میں اسلام اورمسلمانوں کی سربلندی مکتبہ دیوبند کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ انگریز سرکار کی سرپرستی میں غیر مسلم مبلغیں جن میں اور آریہ سماج کے پنڈت قابل ذکر ہیں اسلام پر حملہ آور ہوئے۔ ان کے ناپاک عزائم کو ناپاک بنانے میں علمائے دیوبند کی قربانیاں اور خدمات آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہیں اس سلسلے میں مولانا محمد قاسم نانوتوی کے مشہور زمانہ مناظرے [1] جو آپ نے شاہ جہان پور وغیرہ میں کیے قابل ذکر ہیں۔
[ترمیم] تصنیف و تالیف کا زوال
دیوبند کے تقریباً تمام اکابر علماء نے اپنے اپنے وقت میں تصنیف و تالیف کے لازوال سلسلے اور عظیم روایت کو زندہ رکھا ہے۔ انہی علماء کی کتابوں کی تعداد اگر ہزاروں نہیں تو سینکڑوں میں ضرور ہے۔ مثال کے طور پر مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کی تصانیف و تالیفات کی تعداد ایک اندازے کے مطابق چھ سو کے لگ بھگ ہے۔ علاوہ ازیں حدیث کی ہر اہم کتاب پرعربی شرحین لکھنا اور حاشیے رقم کرنا بعض صاحب تصنیف علمائے دیوبند کی عظیم کاوشیں رہیں ہیں۔ ساتھ ساتھ حدیث کے ایک گرانقدر ذخیرے کو اردو میں منتقل کرنا بھی انہی علماء کا عظیم کارنامہ ہے۔ اسی طرح اردو زبان کی حفاظت اور عربی زبان کی ترویج میں بھی علماء دیوبند کا بہت اہم کردار ہے۔
[ترمیم] علی گڑھ سے اختلاف
دیوبند کے بیشتر علماء کو علی گڑھ کے نظام تعلیم اور سیاسی فلسفے سے اختلاف رہا ہے کیونکہ علی گڑھ مغربی علوم اور انگریز۔ مسلم اتحاد کا علمبرار مکتبہ فکر تھا۔ اس کے برعکس قائدین دیوبند اس پر یقین رکھتے تھے کہ مسلمانوں کے روایتی نظام تعلیم اور برطانوی سامراجیت کے خلاف جہاد میں اسلام کی سربلندی اور مسلمانان ہند کی نجات کا راز مضمر ہے۔ یہی وجہ تھی کہ علمائے دیوبند کی اکثریت نے کبھی بھی سرسید احمد خان کے دو قومی نظریئے کو شرف قبولیت نہ بخشا
[ترمیم] دیوبند اور کانگریس
تحریک ریشمی رومال کی ناکامی کے بعد علمائے دیوبند نے آزادی ہند کے حصول کے لیے انقلابی سرگرمیوں کو ترک کر دیا ۔ اور ایک پرامن اور سیاسی جدوجہد کے لیے آل انڈیا نیشنل کانگریس سے تعاون کرنے اور ہندو مسلم اتحاد کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات کیے۔ ہندو مسلم اتحاد کا بے مثل مظاہرہ تحریک خلافت کے ابتدائی دور میں دیکھنے میں آیا۔
[ترمیم] جمعیت العلمائے ہند کا قیام
پہلی جنگ عظیم کے بعد 1919 میں کئی ہم خیال سیاسی گروپوں سے مل کر علمائے دیوبند نے جمعیت العلمائے ہند کے نام سے ایک تنظیم قائم کر دی۔ سیاسی میدان میں آل انڈیا نیشنل کانگریس کی حلیف جماعت تھی کیونکہ کانگریس اور جمعیت العلمائے ہند انگریز کو اپنا اولین دشمن سمجھتے تھے انگریز کے ساتھ ان کی یہی مشترکہ دشمنی ان کے اشتراک کا سبب بنا۔
[ترمیم] دیوبند اور علامہ اقبال
ڈاکٹر علامہ اقبال شاعری کی زبان اور فلسفیانہ انداز میں مسلمانان ہند کی رہنمائی کرنے کا بیڑہ اٹھا چکے تھے ۔ بیشتر علمائے دیوبند کو کسی حد تک ان کے افکار اور نظریات سے اتفاق نہ تھا۔ خود علامہ اقبال نے بھی بعض علمائے دیوبند کے بعض نظریات سے کھل کر اختلاف کیا۔ مثال کے طور پر حسین احمد مدنی صاحب کے اس نظرئیے کہ قومین اوطان سے بنتی ہیں۔ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے علامہ نے فرمایا۔
عجم ہنوز نہ داند رموز دین ورنہ
ز دیوبند حسین احمد این چہ بوالعجمی است
سرود برسر منبر کہ قوم از وطن است
چہ بے خبر ز مقام محمد عربی است
بہ مصطفے برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است
[ترمیم] دیوبند اور قرارداد پاکستان
آل انڈیا نیشنل کانگریس کے ہمنوا علمائے دیوبند کی اکثریت نے کانگریسی مسلمانوں اور مسلم نیشنلسٹ سیاسی پنڈتوں کی طرح قرار داد پاکستان کی حمایت نہیں کی۔ ان کا خیال تھا کہ تقسیم ہند سے ہندوستان کی فطرت وحدت ختم ہو جائے گی۔ وہ ہندوستان کے اس روایتی معاشرے جو انگریز کی آمد سے قبل موجود تھا کو بحال کرنے کے حق میں تھے ان کا موقف تھا کہ ہندوستان سے انگریز کے جانے کے بعد بھی ہندو اور مسلمان دونوں ایک ہی ملک میں موجود اور آباد رہ سکتے تھے۔ مولانا ابولکلام آزاد ، حسین احمد مدنی ، علامہ عنایت اللہ خان المشرقی ، مدرسہ دیوبند سے فارغ التحصیل اور 1940ء کے عشرے کے ابتدائی سالوں کے دوران دیوبند میں زیر تربیت طلباء میں سے اکثریت نے قرارداد پاکستان کو ہدف تنقید کا نشانہ بنایا۔
[ترمیم] دیوبند اور قائداعظم
ایک زمانے تک سیاسی اعتبار سے علمائے دیوبند اور قائداعظم محمد علی جناح کی سوچ میں مشرق اور مغرب جتنا فرق تھا۔ اگر علمائے دیوبند اتحاد اسلامی (pan-islamism) پر یقین رکھتے تھے تو قائداعظم عقلیت (rationalism) کے سب سے بڑے علمبرار تھے۔ اگر علمائے دیوبند جمال الدین افغانی اور مصر کے محمد عبدہ کی تحاریک آزادی اور موہن داس کرم چند گاندھی کے ستیہ گرہ سے متاثر تھے تو قائداعظم محمد علی جناح دادا بھائی نوروجی ، جان برائیٹ ، گوپال کرشنا گوکھلے کے لیےاور مصطفٰی کمال اتاترک کے سیاسی نظریات سے اتفاق کرتے تھے۔ علاوہ ازیں علمائے دیوبند ہندوستان کی وحدت جبکہ قائداعظم ہندوستان کی تقسیم پر یقین رکھتے تھے.
[ترمیم] قیام پاکستان اور دیوبند
دوسری جنگ عظیم کے بعد جب پاکستان بننے کے کے آثار نمایاں ہونے لگے تو معدودے چند علمائے دیوبند نے آل انڈیا مسلم لیگ کے سیاسی موقف کو درست تسلیم کیا۔ انہی علمائے دیوبند نے ایک تنظیم ’’جمعیت العلماء اسلام ‘‘ کے نام سے قائم کردی ۔ اس تنظیم نے کھل کر قیام پاکستان کی حمایت کی۔ ان علمائے جمہور میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب اورمولانا شبیر احمد عثمانی صاحب کے اسمائے مبارک قابل ذکر ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ آزادی ملنے کے بعد مشرقی پاکستان میں علامہ ظفر احمد عثمانی صاحب اور مغربی پاکستان میں شبیر احمد عثمانی صاحب کو پہلی بار پاکستان کا جھنڈا لہرانے کا اعزاز حاصل رہا۔
[ترمیم] ریفرنڈم اور علمائے دیوبند
3 جون 1947ء کے منصوبے کے تحت صوبہ سرحد اور آسام کے ضلع سہلٹ میں استصواب رائے کا فیصلہ کیا گیا۔ آزمائش کی اس گھڑی میں آل انڈیا مسلم لیگ کے رہنماؤں اور سیاسی کارکنوں کو علمائے دیوبند کی شفقت اور مکمل حمایت حاصل رہی۔ یہی وجہ تھی کہ صوبہ سرحد اور ضلع سلہٹ کے مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے کر پاکستان کے جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں مسلم لیگ کے اعلی عہدیدواروں کے علاوہ پیر آف مانکی شریف ، پیر زکوڑی شریف اور مولانا شبیر احمد عثمانی کی خدمات ناقابل فراموش اور لائقِ صد افتخار ہیں۔
[ترمیم] قرارداد مقاصد
تقسیم ہند کے نتجیے میں اگر ایک طرف پاکستان معرض وجود میں آیا تو دوسری طرف پاکستان اور پاکستانیوں کے مسائل اور چیلنجوں کے ایک لامتناہی سلسلے کا آغاز ہونے لگا۔ انہی مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ آئین کی عدم موجودگی کا تھا۔ آئین پاکستان سے متعلق وزیراعظم لیاقت علی خان کی حکومت نے 13 جون 1949ء کو پارلیمنٹ سے ایک نہایت اہم قرارداد ، قراردادِ مقآصد منظور کروائی۔ یہ قرارداد مولانا شبیر احمدعثمانی اور ان کے رفقائے کار مرتب کی تھی۔ پاکستان کی آئین سازی کی تاریخ میں اس قرارداد کو پہلے سنگ میل کا درجہ حاصل ہے۔
[ترمیم] دیوبند سے الحاق شدہ مربوط دینی مدارس
الازہر یونیورسٹی مصر کی طرح پورے عالم اسلام میں دیوبند مکتبہ فکر کو لازوال شہرت نصیب ہوئی۔ آج جنوبی ایشیاء ، وسطی ایشیاء اور مشرق وسطی میں سینکڑوں کے حساب سے ایسے دینی مرسے اور درسگاہیں ہیں جو علمی اور فکری لحاظ سے دیوبند مکتبہ فکر سے مربوط ہیں۔ پاکستان میں مدرسہ اشرفیہ لاہور ، جامعہ مدینہ لاہور ،مدرسہ عربی خیر المدارس ملتان ، دارالعلوم کھڈہ کراچی اور دارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک نوشہرہ ، ہر سو دیوبند مکتبہ فکر کی روشنی پھیلانے میں مصروف عمل ہیں۔
[ترمیم] خلاصہ
ہم دیوبند اورعلی گڑھ کو ایک ہی مآخذ کے دو مختلف چشموں سے تعبیر کرتے ہیں۔ جو ہندوستان میں برطانوی سامراجیت کے دوران مختلف سمتوں میں بہہ کر اپنے اپنے انداز سے مسلمانوں کو ’’آب حیات‘‘ بہم پہچانے کی ذمہ داری قبول کر چکے تھے۔ علمائے دیوبند اور قائدین علی گڑھ نے منزل کی طرف لے جانے والے دو مختلف راستوں کا انتخاب کیا تھا۔ بلاشبہ اس میں کوئی خاص مصلحت خداوندی پوشیدہ تھی۔
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ (انہی مناظروں کی تفصیل کے لیے مولانا صاحب کی مشہور تصنیف ’’قبلہ نما‘‘ کا مطالعہ ضروری ہے)