وحدت الوجود
وکیپیڈیا سے
| مقالہ بہ سلسلۂ مضامین |
| عقائد و عبادات |
| صوفي شخصیات |
|
اویس قرنی• شیخ سیدناعبدالقادرجیلانی |
| تصوف کی معروف کتابیں |
|
احياء علوم الدين • کشف المحجوب • مكتوبات الرباني • دین ِالٰهی |
| صوفی مکاتبِ فکر |
|
سنی صوفی • شـیعہ صوفی • |
| سلاسلِ طریقت |
|
قادریہ • چشتیہ |
| علم ِ تصوف کی اصطلاحات |
|
طریقت • معرفت • فناء • بقاء • لقاء • سالک • شیخ • طریقہ • نور • تجلی |
| مساجد |
| تصوف کی نسبت سے معروف علاقے |
|
دمشق• خراسان• بیت المقدس |
نظریۂ وحدت الوجود (Pantheism) کے مطابق، ’’ سب کچھ خدا ہے اور خدا ہی سب کچھ ہے‘‘۔ یعنی یہاں خدا کو حرکت کائنات کے مماثل قرار دیا گیا ہے۔ اس کی رو سے خدا کائنات سے جداگانہ شخصی حیثیت نہیں بلکہ کائنات ہی خدا کی باطنی حیات کا خارجی نقش ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے ممتاز فلسفی اسپنوزا نے اس قدیم تصور کی نئی کارتیزی تعریف متعین کی جس کے مطابق خدائے واحد کی محض حقیقت ہے، باقی سب اشیا اس کی صفات ہیں۔ تصوف اور فلسفہ کے حکما کی بڑی تعداد اسی نظریے کی حامل ہے۔
اسلامی نکتہ نظر اوپر بیان کئے گئے نکتہ نظر سے مختلف ہے۔ اسلامی نکتہ نظر کے مطابق وحدت الوجود کا معنی ہے کہ اصل وجود اللہ تبارک و تعالی کا ہے اور کائنات میں جو کچھ بھی ہے وہ اس ذات کے ظل اور پرتو ہیں۔ بحوالہ "الملفوظ" مؤلف مولانا احمد رضا خان ۔ دوسرے لفظوں میں اصل وجود اللہ عزوجل کا ہے جبکہ کائنات کی ہر شے اس کے مقابلے میں مجازی اور فرضی ہے۔[1]
[ترمیم] بیرونی روابط
http://plato.stanford.edu/entries/pantheism

