فاس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فاس

فاس، فرانسیسی میں فیس (fes or fez) مراکش کا تیسرا بڑا شہر ہے، جو فاس بولمان (Fès-Boulemane) علاقہ کا دارالحکومت ہے۔ 2004ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی نو لاکھ چھیالیس ہزار آٹھ سو پندرہ نفوس پر مشتمل ہے۔ شہر کے تین حصے ہیں فاس البالی (قدیم شہر)، فاس جدید (نیا فاس) اور ولے نوالے (فرانسیسی تعمیر شدہ شہر کا جدید حصہ)۔ فاس البالی دنیا کا سب سے بڑا گاڑیوں کی آمدورفت کا ممنوعہ علاقہ (contiguous carfree urban area) ہے۔

تاریخ[ترمیم]

شہر کی بنیاد ادریس اول نے 789ء میں رکھی۔ 810ء میں ادریس دوئم نے افریقہ کی سب سے قدیم اور بڑی مسجد تعمیر کی، جس سے ملحقہ جامعہ 859ء میں تعمیر کی گئي۔ شہر شمالی افریقہ اور مشرق وسطی سے آنے والے مسلمانوں اور سقوط غرنامہ کے بعد اندلس سے بے دخل کئے گئے مسلمانوں سے آباد ہوا۔ ان کے علاوہ شہر میں یہودیوں کی آبادی بھی تھی۔

1170ء سے 1180ء کے عشرہ میں فاس دنیا کا سب سے بڑا شہر سمجھا جاتا تھا، اور یہ اس وقت کی بادشاہت فاس کا دارالحکومت تھا جو موجودہ مراکش، الجزائر اور اندلس کے ان حصوں پر مشتمل تھی جو مسلمانوں کے زیر حکومت رہے۔ فاس سائنسی اور مذہبی علوم کا مرکز قرار پایا جہاں یورپ اور دوسرے علاقوں سے مسلمان اور عیسائی علم حاصل کرنے کے لیے آتے تھے۔ 1492ء میں سقوط غرناطہ کے بعد اندلس سے نکالے گئے مسلمان فاس میں آ کر آباد ہوۓ۔ 1548ء میں فاس مراکشی حکومت کا حصہ بنا۔

1649ء میں فاس العلویون حکمران خاندان کا مرکز بنا، اور اس وقت یہ شمالی افریقی ساحلوں پر سب سے اہم بندرگاہ تھا۔ انیسویں صدی تک شہر فاس ٹوپیاں بنانے کا واحد مرکز تھا جسکے بعد یہ ٹوپیاں فرانس اور ترکی میں بننے لگیں۔ اسی شہر کے ذریعے ٹمبکٹو (ٹمبکٹو) سے آنے والے سونے کی تجارت ہوتی تھی۔

فاس کئی ادوار میں مراکش کا دارالحکومت رہا ہے، جسکا اختتام 1912ء میں مراکش کے فرانسیسی اختیار میں آنے کے بعد ہوا جب دارالحکومت آخری دفعہ فاس سے رباط منتقل کیا گیا اور جو موجودہ آزاد مراکش کا دارالحکومت ہے۔ دارالحکومت کی منتقلی کے بعد کئی باشندے ہجرت کر گۓ، یہودی آبادیاں خالی ہو گئیں اور فاس کی اقتصادی اہمیت ختم ہونے لگی۔ تاہم فاس آج بھی مراکش کے تمام شاہی شہروں میں سے سب سے زیادہ دلچسپ اور دلکش ہے۔

موجودہ شہر[ترمیم]

قدیم عمارات اور نوادرات کے ساتھ ساتھ شہر جدیدیت کا مظہر بھی ہے جسکی مثال ولے نویلے ہے جو تیزی سے ترقی کرتے ہو‎ئے اقتصادی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ شہر ایک بار پھر اس وقت شہرت ملی جب شاہ مراکش نے ایک فاسی کمپیوٹر انجینئر سلمہ بینانی سے شادی کی۔ شہر کی شہرت اور اہمیت اب دوبارہ بحال ہو رہی ہے جسکی ایک وجہ سالانہ فاس میلہ کی ہے جس میں دنیا بھر کی موسیقی پیش کی جاتی ہے اور جو پوری دنیا کے مداحوں کو کھینچتا ہے۔ میلہ کا آغاز مراکشی عالم اور فلسفی فاؤضی سکالی (Faouzi Skali) نے 1994ء میں کیا اور اسکے انعقاد میں تعاون بین الاقوامی بنک (World Bank) کا ہے۔ اب شہر سیاحوں کے لیے ایک اہم منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مزید پڑھیں[ترمیم]

خارجی ربط[ترمیم]

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=فاس&oldid=1054779’’ مستعادہ منجانب