دار البیضاء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دارالبیضاء/ کاسابلانکا
Hassan2mosque.jpg
عمومی معلومات
علاقہ دارالبیضاء/ کاسابلانکا
صوبہ دارالبیضاء/ کاسابلانکا
رقبہ غیر دستیاب مربع کلومیٹر
آبادی 3,500,000 (2004ء)
کالنگ کوڈ 02
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت (متناسق عالمی وقت±00:00)
حکومت
ناظم (ولی) محمد کباج
قصبات غیر دستیاب
علامت
Logo casa.gif


دار البیضاء یا کاسا بلانکا (قدیم نام انفا) مراکش کا سب سے بڑا شہر اور اہم ترین بندر گاہ ہے، اور دارالبیضاء/ کاسابلانکا کے علاقہ کا دارالحکومت بھی ہے۔ عربی میں اس کا سرکاری نام دارالبیضاء اور ہسپانوی زبان میں کاسابلانکا ہے جس کا لفظی مطلب سفید گھر (white house) ہے۔ ستمبر 2004ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی پینتیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ رباط مراکش کا دارالحکومت ہے، جبکہ دارالبیضاء/ کاسابلانکا سب سے بڑا شہر اور بندرگاہ ہونے کی وجہ سے اقتصادی دارالحکومت ہے۔


تاریخ[ترمیم]

کاسا بلانکا کی بنیاد بربریوں نے انفا نام کی آزاد ریاست کے ساتھ ساتویں صدی عیسوی میں رکھی، جسے 1068ء میں سحارہ کے المرابطون (مرابط حکمران خاندان) نے فتح اور اپنی ریاست میں شامل کیا۔ چودہویں صدی عیسوی میں مرینیون (حکمران خاندان) کی حکمرانی میں انفا بندرگاہ کے طور پر اہمیت اختیار کرنے لگا۔ پندرہویں صدی عیسوی میں شہر ایک باد پھر آزاد ریاست بنا لیکن ساتھ ہی ‍قزاقوں کی قوت کے سامنے بے بس ہونے کی وجہ سے ان کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ اور بندرگاہ بن گیا، جسکے نتیجہ میں 1468ء میں پرتگالیوں کی بمباری کا نشانہ بن کر تباہ ہوا۔ 1515ء پرتگالیوں نے انفا کی تعمیر نو کر کے اسے ایک فوجی قلعہ بنایا جسے 1755ء کے زلزلہ میں تباہ ہونے کے بعد ترک کر دیا گیا۔


شہر کی دوبارہ تعمیر سلطان سیدی محمد سوئم (1756ء تا 1790ء) نے کی جو مولاۓ اسماعیل کے پوتے اور جارج واشنگٹن کے اتحادی تھے۔ شہر کو دار ال بیض یعنی کے سفید گھر (یسپانوی میں دار البیضاء) کا نام دیا گیا۔


انیسویں صدی عیسوی میں شہر کی آبادی تیزی سے بڑھنے لگی جسکی وجہ بطور بندرگاہ شہر کے استعمال میں تیزی سے بڑھتا ہوا اضافہ تھا۔ کاسا بلانکا سے اون برطانیہ کی ابھرتی ہوئی ٹیکسٹائل صنعت کے لیے بھیجی جاتی تھی۔ 1860ء میں شہر کی آبادی چارہزار تھی جو 1880ء میں بڑھ کر نو ہزار ہو گئی اور آنے والے چند سالوں میں بارہ ہزار سے تجاوز کر گئي۔ 1921ء میں آبادی ایک لاکھ دس ہزار ہو چکی تھی جس میں زیادہ اضافہ گردونوا‏ع میں غیر منصوبہ بند بستیوں سے ہوا۔

کاسا بلانکا پرانا شہر، مراکش


فرانسیسی دور اقتدار[ترمیم]

سترہویں، اٹھاریوں صدی میں مراکش بربریوں کے زیر حکومت اور بحری قزاقوں کے لیے پناہ گاہ رہا۔ یورپی طاقتوں 1840ء سے مراکش کو کالونی بنانے میں دلچسپی لے رہی تھیں، اور فرانس اور ہسپانیہ سے کئی ایک جھڑپیں بھی ہو چکی تھیں۔ 1904ء میں فرانس اور ہسپانیہ ایک خفیہ معاہدہ پر متفق ہوۓ، جسکے نتیجہ میں مراکش کے حصے بکھرے کۓ گۓ۔ زیادہ تر مراکش پر فرانس نے قبضہ کیا جبکہ ہسپانیہ کے حصہ میں چھوٹا جنوبی علاقہ آیا۔


1907ء میں فرانسیسیوں نے ایک قبرستان سے گزرتی ہوئی ریل کی پٹڑی بچھانے کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں مقامی آبادی نے فرانسیسی کارکنوں پر حملہ کیا، اور ہنگامہ آرائی ہوئي۔ فرانسیسی افواج صورتحال پر قابو پانے اور امن و امان بحال کرنے کے اتریں، لیکن ان ہنگاموں اور فوج کے ساتھ جھڑپوں میں شہر کو شدید نقصان ہوا، جو آخرکار شہر پر فرانسیسی کنٹرول پر ختم ہوۓ۔ یہاں سے ہی کالونی بنانے کے عمل کا آغاز ہوا جو 1910ء تک مکمل ہوا۔ 1940ء سے 1950ء کے عشرہ میں فرانسیسیوں کے خلاف بغاوت میں شہر بغاوتیوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔ اور یہاں ہی 1953ء کے کرسمس دن پر بم حملے میں بہت بڑی تعداد میں اموات ہوئیں۔


جنگ عظیم دوئم میں کاسا بلانکا ایک اہم بندرگاہ رہا اور یہاں ہی 1943ء میں کاسا بلانکا کانفرنس ہوئی جس میں چرچل اور روزویلٹ نے جنگی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔


آزادی کے بعد[ترمیم]

مراکش نے 2 مارچ 1956ء کو فرانس سے آزادی حاصل کی۔ 1930ء میں کاسا بلانکا نے فارمولا ون عالمی مقابلوں کی میزبانی کی، جو نیو انفا ریس کورس پر ہوئي۔ 1958ء میں یہ آین ریاب سرکٹ پر منعقد کی گئي (مروکن گرینڈ پریکس)۔ 1983ء میں کاسا بلانکا نے بحیرہ روم کے ملکوں کے کھیلوں (میڈیٹرینین گیمز) کی میزبانی کی۔ اب شہر سیاحت کے شعبہ میں ترقی کر رہا ہے۔


مارچ 2000ء میں عورتوں کے تنظیموں نے کاسا بلانکا میں عورتوں کے حقوق کے لیے مظاہرہ کیا جس میں چالیس ہزار عورتوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مردوں کے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے خلاف اور طلاق کے قوانین میں رد و بدل کے مطالبات کیے۔ گرچہ مخالفت میں پانچ لاکھ افراد نے مظاہرہ کیا لیکن تحریک شاہ محمد چہارم کو متاثر کرنے میں کامیاب رہی۔ جس کے نتیجہ میں اوائل 2004ء میں نۓ خاندانی قوانین متعارف کراۓ گۓ، جن میں مظاہرین کے کچھ مطالبات کو تسلیم کیا گیا ہے۔


16 مئي 2003ء کو کاسا بلانکا میں خود کش بم دھماکے کۓ گۓ جس کے نتیجہ میں 33 اموات ہوئیں اور 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوۓ۔ دھماکے کرنے والے مراکش کے ہی باشندے تھے جنکا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔


موجودہ شہر[ترمیم]

کاسا بلانکا، مراکش (ٹوئن ٹاور)

فرانسیسی دور اقتدار میں کاسا بلانکا کا نیا قصبہ فرانسیسی ماہر فن تعمیر ہینری پروسٹ (Henri Prost) نے تشکیل دیا جو اس وقت کا جدید ترین نمونہ تھا۔ اور یہ موجودہ مراکش کی سب سے زیادہ پر تاثر جگہ ہے۔ علاقہ میں سابقہ انتظامی عمارات اور جدید ہوٹل موجود ہیں۔ اور فن تعمیر مورش طرز تعمیر کی عکاسی کرتا ہے۔


پارک دے لا لیگوے عرابے (سابقہ نام لیاوٹے) شہر کا سب سے بڑا پارک ہے، جس کے قریب گرجا گھر کیتھڈریل دو ساکرو کور (Cathedrale du Sacré Coeur) واقعہ ہے۔ گرجا گھر ترک کیا جا چکا ہے، تاہم یہ مورش فن تعمیر کا ایک شاہکار ہے۔

قدیم شہر مراکش کے باقی شہروں کے قدیم حصوں مثلا فیس یا مراکیش کے مقابلے میں سیاحوں کو کم متوجہ کرتا ہے۔ تاہم حال ہی میں کچھ تعمیر نو کی گئی ہے قدیم عمارتوں کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن میں شہر کی مغربی دیوار اور کالونی دور کا گھنٹہ گھر وغیرہ شامل ہیں۔

شہر میں دو ائر پورٹ انفا ائر پورٹ اور محمد پنجم بین الاقوامی ائر پورٹ واقع ہیں جبکہ بندرگاہ دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی بندرگاہ ہے۔


اہم عمارات[ترمیم]

  • حسن دوئم مسجد فرانسیسی ماہر فن تعمیر مائیکل پنسیو (Michel Pinceau) کا شاہکار ہے، جو بحر اوقیانوس کے ساحل پر آگے ابھری ہوئی چٹان پر تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد میں ایک وقت میں 25 ہزار عبادت گزار عبادت کر سکتے ہیں۔ اور مسجد کے احاطہ کو شامل کر کے مزید 80 ہزار عبادت گزاروں کی گنجائش ہے۔ اسکے مینار کی اونچائی 210 میٹر ہے۔ مسجد پر کام کا آغاز 1980ء میں کیا گیا تھا اور تکمیل کے لیے 1989ء کا سن دیا گیا تھا جو کہ شاہ مراکش حسن دوئم کی ساٹھویں سالگرہ تھی۔ تاہم افتتاح 1993ء میں کیا جا سکا۔



کاسا بلانکا ساحل کا منظر حسن مسجد کے ساتھ، مراکش

تعلیمی ادارے[ترمیم]

نامور شخصیات[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]