زکوٰۃ
| مقالہ بہ سلسلۂ مضامین |
| عقائد و اعمال |
| اہم شخصیات |
|
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم |
| کتب و قوانین |
| مسلم مکتبہ ہائے فکر |
| معاشرتی و سیاسی پہلو |
|
اسلامیات · فلسفہ |
| مزید دیکھیئے |
|
|
|
زمرہ جات |
|
|
|
|
زکوٰۃ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ايک اہم رکن ہے، جس کے لغوی معنی پاکیزہ کرنا یا پروان چڑھانا ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد غریبوں کی مدد، معاشرتی فلاح و بہبود میں صاحب ثروت لوگوں کا حصہ ملانا اور مستحق لوگوں تک زندگی گزارنے کا سامان بہم پہنچانا ہے۔
اسلام کا تیسرا اہم رکن ہے۔زکوۃ کے معنی پاکیزگی اور بڑھنے کے ہیں۔
پاکیزگی سے مراد اللہ تعالٰی نے ہمارے مال و دولت میں جو حق مقررکیا ہے اس کو خلوص دل اور رضامندی سے ادا کیا جاۓ۔نشونما سے مراد حق داروں پر مال خرچ کرنا اپنی دولت کو بڑھانا ہے ،جس سے مال میں برکت پیدا ہوتی ہے۔
دین اک اصطلاح میں زکوۃ ایسی مالی عبادت ہے جو ہر صاحب نصات مسلمان پرفرض ہے۔
مصارف زکوۃ [ترمیم]
زکوۃ تو بس محتاجوں ‘ مسکینوں‘ عاملین صدقات اور تالیف قلوب کے سزا واروں کے لیے ہے اور اس لیے کہ یہ گردنوں کے چھڑانے ‘ تاوان زدوں کے سنبھالنے ‘ اللہ کی راہ اور مسافروں کی امداد میں خرچ کی جائے ۔ یہ اللہ کا مقرر کردہ فریضہ ہے اور اللہ علم والا اور حکمت والا ہے۔(9۔60)
زکوۃ کی فرضیت [ترمیم]
زکوٰۃ فرض ہونے کے لیے چند شرطیں ہیں:
- مسلمان ہونا، کافر پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
- بالغ ہونا، نابالغ پر زکوٰۃ فرض نہیں۔
- عاقل ہونا، بوہرے(مجنون) پر زکوٰۃ فرض نہیں جبکہ اسی حال میں سال گذر جائے اور کبھی کبھی اسے افاقہ ہو جاتا ہے تو فرض ہے۔
- آزاد ہونا، غلام پر زکوٰۃ نہیں اگرچہ اس کے مالک نے تجارت کی اجازت دے دی ہو۔
- مال بقدرِ نصاب اس کی ملک میں ہونا، اگر نصاب سے کم ہے تو زکوٰۃ نہیں۔
- پورے طور پر اس کا مالک ہونا، یعنی اس پر قبضہ بھی ہو۔
- نصاب کا دین (قرض) سے فارغ (بچا ہوا) ہونا۔
- نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہونا۔
- مال کا نامی ہونا یعنی بڑھنے والا، خواہ حقیقتہً ہو یاحکماً۔
- نصاب پر ایک سال کا مل کا گذر جانا ۔(عامۂ کتب)
اللہ تعالٰی نے قراآن کریم میں ارشاد فرمایا : اقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ ۔ (البقرۃ) ترجمہ:نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ۔ اس آیۃ کریمہ میں زکوۃ کی فرضیت کا ثبوت مل رہا ہے.
اس کے علاوہ خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کا اہتمام فرمایا اور لوگوں کو زکوۃ کا حکم فرمایا اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بھی اہتمام فرمایا حتی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جس نے زکوۃ کا انکار کیا اس کو قتل کر دیا جائے گا اس طرح سے بہت بڑے اٹھنے والے فتنے کا سد باب ہو گیا ۔
زکوۃ تو اسلام نے غرباکی مدد اور ان کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے امرا پر فرض کی ہے۔ اور یہ غربت کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ ہے ۔ خیال رہے کہ اگر سارے امیر لوگ زکوۃ دیں تو غربت ہمیشہ کے لئے دفن ہو جاتی ہے۔ اسلام کے اس زریں اصول سے ہر مسلمان اور غیر مسلم فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
وجوب زکوۃ سے مثتنی چیزیں [ترمیم]
جس چیز کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے، اسے حاجتِ اصیلہّ کہتے ہیں، اس میں زکوٰۃ واجب نہیں جیسے رہنے کا مکان ، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے ، خانہ داری کا سامان، سواری کے جانور ، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں، کھانے کے لیے غلہ، (ردالمحتار) یونہی حاجتِ اصیلہّ میں خرچ کرنے کے لیے روپے پیسے۔