انتقاد بر اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اِنتِقاد بَر اسلام یعنی اسلام پر تنقید ، (پیدائشی یا حصولی) غیرمسلموں کی جانب سے اسلام کے ابتدائی زمانے سے ہی سامنے آتی رہی ہے اور ان معترضین میں تقدمِ زمانی رکھنے والوں میں ایک نام یوحنا الدمشقی (676ء تا 749ء) کا آتا ہے، جس نے اسلام پر عیب جوئی کرتے ہوۓ کہا کہ اسلام ، مسیحیت کی ایک بدعت ہے[1]۔ موجودہ دور میں اس انتقاد میں جدید سائنسی علوم سے نابلد (یا پسماندہ) رہ جانے کی وجہ سے ایک نیا رخ یہ سامنے آیا کہ ترقی یافتہ (غیرمسلم) اقوام اور مسلم دنیا کے درمیان پاۓ جانے والے معیار زندگی اور کیفیت حیات کے فرق کی وجہ پیدا ہونے والے معاشرتی و انسانی مظاہر کو بھی اس انتقاد میں شامل کر لیا گیا اور یوں ترقی میں پیچھے اور معاشرتی طور پر بدحال ہو جانے والے اسلامی معاشرے کی دنیاوی خامیوں کا رخ اسلام پر تنقید کی جانب ہی موڑا جانے لگا۔ بعض غیرمسلم محققین نے اس رجحان کو ناحق جانتے ہوۓ دیگر متعصب غیرمسلم اعتراضات کا جواب بھی دینے کی کوشش کی اور اس کی ایک مثال اسی نام criticism of islam سے انگریزی ویکیپیڈیا پر موجود مضمون کو دیکھ کر محسوس کی جاسکتی ہے۔ انگریزی ویکیپیڈیا کے مضمون پر گو انتقاد کے بعد متعلقہ تنقید پر اسلام کا نقطۂ نظر بھی دیا گیا ہے لیکن اس کی حیثیت ، آپ مارے آپ سہلاۓ ، سے زیادہ کچھ نہیں کہی جاسکتی کیونکہ کیۓ جانے والے اعتراضات اور عیب جوئی پر ، ستم ہاۓ تجاوب ، کی مانند پیش کیا جانے والا اسلامی نقطۂ نظر بھی عموماً غیرمسلم عینک سے ہی معاملے کو دیکھتا ہے۔
اسلام پر انتقادات کے موضوعات کی فہرست طویل ہے اور کوئی پہلو ایسا نہیں چھوڑا گیا کہ جس پر تنقید نا کی گئی ہو؛ بسا اوقات تو اس تنقید کو ناصرف یہ کے اسلام سے منکر ہوجانے والے (پیدائشی مسلمین) بلکہ خود کو مسلم کہنے والوں کے اپنے افکارِ مکدر سے تقویت دی جاتی ہے۔

انتقاد بر قرآن[ترمیم]

قرآن پر تنقید کی حیثیت (کم از کم مغربی فکر) کے مطابق اسلام پر تنقید ہی شمار کی جاتی ہے؛ یہ جملۂ معترضہ یقیناً مسلم قارئین کو یہاں دلچسپ لگا ہوگا کہ صاحب ظاہر ہے قرآن پر تنقید ، اسلام پر تنقید ہی تو ہے! اس میں شمار کیۓ جانے کا کیا سوال؟ لیکن یہ صورت حال تمام نہیں تو اکثریت میں مغربی اذہان کی ترجمانی کرتی ہے جہاں آج کے جدید دور میں کسی بھی مذہبی ، مقدس یا الہامی کتاب کی اٹھانے رکھنے اور برتنے میں حیثیت ہی نہیں بلکہ اس کتاب کی ذہن میں عزت و توقیر کے اعتبار سے بھی ایک عام کتاب کی طرح ہی معاملہ کیا جاتا ہے۔ اسی لیۓ تو انگریزی ویکیپیڈیا پر باقاعدہ وضاحت درج کی گئی ہے کہ:

It is a central tenet of Islam that the Qur'an is perfect, so criticism of the Qur'an is considered criticism of Islam.

قرآن پر کی جانے والی تناقید کی فہرست طویل ہے، جن میں کچھ تنقید تو ایسی ہیں کہ جو لاعلمی میں کاملیت کا درجہ رکھنے والوں کی جانب سے ہیں لہٰذا ان کو اس مضمون میں شامل نہیں کیا گیا۔ البتہ ان تناقید کو کہ جو عربی اور اسلامی تاریخ سے واقفیت اور اسلام و دیگر مذاہب کے تقابلی جائزے کی قدرت رکھنے والے غیرمسلم (و مسلم) ماہرین و علماء کی جانب سے ہیں ان کو نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ذیل میں ان تناقید کی موضوع کے لحاظ سے صرف ایک فہرست دی جارہی ہے کہ ان کے بیان کے لیۓ الگ سے ایک مضمون بھی ناکافی ہے کجا یہ کہ ایک قطعے میں ایسا کرنے کی کوشش کی جاۓ۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ De Haeresibus by John of Damascus. See Migne. Patrologia Graeca, vol. 94, 1864, cols 763-73. An English translation by the Reverend John W Voorhis appeared in THE MOSLEM WORLD for October 1954, pp. 392-398.