کیفیت حیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اس معاشرے اور ماحول (بشمول گھر) میں جہاں کوئی فرد بستا ہے ، اس شخص کی رضا یا عدم رضا اور اسکا مطمعین یا غیر مطمعین ہونا کیفیت حیات کے زمرے میں آجاتا ہے۔ اسکو انگریزی میں Quality of life کہا جاتا ہے ، یہ معیار زندگی سے مختلف مگر اسی کے زمرے سے تعلق رکھنے والی چیز ہے اور کیفیت حیات کا ایک بڑا حصہ ، معیار زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ کیفیت حیات کی بات کی جاۓ تو معاشی و مالی حالت کا خیال ذہن میں آتا ہے مگر مالی حالت کیفیت حیات سے براہ راست منسلک نہیں یا کم از کم اتنا کہا جاسکتا ہے کہ یہ کیفیت حیات پر اثر انداز ہونے والا واحد عامل نہیں۔

گو انگریزی میں کیفیت حیات کے لیۓ کوالٹی آف لائف کا لفظ آتا ہے مگر بغور مشاہدہ کرنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہاں پر کوالٹی کا مفہوم ، معیاری اور قیمتی کی نسبت کیفیت سے زیادہ نزدیک ہے کیونکہ اس شعبہ میں موجود یا حاضر زندگی کی بات کی جاتی ہے خواہ وہ اعلی معیار کی ہو یا پست۔ کیفیت حیات ، کو سادہ الفاظ میں یوں کی جاسکتی ہے کہ یہ ان عوامل کا مطالعہ ہوتا ہے کہ جو زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اسکے ساتھ ہی ساتھ اس میں راحت الوجود (well being) اور معیار زندگی جیسے موضوعات بھی شامل ہوجاتے ہیں۔

کیفیت حیات ایک کثیر العوامل مظہر ہے جس میں ، معیار زندگی ، معاشی صورتحال ، ضروریات زندگی تک افراد کی دسترس ، حالت ذہنی سکون ، ماحول کی صحت اور آذادی (نفسیاتی) کا ہونا وغیرہ شامل ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ اوپر کی مختصر تعریف سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کیفیت حیات ایک ایسا شعبہ حیات ہے کہ جس میں صرف پیسہ نہیں بلکہ انسانی کی ان بنیادی ضروریات زندگی سے واسطہ ہوتا ہے جو انسان کو حیوان سے مختلف کر کے اسکو معاشری حیوان کے درجے میں لانے کیلیۓ لازمی ہوتی ہیں۔ اس مضمون میں بڑے بڑے عالمی اداروں کے جاری کردہ معیاروں اور ترقی یافتہ ممالک کے پیمانوں کا ذکر تومجبورا کرنا ہی ہوگا مگر ساتھ ہی ساتھ کیفیت حیات یا Quality of life کی ان ممالک کے سیاق وسباق کے حوالے سے تشریح بھی شامل ہوگی جن کے لیۓ ، کیفیت حیات اور معیار زندگی کی باتیں کرنا عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں ، جہاں انسان آج بھی اس حالت میں ہیں (یا رکھے جارہے ہیں) کہ جس روز فاقہ نہ گذرے تو اس رات کا چاند ، ہلال عید کی طرح مسکراتا نظر آتا ہے۔

کیفیت حیات کا مطالعہ کی اہمیت زندگی کے ہر شعبہ میں مستند ہے مگر خاص طور پر طب و صحت اور ایسے شعبہ جات ہیں کہ جس میں اس علم کے براہ راست نفاذ سے نہ صرف یہ کہ شفاخانوں کی حالت اور طبی سہولیات کی فراہمی کی حالت بہتر بنائی جاسکتی ہے ہلکہ یہ انداز بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جو رقم ان اداروں کو مہیا کی جارہی ہے کافی ہے کہ نہیں ؟ اسکا استعمال کن کن مقامات پر کیا جاۓ کہ مریضوں کی کیفیت حیات کو بہتر بنایا جاسکے؟

کیفیت حیات کی پیمائش[ترمیم]

اگر شعبہ صحت میں ، کیفیت حیات کی پیمائش کی بات کی جاۓ تو اسکو درج ذیل دو اقسام کے پمانے استعمال کرکے ناپا جاتا ہے
1- سال حیات بمطابق کیفیت (quality adjusted life years / QALY)

اس سے مراد ایسا تخمینہ ہے کہ جو یہ بتاتا ہے کہ کسی طبی معالجے یا آلے یا اختراع کے استعمال سے زندگی میں کتنے سال کا اضافہ ہوگا۔ اسکی قیمت ظاہر ہے کہ 1 سے 0 تک ہوتی ہے۔

2- سال حیات بمطابق عجز (disability adjusted life years / DALY)

اس سے مراد کسی بھی مرض یا بیماری سے پیدا ہونے والی تمام تر تکلیف و بار کی ہوتی ہے۔ یعنی یہ عجز یا معذوری سے ضائع ہوجانے والے سالوں اور قبل از وقت موت سے ضا‏ئع ہوجانے والے سالوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اسکی قیمت بھی 1 سے لیکر 0 تک ہوتی ہے۔

مندرجہ بالا ڈیلی اور کالی کی مدد سے کسی بھی علاج کے نفع لاگت (cost effectiveness) ، کے بارے میں اندازہ لگایا جاتا ہے، مثلا اگر کسی قسم کے سرطان کے معالجہ پر 10،000 روپے کی لاگت آتی ہے اور اسکی وجہ سے وہ شخص دو سال مزید جی لیتا ہے یعنی زندگی میں 2 برس کا اضافہ ہوجاتا ہے تو اس کے لیۓ ایک QALY (یعنی حیات میں ایک برس کے اضافے) کی قیمت 5000 روپے ہوگی۔

اب کاروباری انداز میں اگر اس حساب سے قیمت حیات (value of life) نکالی جاۓ تو یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ QALY سے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے وہ 2 برس جو کہ اس معالجے کی وجہ سے زندگی میں بڑھیں گے انکی حیثیت ، کیفیت حیات (کوالٹی آف لائف) کے لحاظ سے کیا ہوگی ؟ کیا وہ شخص اس بڑھنے والی زندگی کو واقعی ایک زندگی کی طرح گذار سکے گا یا یہ اضافی زندگی معذوری اور تکلیف کا مجموعہ ہوگی ؟ ترقی پذیر ممالک کے بارے میں تو اعداد و شمار میسر نہیں کہ ایسی صورت میں کیا فیصلہ کیا جاتا ہے، مگر ترقی یافتہ ممالک میں اس قسم کے سوالات سامنے لائے جارہے ہیں کہ کیا ایسی صورتحال میں علاج مہیا کیا جانا مناسب ہے یا نہ کیا جانا ؟

مزید دیکھیۓ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]