صوفی رقص

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
dدرگاہ رومی پر دریشوں کا گھومتے ہوئے رقص۔ 2007 میں لی گئی ایک تصویر

اسلام میں رقص کی ویسے تو ممانعت ہے مگر مزارات اور قوالیوں پر کیا جانے والا رقص جائز سمجھا جاتا ہے۔ اہل تصوف کے نزدیک اگر کسی شخص کے سامنےکوئی شعر پڑھا جائے جو اس کے موافقِ حال اور اس سےعقل پر مدہوشی غالب آجائے اور غیراختیاری طور پراس سے حرکات صادر ہوں تو یہ جائز ہے۔ صوفیا اس جواز کی دلیل امام ابو یوسف RAHMAT.PNGکے جواب سے بھی لیتے ہیں کہ جب ان سے پوچھا گیا کہ بیاہ شادی کے سواء دف بجانا مکروہ ہے؟ انہوں نے فرمایا : نہیں۔ممنوع صرف وہ موسیقی ہےجس سے بیہودہ اچھل کود ہو[1]۔ اس جواز کی دلیل اس حدیث مبارکہ سے بھی پیش کی گئی ہے کہ:

جواز پر پیش کی جانے والی دوسری حدیث ہے کہ:

اسے صوفی رقص بھی کہا جاتاہے۔ درگاہ رومی میں کیا جانے والا صوفی رقص تمام دنیا میں مشہور ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ فتاوی عالمگیری،5: 352، طبع کوئٹہ
  2. ^ عینی، بدرالدین، عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، 6: 270، طبع کوئٹہ
  3. ^ عسقلانی، ابن حجر، فتح الباری شرح صحیح بخاری،2: 443

مزید دیکھیں[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]