ابوالحسن الاشعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ابو الحسن اشعری عباسی دور کے مشہور مسلمان عالم دین اور علم کلام کے بانی تھے۔ 873ء میں بصرہ میں پیدا ہوئے۔ چالیس برس تک معتزلی عقائد کے حامی رہے۔ پھر مسئلہ قدر کے بارے میں معتزلہ سے اختلاف ہوگیا۔ اور اس کے خلاف کئی کتب لکھیں۔ اسلام کے علمی عروج کے زمانے میں فلسفے کے دو مکاتیب فکر کو بڑی شہرت حاصلی ہوئی۔ ایک مکتبۂ فکر معتزلہ کے نام سے مشہور ہوا۔ دوسرا اشاعرہ یا اشعرئیین کے نام سے۔ آخرالذکر مکتبۂ فکر اپنے بانی ابوالحسن اشعری کی طرف منسوب ہے۔ اشعری نے تقریبا اپنی تمام تصانیف میں معتزلہ کا جواب دیا ہے اور ان کے دلائل کو بے بنیاد ثابت کیا ہے۔ ان کی تصانیف بے شمار تھیں مگر بیشتر ضائع ہوگئیں۔

آپ نے پہلی مرتبہ دلائل سے اور عقلی بنیاد پر اسلامی عقائد اور نظریات کی صداقت ثابت کی اور ایک نئے علم کی بنیاد ڈالی جو علم کلام کہلاتا ہے۔ جس کا مقصد عقلی دلائل سے اسلام کی سچائی ثابت کرنا ہے۔ وہ تقریباً ڈھائی سو کتب کے مصنف تھے جن میں اَلاِبَانہ عن اصول الدیانۃ، مقالات الاسلامیین اور کتاب اللمع فی الرد علی الزیع والبدع مشہور ہیں۔ آخری کتاب کا ترجمہ 1953ء میں انگریزی میں شائع ہوا۔ اشعری مکتبۂ فکر کے مبلغین میں امام غزالی کا نام سرفہرست ہے۔ آپ نے 935ء میں بغداد میں وفات پائی۔