حمزہ بن علی بن احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

دروز قوم کے مذہبی نظام کا بانی۔ متعدد کتب کا مصنف ۔ جسے دروزی کتب مقدسہ میں خاص امتیاز حاصل ہے۔ مؤرخ النویری کے خیال کے مطابق وہ علاقہ زوزن ’’فارس‘‘ کا باشندہ تھا۔ اور ابتدا میں اس کا پیشہ لبادہ سازی تھا۔ 410ھ مطابق1019ء یا بقول حمزہ بن علی اس سے دو سال قبل اس نے اپنے عقائد کا اعلان کیا۔ وہ مصر میں غالبا405ھ میں وارد ہوا۔ اس نے قاہرہ کی ایک مسجد میں اپنے عقائد کا اعلان کیا۔ عوام میں فساد برپا ہوگیا اور ایک عرصہ تک اسے خلیفہ کی پناہ میں عزلت اور تنہائی کی زندگی بسر کرنا پڑی۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ 411ھ مطابق 1020ء میں خلیفہ کے عدم پتا ہونے کے بعد اس کا اپنا انجام کیا ہوا۔ تاہم دروزوں کے مذہبی نظام میں اسے حاکم الزمان ، عقل عالم کا امتیازی درجہ حاصل ہے۔ اور وہ اسے ہادی اعظم کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔