ڈی این اے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شکل اول - رائبوز اور ڈی آکسی رائبوز میں فرق؛ دیکھیۓ کاربن جوہر 2
DNA دراصل Deoxyribonucleic acid کا مخفف ہے اور اس کے نام کے اجزا کے معنی اور انکے اردو متبادل یوں ہیں
  • De = کم ہوجانا ، نکل جانا، مَنـزُوع ، فـقـید
  • oxy = آکسیجن
  • ribo = رائبوز (ایک قسم کی شکر کا نام)
  • nucleic = مرکزہ (خلیہ کا)
  • acid = ترشہ (تیزابی خاصیت رکھنے والا)

گویا اردو میں DNA کا مکمل نام فقید آکسیجن رائبو مرکزی ترشہ ہے۔ یہاں ڈی آکسی رائبو سے مراد ایک آکسیجن جوہر کم رکھنے والا رائبوز ہے جبکہ نیوکلک سے مراد خلیہ کا مرکزہ ہے اور ایسڈ ترشہ کو کہتے ہیں گویا اردو میں DNA کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ  — ایک آکسیجن جوہر کم رکھنے والا مرکزی ترشہ  — رائبوز کا لفظ دراصل گوند عربی (gum arabic) سے حاصل ہونے والی ایک شکر عریبینوز (arabinose) سے ماخوذ ہے ، گوند عربی جنوبی صحرائے اعظم (sub-sahara) میں پاۓ جانے والے پودے اکیشیا (acacia) سے حاصل ہوتا ہے ۔

ڈی این اے ہے کیا؟[ترمیم]

جسطرح کمپیوٹر (شمارندہ) کے براؤزر پر نظر آنے والے صفحہ کے پیچھے HTML کے رموز (واحد: رمز) / Codes کارفرما ہوتے ہیں اسی طرح زمین پر چلتی پھرتی زندگی کے پیچھے DNA کے رموز ہوتے ہیں ۔ یعنی کسی جاندار کی ظاہری شکل و صورت اور رویہ (طرزظاہری / phenotype) دراصل اسکے خلیات میں موجود ڈی این اے کے اندر پوشیدہ وراثی رمز (جینیٹک کوڈ) سے بنتا ہے ، ڈی این اے میں لکھا گیا پوری زندگی کا یہ افسانہ طرز وراثی / genotype کہلاتا ہے ۔ طرزظاہری اور طرزوراثی کے فرق کی وضاحت ایسی ہے کہ جیسے ایک ٹی وی کی اسکرین پر نظر آنے والا ڈرامہ ہو جو مکمل طور پر اپنے لیۓ لکھے گۓ اسکرپٹ پر چلتا ہے ، گویا ڈرامہ خود طرزظاہری کی مثال ہو اور اسکے لیۓ لکھا گیا اسکرپٹ طرزوراثی کی ۔

وراثــہ (جین) اور ڈی این اے[ترمیم]

جین (وراثہ ج: وراثات) کو موروثی اکائی کہا جاتا ہے جو کہ والدیں کا کوئی خاصہ (trait) یا کئ خاصات مثلا آنکھ کا رنگ، جسم کا قد وغیرہ اولاد کو منتقل کرتی ہے۔ یہ موروثی اکائیاں یا وراثات (جینز) ڈی این اے کے طویل سالمے پر ایک قطار کی صورت میں موجود ہوتی ہیں ۔ اسکی مثال کچھ یوں دی جاسکتی ہے کہ جیسے دھاگے کے بہت سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو گرہ باندھ کر ایک کردیا جاۓ تو اسطرح بننے والے بڑے دھاگے کو ڈی این اے اور گرہ سے بندھے ہوۓ چھوٹے ٹکڑوں کو جین (وراثہ) کہا جاسکتا ہے ۔

شکل دوئم - ڈی این اے اور وراثہ (جین) کے مابین تعلق؛ ڈی این اے سالمے میں لکیر کی صورت میں لگے ہوۓ وراثات (جینز)، ہر وراثہ ایک مخصوص پروٹین تیار کرتا ہے

وراثہ یا جین کہلانے والے ڈی این اے کے سالمہ کے یہ ٹکڑے یا قطعات اپنے طور پر الگ الگ مخصوص و مختلف اقسام کی پروٹین تیار کرتے ہیں ، یعنی ڈی این اے کے سالمہ میں جسم کو درکار مختلف اقسام کی پروٹین کو تیار کرنے کے لیۓ علیحدہ علیحدہ مخصوص حصے یا جینز ہوتے ہیں ۔ دراصل جینز، پہلے کسی ایک پروٹیں کے لیۓ مخصوص RNA کا مسودہ ڈی این اے سے نقل کرتے ہیں اور پھر یہ آراین اے ، پروٹیں تخلیق کرتا ہے

  • اوپر بیان کردہ ڈی این اے سے آراین اے بننے کا عمل انتِساخ (transcription) کہلاتا ہے اور پھر اس آراین اے سے پروٹین بننے کے عمل کو ترجـمـہ (translation) کا نام دیا جاتا ہے

تقریباً ہر وراثہ میں تین اہم حصے ہوتے ہیں جنکے نام نیچے درج کیۓ جارہے ہیں جبکہ انکے کام کی تفصیل نیکلیوٹائڈ کو بیان کرنے کے بعد درج کی جائگی۔

  1. مِعزاز (promoter) یہ اپنے نیوکلیوٹائڈ کی ترتیب (sequence) کے زریعے ڈی این اے سے آراین اے بنانے کی شروعات کرتا ہے
  2. تَرميزی (encoding) یہ اپنے نیوکلیوٹائڈ کی ترتیب کے زریعے آراین اے کی نقل (کاپی) بناتا ہے
  3. توقف (stop) یہ اپنے نیوکلیوٹائڈ کی ترتیب کے زریعے آراین اے کی نقل کا عمل ختم کرتا ہے

ڈی این اے کہاں ہوتا ہے ؟[ترمیم]

ڈی این اے تمام جاندار خلیات کے مرکزوں اور ڈی این اے وائرس میں پایا جانے والا ایک سالمہءکبیر (macromolecule) ہے جو کاربن ، آکسیجن ، ہائڈروجن ، نائٹروجن اور فاسفورس جیسے کیمیائی عناصر (واحد: عنصر) / Elements سے بنتا ہے ۔ خلیات کی بات کی جاۓ تو ایسے خلیات جن میں ایک ترقی یافتہ مرکزہ پایاجاتا ہے یعنی حقیقی المرکز (eukaryotic) خلیات میں تو یہ مرکزے کے لونی جسیمات (کروموزومز) میں پایا جاتا ہے لیکن ان خلیات میں جو کہ ایک ترقی یافتہ مرکزہ نہیں رکھتے — بِدائِی المرکز (prokaryotic)  — ڈی این اے ایک واحد دائری سالمہ کی صورت میں ہوتا ہے۔

تمام حقیقی المرکز خلیات کے مرکزے میں کروموزمز (لونی جسیمات) ہوتے ہیں جو کہ ڈی این اے کے طولی سالمے (اور مطلقہ پروٹینز) سے ملکر بنتے ہیں ۔ لونی جسیمات کی تعداد ہر نوع (اسپیشیز) میں مخصوص ہوتی ہے مثلاً انسان کے طبیعی (نارمل) خلیہ میں 46 لونی جسیمات پاۓ جاتے ہیں۔

بدائی المرکز خلیات (مثلاً بیکٹیریا) جن میں کوئی حقیقی مرکزہ نہیں ہوتا ، ڈی این اے کا سالمہ ایک کثیف جسم کی صورت بناتا ہے جسکو لونیہ جسم (chromatinic body) کہا جاتا ہے۔

ڈی این اے کی طوالت اور مرکزہ کی جسامت[ترمیم]

ڈی این اے ایک انتہائی طویل سالمہ ہے اور اسے خود کو خلیہ کہ مرکزے میں سمونے کے لیۓ اپنے آپکو بل کھا کر ، لپٹ کر ایک پیچدار صورت میں ڈھلنا پڑتا ہے ۔ سائنسدانوں نے ڈی این اے کی لمبائی معلوم کرنے کی کوششیں کی ہیں اور ان کے مطابق صرف ایک خلیہ میں موجود ڈی این اے کے مالیکول کی طوالت دو تا تین میٹر ہوتی ہے۔

یہ تخمینہ لگانے کے لیۓ ڈی این اے کی بنیادی اکائیوں (زوج قاعدہ / base pair) کو استعمال کیا جاتا ہے ، ہر ڈی این اے ان زوج قواید کے آپس میں ملنے سے بنتا ہے ، ایسے ہی کہ جیسے موتیوں کے ملنے سے تسبیح ، اور ایک زرج قاعدہ (فرض کیجیۓ کے تسبیح کا ایک موتی) کی لمبائی 0.34 نینومیٹر ہوتی ہے (ایک نینو میٹر = ایک میٹر کا ایک اربواں حصہ)، اور ایک خلیہ کے ڈی این اے میں 6x109

زوج قواید ہوتے ہیں لہذا ایک خلیہ کے ڈی این اے کی لمبائی تقریباً دو میٹر نکلتی ہے۔

شکل سوئم - ڈی این اے حِلز ِمُزدَو ِج: پائریمیڈین اور پیورن قواید کی ربط بندی اور رائبوز و فاسفیٹ سے بنا ہوا عمود ظہری

حِلز ِمُزدَو ِج[ترمیم]

ایک ڈی این اے کے سالمے میں دو لچھے یا پیچ ہوتے ہیں جو کہ حِلز (helix) کہلاتے ہیں اور انسے بننے والے ڈی این اے کے مکمل سالمے کو حِلز ِمُزدَو ِج (double helix) کہتے ہیں۔ یہ دونوں حلز آمنے سامنے ایک دوسرے سے زواج قواید کے زریعے جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔

قاعدہ اور زوج قواعد[ترمیم]

  • ڈی این اے میں چار قواعد ہوتے ہیں جنکو؛ ایڈنین (A)، گوانین (G)، تھائمین (T) اور سائٹوسین (C) کہا جاتا ہے
  • ڈی این اے کا سالمہ ذیلی اکائیوں پر مشتمل ہوتا ہے جنکو نیوکلیوٹائڈ کہا جاتا ہے یعنی ڈی این اے ایک بڑا مکثور (پولیمر) سالمہ ہے جو کہ چھوٹے موحود (مونومر) سالمات سے ملکر بنتا ہے
  • ہر موحود (ج: مواحید) تین مزید چھوٹے سالمات کا مرکب ہوتا ہے
  1. چار میں سے کوئی ایک قاعدہ
  2. شکر؛ جو ڈی این اے میں مَنزوع آکسیجن رائبوز (deoxy ribose) اور آراین اے میں رائبوز کہلاتی ہے
  3. اب یہ شکر اور قاعدہ آپس میں ملکر ایک دوسالمــہ بناتے ہیں جو نیوکلیوسائڈ کہلاتا ہے اور جب اس نیوکلیوسائڈ سے ایک فاسفیٹ بھی مل جاتا ہے تو نیوکلیوٹائد کا سالمـــہ تشکیل پاتا ہے
  • سائٹوسین اور تھائمین کا تعلق ایک ہی جـماعت سے ہے جسکو پائریمیڈین کہتے ہیں
    • ایڈنین اور گوانین کا تعلق ایک ہی جـماعت سے ہے جسکو پیورن کہتے ہیں
    • ایک T کا ہمیشہ A سے ربط بنتا ہے اور G کا ہمیشہ C سے

اب یہ نیوکلیوٹائد قطار در قطار آپس میں جڑ کر ڈی این اے کی سیڑھی (حلز مزدوج) کا ایک بازو بناتے ہیں اور اسکے بعد دو بازو آمنے سامنے ہایڈروجن ربط کے زریعے ملکر ڈی این اے کی سیڑھی مکمل کرتے ہیں۔ ایسی ترتیب پانے کی دیگر وجوہات میں سے علم کیمیاء کی روسے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قوائد سیڑھی کی اندرونی جانب مائل ہوتے ہیں یعنی آب گزیر (hydrophobic) ہوتے ہیں جبکہ شکر و فاسفیٹ بیرونی جانب، یعنی آب نزدیک (hydrophilic) فطرت رکھتے ہیں۔