طاعون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
طاعون
جماعت بندی اور بیرونی ذرائع
یرسنیہ طاعونی نام کا جراثیم جسکو 2000 ہزار گنا مکبر دکھایا گیا ہے۔
آئیسیڈی-10 A20.
آئیسیڈی-9 020
معطیات 14226
میڈلائین 000596
ایمیڈ med/3381 

طاعون (plague) ایک عدوی امراض ہے جو کہ ایک امعائیہ (enterobacteria) جراثیم ، یرسنیہ طاعونی (Yersinia pestis) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ گو کہ اسکے انسان میں نمودار ہونے کے واقعات دیگر متعدی بیماریوں کی نسبت کم ہوتے ہیں اور اسکا علاج بھی ممکن ہے لیکن اسکے باوجود یہ متعدی بیماریوں میں انتہائی خطرناک شمار کی جانے والی ایک بیماری ہے، کیونکہ علاج میں کوتاہی سے اسکی شرح اموات 50 تا 90 فیصد ہوتی ہے [1] ۔ یرسنیہ طاعونی ایک گرام منفی عصیہ (bacillus) قسم کا جراثیم ہوتا ہے یعنی خرد بینی مشاہدے پر اسکی شکل سلاخ یا عصا نما نظر آتی ہے۔ یہ جرثومہ (bacteria) اصل میں خون نوش (hematophage) طفیلیات کے زریعے سے انسان میں داخل ہوتا ہے، ان خون نوش کیڑوں (طفیلیات) میں سب سے زیادہ ملوث پایا گیا کیڑا ایک طفیلی ہے جو پسو (flea) کہلاتا ہے۔ جبکہ اس خون نوش کیڑے میں طاعون کا جراثیم اس وقت داخل ہوتا ہے کہ جب یہ اپنی غذا کے طور پر کسی ایسے جوندگان (rodent) مثلا چوہے کا خون چوس رہا ہوتا ہے جو پہلے سے طاعون کے مرض میں مبتلا ہو اور اس چوہے کے جسم میں یرسنیہ طاعونی جرثومہ موجود ہو، اس طرح طاعون کے جراثیم اس چوہے سے پسو کے جسم میں داخل ہوجاتے ہیں اور جب یہ پسو انسان کو کاٹتا ہے یا خون چوستا ہے تو وہ طاعون کے جراثیم انسان میں منتقل کر دیتا ہے۔ اسکے علاوہ بعض اوقات یہ بیماری بغیر پسوؤں کے ملوث ہوۓ بھی انسان میں داخل ہو سکتی ہے جیسے ہوا میں بکھرے ہوۓ ایسے قطرات جن میں جراثیم موجود ہوں اور وہ سانس کے راستے انسان میں داخل ہو جائیں، بعض اوقات یہ جوندگان کے ساتھ براہ راست تعلق (جیسے انکی کسی نسیج یعنی گوشت وغیرہ کا انسان کے جسم میں داخل ہوجانا) سے بھی انسان میں منتقل جاتی ہے یا پھر کسی ایسے جوندگان (چوہے) کا انسان کو کاٹ لینا کہ جس میں طاعونی جراثیم موجود ہوں۔

اہم اقسام[ترمیم]

ویسے تو طاعون کی کئی اقسام ہیں مگر عام طور پر جن کیفیات میں یہ زیادہ نمایاں ہوتی ہے یا انسان پر اثر انداز ہوتی ہے وہ تین ہیں اور انہیں اسکی اہم ترین سریری یا مطبی (clinical) اقسام مانا جاتا ہے۔

  1. خیارکی طاعون (bubonic plague)
  2. انتانی طاعون (septicemic plague)
  3. پھیپڑی یا رئوی طاعون (pulmonary plague)

آج کی طب میں اسکا مکمل اور مناسب علاج دریافت کر لیۓ جانے کے بعد گو اسکے انسانی حملے اب فرادی یا انفرادی (sporadic) ہی نمودار ہوتے ہیں یا اگر کسی کو کسی سے لگتی بھی ہے تو یہ حملہ بہت چھوٹے انسانی گروہوں تک ہی محدود رہتے ہوۓ ختم کردیا جاتا ہے لیکن اسکے باوجود کسی بھی جگہ پر طاعون کے ایک وباء کی صورت پھیل جانے کے امکانات کو یکسر نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔

سببیات[ترمیم]

طاعون کا سببیاتی سازندہ (aetiologic agent) ایک امعائیہ (enterobacteria) جراثیم ہوتا ہے جسے یرسنیہ طاعونی (Yersinia pestis) کہتے ہیں۔ تجربہ گاہوں میں یہ جرثومہ بے تکلف (nonfastidious) ثابت ہوتا ہے یعنی اسکو اسکو اپنے گذارے کیلیۓ کوئی بہت باقاعدہ ماحول کی ضرورت نہیں ہوتی اور باآسانی تجربہ میں اسکی نشونما ہوجاتی ہے یا یوں بھی کہـ سکتے ہیں کہ تجربات و اختبارات کیلیۓ یہ باآسانی جوندگانوں (مثلا چوہوں) میں منتقل ہوکر اپنی نشونما شروع کردیتا ہے۔

مطبی اظہار[ترمیم]

ایک طاعون سے متاثرہ شخص کے اریبہ (جانگھ) پر نمودار ہونے والا سیالہ عقدہ جو ایک خیارک یا گٹھلی کی شکل میں دکھائی دیتا ہے اسے انگریزی میں bubo کہتے ہیں اور اس قسم طاعون کو ہی خیارکی طاعون یا bubonic plague کہا جاتا ہے

مطبی اظہار (clinical presentation) سے مراد کسی مرض کی وہ شکل ہوتی ہے جس میں ایک مریض کسی مطب (clinic) یا شفاخانے (hospital) سے رجوع کرتا ہے۔ سب سے عام شکل جس میں ایک طاعون کا اظہار ہوسکتا ہے وہ خیارکی (bubonic) ہوتی ہے یعنی مریض کے سیالہ عقدے (lymph nodes) میں ورم اور سوزش کے ساتھ وہ بڑھ کر ایک گٹھلی (خیارک) بنا دیتا ہے۔ یہ نوبت بیماری کے جراثیم کے جسم میں داخل ہونے کے 3 تا 5 روز بعد ظاہر ہوا کرتی ہے اور اس 3 تا 5 روز کے دورانیۓ کو طب میں تخم سازی (incubation) کا دورانیہ کہا جاتا ہے جس میں جراثیم جسم میں داخل ہونے کے بعد اپنی تعداد میں اضافہ کرتے ہیں، تخم سازی کرتے ہیں یا یوں کہ لیں کہ جیسے مرغی کی طرح اپنے انڈے یا بچے سیتے ہیں۔ چونکہ اس خیارکی مرحلے میں بننے والا خیارک یا گٹھلی ، سیالہ عقدے میں ہوتی ہے اس لیۓ اس مرحلے کو سیالہ سوزش (lymphadenitis) بھی کہا جاتا ہے۔ عام طور پر اس گٹھلی کی جسامت 1 سینٹی میٹر سے 10 سینٹی میٹر تک ہو سکتی ہے [2]

خیارکی سے انتانی طاعون[ترمیم]

جراثیم جسم میں داخل ہونے کے بعد انکے دور تخم سازی کے پورا ہوجانے پر اچانک سردی کے ساتھ تیز بخار آتا ہے جس میں کمزوری کا احساس اور سردرد ساتھ نمودار ہوسکتے ہیں مزید یہ کہ جسم کے عضلات میں درد اور متلی یا قے کی کیفیات بھی پیدا ہوسکتی ہیں۔ پھر اسکے بعد مریض جسم کے کسی حصے کے سیالہ عقدے میں سوجن یا ورم محسوس کرتا ہے جس میں شدید تکلیف اور سوزش ہوتی ہے۔ یہ سوجن بغل ، گردن اور یا اربیہ (ران اور پیٹ کے جوڑ) پر ہوسکتی ہے جو کہ سخت اور چھونے پر تکلیف دہ ہوتی ہے۔ اگر اس موقع پر درست علاج نا ہو پاۓ تو طاعون اپنے اگلے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے جسکو انتانی طاعون کہتے ہیں۔ بعض اوقات جلد پر ارغوانہ (purpura) بھی نمودار ہوتا ہے جو کہ جلد کے نیچے خونی یا سرخ رنگ کے دھبوں کی صورت میں دیکھا جاتا ہے اور خون کی رگوں میں سوزش اور جماؤ کے پیدا ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کچھ مریض خیارکی کی صورت حال سے گذرے بغیر ہی انتانی طاعون میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اور جب مریض کا مطبی اظہار اس انتانی طاعون کی شکل میں ہوتا ہے جو ایک طبیب کے لیۓ اسکی تفریقی تشخیص (differential diagnosis) انتہائی اہم ہو جاتی ہے کیونکہ ایسی صورت میں مریض کی علامات وہی ہوسکتی ہیں جو کہ کسی بھی دوسری عدو (infection) میں ، اور انکو علیحدہ شناخت کرنا خاصہ مشکل ہوتا ہے اگر طبیب ماہر نا ہو تو چوک کے امکانات بھی ہوتے ہیں لہذا ایسی صورت میں مناسب طبی مختبر (medical laboratory) کے مخصوص اختبارات (tests) کی ضرورت ہوتی ہے (تفصیل اختبارات کے قطعہ میں)۔

رئوی طاعون[ترمیم]

جب طاعون ، خیارکی سے گذر کر انتانی مرحلے میں داخل ہو جاۓ تو سب سے خوفناک بات اس مریض کے پھیپڑوں کا ملوث ہوجانا ہوتا ہے جسکی وجہ سے سوزش رئوی (pneumonia) پیدا ہوتی ہے۔ اسکو ثانوی سوزش رئوی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ براہ راست پھیپڑوں کی بیماری سے ہونے کے بجاۓ طاعون کے نتیجۓ کہ طور پر نمودار ہونے والی سوزش رئوی ہوتی ہے۔ لیکن اگر یرسنیہ طاعونی کا جرثومہ براہ راست پھیپڑوں پر ہی حملہ آور ہوا ہو اور اس میں خون کی انتانی کا عمل دخل نہ ہو تو پھر اسکو ابتدائی سوزش رئوی کہا جاتا ہے اور ایسی طاعون کہ جو پھیپڑوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہو تو اسکو رئوی یا پھیپڑی طاعون (pulmonary plague) کہا جاتا ہے ایسا ہونے کی سب سے اہم وجہ انتانی طاعون میں ہونے والے انتان (septicemia) کی موجودگی ہوتی ہے جس میں طاعون کا جراثیم خون میں شامل ہو کر تمام جسم میں پھیل رہا ہوتا ہے اور ایسی صورت میں اسکا پھیپڑوں پر حملہ کرنا ہی رئوی طاعون کا موجب بنتا ہے۔ رئوی طاعون سے متاثر پھیپڑوں کی نسیج سے خون کا اخراج ہوتا ہے جو کہ تھوک کے ساتھ خارج ہوتا ہے اسکو نَفثُ الدم (hemoptysis) کہا جاتا ہے ، یہ کھانسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر بلغم ہو تو وہ جراثیم سے بھرا ہوا اور بو دار ہوتا ہے۔

تشخیص[ترمیم]

  • طاعون کی تشخیص کا اہم ترین اختبار وہ ہوتا کہ جس میں بذات خود یرسنیہ طاعونی جراثیم کو شناخت کر لیا جاۓ۔ ایسی شناخت کیلیۓ مریض کا خون ، بلغم یا پھیپڑوں سے نکالا گیا مواد استعمال کیا جاتا ہے۔
  • جراثیم کو دیکھنے کیلیۓ گرام منفی تلوین (staining) اور یا پھر جسم ضدی تالُـّـق (fluorescent antibody) کے اختبارات استعمال کیۓ جاتے ہیں۔ (جسم ضدی تالق اختبار کی شکل اوپر خانۂ معلومات میں دیکھی جاسکتی ہے)۔
  • ELISA کے اختبار کا طریقۂ کار بھی استعمال کیا جاتا ہے
  • مرکزی ترشہ اختبارات کی جدید ترین سہولیات میں PCR سب سرعت اور سب اختبارات سے پہلے جراثیم کے موراثہ (genome) کی خون میں شناخت کے لیۓ استعمال کیا جاسکتا ہے۔

معالجہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Hoffman SL (1980Bold text). "Plague in the United States: the "Black Death" is still alive". Annals of Emergency Medicine 9: 319–22.
  2. ^ Cecil Text Book of Medicine; 17th Ed. ISBN 1-4160-0185-9 W.B. Saunders
  • Harrison's Principles of Internal Medicine 16th Ed. ISBN 0-07-140235-7 The McGraw Hill companies