ژاں پال سارتر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ژاں پال سارتر

پیدائش: 21 جون 1905ء

انتقال:15 اپریل 1980ء


ابتدائی زندگی[ترمیم]

مشہور فرانسیسی فلسفی۔ژاں پال سارتر پیرس میں پیدا ہوئےتھے۔ ان کے والد بحری فوج میں افسر تھے لیکن ابھی سارتر ایک سال ہی کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا اور ان کی پرورش ان کی والدہ نے کی۔ ان کا بچپن اپنے نانا کے گھر میں گذرا جہاں ایک بڑاکتب خانہ تھا جس میں سارے سارے دن سارتر دنیا بھر کے موضوعات کی کتابیں پڑھتے رہتے تھے اور مضامین لکھتے رہتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ نوعمری ہی میں انہیں بقول ان کے ادب کے جنون کا مرض لاحق ہوگیا تھا۔ مطالعہ اور تحریر کے اسی جنون کی بدولت سارتر سن ستر کے عشرے میں بینائی سے یکسر محروم ہوگئے۔

تعلیم[ترمیم]

سارتر نے پیرس کے اعلیٰ تعلمی ادارہ ایکول نارمیل سوپئیریر میں فلسفہ کا مطالعہ کیا۔ اسی دوران ان کی خاتون فلسفی سیمون ڈی بوور سے ملاقات ہوئی جو سن انیس سو اسی میں سارتر کی وفات تک ان کی رفیقہ رہیں۔ jamal guapo

  1. j1

قید و بند[ترمیم]

انیس سو اکتیس سے انیس سو پینتالیس تک سارتر درس وتدریس سے منسلک رہے اور اس دوران انہوں نے مصر، یونان اور اٹلی کے دورے کیے۔ دوسری عالم گیر جنگ کے دوران سارتر کو جرمن فوج نے گرفتار کر لیا اور ایک سال تک جرمنی میں نظر بند رہے۔ قید سے فرار کے بعد انہوں نےفرانس پر جرمنی کے قبضہ کے خلاف مزاحمتی تحریک میں حصہ لیا اور جنگ کے بعد انہوں نے سیمون ڈی بوور کے ساتھ مل کر ’لا تیمپ موردرن‘ یعنی ’عصرِ جدید‘ کے نام سے بائیں بازو کا ایک جریدہ نکالا جو جنگ کے بعد کے دور کے نئے نظریات کا نقیب مانا جاتا ہے۔

اس جریدہ میں مشہور فلسفی مارلو پونتی اور البرٹ کامیو کی وہ نگارشات شائع ہوئیں جنہوں نے پچھلی صدی کے وسط میں ایک ایسا فکری انقلاب برپا کیا جس نے انسانی سوچ کی نئی راہیں تراشی ہیں۔


کامل آزادی کا فلسفہ[ترمیم]

سارتر کا پہلا ناول ’لا ناوسی‘ یا متلی انیس سو اڑتیس میں شائع ہوا جس کا بنیادی تھیم تھا کہ انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں اور نہ کوئی معنی۔ انسان کی اقدار کی واحد بنیاد کامل آزادی ہے۔ انسان اپنے جذبات اور خیالات کا خود خالق ہے اور خود اپنے رویوں کا ذمہ دار ہے۔

یہ ناول ان کے فلسفہ موجودیت یا ھستی ’ایگزسٹنشلزم‘ کا نقطہ آغاز تھا۔ جس کو انہوں نے انیس سو تینتالیس میں اپنی تصنیف ’وجود اور عدم ‘ میں مزید فروغ دیا۔

اپنے فلسفہ ہستی کی سارتر نے یہ وضاحت کی کہ گو ہر شخص اپنا وجود رکھتا ہے لیکن کسی دوسرے کو اس کے کردار، اس کی منزل اور اس کی زندگی کی سمت متعین کرنے کا قطعی کوئی حق نہیں۔ یہ حق اور اختیار صرف اسی فرد کو ہی حاصل ہے اور اس حق کے استعمال کی کلی ذمہ داری اسی شخص کو حاصل ہے۔

اس فلسفے کا بنیادی مقصد انسان کی کامل آزادی ہے۔ سارتر کے مطابق ناقص عقیدہ ’مووے فوئی‘ خود فریبی ہے کہ ہم یہ سوچ کر اپنے کرب سے نجات حاصل کریں کہ ہم آزاد نہیں اور ہمیں حالات پر کوئی اختیار نہیں۔ یہ بات اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے کہ ہم یہ یقین کر لیں کہ حالات اور زندگی ہمارے کردار، ہمارے روئیے اور طرز عمل کو متعین کرتے ہیں۔

غرض سارتر کا استدلال ہے کہ انسان کو اپنی ہستی اور وجود پر غور اور تجسس پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے وجود کو ایک حقیقت تسلیم کرلینا چاہیے اور اسی کے ساتھ یہ حقیقت بھی کہ انسان آپ اپنا معمار ہے، اپنے کردار کا اور اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ آپ اپنی زندگی کی سمت متعین کرے۔ یوں ہم سب آزاد ہیں ، مکمل اور بھر پور طور سے۔

سارتر گو مارکسزم اور سوشلزم کے زبردست حامی تھے لیکن وہ کمیونسٹ پارٹی یا بائیں بازو کی کسی اور جماعت سے وابستہ نہیں رہے۔ البتہ وہ اپنے آپ کو فرانسیسی کمیونسٹ پارٹی کا ’ہم سفر‘ ضرور کہتے تھے۔


مارکسزم کے زبردست حامی[ترمیم]

گو سن انیس سو تریپن میں اسٹالن کے انتقال کے بعد انہوں نے سوویت یونین کا دفاع کیا لیکن سویت نظام پر تنقید کے حق کی بھی حمایت کی۔

سن انیس سو چھپن میں ہنگری پر سوویت یونین کے حملے کی سارتر نے ڈٹ کر مخالفت کی اور اس کے بعد ہی فرانس کی کمیونسٹ پارٹی سے ان کا فاصلہ بڑھا۔ لیکن سارتر کا کہنا تھا کہ ہمارے دور میں مارکسزم ایک ایسا فلسفہ ہے جس کےآگے جانا ممکن نہیں۔ مارکسزم کا فلسفہ صرف اسی صورت میں انسان کی زندگی سے بے ربط اور بے محل ہوگا جب بنی نوع انسان کی حقیقی آزادی کی بنیاد پر ایک انقلاب برپا ہوگا۔

سارتر سن انیس سو اسّی میں اپنے انتقال تک جنگ کے خلاف تحریکوں میں انتہائی سرگرم رہے۔ چاہے وہ الـجزائر میں حریت پسندوں کے خلاف فرانس کی جنگ ہو یا ویت نام میں کمیونسٹوں کے خلاف امریکیوں کی جنگ یا عربوں کے خلاف فرانس، برطانیہ اور اسرائیل کی جنگ ، سارتر ان سب جنگوں کے خلاف مہمات اور مظاہروں میں پیش پیش رہے ہیں۔

انہوں نے انیس سو اڑسٹھ میں فرانس میں طلباء کی بغاوت کی بھی بھر پور حمایت کی۔


ادب کا نوبیل انعام مسترد کردیا[ترمیم]

سارتر کو سن انیس سو چونسٹھ میں ادب کے نوبیل انعام کی پیشکش کی گئی تھی جسے انہوں نے یہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ ایک ادیب کو اپنے آپ کو ایک ادارہ میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ اور اپنی کامل آزادی برقرار رکھنی چاہیے۔

سارتر کی شخصیت تہہ دار تھی۔ وہ دانشور بھی تھے ایک فلسفی بھی۔ ناول نگار اور حیات نویس بھی تھے۔ سیاسی مہمات اور مظاہروں میں بھی پیش پیش تھے۔ پیانو بھی بہت اچھا بجاتے تھے اور اچھے گلو کار ہونے کا ساتھ اچھے باکسر بھی تھے۔