نظریۂ طاقم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اصطلاح term

نظریہ طاقم
متناقضہ
زیریںمدارج

set theory
paradox
undergraduate

نظریہ طاقم شاخ ہے ریاضیات کی جس میں طاقم، جو کہ اشیاء کا مجموعہ ہوتے ہیں، کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اگرچہ کسی بھی قسم کی اشیاء کو طاقم میں مجموعہ کیا جا سکتا ہے، نظریہ طاقم کا زیادہ تر استعمال ایسی اشیاء پر کیا جاتا ہے جو ریاضی سے متعلقہ ہوں۔

نظریہ طاقم کا جدید مطالعہ گورگ کانٹر اور رچرڈ ڈیڈیکائنڈ نے 1870ء کی دہائی میں شروع کیا۔ رسمی نظریہ طاقم میں متناقضہات کی دریافت کے بعد، اوائل بیسویں صدی میں بہت سے مسلماتی نظام تجویز کیے گئے، جن میں زرملو-فرینکل مسلمات، جس میں انتخاب کا مسلمہ شامل ہے، مشہور ہیں۔

نظریہ طاقم کی زبان قریباً تمام ریاضیاتی اشیاء کی تعریف میں استعمال ہوتی ہے، جیسا کہ دالہ، اور نظریہ طاقم کے تصورات تمام ریاضیاتی نصاب میں تکامل ہیں۔ طاقم اور رکنیتِ طاقم کے ابتدائی حقائق مدرسہ اولٰی میں متعارف کرائے جا سکتے ہیں، وین رسمہ اور عائلر رسمہ کے ساتھ، جس سے عام نظر آنے والی طبیعاتی اشیاء کے مجموعہ کو مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ طاقم اتحاد اور قاطع کے ابتدائی عالج اس ضمن میں مطالعہ کیے جا سکتے ہیں۔ زیادہ اعلیٰ تصورات جیسا کہ عددِ وصفی زیریںمدارج ریاضیاتی نصاب کا معیاری حصہ ہیں۔

نظریۂ طاقم کو عموماً ریاضیات کی بنیاد کے طور پر بروئے کار لایا جاتا ہے، خاص طور پر نظریہ طاقم جس میں انتخاب کا مسلمہ ہے، کے رُوپ میں۔ اپنے بنیاد کردار کے آگے، نظریہ طاقم ریاضیات کی برحق شاخ ہے ، جس کی اپنی سرگرم محقق برادری ہے۔ نظریہ طاقم میں ہمعصر تحقیق میں متنوع موضوعات کا مجموعہ شامل ہیں، جو حقیقی لکیر کی ساخت سے لے کر بڑے اعدادِ وضفی میں بغیرتضاد کے مطالعہ تک جاتا ہے۔