شماریات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

شماریات وہ علم ہے جس میں دیٹا یا معلومات کو جمع کیا جاتا ہے، انہیں منظم کیا جاتا ہے، ان کا تجزیہ کیا جاتا ہے اس سے نتائج اخذ کیے جاتے ہیں اور پھر مناسب انداز میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ اس میں ڈیٹا یا معلومات کو حاصل کرنے کی منصوبہ بندی سے لیکر کر نتائج کو بیان کرنے تک کے تمام مراحل شامل ہیں۔ یہ معلومات انسانوں، چیزوں غرض کسی چیز یا موضوع سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر سروے، تجربات اور منصوبہ بندی کے لیے شماریات کو زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔
شماریات کو انگریزی میں Statistics اور عربی میں إحصاء کہتے ہیں۔

معمول توزیع میں جب ہم متوقع قدر کے قریب جائیں گے تو احتمال کی کثافت بڑھے گی۔ احصاء میں استعمال ہونے والے معیاری اختبار جائزہ کو دکھایا گیا ہے۔ میزانوں میں شامل ہے معیاری انحراف ، تراکمی فیصدی، صدک برابریں، ز-قدر، ٹ-قدر، معیاری نویں، اور معیاری نویں میں فیصدی
اصطلاح term

تَراكُمی
صدک
ز-قدر
ٹ-قدر
معیاری نویں
واصلات
تصادف
لاتیقن
مثیل
نمونہ
استنتاج
قرینہ

cumulative
percentile
z-value/z-score
T-value/T-score
standard nines
communicate
random
uncertain
model
sample
inference
pattern

احصاء سائنس ہے افراد کے گروہوں سے متعلق یا تجرباتی عددی مطعیات کو موثر استعمال میں لانے کا۔ یہ اس کے تمام پہلوں سے متعلق ہے، نہ صرف اس معطیات کا جمع، تحلیل، اور تفسیر، مگر معطیات کے جمع کرنے کی تدبیر، تجربات کے مساحہ اور طرحبندی میں۔ [1]

احصاءگر ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو احصائی تحلیل کے کامیاب اطلاق کے لیے سوچ بچار میں خاص اہلیت رکھتا ہو۔ اکثر اوقات ایسے افراد نے یہ قابلیت فہرست برائے شعبہ جات احصاء کے اطلاق میں سے کسی میں کام کر کے حاصل کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک شعبہ ریاضیاتی احصاء کا بھی ہے جو اس شعبہ کی نظریاتی اساس سے متعلق ہے۔

لفظ احصاء سے مراد ریاضیات کا شعبہ ہے جو اس مقالہ میں زیر بحث ہے۔ یہ لفظ یا اس کی جمع، "احصائیات" سے مراد ایسی قدر بھی ہو سکتی ہے (جیسا کہ اوسط) جو معطیات کے مجموعہ سے حسابگر کیا گیا ہو۔

دائرہ عمل[ترمیم]

احصاء کو کچھ ریاضیاتی سائنس سمجھتے ہیں جس کا تعلق معطیات کا اکٹھا کرنا، تحلیل، تفسیر یا وضاحت، اور پیشکش ہے،[2] جبکہ دوسرے اسے ریاضیات کی شاخ کہتے ہیں جو معطیات کے اکٹھے اور تفسیر کرنے سے متعلق ہے۔ [3] اس کی تجریبی جڑوں اور اطلاقیات پر توجہ کی وجہ سے، احصاء کو عموماً ممیز ریاضیاتی سائنس سمجھا جاتا ہے بجائے کہ ریاضیات کی شاخ۔[4][5]

احصاءگر معطیات کی کفیت کو بہتر بناتے ہیں تجربات کی طرحبندی اور ساحہ نمونہ گیری سے۔ احصاء پیشنگوئی اور معطیات اور احصائی تمثیل کے زریعہ پیشنگوئی کے آلات مہیا کرتی ہے۔ احصاء متنوع تعلیمی شعبوں میں کام آتی ہے جس میں فطرتی اور معاشرتی سائنس، حکومت، اور کاروبار شامل ہیں۔

احصائی طرائق کو معطیات کے مجموعہ کو بیان یا خلاصہ کرنے میں استعمال کیا جا سکتا ہے؛ اس کو بیاناتی احصاء کہتے ہیں۔ یہ تحقیق میں کارآمد ہے جب تجربات کے نتائج کا واصلات کرنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، معطیات میں قرینوں کو اس طرح تمثیل کیا جاتا ہے جو مشاہدات میں تصادف یا لاتیقن کی وضاحت کرتے ہیں، اور اس کو زیرمطالعہ عملیات یا آبادی کے بارے استنتاج نکالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے؛ اسے استنتاجی احصاء کہتے ہیں۔ سائنسی بڑھائی میں استنتاج حیوی رکن ہے، چونکہ یہ (معطیات پر اساسی) پیشنگوئی فراہم کرتا ہے کہ نظریہ کس طرف منطقی طور پر لے جاتا ہے۔ رہبر نظریہ کو مثبوت کرنے کے لیے، ان استنتاج کو بھی پرکھا جاتا ہے، سائنسی طریقہ کار کے حصہ کے طور پر۔ اگر استنتاج درست نکلے، تو نئے معطیات کے بیاناتی احصاء سے متعلقہ مفروضہ کے صحیح پن زیادہ ہو جاتا ہے۔ بیاناتی احصاء اور استنتاجی احصاء (جسے پیشنگوئی احصاء بھی کہتے ہیں) دونوں کو ملا کر اطلاقی احصاء بنتی ہے۔[6]

مزید دیکھیں[ترمیم]

  • شماریات

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Dodge, Y. (2003) The Oxford Dictionary of Statistical Terms, OUP. ISBN 0-19-920613-9
  2. ^ Moses, Lincoln E. Think and Explain with statistics, pp. 1 - 3. Addison-Wesley, 1986.
  3. ^ Hays, William Lee, Statistics for the social sciences, Holt, Rinehart and Winston, 1973, p.xii, ISBN 978-0-03-077945-9
  4. ^ Moore, David (1992). "Teaching Statistics as a Respectable Subject". Statistics for the Twenty-First Century. Washington, DC: The Mathematical Association of America. pp. 14–25. 
  5. ^ Chance, Beth L.; Rossman, Allan J. (2005). "Preface". Investigating Statistical Concepts, Applications, and Methods. Duxbury Press. ISBN 978-0495050643. http://www.rossmanchance.com/iscam/preface.pdf. 
  6. ^ Anderson, , D.R.; Sweeney, D.J.; Williams, T.A.. Statistics: Concepts and Applications, pp. 5 - 9. West Publishing Company, 1986.