قحط

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
صومالیہ قحط کے دوران بچے خوراک کے منتظر ہیں۔

قحط غذائی قلت پر محیط ایسی صورتحال ہے، جس میں کسی بھی جاندار کو خوردنی اشیاء دستیاب نہ ہوں۔ یا خوردنی اشیاء کی شدید قلت پڑ جائے جوکہ عموماً زمینی خرابی، خشک سالی اور وبائی امراض کی بدولت ہوسکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں بڑے پیمانے پر اموات کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔

ہندوستان[ترمیم]

Cornelius Wallard کے مطابق ہندوستان میں دو ہزار سالوں میں 17 دفعہ قحط پڑا تھا۔ مگر ایسٹ انڈیا کمپنی کے 120 سالہ دور میں 34 دفعہ قحط پڑا۔ مغلوں کے دور حکومت میں قحط کے زمانے میں لگان (ٹیکس) کم کر دیا جاتا تھا مگر ایسٹ انڈیا کمپنی نے قحط کے زمانے میں لگان بڑھا دیا۔
Warren Hastings کے مطابق بنگال کے قحط میں لگ بھگ ایک کروڑ افراد بھوک سے مر گئے جو کل آبادی کا ایک تہائی تھے۔ لوگ روٹی کی خاطر اپنے بچے بیچنے لگے تھے۔[1]

1876–78 کے جنوبی ہندوستان کے قحط زدگان۔ انگریز اس زمانے میں بھی ہندوستان سے غلہ ایکسپورٹ کرتے رہے۔ اس قحط میں لگ بھگ 70 لاکھ لوگ مر گئے۔
1876–78 کے قحط کے زمانے میں مدراس کے ساحل پر غلہ ایکسپورٹ کے لیئے منتظر ہے۔ (February 1877)

آئر لینڈ[ترمیم]

1845 میں آئرلینڈ میں شدید قحط آیا جس سے 1,029,000لوگ مر گئے۔ تاریخ میں وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آلو کی فصل ناکام ہونے کی وجہ سے یہ قحط آیا تھا جبکہ اسی سال آئرلینڈ سے اتنا غلہ ایکسپورٹ ہوا جو بھوک سے مرنے والوں کی چار سال تک غذائی ضرورت پوری کر سکتا تھا۔ [2]

  1. ^ The Corporation that Changed World
  2. ^ the “Hidden Hand" behind wars and revolutions, poverty amidst plenty.
‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=قحط&oldid=1313150’’ مستعادہ منجانب