ملیریا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ملیریا، مچھر سے پھیلنے والا ایک متعدی مرض ہے جو کہ یک خلوی جسم کے جرثومے پلازموڈیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بیماری دنیا بھر میں پائی جاتی ہے، جس میں امریکی، ایشیائی اور افریقی ممالک شامل ہیں۔ ہر سال پوری دنیا میں 500 - 350 ملین افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں۔[1] اسی طرح ہر سال 3 - 1 ملین افراد ملیریا کے مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں، جن میں زیادہ تعداد افریقی صحرائی علاقوں کے بچوں کی ہے۔ [2] دنیا بھر میں ہونے والی ملیریا کی وجہ سے ہلاک ہونے والے 90 فیصد افراد کا تعلق افریقی ممالک سے ہوتا ہے۔ ملیریا کے پھیلاؤ کی وجوہات کو عام طور پر غربت سے جوڑا جاتا ہے اور یہ بیماری متاثر ہونے والی آبادی میں بلاشبہ غربت کی شرح میں اضافے کا باعث بھی ہے اور ترقی پذیر ممالک کی معیشت کی نمو میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔[3]

بیماری کا طریق حملہ و نشانیاں[ترمیم]

ملیریا کی بیماری قدرتی طور پر مچھر کی ایک قسم اینوفیلیز کی مادہ کے کاٹنے سے پھیلتی ہے۔ جب یہ مادہ مچھر کسی ملیریا سے متاثرہ شخص کو کاٹتی ہے، اس شخص کے خون سے ملیریا کے جرثومے مچھر میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ جرثومے مچھر کے جسم میں ہی نمو پاتے ہیں اور تقریباً ایک ہفتے بعد جب یہ مادہ مچھر کسی تندرست شخص کو کاٹتی ہے تو پلازموڈیم یا ملیریا کے جرثومے اس شخص کے خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس شخص کے جگر میں یہ جرثومے ہفتوں سے مہینوں یا سالوں تک نمو پاتے ہیں اور جب ایک خاص تعداد میں جرثومے پیدا ہو جاتے ہیں تو ملیریا کا واضع حملہ ہوتا ہے۔ ملیریا کی نشانیوں میں عام طور پر بخار اور سر درد شامل ہیں۔ شدید حملے میں اعصابی نظام بری طرح سے متاثر ہوتا ہے اور مریض بے ہوش ہونے کے بعد چند دنوں میں ہلاک ہو جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "ملیریا بارے حقائق"، سینٹر برائے علاج و تدارک متعدی امراض، http://www.cdc.gov/malaria/facts.htm 
  2. ^ سنو آر ویو (2005ء)، ملیریا کی دنیا میں حقیقت، نیچر میگزین 
  3. ^ "ملیریا: بیماری کے اثرات اور آمدن میں دراز مدتی فرق"، مزدوروں کے بارے مشاہدے کا ادارہ، http://ftp.iza.org/dp2997.pdf 


بیرونی روابط[ترمیم]

عمومی معلومات