صابن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

کیمیائی اعتبار سے صابن چربی کے تیزاب کا نمک ہوتا ہے۔ صابن ہاتھ منہ دھونے، نہانے، کپڑے دھونے اور دیگر صفائی کے کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ کپڑا سازی کی صنعت میں بطور چکناہٹ (Lubricants) بھی استعمال ہوتا ہے۔

نباتاتی تیل اور چربی (یعنی حیوانی تیل) کو کیمیاء میں ٹرائی گلیسیرائیڈ کہتے ہیں کیونکہ اسکے ہر سالمے ( مولیکیول) میں تین اسٹیرک ایسڈ کے مولیکیول ایک گلیسرین کے مولیکیول سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اسٹیرک ایسڈ (steric acid) چربی کا تیزاب ہوتا ہے۔ نامیاتی کیمیاء (organic chemistry) میں تیزاب سے مراد وہ مرکبات ہوتے ہیں جن میں COOH موجود ہو۔

چربی اور تیل پانی میں حل نہیں ہوتے مگر پانی میں موجود صابن کے مولیکیول تیل کے باریک قطروں کے گرد غلاف بنا لیتے ہیں۔ اس طرح تیل پانی میں حل ہو جاتا ہے اور صفائی ممکن ہو جاتی ہے۔
جب صابن کو پانی میں حل کرتے ہیں تو صابن کے مولیکیول کے دھاگے نما حصے بہت سارے مولیکولوں سے بنے گولے کے اندر سمٹ جاتے ہیں۔ اس تصویر میں بتایا گیا ہے کہ صابن کو تیل میں حل کرنے پر برعکس صورتحال بنتی ہے اور دھاگے نما سرے باہر کی طرف آ جاتے ہیں۔
سوڈیئم اسٹیریٹ یعنی صابن کا فارمولا۔ دونوں فارمولے بالکل ایک جیسے ہیں مگر اوپر کے فارمولے میں سادگی کی خاطر پوری تفصیلات نہیں لکھی گئیں ہیں۔ اس مولیکول کا دایاں سرا پانی کے لیئے کشش رکھتا ہے جبکہ بایاں سرا تیل کے لیئے۔

جب تیل یا چربی کو کاسٹک سوڈے کے ساتھ ملا کر گرم کرتے ہیں تو گلیسرین الگ ہو جاتی ہے اور اسٹیرک ایسڈ کاسٹک سوڈے کے سوڈیئم کے ساتھ ملکر صابن بنا دیتا ہے۔ عام استعمال کا صابن سوڈیئم اسٹیریٹ ہوتا ہے۔ سوڈیئم کی جگہ دوسری دھاتوں سے بھی صابن بنائے جا سکتے ہیں۔ اعلیٰ معیار کے صاف کیئے ہوئے تیل سے بنا صابن مہنگا ہوتا ہے جبکہ چربی سے بنا سستا صابن کپڑے وغیرہ دھونے کے کام آتا ہے۔


صابن اور تیل کو ملا کر گریس (grease) بھی بنائے جاتے ہیں۔ ہزاروں سال قبل چکناہٹ پیدا کرنے کے لیئے گریس چونے اور زیتون کے تیل کو ملا کر بنایا جاتا تھا۔

تاریخ[ترمیم]

دجلہ (Tigris) اور فرات (Euphrates) کے درمیان واقع عراق کے قدیم شہر بابل (Babylon) میں صابن 4800 سال پہلے بنایا گیا تھا۔ 4200 سال پرانی ایک چکنی مٹی سے بنی تختی پر صابن بنانے کا طریقہ درج پایا گیا ہے۔


مزید دیکھیئے[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]