دودھ
دودھ عام طور پر ایک سفید مائع ہوتا ہے جو کہ ممالیہ کے پستانوں میں پیدا ہوتا ہے، جیسے کہ گائے کا دودھ یا انسانی دودھ۔ یہ مائع ممالیہ غدودوں میں پیدا ہوتا ہے جسے مادہ ممالیہ کے پستان، تھن وغیرہ کہا جاتا ہے۔ چونکہ نومولود ممالیہ بچوں کے دانت پیدائش کے وقت موجود نہیں ہوتے اس لیے ان کودودھ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ضرورت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک کہ ان کے مکمل دانت ٹھوس خوراک کھانے کے قابل نہیں ہو جاتے۔ دودھ میں موجود غذائی اجزاء ممالیہ مچوں کی افزائش اور بڑھوتری میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
[ترمیم] غذائیت
دودھ انسانی استعمال کی خوراک میں ایک اہم جز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں معدنیات جیسے کیلشیم کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ دودھ جسم کو پروٹین کی بھی مقدار فراہم کرتا ہے اور جسم کی حیاتیاتی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ایک تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دودھ کا ایک گلاس روزانہ استعمال کرنے پر جسم کی %44 حیاتیاتی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں ۔ دودھ کی بعض اقسام میں معدنیات جیسے کیلشیم کی مقدار خاطر خواہ نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی ان سے ملائی،پنیر، اور ملائی پنیر حاصل ہو سکتا ہے۔ [1]
[ترمیم] اشتقاقیات
'دودھ' لفظ کی جڑ سنسکرت زبان کا 'دگدھ' لفظ ہے، لیکن اسکی ھند-یوروپی جڑیں اور بھی گہریں ہیں اور اس سے ملتے جلتے قرابتدار الفاظ کئیں ھند-یوروپی زبانوں میں ملتے ہیں. بطور مثال آویستایی زبان (ایک ہزاروں سال پرانی مشرقی فارسی زبان) میں 'دغد'، وخی میں 'دیغ' اور نیی فارسی میں 'دوغ' پاے جاتے ہیں.[2]
[ترمیم] حوالہ جات
- ^ "دودھ - چند حقائق". betterhealth.vic.gov.au. http://www.betterhealth.vic.gov.au/bhcv2/bhcarticles.nsf/pages/Milk_the_facts_and_fallacies. Retrieved 29 اپریل 2010ء.
- ^ H. W. Bailey, Indo-Scythian Studies: Being Khotanese TextsVolume 7 of Indo-Scythian Studies, Cambridge University Press, 2009, ISBN 9780521118736, http://books.google.com/books?id=OOK-fBNwZ7kC, "... Zor. Pahl,, N. Pers. dōz, dōxtan, Avestan duɣda- ... N Pers. dōɣ, Waxī δīɣ. Old Indian has dohati, dogdhi, dugdha-, doha- ..."