الفاتحہ

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
فاتحہ
الفاتحۃ
Alfatiha.PNG
  فاتحہ البقرہ
دور نزول : مکی
نام کے معنی آغاز، افتتاح
دیگر نام ام الکتاب، ام القرآن، کلید
سورت نمبر 1
پارہ نمبر 1
زمانۂ نزول نبوت کے ابتدائی سال
اعداد و شمار
رکوع کی تعداد 1
آیات کی تعداد 7
الفاظ کی تعداد 29
حروف کی تعداد 139
سجود کی تعداد کوئی نہیں

سورۂ فاتحہ قرآن مجید میں ترتیب کے لحاظ سے پہلی سورت ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کے مکی دور میں نازل ہوئی۔ اس کی آیات کی تعداد 7 ہے۔ یہ انتہائی اہم سورت اور ہر نماز میں پڑھی جاتی ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

فہرست

[ترمیم] نام

اس کا نام "الفاتحہ" اس کے مضمون کی مناسبت سے ہے۔ فاتحہ اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی مضمون یا کتاب یا کسی شے کا افتتاح ہو۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھئے کہ یہ نام "دیباچہ" اور آغازِ کلام کا ہم معنی ہے۔ اسے ام الکتاب اور ام القرآن بھی کہا جاتا ہے۔

[ترمیم] زمانۂ نزول

یہ نبوت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے۔ بلکہ معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلی مکمل سورت جو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی وہ یہی ہے۔ اس سے پہلے صرف متفرق آیات نازل ہوئی تھیں جو سورۂ علق، سورۂ مزمل اور سورۂ مدثر وغیرہ میں شامل ہیں۔

[ترمیم] مضمون

دراصل یہ سورت ایک دعا ہے جو خدا نے ہر انسان کو سکھائی ہے جو اس کتاب کا مطالعہ شروع کررہا ہو۔ کتاب کی ابتدا میں اس کو رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم واقعی اس کتاب سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو پہلے خداوند عالم سے یہ دعا کرو۔ انسان فطرتاً اسی چیز کی دعا کرتا ہے جس کی طلب اور خواہش اس کے دل میں ہوتی ہے اور اسی صورت میں کرتا ہے جبکہ اسے یہ احساس ہو کہ اس کی مطلوب چیز اس ہستی کے اختیار میں ہے جس سے وہ دعا کررہا ہے۔ پس قرآن کی ابتدا میں اس دعا کی تعلیم دے کر گویا انسان کو یہ تلقین کی گئی ہے کہ وہ اس کتاب کو راہ راست کی جستجو کے لئے پڑھے، طالبِ حق کی ذہنیت لے کر پڑھے اور یہ جان لے کہ علم کا سرچشمہ خداوندِ عالم ہے، اس لئے اسی سے رہنمائی کی درخواست کرکے پڑھنے کا آغاز کرے۔ اس مضمون کو سمجھنے کے بعد یہ بات خود واضح ہوجاتی ہے کہ قرآن اور سورۂ فاتحہ کے درمیان حقیقی تعلق کتاب اور اس کے مقدمے کا سا نہیں بلکہ دعا اور جوابِ دعا کا سا ہے۔ سورۂ فاتحہ ایک دعا ہے بندے کی جانب سے، اور قرآن اس کا جواب ہے خدا کی جانب سے۔ بندہ دعا کرتا ہے کہ اے پروردگار! میری رہنمائی کر۔ جواب میں پروردگار پورا قرآن اس کے سامنے رکھ دیتا ہے کہ یہ ہے وہ ہدایت و رہنمائی جس کی درخواست تونے سے مجھ سے کی تھی۔


[ترمیم] الفاتحہ

1۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِِ

2۔ اَلْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

3۔ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

4۔ مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ

5۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

6۔ أِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

7۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّينَ

[ترمیم] ترجمہ

1۔ اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم فرمانے والا ہے

2۔ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کی پرورش فرمانے والا ہے

3۔ نہایت مہربان بہت رحم فرمانے والا ہے

4۔ روز جزا کا مالک ہے

5۔ (اے اللہ) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں

6۔ ہمیں سیدھا راستہ دکھا

7۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا۔ ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا ہے اور نہ (ہی) گمراہوں کا


گذشتہ سورت:
سورت 1 اگلی سورت:
البقرہ
قرآن مجید

الفاتحہ · البقرہ · آل عمران · النساء · المائدہ · الانعام · الاعراف · الانفال · التوبہ · یونس · ھود · یوسف · الرعد · ابراہیم · الحجر · النحل · الاسرا · الکہف · مریم · طٰہٰ · الانبیاء · الحج · المؤمنون · النور · الفرقان · الشعرآء · النمل · القصص · العنکبوت · الروم · لقمان · السجدہ · الاحزاب · سبا · فاطر · یٰس · الصافات · ص · الزمر · المؤمن · حم السجدہ · الشوریٰ · الزخرف · الدخان · الجاثیہ · الاحقاف · محمد · الفتح · الحجرات · ق · الذاریات · الطور · النجم · القمر · الرحٰمن · الواقعہ · الحدید · المجادلہ · الحشر · الممتحنہ · الصف · الجمعہ · المنافقون · التغابن · الطلاق · التحریم · الملک · القلم · الحاقہ · المعارج · نوح · الجن · المزمل · المدثر · القیامہ · الدہر · المرسلات · النباء · النازعات · عبس · التکویر · الانفطار · المطففین · الانشقاق · البروج · الطارق · الاعلیٰ · الغاشیہ · الفجر · البلد · الشمس · اللیل · الضحٰی · الم نشرح · التین · العلق · القدر · البینہ · الزلزال · العادیات · القارعہ · التکاثر · العصر · الھمزہ · الفیل · قریش · الماعون · الکوثر · الکافرون · النصر · اللھب · الاخلاص · الفلق · الناس ·