ابراہیمی ادیان
ابراہیمی ادیان یا ابراہیمی مذاہب وہ ادیان ہیں جن کے پیروکار کا کہنا ہے کہ دینی قوم کی بنیاد نبی ابراہیم نے رکھی ہےـ یہودیت، عیسائیت اور اسلام ابراہیمی ادیان کہلاتے ہیں ـ یہودیت کے مطابق بنی اسرائیل ابراہیم کی وہ اولاد ہے جس کا وعدہ اللہ تعلی نے تورات میں ابراہیم سے کیا تھاـ اسی طرز پر، عیسائیت نبی عیسی کو ابراہیم کے وارثوں میں شامل کرتی ہےـ اسلام کے مطابق، مسلمان امت اسماعیل بن ابراہیم کی اولاد ہیں ـ
ان سب ادیان کے اہم عناصر کا آپس میں گہرہ رشتہ ہےـ ابراہیمی ادیان وہ ادیان ہیں جن کے پیروکار کا کہنا ہے کہ دینی قوم کی بنیاد نبی ابراہیم نے رکھی ہےـ یہودیت، عیسائیت اور اسلام ابراہیمی ادیان کہلاتے ہیں ـ یہودیت کے مطابق بنی اسرائیل ابراہیم کی وہ اولاد ہے جس کا وعدہ اللہ تعلی نے تورات میں ابراہیم سے کیا تھاـ اسی طرز پر، عیسائیت نبی عیسی کو ابراہیم کے وارثوں میں شامل کرتی ہےـ اسلام کے مطابق، مسلمان امت اسماعیل بن ابراہیم کی اولاد ہیں ـ
ان سب ادیان کے اہم عناصر کا آپس میں گہرہ رشتہ ہےـ
′′′ابراھیمی مذاھب′′′ وہ ہوتے ہیں جن کا تعلقِ بنیاد ابراھیمؑ سے ہوتا ہے۔ان مذاھب میں اسلام،عیسائت،یھودیت ،بہائی مت وغیرہ شامل ہیں۔یہ مذاھب توحیدی مذاھب ہے اور سب اللہ کو مانتے ہیں مگر کتابوں اور پیغمبروں پر متفرق ہیں۔اسلامی معطیت میں ان میں سے کچھ مذاھبوں کو اھل کتاب بھی کہا جاتا ،وہ اسلئے کہ انکو پہلے کتابیں (تورات،وغیرہ ) دی گئے تھے۔
اسلام [ترمیم]
اسلام ایک توحیدی (monotheistic) اور ابراھیمی مذہب ہے جو کہ اللہ کی طرف سے آخری رسول و نبی ، محمدؐ کے ذریعے انسانوں تک پہنچائی گئی آخري الہامي کتاب (قرآن مجيد) کی تعلیمات پر قائم ہے۔ یعنی دنیاوی اعتبار سے بھی اور دینی اعتبار سے بھی اسلام (اور مسلم نظریۓ کے مطابق گذشتہ ادیان کی اصلاح) کا آغاز، 610ء تا 632ء تک 23 سال پر محیط عرصے میں محمد پر اللہ کی طرف سے اترنے والے الہام (قرآن) سے ہوتا ہے۔ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا (برائے وجہ : اللسان القرآن)[1] اور اسی زبان میں دنیا کی کل آبادی کا کوئی 24% حصہ یعنی لگ بھگ 1.6 تا 1.8 ارب افراد[2] اس کو پڑھتے ہیں؛ ان میں (مختلف ذرائع کے مطابق) قریباً 20 تا 30 کروڑ ہی وہ ہیں جن کی مادری زبان عربی ہے جبکہ 70 تا 80 کروڑ ، غیر عرب یا عجمی[3] ہیں جن کی مادری زبان عربی کے سوا کوئی اور ہوتی ہے۔ متعدد شخصی ماخذ سے اپنی موجودہ شکل میں آنے والی دیگر الہامی کتابوں کے برعکس ، بوسیلۂ وحی ، فردِ واحد (محمد) کے منہ سے ادا ہوکر لکھی جانے والی کتاب اور اس کتاب پر عمل پیرا ہونے کی راہنمائی فراھم کرنے والی شریعت[1] ہی دو ایسے وسائل ہیں جن کو اسلام کی معلومات کا منبع قرار دیا جاتا ہے۔