بیت مدراش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

یہودیت

Star of David.svg
Lukhot Habrit.svg  Menora.svg

تاریخ یہودیت

عقائد
خدا کی وحدانیت · ارض اسرائیل · بنی اسرائیل · صدقہ · صنوعت
عبادات اور عبادت گاہیں
مِقواہ · شول · بیت مِقداش · منیان · شاخاریت · منخا · معاریب · شماع
تہوار
شابات · روش ھاشاناہ · عشرۃ التوبہ · یوم کِپور · سکوت · سِمخات توراہ · حانوکاہ · پورم · پیساخ · شاوُوت
اہـم شـخـصـیـات
ابراہیم · سارہ · اسحاق · یعقوب عرف اسرائیل · بارہ قبائل · موسیٰ · سلیمان · داؤد
کـتـب و قـوانـیـن
تورات · مشنی · تلمود · ہالاخا · کاشرُوت

بیت مدراش (عبرانی: בית מדרש) میں لفظ مدراش عربی لفظ مدرسہ کی عبرانی شکل ہے۔ عربی کا س عبرانی میں اکثر ش ہوجاتا ہے، جیسے سلام کو شلوم۔ پہلی صدی قبل مسیح سے دوسری صدی عیسوی تک یہودیوں کے جو مذہبی مدارس تھے انہیں مدراش یا بیت مدراش کہا جاتا تھا، جہاں یہودی ربی یہودی مردوں کو مذہبی اصول و عقائد کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کا طریقہ تعلیم معاصر یشیفات سے مماثل تھا۔
موجودہ دور میں یہ لفظ شول، کولل اور یشیفہ میں مطالعہ کے کمرہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ شول سے علیحدہ عمارت ہوتی ہے۔ تاہم بہت سے شول بیت مدراش کے طور بھی استعمال ہوتے ہیں۔