امام بخاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
امام بخاری
مکمل نام محمد بن اسماعیل البخاری
پیدائش 809ء بمطابق 13 شوال ، 194ھ
بخارا ، ازبکستان
وفات 869ء بمطابق 256ھ
سمرقند ، ازبکستان
تصانیف صحیح بخاری
مؤثر شخصیات امام احمد بن حنبل


آپ بخارا میں پیدا ہوئے گو ان کے والد بھی ایک محدث تھے اور امام مالک کے شاگرد تھے مگر احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جانچ پڑتال، پھر ان کی جمع و ترتیب پر آپ کی مساعی جمیلہ کو آنے والی تمام مسلمان نسلیں خراج تحسین پیش کرتی رہیں گی۔ آپ کا ظہور پر سرور عین اس قرآنی پیش گوئی کے مطابق ہوا جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورہ جمعہ میں فرمائی تھی۔

واخرین منھم لما یلحقوا بھم وھو العزیز الحکیم (سورہ الجمعہ 3)

یعنی زمانہ رسالت کے بعد کچھہ اور لوگ بھی وجود میں آئیں گے جو علوم کتاب وحکمت کے حامل ہوں گے حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ یقینا ان ہی پاک نفوس کے سرخیل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آل فارس میں سے کچھہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ اگر دینی علوم ثریا ستارے پر ہوں گے تو وہاں سے بھی وہ ان کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ امام بخاری کا درجہ احادیث کو چھان پھٹک کر ترتیب دینے میں اتنا اونچا ہے کہ بلا اختلاف الجامع الصیح یعنی صحیح بخاری شریف کا درجہ صحت میں قرآن پاک کے بعد پہلا ہے۔

نام اورولادت[ترمیم]

امام بخاری کا نام محمد، کنیت ابو عبداللہ ہے۔ والد اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ ہیں۔ امام بخاری کے پردادا مغیرہ نے حاکم بخارا امام جعفی کے ہاتھ مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ امام بخاری کی ولادت جمعہ 13 شوال المکرم 194ھ بمطابق 19 جولائی 810ء کو بخار شہر میں بعد از نمازِ جمعہ ہوئی۔

حسب و نسب[ترمیم]

آپ کے والد ماجد حضرت العلام مولانا اسماعیل صاحب رحمہ اللہ اکابر محدثین میں سے ہیں۔ کنیت ابوالحسن ہے۔ حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے اخص تلامذہ میں سے ہیں اور حضرت امام مالک رحمہ اللہ کے علاوہ حماد بن زید رحمہ اللہ اور ابو معاویہ ”عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ “ وغیرہ سے آپ نے احادیث روایت کی ہیں۔ احمد بن حفص رحمہ اللہ ، نصر بن حسین رحمہ اللہ وغیرہ آپ کے شاگرد ہیں۔ اس قدر پاکباز ، متدین ، محتاط تھے خاص طور پر اکل حلال میں کہ آپ کے مال میں ایک درم بھی ایسا نہ تھا جسے مشکوک یا حرام قرار دیا جا سکے۔ ان کے شاگرد احمد بن حفص کا بیان ہے کہ میں حضرت مولانا اسماعیل کی وفات کے وقت حاضر تھا۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ میں اپنے کمائے ہوئے مال میں ایک درم بھی مشتبہ چھوڑ کر نہیں چلا ہوں۔یہ فخر امت میں کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا ہے کہ باپ بھی محدث ہو اور بیٹا بھی محدث بلکہ سیدالمحدثین۔ اللہ تعالٰیٰ نے یہ شرف حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کو نصیب فرمایا جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو ”کریم ابن الکریم ابن کریم“ کہا گیا ہے اسی طرح حضرت امام بخاری رحمہ اللہ بھی محدث ابن المحدث قرار پائے۔ مگر صد افسوس کہ والد ماجد نے اپنے ہونہاز فرزند کا علمی زمانہ نہیں دیکھا اورآپ کو بچپن ہی میں داغ مفارقت دے گئے۔حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی تربیت کی پوری ذمہ داری والدہ محترمہ پر آگئی جو نہایت ہی خدا رسیدہ عبادت گزار شب بیدار خاتون تھیں۔ والدین کی علمی شان و دینداری کے پیش نظر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت امام کی تعلیم وتربیت کس انداز کے ساتھہ ہوئی ہو گی۔


امام بخاری کی بے نظیر ثقاہت[ترمیم]

علامہ عجلونی نے آپ کی ثقاہت کے بارے میں یہ عجیب واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ آپ دریا کا سفر کر رہے تھے اور آپ کے پاس ایک ہزار اشرفیاں تھیں۔ ایک رفیق سفر نے عقیدت مندانہ راہ و رسم بڑھا کر اپنا اعتماد قائم کر لیا۔ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی اشرفیوں کی اسے اطلاع دے دی۔ ایک روز آپ کا یہ رفیق سوکر اٹھا تو اس نے با آواز بلند رونا شروع کر دیا اور کہنے لگا کہ میری ایک ہزار اشرفیاں گم ہو گئی ہیں۔ چنانچہ تمام مسافروں کی تلاشی شروع ہوئی۔ حضرت امام نے یہ دیکھہ کر کہ اشرفیاں میرے پاس ہیں اور وہ ایک ہزار ہیں۔ تلاشی میں ضرور مجھہ پر چوری کا الزام لگایا جائے گا۔ اور یہی اس کا مقصد تھا۔ امام نے یہ دیکھہ کر وہ تھیلی سمندر کے حوالہ کر دی۔ امام کی بھی تلاشی لی گئی۔ مگر وہ اشرفیاں ہاتھہ نہ آئیں اور جہاز والوں نے خود اسی مکار رفیق کو ملامت کی۔ سفر ختم ہونے پر اس نے حضرت امام سے اشرفیوں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے ان کو سمندر میں ڈال دیا۔ وہ بولا کہ اتنی بڑی رقم کا نقصان آپ نے کیسے برداشت فرمالیا۔ آپ نے جواب دیا کہ جس دولت ثقاہت کو میں نے تمام عمر عزیز گنوا کر حاصل کیا ہے۔ اور میری ثقاہت جو تمام دنیا میں مشہور ہے کیا میں اس کو چوری کا اشتباہ اپنے اوپر لے کر ضائع کر دیتا۔ اور ان اشرفیوں کے عوض اپنی دیانت وامانت و ثقاہت کا سودا کر لیتا میرے لئے ہرگز یہ مناسب نہ تھا۔

وجہ تالیف الجامع الصحیح البخاری[ترمیم]

امام بخاری کا مزار، سمرقند،ازبکستان

اس کتاب کا پورا نام "الجامع امسند الصحیح امتخصر من امور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سلم و سنتہ و انامہ بہا" ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مقدمہ فتح الباری میں تفصیلاً لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ و تابعین کے پاکیزہ زمانوں میں احادیث کی جمع و ترتیب کا سلسلہ کماحقہ نہ تھا۔ ایک تو اس لئے کہ شروع زمانہ میں اس کی ممانعت تھی جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت سے ثابت ہے۔ محض اس ڈر سے کہ کہیں قرآن مجید اور احادیث کے متون باہمی طور پر گڈمڈ نہ ہوجائیں۔ دوسرے یہ کہ ان لوگوں کے حافظے وسیع تھے۔ ذہن صاف تھے۔ کتابت سے زیادہ ان کو اپنے حافظہ پر اعتماد تھا اور اکثر لوگ فن کتابت سے واقف نہ تھے ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کتابت احادیث کا سلسلہ زمانہ رسالت میں بالکل نہ تھا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وجوہ بالا کی بنا پر کما حقہ نہ تھا۔ پھر تابعین کے آخر زمانہ میں احادیث کی ترتیب وتبویب شروع ہوئی۔ خلیفہ خامس حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ نے حدیث کو ایک فن کی حیثیت سے جمع کرانے کا اہتمام فرمایا۔ تاریخ میں ربیع بن صبیح اور سعید بن عروبہ وغیرہ وغیرہ حضرات کے نام آتے ہیں جنہوں نے اس فن شریف پر باضابطہ قلم اٹھایا ۔ اب وہ دور ہو چلا تھا جس میں اہل بدعت نے من گھڑت احادیث کا ایک خطرناک سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ ان حالات کے پیش نظر طبقہ ثالثہ کے لوگ اٹھے اور انہوں نے احکام کو جمع کیا۔ حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے موطا تصنیف کی جس میں اہل حجاز کی قوی روایتیں جمع کیں، اور اقوال صحابہ فتاوی و تابعین کو بھی شریک کیا۔ ابو محمد عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج نے مکة المکرمہ میں اور ابو عمرو عبدالرحمن بن عمر اوزاعی نے شام میں اور عبداللہ سفیان بن سعدی ثوری نے کوفہ میں اور ابو سلمہ حماد بن سلمہ دینار نے بصرہ میں حدیث کی جمع ترتیب و تالیف پر توجہ فرمائی ۔ ان کے بعد بہت سے لوگوں نے جمع احادیث کی خدمت انجام دی اور دوسری صدی کے آخر میں بہت سی مسندات وجود پذیز ہو گئیں جیسے مسند امام احمد بن حنبل، مسند امام اسحق بن راہویہ، مسند امام عثمان بن ابی شیبہ، مسند امام ابوبکر بن ابی شیبہ وغیرہ وغیرہ۔ ان حالات میں سید المحدثین امام الائمہ حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ کا دور آیا۔ آپ نے ان جملہ تصانیف کو دیکھا ، ان کو روایت کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ان کتابوں میں صحیح اور حسن ضعیف سب قسم کی احادیث موجود ہیں۔

طریقہ تالیف الجامع الصحیح البخاری[ترمیم]

اس بارے میں خود امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوئی حدیث اس کتاب میں اس وقت تک داخل نہیں کی جب تک غسل کر کے دو رکعت نماز ادا نہ کر لی ہو۔ بیت اللہ شریف میں اسے میں نے تالیف کیا اور دو رکعت نماز پڑھ کر ہر حدیث کے لئے استخارہ کیا۔ مجھے جب ہر طرح اس حدیث کی صحت کا یقین ہوا، تب میں نے اس کے اندارج کے لئے قلم اٹھایا۔ اس کو میں نے اپنی نجات کے لئے جحت بنایا ہے۔ اور چھہ لاکھہ حدیثوں سے چھانٹ چھانٹ کر میں نے اسے جمع کیا ہے۔

علامہ ابن عدی اپنے شیوخ کی ایک جماعت سے ناقل ہیں کہ امام بخاری الجامع الصحیح کے تمام تراجم ابواب کو حجرہ نبوی اور منبر کے درمیان بیٹھہ کر اور ہر ترجمة الباب کو دو رکعت نماز پڑھ کر اور استخارہ کر کے کامل اطمینان قلب حاصل ہونے پر صاف کرتے۔ وراق نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ میں امام بخاری کے ساتھہ تھا۔ میں نے آپ کو کتاب التفسیر لکھنے میں دیکھا کہ رات میں پندرہ بیس مرتبہ اٹھتے چقماق سے آگ روشن کرتے اور چراغ جلاتے اور حدیثون پر نشان دے کر سو رہتے ۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ امام صاحب سفر و حضر میں ہر جگہ تالیف کتاب میں مشغول رہا کرتے تھے اور جب بھی جہاں بھی کسی حدیث کے صحیح ہونے کا یقین ہو جاتا اس پر نشان لگا دیتے اس طرح تین مرتبہ آپ نے اپنے ذخیرہ پر نظر فرمائی۔ آخر تراجم ابواب کی ترتیب اور تہذیب اور ہر باب کے تحت حدیثوں کا درج کرنا۔ اس کو امام صاحب نے ایک بار حرم محترم میں اور دوسری بار مدینہ منورہ مسجد نبوی منبر اور محراب نبوی کے درمیان بیٹھہ کر انجام دیا۔ اسی تراجم ابواب کی تہذیب و تبویب کے وقت جو حدیثیں ابواب کے تحت لکھتے پہلے غسل کر کے استخارہ کر لیتے۔ اس طرح پورے سولہ سال کی مدت میں اس عظیم کتاب کی تالیف سے فارغ ہوئے۔

اساتذہ[ترمیم]

جن اساتذہ سے انہوں نے کسب فیض کیا انکی تعداد ایک ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ان میں امام احمد بن حنبل، علی المدنی، ابن معین، محمد بن یوسف، ابراھیم الاثعث خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

وفات[ترمیم]

امام بخاری نے 61 سال 11 ماہ 18 یوم کی عمر میں جمعہ یکم شوال المکرم 256ھ بمطابق یکم ستمبر 870ء کو بعد نمازِ عشاءخرتنگ میں وفات پائی جو سمرقند شہر سے دس میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔

مسلم آئمہ کرام بلحاظ ترتیب زمانی
ترتیب نام مکتبہ فکر پیدائش وفات تبصرہ
1 امام ابو حنیفہ اہل سنت 80ھ (699ء) کوفہ 150ھ (767ء) بغداد فقہ حنفی
2 امام جعفر صادق اہل تشیع 83ھ (702ء) مدینہ منورہ 148ھ (765ء) مدینہ منورہ فقہ جعفریہ
3 امام مالک اہل سنت 93ھ (712ء) مدینہ منورہ 179ھ (795ء) مدینہ منورہ فقہ مالکی ، موطا امام مالک
4 امام شافعی اہل سنت 150ھ (767ء) غزہ 204ھ (819ء) فسطاط فقہ شافعی
5 امام احمد بن حنبل اہل سنت 164ھ (781ء) مرو 241ھ (855ء) بغداد فقہ حنبلی ، مسند احمد بن حنبل
6 امام بخاری اہل سنت 194ھ (810ء) بخارا 256ھ (870ء) سمرقند صحیح بخاری
7 امام مسلم اہل سنت 206ھ (821ء) نیشاپور 261ھ (875ء) نیشاپور صحیح مسلم

فقہی مذہب[ترمیم]

امام بخاري رحمہ الله (١٩٦-٢٥٦ ھ) شاگرد تھے، امام شافعی رحمہ الله (١٥٠-٢٠٤ ھ) کے:

1) الإمام تاج الدين السبكي المتوفی:٧٧١-هجري (رحمہ الله) نے ابو عبد الله (امام بخاری رح) کا تذکرہ اپنی کتاب "طبقات الشافعیہ" میں کیا ہے: آپ فرماتے ہیں کہ انہوں (امام بخاری رح) نے سماع_(حدیث) کیا ہے زعفرانی، ابو-ثور اور کرابیسی سے، (امام سبکی کہتے ہیں کہ) میں کہتا ہوں کہ انہوں (امام بخاری) نے امام حمیدی سے فقہ حاصل کی تھی اور یہ سب حضرات امام شافعی کے اصحاب میں سے ہیں.[طبقات الشافعية الكبرى:٢/٢١٤]

2) حافظ ابن حجر عسقلانی (۸۵۲ھ) بھی آپ کو امام شافعی کے قریب لکھتے ہیں (فتح الباری:۱/۱۲۳)

3) شاہ ولی الله محدث دہلوی المتوفي: (رحمہ الله) کی ١١٧٤هجري كي [الإنصاف مع ترجمہ وصاف: ٦٧]

4) غیر-مقلدین (اہلحدیث) کے مجدد_وقت، مجتہد العصر اور شیخ الکل نواب صدیق حسن خان صاحب نے بھی یہی کہا ہے. دیکھئے: [ابجد العلوم: ٣/١٢٦، طبع مکتبہ قدوسیہ لاہور, مولفہ: اہلحدیث نواب صدیق حسن خاں صاحب]

بعض نے ان کا مجتہد ہوجانا بھی ذکر کیا ہے، مگر وہ اصول میں نہیں فروع میں، کیونکہ ان سے اصول_فقہ کی کوئی کتاب نہیں.

علامہ طاہر الجزائری کی رائے میں آپ مجتہد تھے اور استنباط و استخراج میں آپ کی ایک اپنی راہ تھی، صحیح بخاری کے ابواب آپ کے فقہی نقطۂ نظر کے آئینہ دار ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ آپ بہت سے مسائل میں امام شافعیؒ کے تابع چلے، اس کی زیادہ تر وجہ یہ ہے کہ آپ نے شیخ عبداللہ الحمیدی سے فقہ کی تعلیم حاصل کی اور الحمیدی شافعی المذہب تھے تاہم ان مسائل کی بھی کمی نہیں جن میں آپ نے فقہ شافعی سے اختلاف کیا اور فقہ حنفی کو اختیار کیا، اس کا باعث آپ کے استاد اسحق بن راہویہ کو سمجھا جاتا ہے، محدث کبیر مولانا بدر عالم مدنیؒ نے فیض الباری جلد چہارم کے آخر میں ان مسائل کی ایک فہرست دی ہے جن میں امام بخاری فقہ حنفی کے مطابق چلے ہیں۔

دیگر کتب[ترمیم]

"الجامع الصحیح" کے علاوہ امام بخاری نے متعدد کتب تحریر کیں مثلا التاریخ الکبیر، التاریخ الصغیر، الادب المفرد، الجامع الکبیر، اور التفسیر الکبیر وغیرہ شامل ہیں۔