ارض اسرائیل

وکیپیڈیا سے

:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین

یہودیت

Star of David.svg
Lukhot Habrit.svg  Menora.svg

تاریخ یہودیت

عـقـائـد

خدا کی وحدانیت
ارض اسرائیلبنی اسرائیل
صدقہصنوعت

عبادات اور عبادت گاہیں

مِقواہشول
بیت مِقداش
منیانشاخاریتمنخامعاریبشماع

تہوار

شاباتروش ھاشاناہعشرۃ التوبہیوم کِپورسکوتسِمخات توراہحانوکاہپورمپیساخشاوُوت

اہـم شـخـصـیـات

ابراہیمسارہاسحاقیعقوب عرف اسرائیل
بارہ قبائلموسیٰ
سلیمانداؤد

کـتـب و قـوانـیـن

توراتمِشناہتلمود
ہالاخاکاشرُوت

ارضِ اسرائیل سے مراد یہودیوں کے مطابق، وہ زمین ہے جو (موجودہ) تورات کی رو سے، اللہ نے آل ابراہیم کو سونپ دی ـ تورات میں اللہ کا ابراہیم سے وعدہ ہے کہ ابراہیم کے ایمان کے بدلے خدا اس کی آل کو عظیم قوم بنائے گا، اسے یہودی دستاویزات کے مطابق عہدِ ابراہیمی کہا جاتا ہےـ اس عہد میں ارضِ اسرائیل بھی شامل ہے جو کنعان اور تاریخی فلسطین کو ملا کر بنتا ہےـ یاد رہے کہ ارضِ اسرائیل ایک یہودی تصور ہے جس سے تورات میں موجود کئی جگہوں کے نام منسلک ہیں ـ مگر ان قدیم مقامات کی کوئی ٹھوس سرحدیں نہیں بیان کی جاسکتیں اور موجودہ تورات میں درج مقامات کے ناموں کو کو اگر کسی نا کسی طور عہد حاضر کے علاقائی ناموں سے پہچاننے کی تگ و دو کی جاۓ تو اس میں موجودہ اسرائیل ، فلسطین اور اردن کے کچھ حصے شامل بتاۓ جاتے ہیں۔

تورات میں موجود عہدِ ابراہیمی کے مطابق ارض اسرائیل کی سرحدیں ـ سرخ لکیروں کے اندر تورات کی ایک تفسیر واضح ہے اور نیلی لکیروں میں دوسری).